কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৯৫৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے کہا : میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی (رکن یمانی اور حجر اسود) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر الأرقام ١١٧، ٢٧٦١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2950
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَالِكٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ، قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، مُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٧) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٨٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2951
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٧ (١٦٠٦) ، صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٢) ، مسند احمد (٢/٤٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٥ (١٨٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2952
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٥٩٦) ، مسند احمد (٢/٣٣، ٤٠، ٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2953
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ فِي رَخَاءٍ، وَلَا شِدَّةٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ لاٹھی سے حجر اسود کو چھونا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ ایک خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2954
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کی جانب اشا رہ کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے جب آپ کے سامنے پہنچے تو آپ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٦١ (١٦١٢) ، ٦٢ (١٦١٣) ، ٧٤ (١٦٣٢) ، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٣) ، سنن الترمذی/الحج ٤٠ (٨٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٥٠) ، مسند احمد (١/٢٦٤) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٠ (١٨٨٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2955
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ کا شان نزول
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایام جاہلیت میں) عورت یہ شعر پڑھتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی۔ اليوم يبدو بعضه أو كله وما بدا منه فلا أحله آج کے دن جسم کا کل یا کچھ حصہ ظاہر ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ظاہر ہو رہا ہے میں اس کو مباح نہیں کرسکتی (کہ لوگ اسے دیکھیں یا ہاتھ لگائیں) عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : پھر یہ آیت اتری : يا بني آدم خذوا زينتکم عند کل مسجد اے بنی آدم ! جس کسی بھی مسجد میں جاؤ اپنا لباس پہن لیا کرو (الأعراف : ٣١ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/التفسیر ٢ (٣٠٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٦١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ کا شان نزول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے انہیں اس حج میں جس کا رسول ﷺ نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر بنایا تھا، اس جماعت میں شامل کر کے بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر رہی تھی : لوگو ! سن لو ! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور نہ کوئی ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٩) ، الحج ٦٧ (١٦٢٢) ، الجزیة ١٦ (٣١٧٧) ، المغازي ٦٦ (٤٣٦٣) ، تفسیرالبراء ة ٢ (٤٦٥٥) ، ٣ (٤٦٥٦) ، ٤ (٤٦٥٧) ، صحیح مسلم/الحج ٧٨ (١٣٤٧) ، سنن ابی داود/الحج ٦٧ (١٩٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2957
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِأَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ: أَلَا لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ کا شان نزول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ آیا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں اہل مکہ کے پاس سورة براءت دے کر بھیجا محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے پوچھا : آپ لوگ کیا پکارتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں سوائے مومن کے کوئی نہ جائے گا، اور ننگا ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی عہد و معاہدہ ہو تو اس کی مدت و مہلت چار مہینے کی ہے، اور جب چار مہینے گزر جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہوگا، اور اس کا رسول بھی، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا۔ میں (یہ باتیں) لوگوں کو پکار پکار کر بتارہا تھا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٣٥٣) ، مسند احمد (٢/٢٩٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2958
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْالْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِئْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةَ، قَالَ: مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ ؟ قَالَ: كُنَّا نُنَادِيإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ، أَوْ أَمَدُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات کس جگہ پڑھنی چاہئیں؟
مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو مطاف کے کنارے آئے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٥٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” کثیر بن المطلب “ لین الحدیث ہیں، اس لیے ان کے بیٹے ” کثیر بن کثیر “ اپنے باپ کو حذف کر کے کبھی ” عن بعض أھلہ “ اور کبھی ” عمن سمع جدہ “ کہا کرتے تھے ) وضاحت : ١ ؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ٧٥٩ ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2959
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات کس جگہ پڑھنی چاہئیں؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آئے، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام (ابراہیم) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا : لقد کان لکم في رسول اللہ أسوة حسنة رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے (تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا) (الأحزاب : ٢١ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٣٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2960
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات کے بعد کیا پڑھنا چاہیے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا : کہ ہم وہیں (سعی) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی کتاب میں) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحروف ١ (٣٩٦٩) ، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦) ، ٣٨ (٨٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٥) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٢٩٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2961
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، قَالَ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ، وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات کے بعد کیا پڑھنا چاہیے؟
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ : إن الصفا والمروة من شعائر اللہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2962
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا: رَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعتوں میں کونسی سورتیں پڑھی جائیں
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت کریمہ : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس میں آپ نے سورة فاتحہ اور قل يا أيها الکافرون، اور قل هو اللہ أحد پڑھی پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے، اور آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکلے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2963
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَرَأَ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الرُّكْنِ، فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آب زمزم پینے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٧٦ (١٦٣٧) ، الأشربة ١٦ (٥٦١٧) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٥ (٢٠٢٧) ، سنن الترمذی/الأشربة ١٢ (١٨٨٢) ، والشمائل ٣١ (١٩٧، ١٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٦٧) ، مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٠، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٨٧، ٣٤٢، ٣٦٩، ٣٧٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2964
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، وَمُغِيرَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، وَهُوَ قَائِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آب زمزم کھڑے ہو کر پینا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم (کا پانی) پلایا، تو آپ نے اسے پیا اور آپ کھڑے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2965
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا کی طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسی دروازے سے جانا جس سے جانے کے لئے نکلا جاتا ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس دروازے سے باہر نکلا جاتا ہے، تو صفا ومروہ کی سعی کی۔ اور عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : یہ سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٣٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2966
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَاب الَّذِي يُخْرَجُ مِنْهُ، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: سُنَّةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے بارے میں
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے آیت کریمہ : فلا جناح عليه أن يطوف بهما پڑھی اور کہا : میں صفا ومروہ کے درمیان نہ پھروں، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ١ ؎، تو انہوں نے کہا : تم نے کتنی بری بات کہی ہے (صحیح یہ ہے) کہ لوگ ایام جاہلیت میں صفا ومروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے (بلکہ اسے گناہ سمجھتے تھے) تو جب اسلام آیا، اور قرآن اترا، اور یہ آیت فلا جناح عليه أن يطوف بهما اتری تو رسول اللہ ﷺ نے سعی کی، اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی کی، تو یہی سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣) ، العمرة ١٠ (١٧٩٠) ، تفسیرالبقرة ٢١ (٤٤٩٥) ، تفسیرالنجم ٣ (٤٨٦١) مختصراً ، صحیح مسلم/الحج (١٢٧٧) ، سنن الترمذی/تفسیرالبقرة (٢٩٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٣٨) ، موطا امام مالک/الحج ٤٢ (١٢٩) ، مسند احمد (٣/١٤٤، ١٦٢، ٢٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے : فلا جناح عليه أن يطوف بهما۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2967
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَائِشَةَ: فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قُلْتُ: مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ: إِنَّمَا كَانَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطُفْنَا مَعَهُ، فَكَانَتْ سُنَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے بارے میں
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے قول فلا جناح عليه أن يطوف بهما کے متعلق پوچھا (میں نے کہا کہ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ) کوئی صفا ومروہ کی سعی نہ کرے، تو قسم اللہ کی اس پر کوئی حرج نہیں، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے بھانجے ! تم نے نامناسب بات کہی ہے۔ اس آیت کا مطلب اگر وہی ہوتا جو تم نے نکالا ہے تو یہ آیت اس طرح اترتی فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما اگر کوئی صفا ومروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں اتری ہے۔ اسلام لانے سے پہلے وہ مشلل ١ ؎ کے پاس مناۃ بت کے لیے احرام باندھتے تھے جس کی وہ عبادت کرتے تھے، اور جو مناۃ کے نام سے احرام باندھتا تھا وہ صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج جانتا تھا تو جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ : إن الصفا والمروة من شعائر اللہ فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس سے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں کوئی گناہ نہیں اتاری تو رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا۔ تو کسی کے لیے جائز و درست نہیں کہ ان دونوں کی سعی چھوڑ دے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مشلل ایک بلند گھاٹی کا نام ہے جو قدید پر واقع ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2968
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، ثُمَّ قَدْسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے بارے میں
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا : ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٢١، موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2969
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ.
তাহকীক: