কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৯৭৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے بارے میں
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا : ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے إن الصفا والمروة من شعائر اللہ کی تلاوت کی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٧٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2970
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الصَّفَا، وَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا پہاڑ پر کس جگہ کھڑا ہونا چاہیے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ جب آپ نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ نے تکبیر کہی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2971
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَاجَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا پر تکبیر کہنا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا پر کھڑے ہوتے تو تین بار تکبیر کہتے اور لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہتے اور دعا کرتے، اور مروہ پر بھی پہنچ کر ایسا ہی کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٢٣) ، موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٥) ، مسند احمد (٣/٣٨٨) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٢٩٨٧، ٢٩٨٨، ٣٠٥٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌيَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا پر لا الہ الا اللہ کہنا
ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حج کے سلسلے میں جابر (رض) سے سنا : پھر نبی اکرم ﷺ صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2973
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُيُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، يُهَلِّلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا پر ذکر کرنا اور دعا مانگنا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی اور (پڑھتے وقت) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر (صفا کی طرف) گئے اور فرمایا : جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی (سعی) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔ پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح (ہر بار) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوگئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٤٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2974
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا: رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا، حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، وَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا، حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کی سعی اونٹ پر سوار ہو کر کرنا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، (اور ایسا اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٣) ، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٣) ، مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2975
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، وَلِيُشْرِفَ، وَلِيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے درمیان چلنا
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو صفا ومروہ کے درمیان عام چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٥٦ (١٩٠٤) ، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٣ (٢٩٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٧٩) ، (١٨٨٠) ، مسند احمد (٢/٥٣، ٦٠، ٦١، ١٢٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2976
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ: إِنْ أَمْشِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے درمیان چلنا
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں (میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٠٦٧) ، مسند احمد (٢/١٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2977
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے درمیان رمل
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو صفا ومروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٤٤٦) (ضعیف الإسناد) (زہری کا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2978
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَقَالَ: كَانَ فِي جَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ، فَرَمَلُوا فَلَا أُرَاهُمْ رَمَلُوا إِلَّا بِرَمَلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کی سعی کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں (تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم مدینے جا کر کمزور و لاغر ہوگئے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٨٠ (١٦٤٩) ، المغازي ٤٣ (٤٢٥٧) ، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٤٣) ، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٣) ، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٥٥، ٣٠٦، ٣١٠، ٣١١، ٣٧٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وادی کے درمیان دوڑنا
صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے : یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٤٣ (٢٩٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٨٢) ، مسند احمد (٦/٤٠٤، ٤٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اب اس حصے پر دو سبز پتھر لگا دیئے گئے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2980
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، وَيَقُولُ: لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عادت کے موافق چلنے کی جگہ
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا سے اتر کر نیچے آتے تو عام رفتار سے چلتے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچ جاتے تو آپ دوڑنے لگتے یہاں تک کہ اس (نشیبی جگہ) سے نکل جاتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٢٤) ، موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2981
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنْ الصَّفَا مَشَى، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمل کس جگہ کرنا چاہیے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول ﷺ کے دونوں قدم وادی کے نشیبی حصہ میں پہنچے، تو آپ نے رمل کیا یہاں تک کہ اس نشیبی جگہ سے نکل گئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2982
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا تَصَوَّبَتْ قَدَمَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَطْنِ الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمل کس جگہ کرنا چاہیے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا سے نیچے اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو آپ نے رمل کیا، اور جب چڑھائی پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2983
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَاجَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ يَعْنِي عَنْ الصَّفَا حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مروہ پہاڑ پر کھڑے ہونے کی جگہ
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، وَسَبَّحَهُ، وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مروہ پہاڑ پر کس جگہ کھڑا ہو؟
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صفا کے پاس گئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا پھر آپ نے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی اور لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير کہا پھر آپ چلے یہاں تک کہ جب آپ کے دونوں قدم نشیب میں پڑے تو آپ نے سعی کی (دوڑے) اور جب آپ کے قدم اونچائی و بلندی کی طرف اٹھے ١ ؎ تو آپ عام چال چلنے یہاں تک کہ آپ مروہ کے پاس آئے تو وہاں بھی آپ نے وہی کیا جو آپ نے صفا پر کر کیا تھا یہاں تک کہ اپنی سعی پوری کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٧٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی چڑھائی شروع ہوئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2985
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى الصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا، حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ثُمَّ وَحَّدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَبَّرَ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ثُمَّ مَشَى، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ، سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَفَعَلَ عَلَيْهَا كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى قَضَى طَوَافَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قران اور تمتع کرنے والا شخص کتنی مرتبہ سعی کرے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے صفا ومروہ کا طواف (یعنی ان دونوں کی سعی) صرف ایک بار کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٣) ، سنن ابی داود/الحج ٥٤ (١٨٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ١٠٢ (٩٤٧) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٣) مسند احمد (٣/٣١٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2986
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا شخص کس جگہ بال چھوٹے کرائے؟
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٣٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2987
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ،أَنَّهُ قَصَّرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ فِي عُمْرَةٍ عَلَى الْمَرْوَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا شخص کس جگہ بال چھوٹے کرائے؟
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ ﷺ کے بال ایک اعرابی کے تیر کے پھل سے کترے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٣٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ عمرہ جعرانہ کا واقعہ ہے کیونکہ معاویہ رضی الله عنہ اسی موقع پر اسلام لائے تھے عمرہ قضاء کا واقعہ نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت کافر تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2988
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بال کس طرح کترے جائیں؟
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ذی الحجہ کے پہلے د ہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا ومروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں : لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٤٣) ، مسند احمد (٤/٩٢) (شاذ ) وضاحت : ١ ؎: یہ معاویہ رضی الله عنہ کا وہم ہے، صحیح بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع میں متمتع نہیں تھے، بلکہ قارن تھے، آپ نے مروہ پر نہیں، دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں حلق کروایا تھا معاویہ والا واقعہ غالباً عمرہ جعرانہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2989
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ كَانَ مَعِي بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ، قَالَ قَيْسٌ: وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ هَذَا عَلَى مُعَاوِيَةَ.
তাহকীক: