কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৯৩৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی عمرہ کا احرام باندھے اس کا طواف کرنا
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا ومروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣٠ (٣٩٥) ، الحج ٦٩ (١٦٢٣) ، ٧٢ (١٦٢٧) ، ٨٠ (١٤٤٥، ١٤٤٧) ، العمرة ١١ (١٧٩٣) ، صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٢٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٣ (٢٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٥٢) ، مسند احمد (٢/١٥، ١٥٢، ٣/٣٠٩) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام ٢٩٦٣، ٢٩٦٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے تمہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنی چاہیئے، اور سعی کئے بغیر بیوی سے صحبت نہیں کرنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2930
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ مُعْتَمِرًا، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي أَهْلَهُ ؟ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی حج اور عمرہ ایک ہی احرام میں ساتھ ساتھ ادا کرنے کی نیت کرے اور ہدی ساتھ نہ لے جائے تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ آئے، اور ہم نے طواف کرلیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں۔ تو لوگ ڈرے (کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا ، تو سب لوگ (احرام کھول کر) حلال ہوگئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2931
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَأَهْلَلْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَطُفْنَا، أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا فَهَابَ الْقَوْمُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ، فَحَلَّ الْقَوْمُ، حَتَّى حَلُّوا إِلَى النِّسَاءِ، وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُقَصِّرْ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قران کرنے والے شخص کے طواف سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور (ان دونوں کے لیے) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٦٠٢) ، مسند احمد (٢/١١، ١٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٣) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2932
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قران کرنے والے شخص کے طواف سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نکلے تو جب وہ ذوالحلیفہ آئے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر وہ ڈرے کہ بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک نہ دیا جائے تو انہوں نے کہا : اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا : قسم اللہ کی ! حج کی راہ بھی وہی ہے جو عمرہ کی ہے، میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، پھر وہ چلے یہاں تک کہ وہ قدید آئے، اور وہاں سے ہدی (قربانی کا جانور) خریدا، پھر مکہ آئے۔ اور بیت اللہ کے سات پھیرے کیے اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2933
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، فَسَارَ قَلِيلًا، فَخَشِيَ أَنْ يُصَدَّ عَنْ الْبَيْتِ، فَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا سَبِيلُ الْحَجِّ إِلَّا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا، فَسَارَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى مِنْهَا هَدْيًا، ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قران کرنے والے شخص کے طواف سے متعلق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی طواف کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٢٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٣٩ (٢٩٧٣) ، مسند احمد (٣/٣٨١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2934
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، أَخْبَرَنِي هَانِئُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حجر اسود جنت کا پتھر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٤٩ (٨٧٧) ، مسند احمد ١/٣٠٧، ٣٢٩، ٣٧٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2935
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کو بوسہ دینا
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے (حجر اسود) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا : میں نے ابوالقاسم ﷺ کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٦٠) ، مسند احمد (١/٣٩، ٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2936
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کو بوسہ دینا
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا : میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا، پھر وہ اس سے قریب ہوئے، اور اسے بوسہ لیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٠ (١٥٩٧) ، ٥٧ (١٦٠٥) ، ٦٠ (١٦١٠) ، صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧٠) ، سنن ابی داود/الحج ٤٧ (١٨٧٣) ، سنن الترمذی/الحج ٣٧ (٨٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٧٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٢٧ (٢٩٤٣) ، موطا امام مالک/الحج ٣٦ (١١٥) ، مسند احمد (١/١٦، ٢٦، ٤٦) ، سنن الدارمی/ المناسک ٤٢ (١٩٠٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2937
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَجَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ، ثُمَّ دَنَا مِنْهُ فَقَبَّلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوسہ کس طریقہ سے دینا چاہیے
حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو دیکھا وہ رکن (یعنی حجر اسود) سے گزرتے، اگر وہاں بھیڑ پاتے تو گزر جاتے کسی سے مزاحمت نہ کرتے، اور اگر خالی پاتے تو اسے تین بار بوسہ لیتے، پھر کہتے : میں نے ابن عباس (رض) کو ایسا ہی کرتے دیکھا۔ اور ابن عباس (رض) کہتے ہیں : میں نے عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا ہے انہوں نے اسی طرح کیا، پھر کہا : بلاشبہ تو پتھر ہے، تو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا پھر عمر (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠٥٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” ولید “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، لیکن میں صرف ” تین بار “ کا لفظ منکر ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد منکر بهذا السياق صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2938
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ طَاوُسًا يَمُرُّ بِالرُّكْنِ، فَإِنْ وَجَدَ عَلَيْهِ زِحَامًا مَرَّ وَلَمْ يُزَاحِمْ، وَإِنْ رَآهُ خَالِيًا قَبَّلَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّيرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ، مَا قَبَّلْتُكَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف شروع کرنے کا طریقہ اور حجر اسود کو بوسہ دینے کے بعد کس طریقہ سے چلنا چاہیے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ آئے تو مسجد الحرام میں گئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اس کے داہنے جانب (باب کعبہ کی طرف) چلے، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں معمول کی چال چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور آیت کریمہ : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے بیچ میں تھا۔ پھر دونوں رکعت پڑھ کر بیت اللہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکل گئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨) ، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٧) ، ٣٨ (٨٦٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحج ٥٧ (١٩٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٩ (٢٩٥١) ، ٨٤ (٣٠٧٤) ، مسند احمد (٣/٣٤٠، ٣٧٣، ٣٨٨، ٣٩٧) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2939
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ، فَقَالَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالْمَقَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنے طواف میں دوڑنا چاہیے
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) پہلے تین پھیروں میں رمل ١ ؎ کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے : رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٢١٨) ، مسند احمد (٢/١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2940
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَيَرْمُلُ الثَّلَاثَ، وَيَمْشِي الْأَرْبَعَ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنے چکروں میں عادت کے مطابق چلنا چاہیے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦) ، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦١) ، سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٤٥٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/ المناسک ٢٩ (٢٩٥٠) ، مسند احمد (٢/١١٤، ١٥٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2941
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعًا، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سات میں سے تین طواف میں دوڑ کر چلنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت مکہ آتے تو طواف کے شروع میں حجر اسود کا استلام کرتے، پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دلکی چال (کندھے ہلا کر تیز) چلتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٦ (١٦٠٣) ، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٨١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2942
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرے میں تیز تیز چلنا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب حج یا عمرہ میں آتے تو پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے دوڑتے اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے، اور کہتے : رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٧ (١٦٠٤) تعلیقًا (تحفة الأشراف : ٨٢٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2943
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَيَخُبُّ فِي طَوَافِهِ حِينَ يَقْدَمُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ثَلَاثًا، وَيَمْشِي أَرْبَعًا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے حجر اسود تک تیز تیز چلنے سے متعلق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے یہاں تک آپ نے تین پھیرے پورے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٣) ، سنن الترمذی/الحج ٣٤ (٨٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٩ (٢٩٥١) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٤) ، مسند احمد (٣/٣٧٣، ٣٩٤) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2944
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رمل کرنے کی وجہ
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب (فتح کے موقع پر) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے : انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کردیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے (ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر) کہا : یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٥ (١٦٠٢) ، المغازی ٤٣ (٤٢٥٦) ، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٦) ، سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٣٨) ، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٣) مسند احمد (١/٢٩٠، ٢٩٤، ٢٩٥، ٢٧٣، ٣٠٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2945
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى ذَلِكَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ، فَقَالُوا: لَهَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رمل کرنے کی وجہ
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے، اس آدمی نے کہا : اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آجائے یا میں مغلوب ہوجاؤں اور نہ جا پاؤں تو ؟ ابن عمر (رض) نے کہا : أرأیت ١ ؎ کو تم یمن میں رکھو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٦٠ (١٦١١) ، سنن الترمذی/الحج ٣٧ (٨٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦٧١٩) مسند احمد (٣/١٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: أرأیت مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑو جسے سنت رسول کی جستجو ہوا سے اس طرح کے سوالات زیب نہیں دیتے یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2946
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ عَلَيْهِ أَوْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود اور رکن یمانی کو ہر ایک چکر میں چھونے کے بارے میں
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ طواف کے ہر پھیرے میں رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/المناسک ٤٨ (١٨٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٧٦١) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوَافٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود اور رکن یمانی کو ہر ایک چکر میں چھونے کے بارے میں
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ طواف میں صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٨٨٠) ، مسند احمد (٢/٨٦، ١١٤، ١١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2948
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَلَا يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود اور رکن یمانی پر ہاتھ پھیرنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں یمانی رکنوں ١ ؎ کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٩ (٦٠٩) ، صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٧) ، سنن ابی داود/المناسک ٤٨ (١٨٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٠٦) ، مسند احمد (٢/٨٩، ١٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مراد رکن یمانی اور حجر اسود ہے حجر اسود کو یمانی تغلیباً کہا گیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2949
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.
তাহকীক: