কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৯১৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حطیم سے متعلق حدیث
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر لوگوں کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا اور میرے پاس اسے ٹھوس اور مستحکم بنانے کے لیے اخراجات کی کمی نہ ہوتی تو میں حطیم میں سے پانچ ہاتھ خانہ کعبہ میں ضرور شامل کردیتا اور اس میں ایک دروازہ بنا دیتا جس سے لوگ اندر جاتے اور ایک دروازہ جس سے لوگ باہر آتے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٩ (١٣٣٣) مطولا، (تحفة الأشراف : ١٦١٩٠) ، مسند احمد (٦/١٧٩، ١٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2910
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُعَائِشَةَ تَقُولُ: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، وَلَيْسَ عِنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حطیم سے متعلق حدیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں بیت اللہ کے اندر داخل نہ ہوں ؟ آپ نے فرمایا : حطیم میں چلی جاؤ، وہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٥٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2911
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَدْخُلُ الْبَيْتَ ؟ قَالَ: ادْخُلِي الْحِجْرَ، فَإِنَّهُ مِنْ الْبَيْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حطیم میں نماز ادا کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کردیا، پھر فرمایا : جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٩٤ (٢٠٢٨) ، سنن الترمذی/الحج ٤٨ (٨٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٦١) ، مسند احمد (٦/٦٧، ٩٢- ٩٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٤٤ (١٩١١) (حسن، صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایسا انہوں نے خرچ کی کمی کے باعث کیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2912
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَقَالَ: إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَصَلِّي هَا هُنَا، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حَيْثُ بَنَوْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کے کو نوں میں تکبیر کہنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی، لیکن اس کے گوشوں میں تکبیر کہی۔ (یہ ابن عباس (رض) کے اپنے علم کی بنا پر ہے، کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر نہیں گئے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٤٦ (٨٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2913
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ يُصَلِّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ شریف میں دعا اور ذکر
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کردیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا : یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩١٢ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2914
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَجَافَ الْبَاب، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، فَمَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ بَاب الْكَعْبَةِ، جَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ، ثُمَّ قَامَ، حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَخَدَّهُ عَلَيْهِ، وَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ، وَاسْتَغْفَرَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ، وَالْمَسْأَلَةِ، وَالِاسْتِغْفَارِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ سینہ اور چہرہ لگانا
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا : یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩١٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نماز اسی طرف منہ کر کے پڑھی جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2915
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَجَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ، وَهَلَّلَ ثُمَّ مَالَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الْبَيْتِ، فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ، وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَهَلَّلَ، وَدَعَا، فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَاب:، فَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ سے متعلق
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا : یہی قبلہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩١٢ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2916
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَيْتِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید (رض) نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں (جا جا کر) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آگئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٨ (١٣٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦) ، مسند احمد (٥/٢٠١، ٢٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ سے متعلق
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس (رض) کو (جب بڑھاپے سے ان کی بینائی جاتی رہی تھی) سہارا دے کرلے جاتے اور لے کر خانہ کعبہ کے انہیں تیسرے کونے میں جو اس رکن کے قریب ہے جو حجر اسود سے متصل ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے بھی قریب ہے کھڑا کردیتے تھے تو ابن عباس (رض) کہتے : کیا تمہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہیں نماز پڑھتے تھے، وہ کہتے : جی ہاں، بتایا گیا، تو وہ آگے بڑھتے اور نماز پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٥٥ (١٩٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٣١٧) ، مسند احمد (٣/٤١٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن عبداللہ بن سائب “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2918
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَاب، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَا أُنْبِئْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي هَاهُنَا ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَتَقَدَّمُ، فَيُصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کے طواف کی فضیلت
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (عبداللہ بن عمر (رض) سے) نے کہا : ابوعبدالرحمٰن (کیا بات ہے) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے : جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ١١١ (٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣١٧) ، مسند احمد (٢/٣، ١١، ٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن عمر کی کنیت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2919
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ مِنْ لَفْظِهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطِيئَةَوَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ طَافَ سَبْعًا، فَهُوَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دورن طواف گفتگو کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کرلے جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٦٥ (١٦٢٠) ، ٦٦ (١٦٢١) ، الأیمان والنذور ٣١ (٦٧٠٣) ، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ٢٣ (٣٣٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٠٤) ، مسند احمد (١/٣٦٤) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٨٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2920
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دورن طواف گفتگو کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے (باندھ کر) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا : یہ نذر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظرماقبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نذر اس طرح بھی ادا ہوجائے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح خ دون قوله إنه نذر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2921
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ ذَكَرَهُ فِي نَذْرٍ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَهُ، قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران طواف گفتگو کرنا درست ہے
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو پایا ہے، کہتے ہیں : بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو (دوران طواف) باتیں کم کرو ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اس حدیث کے الفاظ یوسف (یوسف بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ١ ؎ مخالفت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٥٦٩٤) ، مسند احمد (٣/٤١٤ و ٤/٦٤ و ٥/٣٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کردی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2922
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ، اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران طواف گفتگو کرنا درست ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، وانظر ما قبلہ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2923
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَقِلُّوا الْكَلَامَ فِي الطَّوَافِ، فَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ طواف کعبہ ہر وقت صیحیح ہے
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بنی عبد مناف ! تم اس گھر کے طواف کرنے سے، اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو نہ روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں وہ بھی چاہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انطر حدیث رقم : ٥٨٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2924
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مریض شخص کے طواف کعبہ کرنے کا طریقہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا : لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرلو ، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ الطور * وکتاب مسطور پڑھ رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٧٨ (٤٦٤) ، الحج ٦٤ (١٦١٩) ، ٧١ (١٦٢١) ، ٧٤ (١٦٣٣) ، تفسیرالطور ١ (٤٨٥٣) ، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٦) ، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٤ (٢٩٦١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٦٢) ، موطا امام مالک/الحج ٤٠ (١٢٣) ، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2925
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، يَقْرَأُ ب: والطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب نماز کھڑی کردی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عروہ کا ام سلمہ (رض) سے سماع نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨١٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2926
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، عُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کرلو ، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ کعبہ کے پاس والطور پڑھ رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٢٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2927
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ الْمُصَلِّينَ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اونٹ پر سوار ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام (چھونا) کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٥٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2928
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج افراد کرنے والے شخص کا طواف کرنا
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں ؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے ؟ اس نے کہا : میں نے عبداللہ بن عباس (رض) کو اس سے روکتے دیکھا ہے ١ ؎، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٢٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٥٥) ، مسند احمد (٢/٦، ٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ طواف کرنے سے احرام کھولنا ضروری ہوجاتا ہے، لہٰذا جو اپنے احرام پر باقی رہنا چاہے وہ طواف نہ کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2929
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيَانٌ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ، قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
তাহকীক: