কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৮৯৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم میں چیل کو مارنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ فاسق (موذی) جانور ہیں انہیں حرم اور حرم کے باہر دونوں جگ ہوں میں مارا جاسکتا ہے : چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس سند کا ذکر یوں کرتے ہیں : عن الزهري عن سالم عن أبيه وعن عروة عن عائشة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١٦ (٣٣١٤) ، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨) ، سنن الترمذی/الحج ٢١ (٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٢٩) ، مسند احمد (٦/٣٣، ١٦٤، ٢٥٩) ، سنن الدارمی/المناسک ١٩ (١٨٥٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2890
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم میں کوے کو قتل کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور فاسق (موذی) ہیں انہیں حرم میں (بھی) مارا جاسکتا ہے (وہ ہیں) : بچھو، چوہیا، کوا، کاٹ کھانے والا کتا اور چیل ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٦٢) ، مسند احمد (٦/٢٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2891
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم میں شکار بھگانے کی ممانعت سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ مکہ ہے جس کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اسی دن قائم کردی تھی جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا، صرف میرے لیے دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا اور وہ یہی گھڑی ہے اور یہ اب اللہ تعالیٰ کے حرام کردینے کی وجہ سے قیامت تک حرام رہے گا، نہ اس کی تازہ گھاس کاٹی جائے گی، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ اس کی کوئی گری پڑی چیز حلال ہوگی، مگر اس شخص کے لیے جو اس کی تشہیر کرنے والا ہو ، یہ سنا تو ابن عباس (رض) اٹھے، وہ ایک تجربہ کار شخص تھے اور کہنے لگے سوائے اذخر کے، کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : سوائے اذخر کے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللقطة ٧ (٢٤٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٦١٦٩) ، مسند احمد (١/٣٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2892
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَذِهِ مَكَّةُ حَرَّمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَهِيَ سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ، وَكَانَ رَجُلًا مُجَرِّبًا، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ؟ فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج میں آگے چلنے سے متعلق
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے : خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله اے کافروں کی اولاد ! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ١ ؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی ، عمر (رض) نے کہا : ابن رواحہ (رض) ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چھوڑو انہیں (پڑھنے دو ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٧٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: باب پر استدلال ابن رواحہ کے اسی قول خلو بنی الکفار سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُويَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، وَابْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ضَرَبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ، قَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلِّ عَنْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَلَامُهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج میں آگے چلنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، تو آپ ﷺ نے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا، اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمرة ١٣ (١٧٩٨) ، اللباس ٩٩ (٥٩٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٥٣) ، مسند احمد (١/٢٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2894
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّاقَدِمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَآخَرَ خَلْفَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ شریف کو دیکھ کر ہاتھ نے اٹھانا
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ کو دیکھے، تو کیا وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ یہود کے سوا کوئی ایسا کرتا ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٤٦ (١٨٧٠) ، سنن الترمذی/الحج ٣٢ (٨٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٣١١٦) ، (لکن عندہ بالإثبات أی بلفظ ” فکنانفعلہ “ وأثبت صاحب تحفة الأحوذی ” أفکنا نفعلہ ؟ ۔۔ “ ) (ضعیف) (اس کے راوی ” مہاجر بن عکرمہ مکی “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ الْبَاهِلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ أَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلَّا الْيَهُودَ، حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کو دیکھ کر دعا مانگنا
عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب دار یعلیٰ کے مکان میں آجاتے ١ ؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے، اور دعا کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٨٦ (٢٠٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٧٤) ، مسند احمد (٦/٤٣٦، ٤٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالرحمن بن طارق “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: مکہ کے قریب جہاں سے بیت اللہ نظر آتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2896
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّهِ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا فِي دَارِ يَعْلَى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَدَعَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٤٥١) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٥ (١٤٠٥) ، مسند احمد (٢/١٦، ٢٩، ٥٣، ٦٨، ١٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مسجد الحرام میں نماز کا ثواب مسجد نبوی کی نماز سے سو گنا زیادہ ہے۔ ٢ ؎: ابن جریج نے اسے عن نافع عن ابراہیم عن میمونہ رضی الله عنہا روایت کیا ہے بخلاف موسیٰ جہنی کے کیونکہ انہوں نے اسے عن نافع عن ابن عمر رضی الله عنہما روایت کیا ہے، موسیٰ کی روایت کے مطابق یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کے مسانید میں سے ہوگی اور ابن جریج وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے مسانید میں سے ہوگی لیکن یہ مخالفت حدیث کے لیے ضرر رساں نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ نافع نے اسے دونوں سے سنا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، غَيْرَ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، وَخَالَفَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٩٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2898
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: إِسْحَاق أَنْبَأَنَا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْكَعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز کعبہ کے علاوہ دوسری مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضل ال صلاة ١ (١١٩٠) ، صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٦ (٣٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٩٥ (١٤٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٦٤، ١٤٩٦٠) ، موطا امام مالک/القبلة ٥ (٩) ، مسند احمد ٢/٢٥٦، ٣٨٦، ٤٦٦، ٤٧٣، ٤٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٣١ (١٤٥٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2899
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْأَغَرَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَ الْأَغَرُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْكَعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کی تعمیر سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد میں کمی کردی تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی ١ ؎ (تو میں ایسا کر ڈالتا) ٢ ؎ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن (رکن شامی و عراقی) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی (اس جانب سے) ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٣) ، أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٨) ، تفسیر البقرة ١٠ (٤٤٨٤) ، صحیح مسلم/الحج ٦٩ (١٣٣٣) ، موطا امام مالک/الحج ٣٣ (١٠٤) ، مسند احمد (٦/١١٣، ١٧٦، ١٧٧، ٢٤٧، ٢٥٣، ٢٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر وہ نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے۔ ٢ ؎: یعنی اسے گرا کر کے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کردیتا لیکن چونکہ ابھی اسلام ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا ہے اس لیے ایسا کرنے سے ڈر ہے کہ وہ اسلام سے متنفر نہ ہوجائیں، اور اسے غلط اقدام سمجھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2900
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى تَرْكَ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کی تعمیر سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا دیتا، اور اسے (پھر سے) ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر تعمیر کرتا، اور سامنے کے مقابل میں پیچھے بھی ایک دروازہ کردیتا، قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اسے گھٹا دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٧٠٩٣) ، مسند احمد (٦/٥٧، ١٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2901
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ، لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ فَبَنَيْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَجَعَلْتُ لَهُ خَلْفًا، فَإِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا بَنَتْ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کی تعمیر سے متعلق
ام المؤمنین (عائشہ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میری قوم (اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کردیتا ، تو جب عبداللہ بن زبیر (رض) وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے (رسول اللہ ﷺ کی خواہش کے مطابق) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٤٧ (٨٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٣٠) ، مسند احمد (٦/١٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: لیکن عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت میں حجاج بن یوسف نے اس دوسرے دروازے کو بند کردیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2902
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا أَنَّ قَوْمِي وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ: قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ، فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کی تعمیر سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیے جانے کا حکم دیتا، اور جو حصہ اس سے نکال دیا گیا ہے اسے اس میں داخل کردیتا، اور اسے زمین کے برابر کردیتا، اور اس میں دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب، کیونکہ وہ اس کی تعمیر سے عاجز رہے تو میں اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر پہنچا دیتا ۔ راوی کہتے ہیں : اسی چیز نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو اسے منہدم کرنے پر آمادہ کیا۔ یزید (راوی حدیث) کہتے ہیں : میں موجود تھا جس وقت ابن زبیر (رض) نے اسے گرا کر دوبارہ بنایا، اور حطیم کو اس میں شامل کیا۔ اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد کے پتھر دیکھے، وہ پتھر اونٹ کی کوہان کی طرح تھے، ایک دوسرے میں پیوست۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٥٣) ، مسند احمد (٦/٢٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: يَا عَائِشَةُ،لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ، فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ، وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ: بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ، فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ، قَالَ يَزِيدُ: وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ، وَبَنَاهُ، وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِكَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ کی تعمیر سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٤٧ (١٥٩١) ، ٤٩ (١٥٩٦) ، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣١١٦) ، مسند احمد (٢/٣٢٨، ٤١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ قیامت کے قریب ہوگا، جب روئے زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہ رہے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2904
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں داخلہ سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، بلال اور اسامہ بن زید (رض) اندر داخل ہوچکے تھے، اور (ان کے اندر جاتے ہی) عثمان بن طلحہ (رض) نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم ﷺ نکلے (اور آپ کے نکلتے ہی) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے ؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں ؟۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٩٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2905
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَاب، فَمَكَثُوا فِيهَا مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَاب، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبْتُ الدَّرَجَةَ، وَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا: هَا هُنَا وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى فِي الْبَيْتِ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں داخلہ سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کرلیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال (رض) تھے۔ میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے کہا : دونوں ستونوں کے درمیان۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٩٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2906
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَبِلَالٌ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَاب:، فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ بِلَالًا، قُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٩٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2907
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَدَنَا خُرُوجُهُ وَوَجَدْتُ شَيْئًا، فَذَهَبْتُ وَجِئْتُ سَرِيعًا، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا، فَسَأَلْتُ بِلَالًاأَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ (دیکھئیے) رسول اللہ ﷺ (ابھی ابھی) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ (ابن عمر (رض) کہتے ہیں) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نکل چکے ہیں، اور بلال (رض) دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا : بلال ! کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، میں نے پوچھا : کہاں ؟ انہوں نے کہا : ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٩٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2908
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: أُتِيَابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَأَقْبَلْتُ، فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ، وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَاب: قَائِمًا، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ،أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَيْنَ ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ١ ؎، پھر آپ باہر نکلے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا : یہ قبلہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٠) ، مسند احمد (٥/٢٠٩، ٢١٠) (منکر) (اسامہ کی اس روایت میں صرف ” خلف المقام “ کا ذکر منکر ہے (جو کسی کے نزدیک نہیں ہے) باقی باتیں سنداً صحیح ہیں ) وضاحت : ١ ؎: اسامہ کی یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے، وہ کسی کام میں مشغول رہے ہوں گے جس کی وجہ سے انہیں آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہیں ہوسکا ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : منکر بذکر المقام صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2909
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَسَبَّحَ فِي نَوَاحِيهَا، وَكَبَّرَ، وَلَمْ يُصَلِّ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ.
তাহকীক: