কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৮৭৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ میں داخل ہونے کا وقت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ (عمرہ کر کے) احرام کھول ڈالیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیرال صلاة ٣ (١٠٨٥) ، الحج ٣٤ (١٥٦٤) ، الشرکة ١٥ (٢٥٠٦) ، مناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٢) ، صحیح مسلم/الحج ٣١ (١٢٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٦٥) ، مسند احمد (١/٣٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلُّوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ میں داخل ہونے کا وقت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چار ذی الحجہ کو (مکہ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا : جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے (یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہوجائے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2871
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَقَدْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، وَقَالَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ میں داخل ہونے کا وقت
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ آئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ١٥ (٢٥٠٥) ، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٦) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2872
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم میں اشعار پڑھنے اور امام کے آگے چلنے کے متعلق
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرہ قضاء میں مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ (رض) آپ کے آگے آگے چل رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے : خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله اے کافروں کی اولاد ! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ (کوئی مزاحمت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالو) ، ورنہ آج ہم ان پر نازل شدہ حکم کے مطابق تمہیں ایسی مار ماریں گے جو سروں کو ان کی خواب گاہوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے گی، تو عمر (رض) نے ان سے کہا : ابن رواحہ ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور اللہ عزوجل کے حرم میں تم شعر پڑھتے ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چھوڑو ان کو (پڑھنے دو ) کیونکہ یہ ان پر تیر سے زیادہ اثرانداز ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٧٠ (٢٨٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٦) ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٨٩٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2873
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَقُولُ الشِّعْرَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلِّ عَنْهُ، فَلَهُوَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ مکرمہ کی تعظیم سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی ، اس پر ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! سوائے اذخر کے ١ ؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٧٦ (١٣٤٩) تعلیقًا، الحج ٤٣ (١٥٨٧) ، جزاء الصید ٩ (١٨٣٣) ، ١٠ (١٨٣٤) ، البیوع ٢٨ (٢٠٩٠) ، واللقطة ٧ (٢٤٣٣) ، والجزیة ٢٢ (٣١٨٩) ، المغازي ٥٣ (٤٣١٣) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٣) ، سنن ابی داود/الحج ٩٠ (٢٠١٨) ، سنن الترمذی/السیر ٣٣ (١٥٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٨) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٥٩، ٣١٦، ٣٥٥، ٣١٨) ، سنن الدارمی/السیر ٦٩ (٢٥٥٤) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤١٧٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اذخر ایک قسم کی مشہور گھاس ہے جو خوشبودار ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2874
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: هَذَا الْبَلَدُ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ ؟ فَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا إِلَّا الْإِذْخِرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں جنگ کی ممانعت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا : یہ شہر (مکہ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام (محترم و مقدس) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقِتَالُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں جنگ کی ممانعت
ابوشریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، اور وہ (عبداللہ بن زبیر (رض) پر حملہ کے لیے) مکہ پر چڑھائی کے لیے فوج بھیج رہے تھے، امیر (محترم) ! آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن کہی تھی اور جسے میرے دونوں کانوں نے سنی ہے میرے دل نے یاد رکھا ہے اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت آپ نے اسے زبان سے ادا کیا ہے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، اسے لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ہے، اور آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کی وجہ سے اس کی رخصت دے تو اس سے کہو : یہ اجازت اللہ تعالیٰ نے تمہیں نہیں دی ہے صرف اپنے رسول کو دی تھی، دن کے ایک تھوڑے سے حصہ میں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی، پھر اس کی حرمت آج اسی طرح واپس لوٹ آئی جیسے کل تھی، اور چاہیئے کہ جو موجود ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٧ (١٠٤) ، جزاء الصید ٨ (١٨٣٢) ، المغازي ٥١ (٤٢٩٥) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٤) ، سنن الترمذی/الحج ١ (٨٠٩) ، الدیات ١٣ (١٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٥٧) ، مسند احمد (٤/٣١ و ٦/٣٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2876
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ، حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنْ تَرَخَّصَ أَحَدٌ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف کی حرمت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس گھر سے یعنی بیت اللہ سے لڑنے ایک لشکر آئے گا ١ ؎ تو اسے بیداء میں دھنسا دیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٩٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مدینہ کے قریب ایک میدان ہے جو اسی نام سے معروف ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2877
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سُحَيْمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَغْزُو هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف کی حرمت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس گھر پر لشکر کشی سے لوگ باز نہ آئیں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی لشکر دھنسا دیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2878
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَنْتَهِي الْبُعُوثُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يُخْسَفَ بِجَيْشٍ مِنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف کی حرمت
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس حرم کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا تو جب وہ سر زمین بیداء میں ہوگا تو ان کے شروع سے لے کر آخر تک سبھی لوگ دھنسا دئیے جائیں گے، درمیان کا بھی کوئی نہ بچے گا ، میں نے کہا : بتائیے اگر ان میں مسلمان بھی ہوں تو بھی ؟ آپ نے فرمایا : ان کے لیے قبریں ہوں گی (اور اعمال صالحہ کی بنا پر اہل ایمان کو ان قبروں میں عذاب نہیں ہوگا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ٢ (٢٨٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٩٣) (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2879
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ الدَّالَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُبْعَثُ جُنْدٌ إِلَى هَذَا الْحَرَمِ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ ؟ قَالَ: تَكُونُ لَهُمْ قُبُورًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف کی حرمت
عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنا چاہے گا، اس کا قصد کرے گا یہاں تک کہ جب وہ سر زمین بیداء میں پہنچے گا، تو اس کا درمیانی حصہ دھنسا دیا جائے گا (ان کو دھنستا دیکھ کر) لشکر کا ابتدائی و آخری حصہ چیخ و پکار کرنے لگے گا، تو وہ بھی سب کے سب دھنسا دیے جائیں گے، اور کوئی نہیں بچے گا، سوائے ایک بھاگے ہوئے شخص کے جو ان کے متعلق خبر دے گا ، ایک شخص نے ان (امیہ بن صفوان) سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٠ (٤٠٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٩٩) ، مسند احمد (٦/٢٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2880
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ، فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ فَيُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا، وَلَا يَنْجُو إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ مَا كَذَبْتَ عَلَى جَدِّكَ، وَأَشْهَدُ عَلَى جَدِّكَ أَنَّهُ مَا كَذَبَ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف میں جن جانوروں کو قتل کرنے کی اجازت ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر مارے جاسکتے ہیں : کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو، اور چوہیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٧٢٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2881
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف میں سانپ کو مار ڈالنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جاسکتے ہیں۔ سانپ، کاٹ کھانے والا کتا، چتکبرا کوا، چیل اور چوہیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2882
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِيُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف میں سانپ کو مار ڈالنے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورة والمرسلات عرفاً نازل ہوئی، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے مارو تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٣٠) ، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٧) ، تفسیرالمرسلات ١ (٤٩٣١) ، ٤ (٤٩٣٤) ، صحیح مسلم/السلام ٣٧ (٢٢٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٩١٦٣) ، مسند احمد (١/٣٧٧، ٤٢٢، ٤٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2883
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى حَتَّى نَزَلَتْ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوهَا، فَابْتَدَرْنَاهَا فَدَخَلَتْ فِي جُحْرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم شریف میں سانپ کو مار ڈالنے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے مارو لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہوگیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٦٣٠) ، حصحیح مسلم/١/٣٨٥ (صحیح) (اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے والد محترم ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، مگر پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2884
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَإِذَا حِسُّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوهَافَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأَدْخَلْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا بَعْضَ الْجُحْرِ، فَأَخَذْنَا سَعَفَةً فَأَضْرَمْنَا فِيهَا نَارًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، وَوَقَاكُمْ شَرَّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گرگٹ کے مار ڈالنے سے متعلق
ام شریک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٧) ، أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٥٩) ، صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٢٩) ، مسند احمد (٦/٤٢١، ٤٦٢) ، سنن الدارمی/الاضاحي ٢٧ (٢٠٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گرگٹ کے مار ڈالنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گرگٹ چھوٹا فاسق (موذی) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩٨) ، مسند احمد (٦/٨٧، ١٥٥، ٢٧١، ٢٧٩، ٢٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: فویسق، فاسق کی تصغیر ہے تحقیر کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2886
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْوَزَغُ الْفُوَيْسِقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بچھو کو مارنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور ہیں جو سب کے سب فاسق (موذی) ہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگ ہوں میں مارے جاسکتے ہیں : کاٹ کھانے والا کتا، کوا، چیل، بچھو اور چوہیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٤٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2887
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم میں چوہے کو مارنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جانوروں میں پانچ ایسے ہیں جو سب کے سب فاسق (موذی) ہیں وہ حرم میں (بھی) مارے جاسکتے ہیں : کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، چوہیا اور بچھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٩) ، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2888
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حرم میں چوہے کو مارنا
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں : بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٨) ، صحیح مسلم/الحج ٩ (١٢٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٠٤) ، مسند احمد (٦/٢٨٥، ٣٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2889
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِأَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.
তাহকীক: