কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৮৫৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کا سر کے درمیان فصد لگوانا کیسا ہے؟
عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٦) ، والطب ١٤ (٥٦٩٨) ، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨١) ، (تحفة الأشراف : ٩١٥٦) ، مسند احمد (٥/٣٤٥) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: لحی جمل مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2850
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَعْرَجَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا : (اس کے کفارہ کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کرلو گے تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر ٥، ٦، ٧، ٨ (١٨١٤-١٨١٨) ، المغازی ٣٥ (٤١٥٩) ، تفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧) ، المرضی ١٦ (٥٦٦٥) ، الطب ١٦ (٥٧٠٣) ، الکفارات ١ (٦٧٠٨) ، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١) ، سنن ابی داود/الحج ٤٣ (١٨٥٧) ، سنن الترمذی/الحج ١٠٧ (٩٥٣) ، و تفسیر البقرة (٢٩٧٣، ٢٩٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١١٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٨٦ (٣٠٧٩) ، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٧) ، مسند احمد (٤/ ٢٤١، ٢٤٢، ٢٤٣، ٢٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2851
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوِ انْسُكْ شَاةً، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہوگئیں، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا : جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١١٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2852
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لِأَصْحَابِي، فَمَسَّ رَأْسِي بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ: انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ، وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم مر جائے تو اس کو بیری کے پتے ڈال کر غسل دینے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مرگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٩٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2853
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم مر جائے تو اس کو کس قدر کپڑوں میں کفن دینا چاہیے؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گرگیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو ، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو ، اس کے بعد یہ بھی فرمایا : اس کا سر کفن سے باہر رہے ، فرمایا : اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں : میں نے ان سے (یعنی اپنے استاد ابوبشر سے) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے (اس بار اتنا مزید) کہا کہ اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2854
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، قَالَ: وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا، قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم مر جائے تو اس کو خوشبو نہ لگانا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گرگیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس (رض) نے فأقعصه (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا فأقعصته (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥) ، ٢٠ (١٢٦٦) ، ٢١ (١٢٦٨) ، جزاء الصید ٢٠ (١٨٥٠) ، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٢٣٩، ٣٢٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٣٧) ، مسند احمد (١/٣٣٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2855
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم مر جائے تو اس کو خوشبو نہ لگانا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کردیا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٣ (١٨٣٩) ، سنن ابی داود/المناسک ٨٤ (٣٢٤١) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٩٧) ، مسند احمد (١/٢٦٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2856
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی حالت احرام میں وفات پا جائے تو اس کا سر اور چہرے نہ چھپا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُغَسَّلُ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم کی وفات ہوجائے تو اس کا سر نہ ڈھانکنا چاہیے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گرپڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو ، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو ، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٩٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2858
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر (رض) پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر (رض) سے بات کی ان دونوں نے کہا : امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کردی جائے، تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہوگئے، تو آپ ﷺ نے (وہیں) اپنی ہدی کا نحر کرلیا اور سر منڈا لیا (اور حلال ہوگئے) سنو ! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) واجب کرلیا ہے۔ ان شاء اللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔ چناچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر ١ (١٨٠٧) ، ١٨٠٨) ، المغازي ٣٥ (٤١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٣٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2859
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنك وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: فَإِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہوجائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہوجائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہوگا ، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٤٤ (١٨٦٣) ، سنن الترمذی/الحج ٩٦ (٩٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٨٥ (٣٠٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٩٤) ، مسند احمد (٣/٤٥٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٧ (١٩٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2860
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہوگیا تو وہ حلال ہوگیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں وعليه حجة أخرى ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے وعليه الحج من قابل آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2861
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الصَّوَّافِ، قَالَ: حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَا صَدَقَ، وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ: وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بارے میں
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٩ (٩٤٨٤) ، والحج ١٤٨ (١٧٦٧) ، ١٤٩ (١٧٦٩) ، صحیح مسلم/الحج ٣٨ (١٢٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٤٦٠) ، مسند احمد (٢/٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ذی طویٰ مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2862
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى، يَبِيتُ بِهِ، حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، حِينَ يَقْدَمُ إِلَى مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت مکہ مکرمہ داخل ہونے کے بارے میں
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات میں جعرانہ ٢ ؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آگئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٨١ (١٩٩٦) ، سنن الترمذی/الحج ٩٣ (٩٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٢٠) ، مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٢٧، ٤/٦٩، ٥/٣٨٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٤١ (١٩٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جعرانہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ سرف ایک جگہ کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2863
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا، فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، خَرَجَ عَنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى، جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت مکہ مکرمہ داخل ہونے کے بارے میں
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں (یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2864
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلًا، كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ، فَاعْتَمَرَ، ثُمَّ أَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ مکرمہ میں کس جانب سے داخل ہوں؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٤٠ (١٥٧٦) ، ٤١ (١٥٧٧) ، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧) ، سنن ابی داود/الحج ٤٥ (١٨٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٨١٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٦ (٢٩٤٠) ، مسند احمد (٢/١٤، ١٩) ، سنن الدارمی/المناسک ٨١ (١٩٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2865
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ، وَخَرَجَ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ مکرمہ میں جھنڈا لے کر داخل ہونے کے بارے میں
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں (یعنی فتح مکہ کے دن) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ٧٦ (٢٥٩٢) ، سنن الترمذی/الجہاد ٩ (١٦٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٠ (٢٨١٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٨٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2866
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں بغیر احرام کے واخل ہونا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٨ (١٨٤٦) ، الجہاد ١٦٩ (٣٠٤٤) ، المغازی ٤٨ (٤٢٨٦) ، اللباس ١٧ (٥٨٠٨) ، صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٧) ، سنن ابی داود/الجہاد ١٢٧ (٢٦٨٥) ، سنن الترمذی/الجہاد ١٨ (١٦٩٣) ، والشمائل ١٦ (١٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٨ (١٨٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧) ، موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٧) ، مسند احمد (٣/١٠٩، ١٦٤، ١٨٠، ١٨٦، ٢٢٤، ٢٣١، ٢٣٢، ٢٤٠) ، سنن الدارمی/ المناسک ٨٨ (١٩٨١) ، والسیر ٢٠ (٢٥٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بہت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2867
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَقِيلَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں بغیر احرام کے واخل ہونا
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2868
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں بغیر احرام کے واخل ہونا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٤٧) ، مسند احمد (٣/٣٨٧) ، ویأتی عند المؤلف فی الزینة ١٠٩، برقم ٥٣٤٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ عمامہ خود کے اوپر رہا ہو، یا خود عمامہ کے اوپر رہا ہو یا داخل ہوتے وقت سر پر خود رہا ہو پھر آپ نے اسے ہٹا کر پگڑی باندھ لی ہو، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2869
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.
তাহকীক: