কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৪৮১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا شکر ادا کرنے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کردیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سند میں رجل من قومی سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٢٧٧) (حسن )
حدیث نمبر: 4813 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، أخبرنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ، قال أَبُو دَاوُد: رَوَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ شُرَحْبِيلُ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا شکر ادا کرنے کا بیان
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کردیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٣٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں أبلى بلائً جو من أعطى عطائًا کے معنیٰ میں ہے بلاء کا لفظ خیر اور شر دونوں معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4814 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستوں میں بیٹھنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں (ضروری امور پر) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا : راستے کا حق کیا ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٢٢ (٢٤٦٥) ، الاستئذان ٢ (٦٢٢٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٣٢ (٢١٢١) ، (تحفة الأشراف : ٤١٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٦، ٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4815 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستوں میں بیٹھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں یہ بھی ہے آپ نے فرمایا : اور (بھولے بھٹکوں کو) راستہ بتانا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٧٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4816 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستوں میں بیٹھنے کا بیان
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب (رض) کو نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٦٧٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4817 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ، وَتَهْدُوا الضَّالَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستوں میں بیٹھنے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور بولی : اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا : اے فلاں کی ماں ! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں چناچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم ﷺ اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4818 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بِنِ الطَّبَّاعِ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ ابْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ فُلَانٍ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَجْلِسَ إِلَيْكِ، قَالَ: فَجَلَسَتْ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا، لَمْ يَذْكُرُ ابْنُ عِيسَى: حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا. وقَالَ كَثِيرٌ: عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستوں میں بیٹھنے کا بیان
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل میں کچھ فتور تھا پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الفضائل ٢٣ (٢٣٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٨٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4819 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس میں کشادہ ہو کر بیٹھنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : مجالس میں بہتر وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ، أبودواد، (تحفة الأشراف : ٤١٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٨، ٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4820 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا، قال أَبُو دَاوُد: هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس میں کشادہ ہو کر بیٹھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو (مخلد کی روایت) سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آجائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس لئے کہ اس سے ضرر کا اندیشہ ہے، جیسے بیک وقت گرم و سرد چیز کا استعمال مضر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4821 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ، وَقَالَ مَخْلَدٌ: فِي الْفَيْءِ، فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ، فَلْيَقُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس میں کشادہ ہو کر بیٹھنے کا بیان
ابوحازم البجلی (رض) کہتے ہیں کہ وہ آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہوگئے، اس کے بعد (آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا) تو وہ سائے میں آگئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٨٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٢٧، ٤/٢٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4822 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَامَ فِي الشَّمْسِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلقے بنا کر بیٹھنا
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں دیکھ رہا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٩٣، ١٠١، ١٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4823 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي الْمُسَيِّبُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ، فَقَالَ: مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلقے بنا کر بیٹھنا
اعمش سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے گویا کہ آپ اجتماعیت کو پسند فرماتے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4824 حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا، قَالَ: كَأَنَّهُ يُحِبُّ الْجَمَاعَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلقے بنا کر بیٹھنا
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٢٩ (٢٧٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٢١٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٩١، ١٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4825 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ شَرِيكًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلقہ کے درمیان میں بیٹھنا
حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر لعنت فرمائی جو حلقہ کے بیچ میں جا کر بیٹھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ١٢ (٢٧٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٤، ٣٩٨، ٤٠١) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4826 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کے لئے اپنی جگہ سے اٹھنے کا بیان
سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ ابوبکرہ (رض) ایک گواہی کے سلسلے میں ہمارے ہاں آئے، تو ان کے لیے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کیا، اور کہا : نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ کسی ایسے شخص کے کپڑے سے پونچھے جسے اس نے کپڑا نہ پہنایا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٤، ٤٨) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4827 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى آلِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کے لئے اپنی جگہ سے اٹھنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو ایک شخص اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو وہ وہاں بیٹھنے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے روک دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢٠ (٩١١) ، الاستئذان ٣١ (٦٢٦٩) ، صحیح مسلم/السلام ١١ (٢١٧٧) ، سنن الترمذی/الأدب ٩ (٢٧٥٠) ، مسند احمد (٢/١٤٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٤ (٢٦٩٥) (حسن )
حدیث نمبر: 4828 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْخَصِيبِ اسْمُهُ: زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کے لئے اپنی جگہ سے اٹھنے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسے مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس نارنگی کی سی ہے جس کی بو بھی اچھی ہے اور جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور ایسے مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے لیکن اس میں بو نہیں ہوتی، اور فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، گلدستے کی طرح ہے جس کی بو عمدہ ہوتی ہے اور اس کا مزا کڑوا ہوتا ہے، اور فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، ایلوے کے مانند ہے، جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بو بھی نہیں ہوتی، اور صالح دوست کی مثال مشک والے کی طرح ہے، کہ اگر تمہیں اس سے کچھ بھی نہ ملے تو اس کی خوشبو تو ضرور پہنچ کر رہے گی، اور برے دوست کی مثال اس دھونکنی (لوہے کی بٹھی) والے کی سی ہے، کہ وہ اگر اس کی سیاہی سے بچ بھی جائے تو اس کا دھواں تو لگ ہی کر رہے گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4829 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مَرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْهُ شَيْءٌ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ سَوَادِهِ أَصَابَكَ مِنْ دُخَانِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کے لئے اپنی جگہ سے اٹھنے کا بیان
اس سند سے بھی ابوموسیٰ (رض) سے شروع سے طعمها مر (اس کا مزا کڑوا ہے) تک اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور ابن معاذ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انس (رض) نے کہا : اور ہم آپس میں کہتے تھے کہ اچھے ہم نشین کی مثال، پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل القرآں ١٧ (٥٠٢٠) ، ٣٦ (٥٠٥٩) ، والأطعمة ٣٠ (٥٤٢٧) ، والتوحید ٥٧ (٧٥٦٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٧ (٧٩٧) ، سنن الترمذی/الأمثال ٤ (٢٨٦٥) ، سنن النسائی/الإیمان ٣٢ (٥٠٤١) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦(٢١٤) ، مسند احمد (٤/٣٩٧، ٤٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4830 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْكَلَامِ الْأَوَّلِ إِلَى قَوْلِهِ: وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مَثَلَ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کے لئے اپنی جگہ سے اٹھنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اچھے ہم نشین کی مثال ... پھر راوی نے اس جیسی روایت ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4831 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ،حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَزْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کے لئے اپنی جگہ سے اٹھنے کا بیان
ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ ١ ؎، اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزہد ٥٥ (٢٣٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں کفار و منافقین کی مصاحبت سے ممانعت ہے کیونکہ ان کی مصاحبت دین کے لئے ضرر رساں ہے۔
حدیث نمبر: 4832 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ.
তাহকীক: