কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৪৮৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس سے اٹھ کر لوٹ آنے والا اسی جگہ پر بیٹھنے کا مستحق ہے
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس (اس جگہ بیٹھنے) کا زیادہ مستحق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٢٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ١٢ (٢١٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٢ (٣٧١٧) ، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٥٢٧) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٥ (٢٦٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4853 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَالِسًا وَعِنْدَهُ غُلَامٌ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ، فَحَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس سے اٹھ کر لوٹ آنے والا اسی جگہ پر بیٹھنے کا مستحق ہے
کعب الایادی کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ (کسی کام سے جانے کے لیے) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٦٠) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4854 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ كَعْبٍ الْإِيَادِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ،فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی مجلس سے بغیر اللہ کا ذکر کیے اٹھ جانا مکروہ ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوگ بھی بغیر اللہ کو یاد کئے کسی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے ہوں تو وہ ایسی مجلس سے اٹھے ہوتے ہیں جو بدبو میں مرے ہوئے گدھے کی لاش کی طرح ہوتی ہے، اور وہ مجلس ان کے لیے (قیامت کے روز) باعث حسرت ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٥٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥١٥، ٥٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4855 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی مجلس سے بغیر اللہ کا ذکر کیے اٹھ جانا مکروہ ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ٨ (٣٣٨٠) ، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٥٢، ٤٨١، ٤٨٤) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4856 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے (ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں سبحانک اللهم وبحمدک لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك اے اللہ ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٩٨١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ٣٩ (٣٤٢٩) ، مسند احمد (٢/٤٩٤) (صحیح) دون قولہ : ثلاث مرات
حدیث نمبر: 4857 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ، وَلَا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ إِلَّا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ
ابوہریرہ (رض) بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4858 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو، وحَدَّثَنِي بِنَحْوِ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْالْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ
ابوبرزہ اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے : سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك تو ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا : یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہوجاتی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٥) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٩ (٢٧٠٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4859 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، أَنَّ عَبْدَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ ديِنَارٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ،عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، فَقَالَ رَجُلٌ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس کی کوئی بات آگے بڑھانا منع ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے کوئی کسی کے بارے میں کوئی شکایت مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں (گھر سے) نکل کر تمہاری طرف آؤں، تو میرا سینہ صاف ہو (یعنی کسی کی طرف سے میرے دل کوئی میں کدورت نہ ہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المناقب ٦٤ (٣٨٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٦) (ضعیف) (زید بن زائد یا زائدہ لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 4860 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْوَلِيدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَنَسَبَهُ لَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ الْوَلِيدُ ابْنُ أَبِي هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے شر سے بچتے رہنے کا بیان
عمرو بن فغواء خزاعی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : کوئی اور ساتھی تلاش کرلو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے : مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا : ہاں، تو انہوں نے کہا : میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا : کون ؟ میں نے کہا : عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا : جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چناچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا : میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا : جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کردیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا : ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٩) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4861 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: الْتَمِسْ صَاحِبًا، قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا، قَالَ: فَقَالَ: مَنْ ؟ قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ، فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَبْوَاءِ، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ، فَتَلَبَّثْ لِي، قُلْتُ رَاشِدًا، فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي، فَقَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ وَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے شر سے بچتے رہنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٨٣ (٦١٣٣) ، صحیح مسلم/الزہد ١٢ (٢٩٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧٩) ، سنن الدارمی/الرقاق ٦٥ (٢٨٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4862 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی چال چلن کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ آگے کی جانب جھکے ہوئے ہیں (جیسے کوئی اونچے سے نیچے کی طرف اتر رہا ہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٥٦) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4863 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَشَى كَأَنَّهُ يَتَوَكَّأُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی چال چلن کا بیان
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا : آپ کو کیسا دیکھا ؟ وہ کہا : آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٢٨ (٢٣٤٠) ، سنن الترمذی/الشمائل (١٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٥٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4864 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: كَيْفَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ: كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَهْوِي فِي صَبُوبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیٹتے وقت ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنا ممنوع ہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں أن يضع کے بجائے أن يرفع کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٠ (٢٠٩٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٢٠ (٢٧٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٩٢، ٢٩٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٦٢، ٣٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4865 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضَعَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ: يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، زَادَ قُتَيْبَةُ وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیٹتے وقت ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنا ممنوع ہے
عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : خ /الصلاة ٨٥ (٤٧٥) ، اللباس ١٠٣ (٥٩٦٩) ، الاستئذان ٤٤ (٦٢٨٧) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٢ (٢١٠٠) ، سنن الترمذی/الأدب ١٩ (٢٧٦٥) ، سنن النسائی/المساجد ٢٨ (٧٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/السفر ٢٤ (٨٧) ، مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) ، دی/الاستئذان ٢٧(٢٦٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں بظاہر تعارض ہے ، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب لنگی ( ازار) تنگ ہو ، اور ایسا کرنے سے ستر کھلنے کا اندیشہ ہو ، اور اگر ازار کشادہ ہو ، اور ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو درست ہے ، یا دونوں پیر پھیلا کر ایسا کرنا درست ہے ، کیونکہ اس صورت میں ستر کھلنے کا اندیشہ نہیں رہتا ، البتہ ایک پیر کو کھڑا کر کے دوسرے کو کھڑے پر رکھنا درست نہیں کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 4866 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیٹتے وقت ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنا ممنوع ہے
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان (رض) بھی اسے کیا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٨) (صحیح الإسناد عن عثمان )
حدیث نمبر: 4867 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (راز کی) بات کو آگے بیان کرنا منع ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے (اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٣٩ (١٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٥٢، ٣٧٩، ٣٩٤) (حسن )
حدیث نمبر: 4868 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (راز کی) بات کو آگے بیان کرنا منع ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں (یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣١٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٤٢) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : ان تینوں صورتوں میں سننے والے کے لئے اس کا چھپانا جائز نہیں، بلکہ اس کا افشاء برائی کے دفعیہ کے لیے ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 4869 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ، أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ، أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (راز کی) بات کو آگے بیان کرنا منع ہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ (بیوی) اس سے ملے پھر وہ (مرد) اس کا راز فاش کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢١ (١٤٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٤١١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٦٩) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4870 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: إِبْرَاهِيمُ هُوَ: عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلُ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چغل خور کا بیان
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٥٠ (٦٠٥٦) ، م /الإیمان ٤٥ (١٥٠) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٧٩ (٢٠٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٨٩، ٣٩٧، ٤٠٣، ٤٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سب سے پہلے اس گناہ کی سزا میں پہلے داخل جہنم ہوگا، اور سزا بھگت کر موحد ہونے کی صورت میں جنت کا مستحق ہوگا۔
حدیث نمبر: 4871 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْحُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چغل خور کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں برا وہ شخص ہے جو دورخا ہو، ان کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہو اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کرجاتا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٧١٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/المناقب ١ (٣٤٩٤) ، والأدب ٥٢ (٧١٧٩) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٨ (٢٥٢٦) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٧٨ (٢٠٢٥) ، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٤٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4872 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
তাহকীক: