কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫২৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کا سلام پہنچانا
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ (رض) نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا : وعليه السلام ورحمة الله ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢١٧) ، و فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٨) ، والأدب ١١١ (٦٢٠١) ، الاستئذان ١٦ (٦٢٤٩) ، ١٩ (٦٢٥٣) ، صحیح مسلم/الآداب ٧ (٢٤٤٧) ، سنن الترمذی/الاستئذان ٥ (٢٦٩٣) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٤٠٥) ، سنن ابن ماجہ/ الآداب ١٢ (٣٦٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤٦، ١٥٠، ٢٠٨، ٢٢٤) ، سنن الدارمی/الاستئذان ١٠ (٢٦٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5232 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حَدَّثَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ، فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی پکار پر لبیک کہنا صحیح ہے
ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا : السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبرکاته کوچ کا وقت ہوچکا ہے، آپ نے فرمایا : ہاں، پھر آپ نے فرمایا : اے بلال ! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ١ ؎ انہوں نے کہا : لبيك وسعديك وأنا فداؤك میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا : میرے گھوڑے پر زین کس دو تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ٢ ؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے (اور چل پڑے) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٦) ، سنن الدارمی/السیر ١٦ (٢٤٩٦) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اشارہ ہے ان کے ضعف اور ان کی لاغری کی طرف۔ ٢ ؎ : جیسے دنیا داروں کی زین میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5233 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ، لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ، قَالَ: أَجَلْ، ثُمَّ قَالَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ، فَقَالَ: أَسْرِجْ لِي الْفَرَسَ، فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ، فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ لَيْسَ لَهُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ، وَهُوَ حَدِيثٌ نَبِيلٌ جَاءَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی یہ کہے کہ اللہ تجھے ہنستا رکھے
مرداس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنسے تو ابوبکر (رض) یا عمر (رض) نے آپ سے أضحک الله سنك اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٦ (٣٠١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥١٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابن کنانہ اور خود کنانہ بن عباس مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 5234 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِ عِيسَى أَضْبَطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ يَعْنِي السُّلَمِيَّ، حَدَّثَنَا ابْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکان تعمیر کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا : عبداللہ ! یہ کیا ہو رہا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ مرمت (سرمت) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا : معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے (یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزھد ٢٥ (٢٣٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٣ (٤١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5235 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَيْءٌ أُصْلِحُهُ، فَقَالَ: الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکان تعمیر کرنے کا بیان
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہوگیا تھا، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں (زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5236 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا وَهَى، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکان تعمیر کرنے کا بیان
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا : یہ کیا ہے ؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہوگیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا : قسم اللہ کی ! میں اپنے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ : آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کردیا، پھر ایک روز رسول اللہ ﷺ نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا : وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا : مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بےالتفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتادیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا : سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٢٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الزھد ١٣ (٤١٦١) ، مسند احمد (٣/٢٢٠) (حسن) (الصحیحة ٢٨٣٠ )
حدیث نمبر: 5237 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً، فَقَالَ: مَا هَذِهِ ؟ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ، أَعْرَضَ عَنْهُ، صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ، وَالْإِعْرَاضَ عَنْهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: خَرَجَ، فَرَأَى قُبَّتَكَ، قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا، حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا، قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ ؟، قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ، إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالاخانے بنانے کا بیان
دکین بن سعید مزنی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا : عمر ! جاؤ اور انہیں دے دو ، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٧٤) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 5238 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ، فَارْتَقَى بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ، فَأَخَذَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یڑی کاٹنے کا بیان
عبداللہ بن حبشی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا ١ ؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ : یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے (تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : طبرانی کی ایک روایت میں من سدر الحرم (حرم کے بیر کے درخت) کے الفاظ وارد ہیں جس سے مراد کی وضاحت ہوجاتی ہے اور اشکال رفع ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5239 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ، سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ، يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا، صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یڑی کاٹنے کا بیان
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٤٢، ١٩٠٤٤) (ضعیف) (عروہ تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
حدیث نمبر: 5240 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ وَسَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یڑی کاٹنے کا بیان
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا : ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا : اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (حسن) (الصحیحة ٦١٥ )
حدیث نمبر: 5241 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ، كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، زَادَ حُمَيْدٌ، فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ، سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا چاہیے
بریدہ (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! اتنی طاقت کس کو ہے ؟ آپ نے فرمایا : مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور (موذی) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٩٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5242 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ، قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ: النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا، وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا چاہیے
ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی صدقہ عائد ہوجاتا ہے، تو اس کا اپنے ملاقاتی سے سلام کرلینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف (اچھی بات) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر (بری بات) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہوگا ؟ (یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہوگا) تو آپ نے فرمایا : کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش (بیوی کے بجائے) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں ؟ (جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہوگا) اس کے بعد آپ نے فرمایا : اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہوجائیں گی (یعنی صدقہ بن جائیں گی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی (کے صدقہ ہونے) کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٦٧، ١٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5243 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ،عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُهُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَبُضْعَتُهُ أَهْلَهُ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِي شَهْوَةً وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حَقِّهَا أَكَانَ يَأْثَمُ ؟، قَالَ: وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ الْأَمْرَ وَالنَّهْيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا چاہیے
ابوالاسود الدیلی نے ابوذر سے یہی حدیث روایت کی ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر اس کے وسط میں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5244 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسْطِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا چاہیے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر (جھکی ہوئی) تھی (آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢) ، المظالم ٢٨ (٢٤٧٢) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٣٦ (١٩١٤) ، الإمارة ٥١ (١٩١٤) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٣٨ (١٩٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٧ (٣٦٨٢) ، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦) ، مسند احمد (٢/٣٤١) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 5245 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: نَزَعَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ، إِمَّا كَانَ فِي شَجَرَةٍ فَقَطَعَهُ وَأَلْقَاهُ، وَإِمَّا كَانَ مَوْضُوعًا فَأَمَاطَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو سوتے وقت آگ یا چراغ بجھا کر سونا چاہیے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے وہ کبھی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں اور کبھی اسے نبی اکرم ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ جب سونے لگو تو آگ گھر میں موجود نہ رہنے دو (بجھا کر سوؤ) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٤٩ (٦٢٩٣) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٥) ، سنن الترمذی/الأطعمة ١٥(١٨١٣) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٦ (٣٧٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٨١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٧، ٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 5246 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رِوَايَةً، وَقَالَ مَرَّةً: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو سوتے وقت آگ یا چراغ بجھا کر سونا چاہیے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا : جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦١١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 5247 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ فَأْرَةٌ فَأَخَذَتْ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ، فَجَاءَتْ بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا، فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ، فَقَالَ: إِذَا نِمْتُمْ، فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هَذَا فَتُحْرِقَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے قتل کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی (سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٤١٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٧، ٤٣٢، ٥٢٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 5248 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ، وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً، فَلَيْسَ مِنَّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے قتل کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجھاد ٤٨ (٣١٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 5249 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے قتل کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے (وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٢٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5250 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أَرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا، مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے قتل کا بیان
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو (جھاڑو دے کر) صاف ستھرا کردینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥١٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5251 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى الطَّحَّانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، عَنْالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ، يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ.
তাহকীক: