কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫১৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین پوشیدہ اوقات میں استیذان کا حکم
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا : ابن عباس ! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول يا أيها الذين آمنوا ليستأذنکم الذين ملکت أيمانکم والذين لم يبلغوا الحلم منکم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابکم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لکم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم اے ایمان والو ! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ (النور : ٥٨) قعنبی نے آیت عليم حكيم تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ حلیم (بردبار) ہے اور مسلمانوں پر رحیم (مہربان) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، (یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن (سرکیاں) ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آجاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر (مال) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبیداللہ اور عطاء کی حدیث (جن کا ذکر اس سے پہلے آچکا ہے) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ ٣ ؎ یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦١٨٠) (حسن الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : پردے ڈال لینے اور دروازہ بند کرلینے کے بعد بالعموم اس کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی اور کوئی ایسے اوقات میں دوسروں کے خلوت کدوں میں جاتا نہ تھا۔ ٣ ؎ : عبداللہ بن عباس (رض) کی ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ اذن (اجازت) لینے کا حکم اس صورت میں ہے جب گھر میں دروازہ نہ ہو اور عدم اذن اس صورت میں ہے جب گھر میں دروازہ ہو۔
حدیث نمبر: 5192 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، كَيْفَ تَرَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي أُمِرْنَا فِيهَا بِمَا أُمِرْنَا وَلَا يَعْمَلُ بِهَا أَحَدٌ، قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاةِ الْعِشَاءِ ثَلاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ سورة النور آية 58، قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ إِلَى: عَلِيمٌ حَكِيمٌ سورة النور آية 58، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ اللَّهَ حَلِيمٌ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ يُحِبُّ السَّتْرَ، وَكَانَ النَّاسُ لَيْسَ لِبُيُوتِهِمْ سُتُورٌ وَلَا حِجَالٌ فَرُبَّمَا دَخَلَ الْخَادِمُ أَوِ الْوَلَدُ أَوْ يَتِيمَةُ الرَّجُلِ وَالرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ، فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ بِالِاسْتِئْذَانِ فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ، فَجَاءَهُمُ اللَّهُ بِالسُّتُورِ وَالْخَيْرِ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَعْمَلُ بِذَلِكَ بَعْدُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَطَاءٍ يُفْسِدُ هَذَا الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کی کثرت کا حکم
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے : تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم (کامل) مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو : آپس میں سلام کو عام کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٨١) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإیمان ٢٢ (٥٤) ، سنن الترمذی/الاستئذان ١ (٢٦٨٩) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٨) ، مسند احمد (١/١٦٥، ٢/٣٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5193 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کی کثرت کا حکم
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٦ (١٢) ، ٢٠ (٢٨) ، والاستئذان ٩ (٦٢٣٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٩) ، سنن النسائی/الإیمان ١٢ (٥٠٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١ (٣٢٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٢٧) ، وقد أخرجہ : حم (٢/١٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5194 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کا صحیح طریقہ، الفاظ سلام کا بیان
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا : اس کو بیس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا : اسے تیس نیکیاں ملیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٣ (٢٦٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٩، ٤٤٠) ، سنن الدارمی/الاستئذان ١٢ (٢٦٨٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 5195 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، فَقَالَ: عِشْرُونَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، فَقَالَ: ثَلَاثُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کا صحیح طریقہ، الفاظ سلام کا بیان
معاذ بن انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ تو آپ نے فرمایا : اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٠٠) (ضعیف الإسناد) (راوی ابن ابی مریم نے نافع سے سماع میں شک کا اظہار کیا )
حدیث نمبر: 5196 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ، فَقَالَ: أَرْبَعُونَ، قَالَ: هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام میں پہل کرنے کی فضیلت
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٩٢٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٦ (٢٦٩٤) ، مسند احمد (٥/٢٥٤، ٢٦١، ٢٦٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 5197 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس کو سلام میں پہل کرنا چاہیے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٧٩٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٤ (٦٢٣١) ، صحیح مسلم/السلام ١ (٢١٦٠) ، سنن الترمذی/الاستئذان ١٤ (٢٧٠٣) ، مسند احمد (٢/٣١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 5198 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس کو سلام میں پہل کرنا چاہیے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الاستئذان ٥ (٦٢٣٢) ، ٦ (٦٢٣٣) ، صحیح مسلم/ السلام ١ (٢١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٥، ٥١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5199 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے سے ذرا سی جدائی کے بعد پھر سلام کرنا چاہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور وہ اس سے ملے (ان کا آمنا سامنا ہو) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں : مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٧٩٣، ١٥٤٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5200 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے سے ذرا سی جدائی کے بعد پھر سلام کرنا چاہے
عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا : اللہ کے رسول ! السلام عليكم کیا عمر اندر آسکتا ہے ١ ؎؟۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٤٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کی باب سے مناسبت واضح نہیں ہے ممکن ہے کہ اس کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ مؤلف اس باب کے ذریعہ تسلیم کی چار صورتیں بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ملے اور سلام کرے پھر دونوں جدا ہوجائیں اور پھر دوبارہ ملیں تو کیا کریں، اس سلسلہ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ وہ جب بھی ملیں تو سلام کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ملے اور اسے سلام کرے پھر وہ اس سے جدا ہوجائے، پھر وہ اس کے گھر پر اس سے ملنے آئے تو اس کے لئے مناسب ہے کہ دوبارہ اسے سلام کرے یہ سلام سلام لقاء نہیں سلام استیٔذان ہوگا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے اس کے گھر ملنے آیا اور اس نے اسے سلام استیٔذان کیا لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور وہ لوٹ گیا، پھر وہ کچھ دیر کے بعد دوبارہ گھر پر ملنے آیا تو مناسب ہے کہ وہ دوبارہ سلام استیٔذان کرے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے اس کے گھر پر ملنے آیا اور سلام استیٔذان کیا لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور وہ لوٹ گیا پھر دوبارہ آیا اور سلام استیٔذان کیا اور اسے اجازت مل گئی تو اندر جا کر وہ پھر سلام کرے اور یہ سلام سلام لقاء ہوگا، دوسری، تیسری اور چوتھی صورت پر مؤلف نے عمر (رض) کی اسی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ابوداود نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے اور امام بخاری نے اسے کتاب انکاح اور کتاب المظالم میں مطوّلاً ذکر کیا ہے جس سے اس روایت کی باب سے مناسبت واضح ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 5201 حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَأَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيَدْخُلُ عُمَرُ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے سے ذرا سی جدائی کے بعد پھر سلام کرنا چاہے
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ ایسے بچوں کے پاس آئے جو کھیل رہے تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤١١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ١٥ (٦٢٤٧) ، صحیح مسلم/السلام ٥ (٢١٦٨) ، سنن الترمذی/الاستئذان ٨ (٢٦٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٤ (٣٧٠٠) ، مسند احمد (٣/١٦٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٨ (٢٦٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5202 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے سے ذرا سی جدائی کے بعد پھر سلام کرنا چاہے
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا : ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5203 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌانْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ فِي الْغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ، أَوْ قَالَ: إِلَى جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید (رض) نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم ﷺ گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٩ (٢٦٩٧) ، سنن ابن ماجہ/ الآداب ١٤ (٣٧٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٥٢، ٤٥٧) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٩ (٢٦٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر عورتوں کی جماعت ہے تو انہیں سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عورت اگر اکیلی ہے اور سلام کرنے والا اس کے لئے محرم نہیں ہے تو (فتنہ کے خدشہ نہ ہونے کی صورت میں) سلام نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ فتنہ وغیرہ سے محفوظ رہے۔
حدیث نمبر: 5204 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ ابْنَةُ يَزِيدَ،مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کافروں کو سلام کرنے کا بیان
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں (یعنی قافلے والوں) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں (اور ان کے پجاریوں کو) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا : تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ (رض) نے ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے : انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٨٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الاستئذان ١٢ (٢٧٠٠) ، مسند احمد (٢/٣٤٦، ٤٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5205 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ أَبِي: لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کافروں کو سلام کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ السام عليكم (تمہارے لیے ہلاکت ہو) کہے تو تم اس کے جواب میں وعليكم کہہ دیا کرو (یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے وعليكم ہی کا لفظ روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٢٢٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٢٣ (٢٦٥٧) ، واستتابة المرتدین ٤ (٦٩٢٨) ، صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٤) ، سنن الترمذی/السیر ٤١ (١٦٠٣) ، موطا امام مالک/السلام ٢ (٣) ، مسند احمد (٢/١٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٧ (٢٦٧٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 5206 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قال فِيهِ، وَعَلَيْكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کافروں کو سلام کرنے کا بیان
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا : اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ وعليكم کہہ دیا کرو ابوداؤد کہتے ہیں : ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٢٢ (٦٢٥٧) ، استتابة المرتدین ٤ (٦٩٢٦) ، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٥٨ (٣٣٠١) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٣ (٣٦٩٧) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٣٨٦، ٣٨٧) ، مسند احمد (٣ /٩٩، ٢١٢، ٢١٨، ٢٢٢، ٢٧٣، ٢٧٧، ٣٠٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5207 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ: إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ: قُولُوا وَعَلَيْكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَة يَعْنِي الْغِفَارِيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس سے اٹھتے وقت سلام کرنا چاہیے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الاستئذان ١٥ (٢٧٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٠، ٤٣٩) (حسن )
حدیث نمبر: 5208 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ السلام علیک کے بجائے علیک السلام کہنا ناپسندیدہ ہے
ابوجری ہجیمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا : عليك السلام يا رسول الله آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : عليك السلام مت کہو کیونکہ عليك السلام مردوں کا سلام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٢٨ (٢٧٢١) ، سنن النسائی/الیوم اللیلة (٣١٨) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5209 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ، فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب کی طرف سے ایک ہی آدمی جواب دے سکتا ہے
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں : حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے) ، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو (لوگ چل رہے ہوں) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کرلینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہوگا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٣١) (صحیح) (الإرواء : ٧٧٨، الصحیحة : ١١٤٨، ١٤١٢ ) وضاحت : ١ ؎ : اور اگر سبھی جواب دیں تو یہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 5210 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ، وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصافحہ کرنے کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں ١ ؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٩٣) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی زید لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت حسن ہے ) وضاحت : ١ ؎ : مصافحہ صرف ملاقات کے وقت مسنون ہے، سلام کے بعد اور نماز کے بعد، مصافحہ کرنے کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے، یہ بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 5211 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ، غُفِرَ لَهُمَا.
তাহকীক: