কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ২৪৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوال کے مہینہ میں چھ دن کے روزے رکھنا
ابوایوب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٢٩ (١١٦٤) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٣ (٧٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٣ (١٧١٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤١٧، ٤١٩) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٤ (١٧٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2433 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفلی روزے کس طرح رکھتے تھے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ ﷺ کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٦٩) ، صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦) ، سنن الترمذی/الصوم ٣٧ (٧٣٦) ، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١٠) ، موطا امام مالک/الصوم ٢٢ (٥٦) ، مسند احمد (٦/٣٩، ٨٠، ٨٤، ٨٩، ١٠٧، ١٢٨، ١٤٣، ١٥٣، ١٦٥، ١٧٩، ٢٣٣، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2434 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ. وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ. وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفلی روزے کس طرح رکھتے تھے
ابوہریرہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے : آپ شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠١٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2435 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. زَادَ: كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کاروزہ
اسامہ بن زید (رض) کے غلام کہتے ہیں کہ وہ اسامہ (رض) کے ہمراہ وادی قری کی طرف ان کے مال (اونٹ) کی تلاش میں گئے (اسامہ کا معمول یہ تھا کہ) دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اس پر ان کے غلام نے ان سے پوچھا : آپ دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہیں ؟ کہنے لگے : نبی اکرم ﷺ دوشنبہ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اور جب آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : بندوں کے اعمال دوشنبہ اور جمعرات کو (بارگاہ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠١) ، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2436 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ؟ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک روزے رکھنا
ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے (شروع) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر (سوموار، دوشنبہ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٧١) ، ٥١ (٢٤١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧١) ، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٤٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابوداود کی اس روایت میں اسی طرح واحد کے لفظ کے ساتھ ہے مگر نسائی کی روایت (رقم ٢٣٧٤) میں تثنیہ الخميسين کے لفظ کے ساتھ ہے ، اور سیاق وسباق سے یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تین دن کی تفصیل نہیں ہو پاتی۔
حدیث نمبر: 2437 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَن بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک روزے رکھنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پاسکتا) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العیدین ١١ (٩٦٩) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٢ (٧٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٦١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٤، ٣٣٨، ٣٤٦) ، سنن الدارمی/الصیام ٥٢ (١٨١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2438 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے نہ رکھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشرہ ذی الحجہ ١ ؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الاعتکاف ٤ (١١٧٦) ، سنن الترمذی/الصوم ٥١ (٧٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٤٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٩) ، مسند احمد (٦/٤٢، ١٢٤، ١٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ (حاجیوں کے میدان عرفات میں وقوف کے دن ) کے روزے کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو نیز عائشہ (رض) کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
حدیث نمبر: 2439 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٠ (١٧٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٤، ٤٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی ” مہدیٰ الہجری “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یوم عرفہ (عرفہ کے دن) کا روزہ یعنی (٩) ذی الحجہ کے دن کا روزہ ، اور سعودی عرب کے ٹائم ٹیبل اور حج کے دن کے اعلان کے مطابق عرفات میں حجاج کے اجتماع کے دن کا روزہ ہے، اور یہ امیر حج کے اعلان کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس دن ذی الحجۃ کی (٩) تاریخ ہوگی، اختلاف مطالع کی وجہ سے تاریخوں کے فرق میں عام مسلمان مکہ کی تاریخ کا خیال رکھیں۔
حدیث نمبر: 2440 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنا
ام الفضل بنت حارث (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول ﷺ کے یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چناچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٨٥ (١٦٥٨) ، الصوم ٦٥ (١٩٨٨) ، الأشربة ١٢ (٥٦٠٤) ، صحیح مسلم/الصیام ١٨ (١١٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٥٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٤٣ (١٣٢) ، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2441 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ بھی اس کا روزہ نبوت سے پہلے رکھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧١٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٢٥) ، سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣) ، موطا امام مالک/الصیام ١١(٣٣) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2442 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢) ، والتفسیر ٢٤ (٤٥٠١) ، صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٨١٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٤١ (١٧٣٧) ، مسند احمد (٢/٥٧) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2443 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (وضاحت) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چناچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ، اور آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٤) ، أحادیث الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٧) ، المناقب ٥٢ (٣٩٤٣) ، التفسیر ٢ (٤٧٣٧) ، صحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٥٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤١ (١٧٣٤) ، مسند احمد (١/٢٣٦، ٣٤٠) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2444 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ.وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ عاشورہ نویں تاریخ کو ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور ہمیں بھی اس کے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ایسا دن ہے کہ یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ، لیکن آئندہ سال نہیں آیا کہ آپ وفات فرما گئے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٦٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہود کی مخالفت میں اس کے ساتھ نو کو بھی روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا اور قولا اس کا حکم بھی دیا تھا، ویسے ایک دن پہلے بھی روزہ رہنے سے شکرانہ ادا ہوسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2445 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حِينَ صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَنَا بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ. فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ عاشورہ نویں تاریخ کو ہے
حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا : محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : (ہاں) محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٣) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٠ (٧٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٤١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٤٦، ٢٨٠، ٣٤٤، ٣٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پچھلی حدیث میں ہے ” آئندہ سال آیا نہیں کہ آپ وفات پا گئے “ اور اس حدیث میں ہے، ” محمد ﷺ بھی اسی طرح (نو محرم کا) روزہ رکھتے تھے “ بات صحیح یہی ہے کہ نو کے روزہ رکھنے کا آپ ﷺ کو موقع نہیں ملا، لیکن ابن عباس (رض) نے اس بنا پر کہہ دیا کہ آپ ﷺ نے آئندہ سے روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا، نیز قولا اس کا حکم بھی دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2446 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ غَلَّابٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِيحَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، جَمِيعًا الْمَعْنَى عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ. فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ. فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّاسِعِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا. فَقُلْتُ: كَذَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ؟ فَقَالَ: كَذَلِكَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے روزے کی فضیلت
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے ؟ جواب دیا : نہیں، فرمایا : دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی عاشوراء کے دن۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الصیام ٣٦ (٢٣٢٠) (تحفة الأشراف : ١٥٦٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩، ٣٦٧، ٤٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 2447 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کرنا
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے : وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے (تہجد پڑھتے) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/قیام اللیل ٧ (١١٣١) ، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩) ، سنن النسائی/الصیام ٤٠ (٢٣٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧١٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٠٦) ، دی/ الصوم (٤٢ (١٧٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2448 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُعَمْرًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہرمہینہ میں تین روزے رکھنے کا بیان
قتادہ بن ملحان قیسی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے، اور فرماتے : یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٤٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٥، ٥/٢٧، ٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2449 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسٍ أَخِي مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ. قَالَ: وَقَالَ: هُنَّ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہرمہینہ میں تین روزے رکھنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزے رکھتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٤١ (٧٤٢) ، سنن ابن ماجہ/ المناسک ٣٧ (١٢٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٠٦) (حسن )
حدیث نمبر: 2450 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ يَعْنِي مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا بیان
ام المؤمنین حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہینے میں تین دن روزے رکھتے تھے یعنی (پہلے ہفتہ کے) دوشنبہ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٨٧، ٢٨٨) ، وانظر ما تقدم برقم : (٢٤٣٧) (حسن )
حدیث نمبر: 2451 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ: الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا بیان
ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٤٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣١٠) (منکر ) وضاحت : ١ ؎ : نسائی میں اس روایت کے الفاظ ہیں ، أَوَّلُ خَمِيْسٍ “ ” وَالاثْنَيْنِ وَالاثْنَيْنِ یعنی : مہینے کا پہلا جمعرات اور دوشنبہ ، پھر دوسرا دوشنبہ ، بعض روایتوں میں تیسرا دن جمعرات ہے (حدیث نمبر : ٢٤٣٧) بعض روایتوں میں درمیان ماہ کے تین دنوں کا تذکرہ ہے ، اور اگلی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی خاص دن متعین نہیں تھا، بس تین دن کا روزہ مقصود تھا، سب مختلف اوقات و حالات کے لحاظ سے تھا۔
حدیث نمبر: 2452 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.
তাহকীক: