কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ২৪১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر کی وہ مسافت جس کی وجہ سے روزہ افطار کیا جاسکتا ہے
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی (رض) ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی : اے اللہ ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے (ی عنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی منصور کلبی مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 2413 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ دِمَشْقَ مَرَّةً إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنْ الْفُسْطَاطِ وَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ. ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا. فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ، إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ. يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا. ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر کی وہ مسافت جس کی وجہ سے روزہ افطار کیا جاسکتا ہے
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) غابہ ١ ؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے، اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ؟ ؟؟ ) (صحیح موقوف ) وضاحت : ١ ؎ : غابہ ایک جگہ ہے جو مدینہ سے تھوڑی دور کے فاصلہ پر شام کے راستے میں پڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 2414 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَيَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصِرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ نہ کہنا چاہیے کہ میں نے رمضان بھر روزہ رکھا
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا ۔ راوی حدیث کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہوگا (اس طرح یہ غلط بیانی ہوجائے گی) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٤ (٢١١١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٠، ٤١، ٤٨، ٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 2415 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَقُمْتُهُ كُلَّهُ. فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ نَوْمَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید الفطر اور عید الا ضحی کے دن روزہ رکھنا
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر (رض) کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے : عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٠) ، الأضاحی ١٦ (٥٥٧١) ، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (١١٣٧) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧١) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العیدین ٢ (٥) ، مسند احمد (١/٢٤، ٣٤، ٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2416 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید الفطر اور عید الا ضحی کے دن روزہ رکھنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا : ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ١ ؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ٢ ؎ کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا : ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٦ (٨٨٤) ، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤) ، والصوم ٦٨ (١٩٩٦) ، صحیح مسلم/الصوم ٢٢ (٨٢٧) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٠٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢) ، مسند احمد (٣/٣٤، ٩٦) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٣ (١٧٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : صماء کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کرسکے۔ ٢ ؎ : احتباء کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے ، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
حدیث نمبر: 2417 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت
ام ہانی (رض) کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو (رض) کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص (رض) کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو (رض) نے کہا : میں تو روزے سے ہوں ، اس پر عمرو (رض) نے کہا : کھاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٥١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٤٤(١٣٧) ، مسند احمد (٤/١٩٧) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٨ (١٨٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2418 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ. فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمْرٌو: كُلْ، فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا. قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٥٩ (٧٧٣) ، سنن النسائی/المناسک ١٩٥ (٣٠٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٥٢) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٧ (١٨٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2419 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْمُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے لئے جمعہ کے دن کو مخصوص نہ کرے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں کوئی جمعہ کو روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ ایک دن پہلے یا بعد کو ملا کر رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٢٤ (١١٤٤) ، سنن الترمذی/الصوم ٤٢ (٧٤٣) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٧ (١٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٠٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٣(١٩٨٥) ، مسند احمد (٢/٤٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2420 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ أَوْ بَعْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سینچر کو روزہ کے لئے مخصوص نہ کرے
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی (رض) اپنی بہن مّاء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر (ہفتے) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو (اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھل کہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ منسوخ حدیث ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٤٣ (٧٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٨ (١٧٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٠، ١٨٩٦٤، ١٩٢٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٦٨) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٠ (١٧٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سنیچر کو روزہ کے لئے مخصوص کر دے، کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، اس تأویل کی صورت میں امام ابوداود کا اسے منسوخ کہنا درست نہیں ہے، اور کسی صورت میں اس حدیث میں اور اگلے باب کی حدیث ( اور اس دن کے صیام نبوی کی احادیث) میں کوئی تعارض نہیں باقی رہ جاتا، کہ روزہ رکھنے کی صورت میں اس دن کو مخصوص نہیں کیا گیا، ( ملاحظہ ہو : تہذیب السنن لابن القیم ٣ ؍ ٢٩٧- ٣٠١، و زاد المعاد ١ ؍ ٢٣٧- ٢٣٨، و صحیح ابی داود ٧ ؍ ١٨٠)
حدیث نمبر: 2421 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ. ح وحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَهْلِ جَبَلَة، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ، وَقَالَ يَزِيدُ الصَّمَّاءِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ مَنْسُوخٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سینچر کے دن روزہ رکھنے کی اجازت
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا ؟ کہا : نہیں، فرمایا : کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ بولیں : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : پھر روزہ توڑ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٣ (١٩٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٩) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ (٢٧٥٤) ، مسند احمد (٦/٣٢٤، ٤٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2422 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَفْصٌ الْعَتَكِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ. فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَأَفْطِرِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سینچر کے دن روزہ رکھنے کی اجازت
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (٢٤٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس جملہ سے حدیث نمبر (٢٤٢١) کی تضعیف مقصود ہے لیکن ، صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے ( ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود ٧ ؍ ١٧٩ )
حدیث نمبر: 2423 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سینچر کے دن روزہ رکھنے کی اجازت
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر (رض) کی حدیث (یعنی سنیچر (ہفتے) کے روزے کی ممانعت والی حدیث) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہوگئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مالک کہتے ہیں : یہ روایت جھوٹی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (٢٤٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام مالک کا یہ قول مرفوض ہے۔
حدیث نمبر: 2424 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا حَتَّى رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: هَذَا كَذِبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمیشہ روزہ رکھنا
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ روزہ کس طرح رکھتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کو اس کے اس سوال پر غصہ آگیا، عمر (رض) نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا : رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی و مطمئن ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں عمر (رض) یہ کلمات برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، پھر (عمر (رض) نے) پوچھا : اللہ کے رسول ! جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا : نہ اس نے روزہ ہی رکھا اور نہ افطار ہی کیا ۔ پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو شخص دو دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی کسی کے اندر طاقت ہے بھی ؟ ۔ (پھر) انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو شخص ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے ۔ پوچھا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور دو دن افطار کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : میری خواہش ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت ملے پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان کے روزے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں، یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ (دس محرم الحرام) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٢) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٦ (٧٦٧) ، سنن النسائی/الصیام ٤٢ (٢٣٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢١١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٩، ٣٠٣، ٣٠٨، ٣١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2425 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَصُومُ ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ، قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ. فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ غَضَبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ ؟ قَالَ: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ. قَالَ مُسَدَّدٌ: لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ، أَوْ مَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، شَكَّ غَيْلَانُ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ: أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ: ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، وَصِيَامُ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمیشہ روزہ رکھنا
اس سند سے بھی ابوقتادہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : کہا : اللہ کے رسول ! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢١١٧) (صحیح ) The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qatadah through a different chain of narrators. This version add: He said: Messenger of Allah, tell me about keeping fast on Monday and Thursday. He said: On it I was born, and on it the Quran was first revealed to me.
حدیث نمبر: 2426 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ صَوْمَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمِ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ: فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ الْقُرْآنُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمیشہ روزہ رکھنا
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو : میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا ؟ کہا : میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا : ہاں، اللہ کے رسول ! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے ۔ عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو وہ کہتے ہیں : اس پر میں نے کہا : میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے میں نے کہا : مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٥٦ (١٩٧٦) ، وأحادیث الأنبیاء ٣٨ (٣٤١٨) ، /النکاح ٩٠ (٥١٩٩) ، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٤٥، ٨٩٦٠ ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصوم ٥٧ (٧٧٠) ، سنن النسائی/الصوم ٤٥ (٢٣٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧٢١) ، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٦٤) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٢ (١٧٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2427 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ ؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُلْتُ ذَاكَ. قَالَ: قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَذَاكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ. قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا
مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے : اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : کون ہو ؟ جواب دیا : میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ ﷺ نے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی ؟ جواب دیا : جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا ؟ پھر فرمایا : صبر کے مہینہ (رمضان) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ ایک روزہ رکھو انہوں نے کہا : اور زیادہ کیجئے کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : دو دن روزہ رکھو ، انہوں نے کہا : اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تین دن کے روزے رکھ لو ، انہوں نے کہا : اور زیادہ کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا : حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو ، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو ، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو ، آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھوڑ دیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/(١٧٤١) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (٢٧٤٣) ، مسند احمد (٥/٢٨) (ضعیف) (مجیبة کے بارے میں سخت اختلاف ہے، یہ عورت ہیں یا مرد، صحابی ہیں یا تابعی اسی اضطراب کے سبب اس حدیث کو لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ) وضاحت : ١ ؎ : برابر روزے رکھ رہا ہوں۔ ٢ ؎ : یعنی تین دن روزے رکھو پھر تین دن نہ رکھو، پورے مہینوں میں اسی طرح کرتے رہو۔
حدیث نمبر: 2428 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيَّةِ، عَنْ أَبِيهَا أَوْ عَمِّهَا، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَأَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَهَيْئَتُهُ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ: وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ. قَالَ: فَمَا غَيَّرَكَ وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ ؟ قَالَ: مَا أَكَلْتُ طَعَامًا إِلَّا بِلَيْلٍ مُنْذُ فَارَقْتُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِمَ عَذَّبْتَ نَفْسَكَ ؟ ثُمَّ قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ. قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي قُوَّةً. قَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ. وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ الثَّلَاثَةِ، فَضَمَّهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے مہینہ میں روزے رکھنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٨) ، الصوم ٤٠ (٧٤٠) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٣ (١٧٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٢، ٣٢٩، ٣٤٢، ٣٤٤، ٥٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2429 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ. لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: شَهْرٌ، قَالَ: رَمَضَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجب کے مہینہ میں روزے رکھنا
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ابن عباس (رض) نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے : افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے : اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٥٤) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الصیام ٤١ (٢٣٤٨، ٢٣٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١١) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٣١، ٣٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے ، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 2430 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ. فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے رکھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٦٢٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (٢٦٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2431 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَعَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَأَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے رکھنا
مسلم قرشی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد (والے ماہ میں) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٤٥ (٧٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١٦، ٤/٧٨) (ضعیف) (صحیح مسلم بن عبیداللہ ہے اور یہ لین الحدیث ہیں، ان کے والد کا نام عبیداللہ بن مسلم اور یہ صحابی ہیں )
حدیث نمبر: 2432 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ. قَالَ: مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
তাহকীক: