কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ২৩৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص روزہ کی حالت میں جماع کر بیٹھے اسکا کفارہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے : پھر آپ ﷺ کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم :(٢٣٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2393 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ: فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَقَالَ فِيهِ: كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ وَصُمْ يَوْمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص روزہ کی حالت میں جماع کر بیٹھے اسکا کفارہ
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں تو بھسم ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے ؟ کہنے لگا : میں نے اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا : بیٹھ جاؤ ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ ﷺ نے فرمایا : ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے ؟ وہ شخص کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے صدقہ کر دو ، بولا : اللہ کے رسول ! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں ؟ اللہ کی قسم ! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا : اسے تم ہی کھالو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٢٩ (١٩٣٥) ، صحیح مسلم/الصیام ١٤ (١١١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٧٦) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (٣١١٠) ، مسند احمد (٦/١٤٠، ٢٧٦) ، سنن الدارمی/الصوم ١٩(١٧٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2394 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ. حدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ. حدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. حدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْتَرَقْتُ. فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ. قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي. قَالَ: تَصَدَّقْ. قَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ. قَالَ: اجْلِسْ. فَجَلَسَ، فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ؟ فَقَامَ الرَّجُلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى غَيْرِنَا ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ. قَالَ: كُلُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص روزہ کی حالت میں جماع کر بیٹھے اسکا کفارہ
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٦١٧٦) (منكر) (مقدار کی بات منکر ہے جو مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے) نوٹ : سند ایک ہے، لیکن اگلی حدیث کے حکم میں اختلاف ہے
حدیث نمبر: 2395 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی سزا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کرسکیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٢٧ (٧٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٦، ٤٤٢، ٤٥٨، ٤٧٠) ، سنن الدارمی/الصوم ١٨ (١٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالمطوس لین الحدیث اور اس کے والد مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 2396 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ مُطَوِّسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی سزا
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث نمبر (٢٣٩٦) کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٦١٦) (ضعیف )
حدیث نمبر: 2397 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ،حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، قَالَ: فَلَقِيتُ ابْنَ الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَسُلَيْمَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَاخْتُلِفَ عَلَى سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْهُمَا ابْنُ الْمُطَوِّسِ وَأَبُو الْمُطَوِّسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ میں بھول سے کچھ کھا پی لینا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٤٣٠، ١٤٤٦٠، ١٤٤٧٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٢٦(١٩٣٣) ، صحیح مسلم/الصیام ٣٣ (١١٥٥) ، سنن الترمذی/الصوم ٢٦ (٧٢١) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٣) ، مسند احمد (٢/٣٩٥، ٥١٣، ٤١٥، ٤٩١) ، سنن الدارمی/الصوم ٢٣ (١٧٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2398 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ نَاسِيًا وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ: اللَّهُ أَطْعَمَكَ وَسَقَاكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے روزوں کی قضاء میں تاخیر کرنا
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) کو کہتے سنا : مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آجاتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤٠ (١٩٥٠) ، صحیح مسلم/الصیام ٢٦ (١١٤٦) ، ن الصیام ٣٦ (٢٣٢١) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٣ (١٦٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصیام ٦٦ (٧٨٣) ، موطا امام مالک/الصیام ٢٠ (٥٤) ، مسند احمد (٦/١٢٤، ١٧٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2399 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤٢(١٩٥٢) ، صحیح مسلم/الصیام ٢٧ (١١٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٩) ، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (٣٣١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2400 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا فِي النَّذْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہوجائے پھر مرجائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہوگی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 2401 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا مَرِضَ الرَّجُلُ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ مَاتَ وَلَمْ يَصُمْ أُطْعِمَ عَنْهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ قَضَى عَنْهُ وَلِيُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ١٧ (١١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٢) ، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١) ، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٣٠٨) ، ٤٣ (٢٣٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠ (١٦٦٢) ، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٣٤) ، مسند احمد (٦/٤٦، ٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧) ، سنن الدارمی/الصوم ١٥(١٧٤٨) (صحیح ) Narrated Aishah: Hamzat al-Aslami asked the Prophet ﷺ: Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
حدیث نمبر: 2402 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ: صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
حمزہ اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول ! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : حمزہ ! جیسا بھی تم چاہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد المؤلف بہذا السیاق، وانظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٠) (ضعیف) (اس کے رواة محمد بن حمزة اور محمد بن عبد المجید لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 2403 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ، وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ وَأَجِدُ بِأَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونُ دَيْنًا، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي، أَوْ أُفْطِرُ ؟ قَالَ: أَيُّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ ﷺ نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس (رض) کہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٨ (١٩٤٨) ، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٣) ، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٢٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠(١٦٦١) ، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١) ، مسند احمد (١/٢٤٤، ٣٥٠) ، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2404 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْصَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٧ (١٩٤٧) ، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2405 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا.فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مر جائے اس کے ذمہ روزے ہوں
قزعہ کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری (رض) کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا : ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اب تم دشمن کے بالکل قریب آگئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا ، چناچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو ، یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں : پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ١٦ (١١٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٨٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٣١١) ، مسند احمد (٣/٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2406 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ وَهُمْ مُكِبُّونَ عَلَيْهِ، فَانْتَظَرْتُ خَلْوَتَهُ. فَلَمَّا خَلَا سَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ. فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ عَامَ الْفَتْحِ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَنَصُومُ حَتَّى بَلَغَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَنَازِلِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ. فَأَصْبَحْنَا مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ. قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ: إِنَّكُمْ تُصَبِّحُونَ عَدُوَّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا. فَكَانَتْ عَزِيمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَصُومُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٦ (١٩٤٦) ، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٥) ، سنن النسائی/الصیام ٢٧ (٢٢٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣١٧، ٣١٩، ٣٥٢، ٣٩٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2407 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ. فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے
انس بن مالک ١ ؎ (رض) سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ ، میں نے کہا : میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں : اللہ نے (سفر میں) نماز آدھی کردی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے ، قسم اللہ کی ! آپ ﷺ نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٢١ (٧١٥) ، سنن النسائی/الصیام ٢٨ (٢٢٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٢ (١٦٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٤٧، ٥/٢٩) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ انس بن مالک (رض) رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص کے علاوہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2408 حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ إِخْوَةِ بَنِي قُشَيْرٍ، قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ، أَوْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ. فَقَالَ: اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا هَذَا. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلَاةِ وَعَنِ الصِّيَامِإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ شَطْرَ الصَّلَاةِ أَوْ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ أَوِ الْحُبْلَى وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا أَوْ أَحَدَهُمَا. قَالَ: فَتَلَهَّفَتْ نَفْسِي أَنْ لَا أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے کہا کہ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ (رض) کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٥(١٩٤٥) ، صحیح مسلم/الصیام ١٧(١١٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠ (١٦٦٣) ، مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/١٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2409 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَتْنِيأُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ أَوْ كَفَّهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، مَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنہوں نے کہا کہ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے
سلمہ بن محبق ہذلی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس منزل پر ایسی سواری ہو جو اسے ایسی جگہ پہنچا سکے جہاں اسے راحت و آسودگی ملے تو وہ جہاں بھی رمضان کا مہینہ پالے روزے رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٥٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٤، ٤٧٦، ٥/٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الصمد ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 2410 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ. ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَاعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ الْهُذَلِيِّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبَعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف نہ ہو اگرچہ روزہ کا قضاء کرنا بھی جائز ہے
سلمہ بن محبق (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حالت سفر میں رمضان جسے پالے …، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٥٦١) (ضعیف )
حدیث نمبر: 2411 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ فِي السَّفَرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مسافر سفر کو نکلے تو کہاں سے افطار کرئے
عبید بن جبر کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے صحابی ابو بصرہ غفاری (رض) کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آگیا، (جعفر کی روایت میں ہے کہ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے : نزدیک آجاؤ، میں نے کہا : کیا آپ (شہر کے) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں ؟ (ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں) کہنے لگے : کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے اعراض کرتے ہو ؟ (جعفر کی روایت میں ہے) تو انہوں نے کھانا کھایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٧، ٣٩٨) سنن الدارمی/الصوم ١٧(١٧٥٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2412 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ. ح وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَزَادَ جَعْفَرٌ، وَاللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ جَعْفَرٌ ابْنُ جَبْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنْ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ، فَرُفِعَ ثُمَّ قُرِّبَ غَدَاهُ. قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلَمْ يُجَاوِزْ الْبُيُوتَ حَتَّى دَعَا بِالسُّفْرَةِ. قَالَ: اقْتَرِبْ. قُلْتُ: أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ ؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟. قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلَ.
তাহকীক: