কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
کتاب الزکوٰة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৮ টি
হাদীস নং: ১৭১৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو (رض) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : گمشدہ بکری کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا : اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٧٠٨) ، ( تحفة الأشراف : ٨٧٨٤) (حسن )
حدیث نمبر: 1713 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ: فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب (رض) کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ (رض) کے پاس آئے، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے ، چناچہ اس میں سے رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور علی اور فاطمہ (رض) نے کھایا، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی ! دینار ادا کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٤٤٤٣) (حسن )
حدیث نمبر: 1714 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ، فَسَأَلَتْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ رِزْقُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّفَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
علی (رض) کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کردیا تو علی (رض) نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ١ ؎ کا گوشت خریدا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٠٠٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قیراط : دینار کا بیسواں حصہ۔
حدیث نمبر: 1715 حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد (رض) نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب (رض) فاطمہ (رض) کے پاس آئے اور حسن اور حسین (رض) رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا : یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں ؟ فاطمہ نے کہا : بھوک (سے رو رہے ہیں) ، علی (رض) باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ (رض) کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا : فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چناچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا : تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے ؟ وہ بولے : ہاں، اس نے کہا : اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چناچہ علی (رض) آٹا لے کر فاطمہ (رض) کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں : فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چناچہ علی (رض) گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ (رض) نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد (رسول اللہ ﷺ ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں : اللہ کے رسول ! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : بازار میں مجھ سے (میرا دینار) گرگیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علی ! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : اللہ کے رسول ﷺ تم سے کہہ رہے ہیں : دینار مجھے بھیج دو ، تمہارا درہم میرے ذمے ہے ، چناچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اس (لڑکے) کو دے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٤٧٧٠) (حسن )
حدیث نمبر: 1716 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا ؟ قَالَتْ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں لکڑی، کوڑے، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر (رض) پر موقوف کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٩٦٦) (ضعیف) (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں اور بذریعہ عن روایت کئے ہیں )
حدیث نمبر: 1717 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانُوا لَمْ يَذْكُرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو (چھپانے والے پر) اس کا جرمانہ ہوگا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٤٢٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1718 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَحْسَبُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَالَّةُ الْإِبِلِ الْمَكْتُومَةُ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں : ابن وہب نے کہا : یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے، ابن موہب نے أخبرني عمرو کے بجائے عن عمرو کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : م /اللقطة ١ (١٧٢٤) ، سنن النسائی/ الکبری/ اللقطة (٥٨٠٥) ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1719 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ. قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: عَنْ عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ١ ؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا : یہ کیسی گائے ہے ؟ اس نے کہا : یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا : اسے نکالو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الکبری (٥٧٩٩) ، سنن ابن ماجہ/اللقطة ١ (٢٥٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ٣٢٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢) (صحیح) (مرفوع حصہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ” بوازيج “ : (عراق میں) نہر دجلہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے۔ ٢ ؎ : مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تاکہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی (رض) کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں : من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1720 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا، فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ: مَا هَذِهِ ؟ قَالَ: لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا نَدْرِي لِمَنْ هِيَ، فَقَالَجَرِيرٌ: أَخْرِجُوهَا، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ.
তাহকীক: