কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
کتاب الزکوٰة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৮ টি
হাদীস নং: ১৬৭৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان
جابر بن عبداللہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کردیتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے : یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٠٩٧) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الزکاة ٢٥ (١٧٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 1673 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : خذ عنا مالک لا حاجة لنا به اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٣٠٩٧) (ضعیف )
حدیث نمبر: 1674 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ، زَادَ: خُذْ عَنَّا مَالَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا : اپنے کپڑے لے لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (٤٠٩) ، والزکاة ٥٥ (٢٥٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٧٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١١) ، حم (٣/٢٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کو صرف دو کپڑے ملے تھے اور وہ اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 1675 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا، فَأَمَرَ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ، وَقَالَ: خُذْ ثَوْبَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ تمام مال صدقہ کرنی کی ممانعت کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا (یوں فرمایا) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٣٥٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ١٨ (١٤٢٦) ، والنفقات ٢ (٥٣٥٥) ، صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٢) ، سنن الترمذی/الزکاة ٣٨ (٦٨٠) ، سنن النسائی/الزکاة ٥٣ (٢٥٣٥) ، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٤٣، ٢٧٨، ٢٨٨، ٣١٩، ٣٦٢، ٣٩٤، ٤٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1676 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، أَوْ تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کم مال والے کا تکلیف اٹھا کردینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٤٨١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1677 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا : اگر میں کسی دن ابوبکر (رض) پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہوگا، چناچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ ، میں نے کہا : اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر (رض) اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ١ ؎، تب میں نے (دل میں) کہا : میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المناقب ١٦ (٣٦٧٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٣٩٠) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الزکاة ٢٦ (١٧٠١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر (رض) نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر (رض) جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہوگا، ان شاء اللہ۔
حدیث نمبر: 1678 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ پانی پلانے کی فضیلت
سعد بن عبادہ انصاری خزرجی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پانی (کا صدقہ) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الوصایا ٩ (٣٦٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤) ، ( تحفة الأشراف : ٣٨٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٥، ٦/٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : پانی کا صدقہ : مثلاً کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مسافروں، مصلیوں اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا۔
حدیث نمبر: 1679 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: الْمَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ پانی پلانے کی فضیلت
اس سند سے بھی سعد بن عبادہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٣٨٣٤) (حسن )
حدیث نمبر: 1680 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ پانی پلانے کی فضیلت
سعد بن عبادہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ام سعد (میری ماں) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پانی ۔ راوی کہتے ہیں : چناچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : یہ ام سعد ١ ؎ کا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٧٨، ( تحفة الأشراف : ٣٨٣٤) (حسن) (یہ روایت حدیث نمبر ١٦٧٩ سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کا ثواب ام سعد (رض) کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 1681 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ پانی پلانے کی فضیلت
ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے (جنت کی) مہربند شراب پلائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٤٣٨٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/صفة القیامة ١٨ (٢٤٤٩) ، مسند احمد (٣/١٣) (ضعیف) (اس کے راوی نبی ح لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1682 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِشْكَابَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي دَالَانَ، عَنْنُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ کسی کو کوئی چیز عاریةً دینا باعث اجر ہے
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی (خصلت نیک کام) کو ثواب کی امید سے اور (اللہ کی طرف سے) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں : ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ٣٥ (٢٦٣١) ، ( تحفة الأشراف : ٨٩٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1683 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعُونَ خَصْلَةً: أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ مَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ، قَالَ حَسَّانُ: فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَنَحْوَهُ فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَةَ عَشَرَ خَصْلَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ خزانچی کے ثواب کا بیان
ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لیے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٢٥ (١٤٣٨) ، والإجارة ١ (٢٢٦٠) ، والوکالة ١٦ (٢٣١٩) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٣) ، سنن النسائی/الزکاة ٦٧ (٢٥٦١) ، ( تحفة الأشراف : ٩٠٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/ ٣٩٤، ٤٠٤، ٤٠٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1684 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ١٧ (١٤٢٥) ، ٢٥ (١٤٣٧) ، ٢٦ (١٤٤٠) ، والبیوع ١٢ (٢٠٦٥) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٤) ، سنن الترمذی/الزکاة ٣٤ (٦٧٢) ، سنن النسائی/الزکاة ٥٧ (٢٥٤٠) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٦٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٤، ٩٩، ٢٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1685 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُ مَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ وَلِخَازِنِهِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان
سعد (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی : اللہ کے نبی ! ہم (عورتیں) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میرے خیال میں أزواجنا کا لفظ کہا (یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے (کہ ہم خرچ کریں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : رطب ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رطب روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٨٥٣) (ضعیف) (اس کے رواة عبدالسلام اور زیاد کے اندر کچھ کلام ہے )
حدیث نمبر: 1686 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ، قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأُرَى فِيهِ وَأَزْوَاجِنَا فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَقَالَ: الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الرَّطْبُ الْخُبْزُ وَالْبَقْلُ وَالرُّطَبُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس (شوہر) کا آدھا ثواب ملے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١٢ (٢٠٦٦) ، والنکاح ٨٦ (٥١٩٢) ، والنفقات ٥ (٥٣٦٠) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٦ (١٠٢٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٦٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٥، ٣١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اس مقدار پر محمول ہوگا جس کی عرفاً وعادۃً شوہر کی طرف سے بیوی کو خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اگرچہ اس کی طرف سے صریح اجازت اسے حاصل نہ ہو، رہا اس سے زیادہ مقدار کا معاملہ تو شوہر کی صریح اجازت کے بغیر وہ اسے خرچ نہیں کرسکتی۔
حدیث نمبر: 1687 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں (میاں بیوی) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمام کی (پچھلی) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٤١٨٥) (صحیح موقوف ) وضاحت : ١ ؎ : یہ عبارت سنن ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے، ہمام بن منبہ کی روایت صحیح ہے، اس کی تخریج بخاری و مسلم نے کی ہے، اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے، لہٰذا ابوداود کا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے جب کہ عطا سے مروی ابوہریرہ (رض) کی یہ روایت موقوف ہے، اور دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق بھی ممکن ہے جیسا کہ نووی نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1688 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ: لَا، إِلَّا مِنْ قُوتِهَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا، وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ هَمَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ حرص اور بخل کی مذمت
انس (رض) کہتے ہیں جب لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو ، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب (رض) کے درمیان تقسیم کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام : زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے، اور حسان : ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابوطلحہ (رض) اور حسان (رض) کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ (پردادا) ہیں، اور ابی (رض) کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو : حسان، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری (محمد بن عبداللہ) کہتے ہیں : ابی (رض) اور ابوطلحہ (رض) کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن (آل عمران) ٦ (٢٩٢٧) ، ( تحفة الأشراف : ٣١٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوکالة ١٥ (٢٣١٨) ، والوصایا ١٠ (٢٧٥٢) ، و تفسیر القرآن ٥ (٤٥٥٤) ، والأشربة ١٣ (٥٦١١) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٣ (٩٩٨) ، موطا امام مالک/الجامع ٨٣، مسند احمد (٣/١١٥، ٢٨٥) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1689 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِأَرِيحَاءَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنِ الْأَنْصَارِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ حَرَامٍ، يَجْتَمِعَانِ إِلَى حَرَامٍ وَهُوَ الْأَبُ الثَّالِثُ، وَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، فَعَمْرٌو يَجْمَعُ حَسَّانَ وَ أَبَا طَلْحَةَ وَ أُبَيًّا: قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَيْنَ أُبَيٍّ وَ أَبِي طَلْحَةَ سِتَّةُ آبَاءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ حرص اور بخل کی مذمت
ام المؤمنین میمونہ (رض) کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کردیا، میرے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٨٠٥٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الہبة ١٥ (٢٥٩٢) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (٩٩٩) ، سنن النسائی/الکبری/المعتق (٤٩٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1690 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: آجَرَكِ اللَّهُ، أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ حرص اور بخل کی مذمت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے کام میں لے آؤ ، تو اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے بیٹے کو دے دو ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنی بیوی کو دے دو ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے خادم کو دے دو ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٥٤ (٢٥٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٠٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥١، ٤٧١) (حسن )
حدیث نمبر: 1691 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، فَقَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ، أَوْ قَالَ: زَوْجِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: أَنْتَ أَبْصَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ حرص اور بخل کی مذمت
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٨٩٤٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الزکاة ١٢ (٩٩٦) ، سنن النسائی/الکبری/عشرة النساء (٩١٧٦) ، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو ان سے قطع تعلق کر کے نیکی کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 1692 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ.
তাহকীক: