কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)

كتاب السنن للإمام أبي داود

کتاب الزکوٰة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৮ টি

হাদীস নং: ১৬৫৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ ﷺ نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٦٣٤٤) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل ٢٧ (١٣٣٩) ، مسند احمد (١/٣٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عباس (رض) بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس (رض) سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ ﷺ کے پاس صدقہ کے اونٹ آگئے ہوں تو آپ ﷺ نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
حدیث نمبر: 1653 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
اس سند سے بھی ابن عباس (رض) سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ ﷺ سے بدل رہے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٦٣٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد عباس (رض) نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے من الصدقة “ ” يبدلها سے متعلق ہوگا، ناکہ أعطاها سے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
حدیث نمبر: 1654 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏زَادَأَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ فقیر صدقہ کے مال سے غنی کو تحفہ دے سکتا ہے
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا : یہ گوشت کیسا ہے ؟ ، لوگوں نے عرض کیا : یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ (رض) پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ اس (بریرہ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٦٢ (١٤٩٥) ، والھبة ٧ (٢٥٧٧٧) ، صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٤) ، سنن النسائی/العمری ١ (٣٧٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٧، ١٣٠، ١٨٠، ٢٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1655 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟قَالُوا:‏‏‏‏ شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص صدقہ کرنے کے بعد پھر اسی چیز کو وراثت میں پائے تو اسکے لئے درست ہے
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا : میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مرگئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کرگئی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا اجر پورا ہوگیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٢٧ (١١٤٩) ، سنن الترمذی/الزکاة ٣١ (٦٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٣ (٢٣٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٩٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ الفرائض (٦٣١٥، ٦٣١٦) ، مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٦١) ، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٨٧٧، ٣٣٠٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1656 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِبُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو ماعون ١ ؎ میں شمار کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٩٢٧٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/التفسیر (١١٧٠١) ، مسند احمد ٣٨٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : عام استعمال کی ایسی چیزیں جنہیں عام طور پر لوگ ایک دوسرے سے عاریۃ لیتے رہتے ہیں۔ Narrated Abdullah ibn Masud: During the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to consider maun (this of daily use) lending a bucket and cooking-pot.
حدیث نمبر: 1657 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَقِيقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَارِيَةَ الدَّلْوِ وَالْقِدْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی، پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہوگی یا جہنم کی طرف۔ (اسی طرح) جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی، جتنی وہ تھیں، پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہوگی اور نہ ایسی ہوگی جسے سینگ ہی نہ ہو، جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری (مارنے کے لیے) لوٹائی جائے گی (یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا) ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح) جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو (روندنے کے لیے) پھر لوٹایا جائے گا، (یہ عمل چلتا رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٦٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٣ (١٤٠٢) ، والجہاد ١٨٩ (٢٣٧٨) ، وتفسر براء ة ٦ (٣٠٧٣) ، والحیل ٣ (٩٦٥٨) ، صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٧) ، سنن النسائی/الزکاة ٦ (٢٤٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢ (١٧٨٦) ، موطا امام مالک/الزکاة ١٠(٢٢) ، مسند احمد (٢/٤٩٠، ١٠١، ٢٦٢، ٣٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1658 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ ﷺ کے قول : لا يؤدي حقها ‏‏ ‏.‏ قال ‏‏ ومن حقها حلبها يوم وردها کا جملہ بھی ہے (یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے (گھاٹ پر) آئیں تو ان کو دوہے) ، (اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٣٢١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1659 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِي قِصَّةِ الْإِبِلِ بَعْدَ قَوْلِهِلَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ (رض) سے پوچھا : اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو ، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو ، سواری کے لیے جانور دو ، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٢ (٢٤٤٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٤٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٣، ٤٨٩، ٤٩٠) (حسن) (اس کے راوی ابوعمر الغدانی لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث ماقبل ومابعد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
حدیث نمبر: 1660 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَمَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تُعْطِي الْكَرِيمَةَ وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ وَتَسْقِي اللَّبَنَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے وإعارة دلوها (اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٨٩٩٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1661 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ:‏‏‏‏ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣١٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1662 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ مِنْ كُلِّ جَادِّ عَشْرَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس کوئی فاضل (ضرورت سے زائد) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ اللقطة ٤ (١٧٢٨) ، ( تحفة الأشراف : ٤٣١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1663 حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ عُبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَجَعَلَ يُصَرِّفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مال کا حق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ والذين يکنزون الذهب والفضة نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر (رض) نے کہا : تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چناچہ وہ (نبی اکرم ﷺ کے پاس) گئے اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہوجائیں (جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے ، اس پر عمر (رض) نے تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے عمر (رض) سے فرمایا : کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے ؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٦٣٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی جعفر ، مجاہد سے روایت میں ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1664 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غَيْلَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْمُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ سورة التوبة آية 34، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضْ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ لِتَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ:‏‏‏‏ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ سائل کا حق کیا ہے؟
حسین بن علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٤١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠١) (ضعیف) (اس کے راوی یعلی مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1665 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ سائل کا حق کیا ہے؟
اس سند سے علی (رض) سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ١٠٠٧١) (ضعیف) (اس کی سند میں شیخ ایک مبہم راوی ہے )
حدیث نمبر: 1666 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَيْخٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ سائل کا حق کیا ہے؟
ام بجید (رض) یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٢٩ (٦٦٥) ، سنن النسائی/الزکاة ٧٠ (٢٥٦٦) ( تحفة الأشراف : ١٨٣٠٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صفة النبی ٥ (٨) ، مسند احمد (٤/٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1667 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍوَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ کافر کو صدقہ دینے کا بیان
اسماء (رض) کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ٢٩ (٢٦٢٠) ، والجزیة ١٨ (٣١٨٣) ، والأدب ٨ (٥٩٧٨) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٧٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٤٤، ٣٤٧، ٣٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1668 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کا روکنا درست نہیں
بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ سے (آپ کے پاس آنے کی) اجازت طلب کی، (اجازت دے دی تو وہ آئے) اور وہ آپ ﷺ کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہوگئے (یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی) اور آپ ﷺ کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پانی ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نمک ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ویأتي برقم : (٣٤٧٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٦٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/ ٨٠، ٨١) ، سنن الدارمی/البیوع ٧٠ (٢٦٥٥) (ضعیف) (اس کے رواة سیار اور ان کے والد لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1669 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ بُهَيْسَةُ،‏‏‏‏عَنْ أَبِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْمَاءُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْمِلْحُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مسجد کے اندر سوال کرنا
عبدالرحمٰن بن ابی بکر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو ؟ ، ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٩٦٩٠) (صحیح) تراجع الألباني (141) (قصہ کے تذکرے کے بغیر ابوہریرہ کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس سند میں مبارک مدلس راوی ہیں اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 1670 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے نام پر مانگنا مکروہ ہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٠٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1671 حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقِلَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُعَاذٍ التَّمِيمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلَّا الْجَنَّةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسکے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو ، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو ، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو ، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٧٢ (٢٥٦٨) ، ( تحفة الأشراف : ٧٣٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦٨، ٩٥، ٩٩، ١٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1672 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ.
tahqiq

তাহকীক: