কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৫১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا بیان
مسجد عریان ١ ؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٧٤٥٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : عریان کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 511 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْأَكْبَرِ، يَقُول: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص اذان دے اور دوسرا تکبیر کہے
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اذان کے سلسلہ میں کئی کام کرنے کا (جیسے ناقوس بجانے یا سنکھ میں پھونک مارنے کا) ارادہ کیا لیکن ان میں سے کوئی کام کیا نہیں۔ محمد بن عبداللہ کہتے ہیں : پھر عبداللہ بن زید (رض) کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسے بلال کو سکھا دو ، چناچہ عبداللہ بن زید (رض) نے اسے بلال (رض) کو سکھا دیا، اور بلال (رض) نے اذان دی، اس پر عبداللہ بن زید (رض) نے کہا : اسے میں نے دیکھا تھا اور میں ہی اذان دینا چاہتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم تکبیر کہہ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٣١٠) ، مسند احمد (٤/٤٢) (ضعیف) (ا س کے راوی محمد بن عمرو انصاری لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 512 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَذَانِ أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ، قَالَ: فَأَقِمْ أَنْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص اذان دے اور دوسرا تکبیر کہے
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میرے دادا عبداللہ بن زید (رض) یہ حدیث بیان کرتے تھے، اس میں ہے : تو میرے دادا نے اقامت کہی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٣٦٥٣) (ضعیف) (محمد بن عمرو انصاری کے سبب سے یہ حدیث ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 513 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَقَامَ جَدِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اذان دے وہی اقا مت بھی کہے
زیاد بن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اقامت کہوں ؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے : ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہوجائے) ، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ ﷺ اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہوگئے، تو بلال (رض) نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے ۔ زیاد (رض) کہتے ہیں : تو میں نے تکبیر کہی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٣٢ (١٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٥٣) ، مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 514 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَزِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ، أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ يَعْنِي فَتَوَضَّأَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ، قَالَ: فَأَقَمْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلند آواز سے اذان دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مؤذن کی بخشش کردی جاتی ہے، جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ١ ؎، اور اس کے لیے تمام خشک و تر گواہی دیتے ہیں، اور جو شخص نماز میں حاضر ہوتا ہے اس کے لیے پچیس نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان جو کوتاہی سرزد ہوئی ہو وہ مٹا دی جاتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٦٦) ، مسند احمد (٢/٤٢٩، ٤٥٨) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں ابویحییٰ مجہول راوی ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں : یہ ابویحییٰ اسلمی ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ حسن کے مرتبہ کے راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کے اتنے گناہ بخش دیے جاتے ہیں جو اتنی جگہ میں سما سکیں۔
حدیث نمبر: 515 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ صَلَاةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلند آواز سے اذان دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے یہاں تک کہ (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ) اذان نہیں سنتا، پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، جب تکبیر ختم ہوجاتی ہے تو شیطان دوبارہ آجاتا ہے اور مصلی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے : فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں یہاں تک کہ اس شخص کو یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨) ، سنن النسائی/الأذان ٣٠ (٦٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨١٨) ، موطا امام مالک/السہو ١ (١) ، مسند احمد (٢/٣١٣، ٤٦٠، ٥٢٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٥ (٣٩٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٧) ، ویأتي برقم (١٠٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 516 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، وَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَضِلَّ الرَّجُلُ أَنْ يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مو ذن وقت کی پا بندی کرے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ١ ؎ اور کفیل ہے اور مؤذن امین ہے ٢ ؎، اے اللہ ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ٣ ؎ اور مؤذنوں کو بخش دے ٤ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٤٢٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٣٨٢، ٤١٩، ٥٢٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٣٩ (٢٠٧) (صحیح) (مؤلف کی سند میں رجل مبہم راوی ہے، اگلی سند بھی ایسی ہی ہے، البتہ دیگر بہت سے مصادر میں یہ حدیث ثقہ راویوں سے مروی ہے، اعمش نے بھی خود براہ راست ابو صالح سے یہ حدیث سنی ہے (دیکھیے : ارواء الغلیل حدیث نمبر : ٢١٧ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مقتدیوں کی نماز کی صحت و درستگی امام کی نماز کی صحت و درستگی پر موقوف ہے؛ اس لئے امام طہارت وغیرہ میں احتیاط برتے اور نماز کے ارکان و واجبات کو اچھی طرح ادا کرے۔ ٢ ؎ : یعنی لوگ مؤذن کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھ لیتے اور روزہ رکھ لیتے ہیں، اس لئے مؤذن کو وقت کا خیال رکھنا چاہیے، نہ پہلے اذان دے نہ دیر کرے۔ ٣ ؎ : یعنی جو ذمہ داری اماموں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی انہیں توفیق دے۔ ٤ ؎ : یعنی اس امانت کی ادائیگی میں مؤذنوں سے جو کوتاہی اور تقصیر ہوئی ہو اسے معاف کر دے۔
حدیث نمبر: 517 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مو ذن وقت کی پا بندی کرے
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٢٤٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 518 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مینار کے اوپر چڑھ کر اذان دینے کا بیان
قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال (رض) اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چناچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے : اے اللہ ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے : پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٣٧٨) (حسن )
حدیث نمبر: 519 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موذن اذان میں گردن دائیں بائیں گھمائے
ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک لال خیمہ میں تھے، بلال (رض) باہر نکلے پھر اذان دی، میں انہیں اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے دیکھ رہا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ یمنی قطری چادروں ١ ؎ سے بنے سرخ جوڑے پہنے ہوئے تھے، موسیٰ بن اسماعیل اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابوحجیفہ نے کہا : میں نے بلال (رض) کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب حي على الصلاة اور حي على الفلاح پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے ٢ ؎، پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکالا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧) ، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤) ، والزینة ١٢٣ (٥٣٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٠٦، ١١٨١٧) ، مسند احمد (٤/٣٠٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مکہ سے یمن جنوب میں ہے، اور قطر احساء اور بحرین کے درمیانی علاقہ کا ایک مقام ہے، مذکورہ چادر ان جنوبی علاقوں میں بن کر ” یمنی قطری چادروں “ کے نام سے مشہور تھی۔ ٢ ؎ : اس سلسلہ میں روایتیں مختلف آئی ہیں بعض میں ہے إنه کان يستدير اور بعض میں ہے لم يستدر ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے گھومنے کا ذکر کیا ہے اس نے سر کا گھمانا مراد لیا ہے، اور جس نے نفی کی ہے اس نے جسم کے گھمانے کی نفی کی ہے۔
حدیث نمبر: 520 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، جَمِيعًا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَمَهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ بُرُودٌ يَمَانِيَةٌ قِطْرِيٌّ، وَقَالَ مُوسَى: قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ إِلَى الْأَبْطَحِ فَأَذَّنَ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَمْ يَسْتَدِرْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ، وَسَاقَ حَدِيثَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقا مت کے درمیان دعا کرنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٤٤ (٢١٢) ، الدعوات ١٢٩ (٣٥٩٤، ٣٥٩٥) ، سنن النسائی/الیوم اللیلة (٦٨، ٦٩، ٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 521 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اذان سنو تو اسکا جواب دو
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٧ (٦١١) ، صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨) ، سنن النسائی/الأذان ٣٣ (٦٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٠) ، موطا امام مالک/الصلاة ١(٢) ، مسند احمد (٣/٦، ٥٣، ٧٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 522 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اذان سنو تو اسکا جواب دو
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٤) ، سنن الترمذی/المناقب ١ (٣٦١٤) ، سنن النسائی/الأذان ٣٧ (٦٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٧١) ، مسند احمد (٢/١٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 523 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اذان سنو تو اسکا جواب دو
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں (یعنی اذان کا جواب دو ) ، پھر جب تم اذان ختم کرلو تو (اللہ تعالیٰ سے) مانگو، تمہیں دیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨٥٤) ، مسند احمد (٢/١٧٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 524 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْحُبُلِيَّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ كَمَا يَقُولُونَ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اذان سنو تو اسکا جواب دو
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے : وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد ﷺ کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اسے بخش دیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٢ (٢١٠) ، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢١) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٧٧) ، مسند احمد (١/١٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 525 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اذان سنو تو اسکا جواب دو
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مؤذن کو : أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے : اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧١٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 526 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ، قَالَ: وَأَنَا وَأَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اذان سنو تو اسکا جواب دو
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مؤذن : الله أكبر الله أكبر کہے تو تم میں سے جو (اخلاص کے ساتھ) الله أكبر الله أكبر کہے، پھر جب وہ أشهد أن لا إله إلا الله کہے تو یہ بھی أشهد أن لا إله إلا الله کہے، اور جب وہ أشهد أن محمدا رسول الله کہے تو یہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے، جب وہ حى على الصلاة کہے تو یہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے، جب وہ حى على الفلاح کہے تو یہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے، پھر جب وہ الله أكبر الله أكبر کہے تو یہ بھی الله أكبر الله أكبر کہے، اور جب وہ لا إله إلا الله کہے تو یہ بھی لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٥) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٧٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 527 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اقامت سنے تو کیا کہے؟
ابوامامہ (رض) سے یا بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ بلال (رض) نے اقامت شروع کی، جب انہوں نے قد قامت الصلاة کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : أقامها الله وأدامها اللہ اسے قائم رکھے اور اس کو دوام عطا فرمائے اور باقی اقامت کے جواب میں وہی کہا جو اذان کے سلسلے میں عمر (رض) کی حدیث میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٨٨٨) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ثابت اور شہر ضعیف ہیں اور دونوں کے درمیان ایک مبہم راوی ہے )
حدیث نمبر: 528 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ، قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا، وقَالَ فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے بعد کی دعا
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی : اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته اے اللہ ! اس کامل دعا اور ہمیشہ قائم رہنے والی نماز کے رب ! محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلہ ٢ ؎ عطا فرما اور آپ کو مقام محمود ٣ ؎ پر فائز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨ (٦١٤) ، تفسیر الإسراء ١١ (٤٧١٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٣ (٢١١) ، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨١) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٤٦) ، مسند احمد (٣/٣٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلیٰ درجہ کا نام ہے۔ ٢ ؎ : فضیلہ وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہوگا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ٣ ؎ : یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گا اور اسی جگہ آپ وہ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔
حدیث نمبر: 529 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی اذان کے وقت کی دعا
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھایا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت کہوں :اللهم إن هذا إقبال ليلک وإدبار نهارک وأصوات دعاتک فاغفر لي اے اللہ ! یہ تیری رات کی آمد اور تیرے دن کی رخصت کا وقت ہے، اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازیں ہیں تو تو میری مغفرت فرما ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ١٢٧ (٣٥٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوکثیر لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 530 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي.
তাহকীক: