কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৪৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں
اس سند سے بھی علی (رض) سے سلیمان بن داود کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، مگر اس میں : فلما برز کے بجائے فلما خرج ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٢٨) (ضعیف) (اس کے رواة میں الحجاج بھی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 491 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ مَكَانَ فَلَمَّا بَرَزَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں
ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اور موسیٰ بن اسماعیل نے اپنی روایت میں کہا : جیسا کہ عمرو کا خیال ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) : ساری زمین نماز پڑھنے کی جگہ ہے، سوائے حمام (غسل خانہ) اور قبرستان کے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٢٠ (٣١٧) ، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٤ (٧٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٨٣، ٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 492 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ فِيمَا يَحْسَبُ عَمْرٌو: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ، إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے رہنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کی مما نعت
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے باڑوں (بیٹھنے کی جگہوں) میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز نہ پڑھو اس لیے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں ١ ؎، اور آپ ﷺ سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہاں نماز پڑھو، اس لیے کہ یہ باعث برکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٤، (تحفة الأشراف : ١٧٨٣، ١٦٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان میں شیطانی خصلتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 493 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑ کے کو نماز پڑھنے کا کب حکم کیا جائے
سبرہ بن معبد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو ، اور جب دس سال کے ہوجائیں تو اس (کے ترک) پر انہیں مارو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٨٢ (٤٠٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤١ (١٤٧١) ، (تحفة الأشراف : ٣٨١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٠٤) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 494 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرُوا الصَّبِيَّ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغَ سَبْعَ سِنِينَ، وَإِذَا بَلَغَ عَشْرَ سِنِينَ فَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑ کے کو نماز پڑھنے کا کب حکم کیا جائے
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تمہاری اولاد سات سال کی ہوجائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو ، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 495 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ يَعْنِي الْيَشْكُرِيَّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑ کے کو نماز پڑھنے کا کب حکم کیا جائے
داود بن سوار مزنی سے اس سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس لونڈی کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر نہ دیکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کو داود بن سوار کے نام میں وہم ہوا ہے۔ ابوداود طیالسی نے بھی یہ حدیث انہیں سے روایت کی ہے اور اس میں حدثنا أبو حمزة سوار الصيرفي ہے (یعنی ان کے نزدیک بھی صحیح سوار بن داود ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٧١٧) (حسن )
حدیث نمبر: 496 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: وَإِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهِمَ وَكِيعٌ فِي اسْمِهِ، وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَوَّارٌ الصَّيْرَفِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑ کے کو نماز پڑھنے کا کب حکم کیا جائے
ہشام بن سعد کا بیان ہے کہ مجھ سے معاذ بن عبداللہ بن خبیب جہنی نے بیان کیا، ہشام کہتے ہیں : ہم معاذ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا : بچے کب نماز پڑھنا شروع کریں ؟ تو انہوں نے کہا : ہم میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے متعلق آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : جب بچہ اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنے لگے تو تم اسے نماز کا حکم دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٧١٠) (ضعیف) (اس میں معاذ کی اہلیہ مبہم اور معاذ کے شیخ مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 497 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِه: مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ شِمَالِهِ، فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتداء
ابو عمیر بن انس اپنے ایک انصاری چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فکرمند ہوئے کہ لوگوں کو کس طرح نماز کے لیے اکٹھا کیا جائے ؟ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا نصب کر دیجئیے، جسے دیکھ کر ایک شخص دوسرے کو باخبر کر دے، آپ ﷺ کو یہ رائے پسند نہ آئی۔ پھر آپ ﷺ سے ایک بگل ١ ؎ کا ذکر کیا گیا، زیاد کی روایت میں ہے : یہود کے بگل (کا ذکر کیا گیا) تو یہ تجویز بھی آپ ﷺ کو پسند نہیں آئی، آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں یہودیوں کی مشابہت ہے ۔ پھر آپ ﷺ سے ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں نصرانیوں کی مشابہت ہے ۔ پھر عبداللہ بن زید بن عبدربہ (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس سے لوٹے، وہ بھی (اس مسئلہ میں) رسول اللہ ﷺ کی طرح فکرمند تھے، چناچہ انہیں خواب میں اذان کا طریقہ بتایا گیا۔ عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں : وہ صبح تڑکے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ کو اس خواب کی خبر دی اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا کہ اتنے میں ایک شخص (خواب میں) میرے پاس آیا اور اس نے مجھے اذان سکھائی، راوی کہتے ہیں : عمر بن خطاب (رض) اس سے پہلے یہ خواب دیکھ چکے تھے لیکن وہ اسے بیس دن تک چھپائے رہے، پھر انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کو بتایا تو آپ نے ان سے فرمایا : تم کو کس چیز نے اسے بتانے سے روکا ؟ ، انہوں نے کہا : چونکہ مجھ سے پہلے عبداللہ بن زید (رض) نے اسے آپ سے بیان کردیا اس لیے مجھے شرم آرہی تھی ٢ ؎، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلال ! اٹھو اور جیسے عبداللہ بن زید تم کو کرنے کو کہیں اسی طرح کرو ، چناچہ بلال (رض) نے اذان دی ٣ ؎۔ ابوبشر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوعمیر نے بیان کیا کہ انصار سمجھتے تھے کہ اگر عبداللہ بن زید ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ان ہی کو مؤذن بناتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : بخاری کی روایت میں بوق ۃ کا لفظ ہے اور مسلم اور نسائی کی روایت میں قرن کا لفظ آیا ہے ، یہ چاروں الفاظ ( قنع، شبور ، بوق ۃ اور قرن ) ہم معنی الفاظ ہیں، یعنی بگل اور نرسنگھا جس سے پھونک مارنے پر آواز نکلے۔ ٢ ؎ : عمر (رض) خواب دیکھنے کے بعد بھول بیٹھے تھے، بلال (رض) کی اذان سننے پر آپ کو یہ کلمات یاد آئے، اور جب رسول اکرم ﷺ کے پاس آئے تو عبداللہ بن زید (رض) اپنا خواب بیان کرچکے تھے۔ ٣ ؎ : یہ اہتمام ٢ ہجری میں ہوا اس کے پہلے بغیر اذان کے نماز پڑھی جاتی تھی، اور لوگ خود بخود مسجد میں جمع ہوجایا کرتے تھے، مگر اس طرح بہت سے لوگوں کی جماعت چھوٹ جایا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 498 حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ زِيَادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي الشَّبُّورَ، وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ، قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ، فَقَالَ: هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى، فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ وَهُوَ مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ، قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا، قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنِي ؟ فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ، قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ، أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس کی تیاری کا حکم دینے کا ارادہ کیا تاکہ لوگوں کو نماز کی خاطر جمع ہونے کے لیے اسے بجایا جاسکے تو ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ١ ؎ کے ہاتھ میں ناقوس ہے، میں نے اس سے پوچھا : اللہ کے بندے ! کیا اسے فروخت کرو گے ؟ اس نے کہا : تم اسے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے، اس شخص نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، ضرور بتائیے، تو اس نے کہا : تم اس طرح کہو الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں : پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں گیا پھر اس نے کہا : جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اس طرح کہو : الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا اسے آپ سے بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے ، پھر فرمایا : تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے ٢ ؎۔ چناچہ میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے پکارتے جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں : تو عمر بن خطاب (رض) نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبداللہ (رض) نے دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الحمدللہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح زہری کی روایت ہے، جسے انہوں نے سعید بن مسیب سے، اور سعید نے عبداللہ بن زید (رض) سے روایت کیا ہے، اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یوں نقل کیا ہے : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر (یعنی چار بار) اور معمر اور یونس نے زہری سے صرف الله أكبر الله أكبر کی روایت کی ہے، اسے انہوں نے دہرایا نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٥ (١٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ١ (٧٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٠٩) ، مسند احمد (٤/٤٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣ (١٢٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ ایک فرشتہ تھا جو اللہ کی طرف سے اذان سکھانے کے لئے مامور ہوا تھا۔ ٢ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ مؤذن کا بلند آواز ہونا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 499 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاق: عَنْ الزُّهْرِيِّ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، وقَالَ مَعْمَرٌ،وَيُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ فِيهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَمْ يُثَنِّيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
ابومحذورہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیجئیے، تو آپ نے میرے سر کے اگلے حصہ پر (ہاتھ) پھیرا اور فرمایا : کہو : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر ، تم انہیں بلند آواز سے کہو، پھر کہو : أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله انہیں ہلکی آواز سے کہو، پھر انہیں کلمات شہادت أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله کو بلند آواز سے کہو ١ ؎، پھر حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح کہو، اور اگر صبح کی اذان ہو تو الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم کہو، پھر الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله کہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦ (١٩١) ، سنن النسائی/الأذان ٣ (٦٣٠) ، ٤ (٦٣١) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٢ (٧٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) ، مسند احمد (٣/ ٤٠٨، ٤٠٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧ (١٢٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے ترجیع یعنی شہادتین کو دو دو بار کہنا ثابت ہوا۔
حدیث نمبر: 500 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي، وَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ، قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
اس سند سے بھی ابو محذورہ (رض) سے اسی طرح مروی ہے اس میں فجر کی پہلی (اذان) میں الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے، اس میں یہ ہے کہ : آپ ﷺ نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے : اور جب تم تکبیر کہو تو دو بار قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة کہو، کیا تم نے سنا ؟ اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کترتے تھے اور نہ ہی اسے جدا کرتے تھے، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : t
حدیث نمبر: 501 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِيأَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ،عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، وَفِيهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَإِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ، فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ ؟ قَالَ: فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرُقُهَا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
ابن محیریز کا بیان ہے کہ ابو محذورہ (رض) نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ۔ اور اقامت کے کلمات یہ ہیں : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ۔ ہمام بن یحییٰ کی کتاب میں ابومحذورہ کی جو حدیث مذکور ہے، وہ اسی طرح ہے (یعنی اقامت کے سترہ کلمات مذکور ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حديث رقم : 500، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 502 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَحَجَّاجٌ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَذَا فِي كِتَابِهِ فِي حَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
ابو محذورہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بذات خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے اور فرمایا : کہو : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله دو دو بار ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر دہراؤ اور اپنی آواز کھینچ کر یوں کہو : أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حديث رقم : 500، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 503 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْعَزِيزِ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ،عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ ارْجِعْ فَمُدَّ مِنْ صَوْتِكَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
عبدالملک کا بیان کہ انہوں نے ابو محذورہ (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان کے کلمات حرفاً حرفاً یوں سکھائے : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح ۔ اور فرمایا : فجر میں آپ ﷺ الصلاة خير من النوم کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حديث رقم : 500، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 504 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَحْذُورَةَ، يَقُولُ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ فِي الْفَجْرِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
ابو محذورہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اذان سکھائی، آپ کہتے تھے : الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله ۔ پھر راوی نے عبدالعزیز بن عبدالملک سے ابن جریح کی اذان کے ہم مثل و ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ مالک بن دینار کی حدیث میں ہے کہ نافع بن عمر نے کہا : میں نے ابو محذورہ (رض) کے لڑکے سے پوچھا اور کہا : تم مجھ سے اپنے والد ابو محذورہ (رض) کی اذان جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے، کے متعلق بیان کرو تو انہوں نے ذکر کیا اور کہا : الله أكبر الله أكبر صرف دو بار، اسی طرح جعفر بن سلیمان کی حدیث ہے جو انہوں نے ابو محذورہ (رض) کے لڑکے سے، انہوں نے اپنے چچا سے انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے مگر اس روایت میں یہ ہے کہ پھر ترجیع کرو اور بلند آواز سے الله أكبر الله أكبر کہو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حديث رقم : 500، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) (صحیح) چار مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی بات صحیح ہے وَكَذَلِكَ حَدِيثُ جَعْفَرِ ابْنِ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ تَرْجِعُ فَتَرْفَعُ صَوْتَكَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ (منکر) (شہادتین میں ترجیع ثابت و محفوظ ہے )
حدیث نمبر: 505 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي الْجُمَحِيَّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مَُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ أَذَانِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْ أَذَانِ أَبِيكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَطْ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ تَرْجِعُ فَتَرْفَعُ صَوْتَكَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ نماز تین حالتوں سے گزری، ہمارے صحابہ کرام نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات بھلی معلوم ہوئی کہ سارے مسلمان یا سارے مومن مل کر ایک ساتھ نماز پڑھا کریں، اور ایک جماعت ہوا کرے، یہاں تک کہ میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو بھیج دیا کروں کہ وہ نماز کے وقت لوگوں کے گھروں اور محلوں میں جا کر پکار آیا کریں کہ نماز کا وقت ہوچکا ہے۔ پھر میں نے قصد کیا کہ کچھ لوگوں کو حکم دوں کہ وہ ٹیلوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو نماز کے وقت سے باخبر کریں، یہاں تک کہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا قریب تھا کہ بجانے لگ جائیں ، اتنے میں ایک انصاری (عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! جب میں آپ کے پاس سے گیا تو میں اسی فکر میں تھا، جس میں آپ تھے کہ اچانک میں نے (خواب میں) ایک شخص (فرشتہ) کو دیکھا، گویا وہ سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہے، وہ مسجد پر کھڑا ہوا، اور اذان دی، پھر تھوڑی دیر بیٹھا پھر کھڑا ہوا اور جو کلمات اذان میں کہے تھے، وہی اس نے پھر دہرائے، البتہ : قد قامت الصلاة کا اس میں اضافہ کیا۔ اگر مجھے اندیشہ نہ ہو تاکہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے (اور ابن مثنی کی روایت میں ہے کہ تم (لوگ) جھوٹا کہو گے) تو میں یہ کہتا کہ میں بیدار تھا، سو نہیں رہا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے تمہیں بہتر خواب دکھایا ہے (یہ ابن مثنی کی روایت میں ہے اور عمرو بن مرزوق کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہتر خواب دکھایا ہے) ، (پھر فرمایا) : تم بلال سے کہو کہ وہ اذان دیں ۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : اتنے میں عمر (رض) (آ کر) کہنے لگے : میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسے عبداللہ بن زید (رض) نے دیکھا ہے، لیکن چونکہ میں پیچھے رہ گیا، اس لیے شرم سے نہیں کہہ سکا۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : ہم سے ہمارے صحابہ کرام نے بیان کیا کہ جب کوئی شخص (نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں آتا اور دیکھتا کہ نماز باجماعت ہو رہی ہے) تو امام کے ساتھ نماز پڑھنے والوں سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں ہوچکی ہیں، وہ مصلی اشارے سے پڑھی ہوئی رکعتیں بتادیتا اور حال یہ ہوتا کہ لوگ جماعت میں قیام یا رکوع یا قعدے کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوتے۔ ابن مثنیٰ کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا : حصین نے ابن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے مجھ سے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے : یہاں تک کہ معاذ (رض) آئے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی یہ حدیث حصین سے سنی ہے اس میں ہے کہ معاذ (رض) نے کہا : میں تو رسول اللہ ﷺ کو جس حالت میں دیکھوں گا ویسے ہی کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معاذ نے تمہارے واسطے ایک سنت مقرر کردی ہے تم ایسے ہی کیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : پھر میں عمرو بن مرزوق کی حدیث کے سیاق کی طرف پلٹتا ہوں، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : معاذ (رض) آئے تو لوگوں نے ان کو اشارہ سے بتلایا، شعبہ کہتے ہیں : اس جملے کو میں نے حصین سے سنا ہے، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : تو معاذ نے کہا : میں جس حال میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھوں گا وہی کروں گا، وہ کہتے ہیں : تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معاذ نے تمہارے لیے ایک سنت جاری کردی ہے لہٰذا تم بھی معاذ کی طرح کرو ، (یعنی جتنی نماز امام کے ساتھ پاؤ اسے پڑھ لو، بقیہ بعد میں پوری کرلو) ۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : ہمارے صحابہ کرام نے ہم سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انہیں (ہر ماہ) تین دن روزے رکھنے کا حکم دیا، پھر رمضان کے روزے نازل کئے گئے، وہ لوگ روزے رکھنے کے عادی نہ تھے، اور روزہ رکھنا ان پر گراں گزرتا تھا، چناچہ جو روزہ نہ رکھتا وہ اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا، پھر یہ آیت : فمن شهد منکم الشهر فليصمه ١ ؎ نازل ہوئی تو رخصت عام نہ رہی، بلکہ صرف مریض اور مسافر کے لیے مخصوص ہوگئی، باقی سب لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم ہوا۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : ہمارے اصحاب نے ہم سے حدیث بیان کی کہ اوائل اسلام میں جب کوئی آدمی روزہ افطار کر کے سو جاتا اور کھانا نہ کھاتا تو پھر اگلے دن تک اس کے لیے کھانا درست نہ ہوتا، ایک بار عمر (رض) نے اپنی بیوی سے صحبت کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا : میں کھانے سے پہلے سو گئی تھی، عمر سمجھے کہ وہ بہانہ کر رہی ہیں، چناچہ انہوں نے اپنی بیوی سے صحبت کرلی، اسی طرح ایک روز ایک انصاری آئے اور انہوں نے کھانا چاہا، ان کے گھر والوں نے کہا : ذرا ٹھہرئیے ہم کھانا گرم کرلیں، اسی دوران وہ سو گئے، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : أحل لکم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٤٤، ١٥٦٢٧، ١٨٩٧٢) ، مسند احمد (٥/٢٣٣، ٢٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” تو جو تم میں سے یہ مہینہ (رمضان) پائے وہ اس کے روزے رکھے “ (سورۃ البقرۃ : ١٨٥) ٢ ؎ : تمہارے لئے روزوں کی رات میں اپنی عورتوں سے جماع کرنا حلال کردیا گیا ہے “ (سورۃ البقرۃ : ١٨٧ )
حدیث نمبر: 506 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ،عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَقَدْ أَعْجَبَنِي أَنْ تَكُونَ صَلَاةُ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ قَالَ: الْمُؤْمِنِينَ وَاحِدَةً، حَتَّى لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبُثَّ رِجَالًا فِي الدُّورِ يُنَادُونَ النَّاسَ بِحِينِ الصَّلَاةِ، وَحَتَّى هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالًا يَقُومُونَ عَلَى الْآطَامِ يُنَادُونَ الْمُسْلِمِينَ بِحِينِ الصَّلَاةِ حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا أَنْ يَنْقُسُوا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمَّا رَجَعْتُ لِمَا رَأَيْتُ مِنَ اهْتِمَامِكَ، رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ أَخْضَرَيْنِ فَقَامَ عَلَى الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ مِثْلَهَا، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: أَنْ تَقُولُوا، لَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ يَقْظَانَ غَيْرَ نَائِمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا، وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو: لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَمُرْ بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى وَلَكِنِّي لَمَّا سُبِقْتُ اسْتَحْيَيْتُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ يَسْأَلُ فَيُخْبَرُ بِمَا سُبِقَ مِنْ صَلَاتِهِ وَإِنَّهُمْ قَامُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَرَاكِعٍ وَقَاعِدٍ وَمُصَلٍّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بِهَا حُصَيْنٌ،عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَتَّى جَاءَ مُعَاذ، قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَى قَوْلِهِ كَذَلِكَ فَافْعَلُوا، قَالَ أَبُو دَاوُد: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: فَجَاءَ مُعَاذ فَأَشَارُوا إِلَيْهِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهَذِهِ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ مُعَاذ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا. قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذا قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً كَذَلِكَ فَافْعَلُوا، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ أُنْزِلَ رَمَضَانُ، وَكَانُوا قَوْمًا لَمْ يَتَعَوَّدُوا الصِّيَامَ وَكَانَ الصِّيَامُ عَلَيْهِمْ شَدِيدًا، فَكَانَ مَنْ لَمْ يَصُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185، فَكَانَتِ الرُّخْصَةُ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ فَأُمِرُوا بِالصِّيَامِ، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَفْطَرَ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ لَمْ يَأْكُلْ حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَرَادَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ نِمْتُ، فَظَنَّ أَنَّهَا تَعْتَلُّ فَأَتَاهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرَادَ الطَّعَامَ، فَقَالُوا: حَتَّى نُسَخِّنَ لَكَ شَيْئًا، فَنَامَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کا طریقہ
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ نماز میں تین تبدیلیاں ہوئیں، اسی طرح روزوں میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں، پھر نصر نے پوری لمبی حدیث بیان کی اور ابن مثنیٰ نے صرف بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کیا۔ معاذ (رض) کہتے ہیں : تیسری حالت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے، آپ نے بیت المقدس کی طرف (رخ کر کے) تیرہ مہینے تک نماز پڑھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينک قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما کنتم فولوا وجوهكم شطره ١ ؎ تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ ابن مثنیٰ کی حدیث یہاں مکمل ہوگئی اور نصر نے خواب دیکھنے والے کا نام ذکر کیا، وہ کہتے ہیں : انصار کے ایک شخص عبداللہ بن زید (رض) آئے۔ اس میں یوں ہے کہ : پھر انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور کہا : الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة دو بار، حى على الفلاح دو بار، الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ، یہ کہنے کے بعد تھوڑی دیر تک ٹھہرے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور اسی طرح (تکبیر) کہی، مگر اس میں انہوں نے : حى على الفلاح کے بعد قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة کا اضافہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم بلال کو یہ الفاظ سکھلا دو ، چناچہ بلال (رض) نے ان الفاظ کے ذریعہ اذان دی۔ اور معاذ (رض) نے روزے کے بارے میں کہا : رسول اللہ ﷺ ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے اور عاشوراء (دسویں محرم) کا روزہ بھی رکھتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : كتب عليكم الصيام کما كتب على الذين من قبلکم اللہ تعالیٰ کے قول : طَعَامُ مسكين تک ٢ ؎، تو اب جو چاہتا روزے رکھتا، اور جو چاہتا نہ رکھتا، اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا، ایک سال تک یہی حکم رہا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا : شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن اپنے قول : أيام أخر تک ٣ ؎، پھر روزہ ہر اس شخص پر فرض ہوگیا جو ماہ رمضان کو پائے، اور مسافر پر قضاء کرنا، اور بوڑھے مرد اور عورت کے لیے جن کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو فدیہ دینا باقی رہا۔ پھر صرمہ (رض) آئے، انہوں نے دن بھر کام کیا تھا ... اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٤٤، ١٥٦٢٧، ١٨٩٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” ہم آپ کا چہرہ باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، تو اب ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر رہے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں تو آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں، اور مسلمانو ! تم جہاں کہیں بھی رہو نماز کے وقت اپنا رخ اسی کی طرف پھیرے رکھو “ (سورۃ البقرۃ : ١٤٤) ٢ ؎ : ” اے ایمان والو ! تم پر روزہ فرض کردیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھا ، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، یہ گنتی کے چند ہی دن ہیں، لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کا کھانا دیں “ (سورۃ البقرۃ : ١٨٤) ٣ ؎ : ” ماہ رمضان ہی ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے، اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل میں تمیز کی واضح نشانیاں ہیں، لہٰذا جو تم میں سے اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے، اور جو کوئی بیمار یا مسافر ہو وہ اور دنوں سے گنتی پوری کرے “ (سورۃ البقرۃ : ١٨٤-١٨٥ )
حدیث نمبر: 507 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، وَسَاقَ نَصْرٌ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَاقْتَصَّ ابْنُ الْمُثَنَّى مِنْهُ قِصَّةَ صَلَاتِهِمْ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَطْ، قَالَ: الْحَالُ الثَّالِثُأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى يَعْنِي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ سورة البقرة آية 144، فَوَجَّهَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْكَعْبَةِ، وَتَمَّ حَدِيثُهُ، وَسَمَّى نَصْرٌ صَاحِبَ الرُّؤْيَا، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَقَالَ فِيهِ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ أَمْهَلَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ مِثْلَهَا، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: زَادَ بَعْدَ مَا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنْهَا بِلَالًا، فَأَذَّنَ بِهَا بِلَالٌ، وقَالَ فِي الصَّوْمِ: قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَيَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 183 ـ 184، فَكَانَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُفْطِرَ وَيُطْعِمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا أَجْزَأَهُ ذَلِكَ وَهَذَا حَوْلٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْءَانُ إِلَى أَيَّامٍ أُخَرَ سورة البقرة آية 185 فَثَبَتَ الصِّيَامُ عَلَى مَنْ شَهِدَ الشَّهْرَ، وَعَلَى الْمُسَافِرِ أَنْ يَقْضِيَ، وَثَبَتَ الطَّعَامُ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ اللَّذَيْنِ لَا يَسْتَطِيعَانِ الصَّوْمَ، وَجَاءَ صِرْمَةُ وَقَدْ عَمِلَ يَوْمَهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ حماد نے اپنی روایت میں : إلا الإقامة (یعنی سوائے قد قامت الصلاة کے) کا اضافہ کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١ (٦٠٣) ، ٢ (٦٠٥) ، ٣ (٦٠٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢ (٣٧٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧ (١٩٣) ، سنن النسائی/الأذان ٢ (٦٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٦ (٧٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٣) ، مسند احمد (٣/١٠٣، ١٨٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦ (١٢٣٠، ١٢٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 508 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ، زَادَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا بیان
اس طریق سے بھی انس (رض) سے وہیب کی حدیث کے مثل حدیث مروی ہے اسماعیل کہتے ہیں : میں نے اسے ایوب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : إلا الإقامة (یعنی سوائے قد قامت الصلاة کے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٩٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ پوری اقامت اکہری (ایک ایک بار) ہوگی البتہ قد قامت الصلاة کو دو بار کہا جائے گا۔
حدیث نمبر: 509 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، مِثْلَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے : قد قامت الصلاة کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چناچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر نماز کے لیے آتے تھے ١ ؎۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان ٢ (٦٢٩) ، ٢٨ (٦٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٥٥) ، مسند احمد (٢/٨٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یہ کبھی کبھی کا معاملہ تھا، نیز آپ ﷺ کی قرات لمبی ہوا کرتی تھی تو پہلی رکعت پالینے کا یقین رہتا تھا۔
حدیث نمبر: 510 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ، يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক: