কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১৩৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں میانہ روی اختیار کرے کا حکم
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عثمان بن مظعون (رض) کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : عثمان ! کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی ہے ؟ ، انہوں نے جواب دیا : نہیں اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان ! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧١٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٢٦، ٢٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں میانہ روی بہتر ہے اور بال بچوں سے کنارہ کشی اور رہبانیت اسلام کے خلاف ہے۔
حدیث نمبر: 1369 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَجَاءَهُ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي ؟قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ، قَالَ: فَإِنِّي أَنَامُ، وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں صورت بعضوں نے کہا ہر گروہ کے ساتھ امام دو رکعتیں پڑھے
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کے عمل کا حال کیسا تھا ؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کرلیتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ ﷺ رکھتے تھے ؟۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ١٨ (٦٤٦٦) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٣) ، سنن الترمذی/الشمائل (٣١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ١٧٤، ١٨٩، ٢٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1370 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةًوَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے : جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، رسول اللہ ﷺ کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر (رض) کی خلافت اور عمر (رض) کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے من قام رمضان کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں من صام رمضان وقامه ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩) ، سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٣) ، ٨٣ (٨٠٨) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٤) ، والصوم ٣٩ (٢٠٠٢) ، والإیمان ٢٢ (٢١٩٦) ، ٢٢ (٥٠٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٧٧، ١٥٢٧٠، ١٥٢٤٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧) ، والصوم ٦ (١٩٠١) ، والتراویح ١ (٢٠٠٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٣ (١٣٢٦) ، موطا امام مالک/ الصلاة فی رمضان ١ (٢) ، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٤١، ٣٨٥، ٤٧٣، ٥٠٣) ، سنن الدارمی/الصوم ٥٤ (١٨١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پھر عمر (رض) نے لوگوں کو مسجد میں ایک امام کے پیچھے جمع کردیا، اسی وجہ سے اکثر علماء نے باجماعت تراویح کو افضل کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گھر میں اکیلے پڑھنا افضل ہے۔
حدیث نمبر: 1371 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ عُقَيْلٌ، وَيُونُسُ، وَأَبُو أُوَيْسٍمَنْ قَامَ رَمَضَانَ، وَرَوَى عُقَيْلٌمَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/لیلة القدر ١ (٢٠١٤) ، سنن النسائی/الصیام ٢٢ (٢٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥١٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1372 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ المَعْنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ ﷺ نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا : میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائے ١ ؎ اور یہ بات رمضان کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٠ (٧٢٩) ، والجمعة ٢٩(٩٢٤) ، والتہجد ٥ (١١٢٩) ، والتراویح ١ (٢٠١١) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦١) ، سنن النسائی/ قیام اللیل ٤ (١٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة في رمضان ١(١) ، مسند احمد (٦/١٦٩، ١٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد اب یہ اندیشہ باقی نہیں رہا اس لئے تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مشروع ہے، رہا یہ مسئلہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان تینوں راتوں میں تراویح کی کتنی رکعتیں پڑھیں تو دیگر (صحیح) روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ان راتوں اور بقیہ قیام اللیل میں آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور رکعات وتر کو ملا کر اکثر گیارہ اور کبھی تیرہ رکعات تک پڑھنا ثابت ہے، اور یہی صحابہ سے اور خلفاء راشدین سے منقول ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیس رکعتیں پڑھیں لیکن یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، لائق استناد نہیں۔
حدیث نمبر: 1373 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی، پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگو ! اللہ کی قسم ! میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٧٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٦٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1374 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا فَصَلَّى عَلَيْهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ فِيهِ: قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلًا، وَلَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ (مہینے کی) سات راتیں رہ گئیں، پھر آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں (٢٣) یا چوبیسویں (٢٤) رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی (٢٤) ویں یا (٢٥) ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، اس کے بعد (٢٥) ویں یا (٢٦) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے، آپ ﷺ نے فرمایا : جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ، پھر چھبیسویں (٢٦) یا ستائیسویں (٢٧) رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے پھر قیام نہیں کیا، پھر ستائیسویں (٢٧) یا اٹھائیسویں (٢٨) رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا : فلاح کیا ہے ؟ ابوذر نے کہا : سحر کا کھانا، پھر آپ ﷺ نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا ١ ؎۔۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٨١ (٨٠٦) ، سنن النسائی/السہو ١٠٣ (١٣٦٥) ، قیام اللیل ٤ (١٦٠٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٣ (١٣٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥٩، ١٦٣) ، سنن الدارمی/ الصوم ٥٤ (١٨١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں، اس حساب سے نبی اکرم ﷺ نے تیئسویں، پچسویں اور ستائسویں رات میں قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ شب قدر بھی انہیں راتوں میں ہے۔
حدیث نمبر: 1375 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْأَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ ؟ قَالَ: السُّحُورُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم ﷺ راتوں کو جاگتے اور (عبادت کے لیے) کمربستہ ہوجاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/لیلة القدر ٥ (٢٠٢٤) ، صحیح مسلم/الاعتکاف ٣ (١١٧٤) ، سنن الترمذی/الصوم ٧٣ (٧٩٥) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٧ (١٧٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٠، ٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1376 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، وَقَالَ دَاوُدُ عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْأَبِي الضُّحَى،عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَعْفُورٍ: اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ ، لوگوں نے عرض کیا : یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، لہٰذا ابی بن کعب (رض) کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا : انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٠٩٤) (ضعیف) ( اس کے راوی مسلم متکلم فیہ ہیں ، مولف نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے )
حدیث نمبر: 1377 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا هَؤُلَاءِ ؟فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب (رض) سے کہا : ابومنذر ! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے ؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود (رض) سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جو پورے سال قیام کرے اسے پالے گا، ابی ابن کعب (رض) نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم ! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے (مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں، (آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے) اللہ کی قسم ! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا : اے ابومنذر ! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا : اس علامت سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا : وہ علامت کیا تھی ؟ جواب دیا : اس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦٢) ، سنن الترمذی/الصوم ٧٣ (٧٩٣) ، سنن النسائی/الاعتکاف (٣٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٣٠، ١٣١) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1378 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَا يَسْتَثْنِي، قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ ؟ قَالَ: تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
عبداللہ بن انیس (رض) کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا ؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا : اندر آجاؤ ، میں اندر داخل ہوگیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا : مجھے میرا جوتا دو ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے ؟ ، میں نے کہا : جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : آج کون سی رات ہے ؟ ، میں نے کہا : بائیسویں رات، آپ ﷺ نے فرمایا : یہی شب قدر ہے ، پھر لوٹے اور فرمایا : یا کل کی رات ہوگی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥١٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٤٠١، ٣٤٠٢) ، مسند احمد (٣/٤٩٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1379 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْتُ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي، فَقَالَ: ادْخُلْ، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: نَاوِلْنِي نَعْلِي، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: كَأَنَّ لَكَ حَاجَةًقُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: كَمْ اللَّيْلَةُ ؟ فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ: هِيَ اللَّيْلَةُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: أَوِ الْقَابِلَةُ، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
عبداللہ بن انیس جہنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ ﷺ نے فرمایا : تیئسویں شب کو آیا کرو ۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن انیس (رض) کے بیٹے سے پوچھا : تمہارے والد کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آجاتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥١٤٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (١٢) ، (کلاھما نحوہ) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1380 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے (یعنی شب قدر کو) رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں (یعنی اکیسویں شب کو) اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں (یعنی تئیسویں شب کو) اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں (یعنی پچیسویں شب کو) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/لیلة القدر ٣ (٢٠٢١) ٣ (٢٠٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣١، ٢٧٩، ٣٦٠، ٣٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1381 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا اکیسویں شب میں ہونا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے درمیانی عشرے (دہے) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ (قدر کی) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں ۔ ابوسعید (رض) کہتے ہیں : پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید (رض) کہتے ہیں : میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٤، (تحفة الأشراف : ٤٤١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1382 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ، قَالَ: مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفْ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقْدَ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا اکیسویں شب میں ہونا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو ۔ ابونضرہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے ابوسعید ! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا : ہاں، میں نے کہا : نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : جب (٢١) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب (٢٣) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب (٢٥) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٩٨ (١٣٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/لیلة القدر ٢ (٢٠١٦) ، ٣ (٢٠٢٢) ، والاعتکاف ١ (٢٠٢٦) ، ٩ (٢٠٣٦) ، ١٣ (٢٠٤٠) ، صحیح مسلم/الصیام ٤٠ (١١٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٦ (١٧٦٦) ، موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (٩) ، مسند احمد (٣/٩٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1383 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالْخَامِسَةِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ؟ قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَإِذَا مَضَى ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا سترہویں شب میں ہونا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا : شب قدر کو رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو ، پھر چپ ہوگئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩١٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی حکیم میں کلام ہے ، نیز ابواسحاق مختلط ہوگئے تھے ، اور یہ معلوم نہیں کہ زید نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں )
حدیث نمبر: 1384 حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطْلُبُوهَا لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَلَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ سَكَتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا اخیر کی سات راتوں میں ہونا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٤٠ (١١٦٥) ، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٤٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٣٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاعتکاف ٦(١١) ، مسند احمد (٢/٣٧، ٦٢، ٧٤، ١١٣) ، سنن الدارمی/الصوم ٥٦ (١٨٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1385 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا ستائیسویں رات میں ہو نا
معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا : شب قدر ستائیسویں رات ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٤٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1386 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُطَرِّفًا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا سارے رمضان میں ہو نا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں (اس گفتگو کو) سن رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہوسکتی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر (رض) پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٠٦٥) (ضعیف) والصحیح موقوف (اس کے راوی أبواسحاق مختلط ہوگئے تھے اور یہ معلوم نہیں کہ موسیٰ نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں ) وضاحت : ١ ؎ : کثرت احادیث کی بناء پر شب قدر کے سلسلہ میں علماء میں زبردست اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ رمضان میں ہے، پھر راجح یہ ہے کہ وہ رمضان کے اخیر عشرہ میں ہے ، پھر ظن غالب یہ ہے کہ وہ طاق راتوں میں ہے ، پھر لائق اعتماد قول یہ ہے کہ یہ ستائیسویں رات میں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 1387 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پاک کم سے کم کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیئے
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا : مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تو بیس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا : مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تو پندرہ دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا : مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تو دس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا : مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ فضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٣، ٥٠٥٤) ، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٦٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/القراء ات ١٣ (٢٩٤٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٨(١٣٤٦) ، مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٩) ، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٢ (٣٥١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1388 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍقَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَقَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي عَشْرٍقَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ.
তাহকীক: