কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১৩৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
اس طریق سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٨٦، ١٦١١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ ابن ابی عدی، یزید بن ہارون اور مروان بن معاویہ سبھی نے اسے بہز بن حکیم سے، انہوں نے زرارہ سے زرارۃ نے عائشہ (رض) سے بغیر سعد کے واسطہ کے روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ ہی نے زرارہ اور عائشہ (رض) کے درمیان سعد بن ہشام کا واسطہ بڑھایا ہے، اور یہ واسطہ ہی صحیح ہے کیوں کہ زرارہ کے عائشہ (رض) سے سماع میں اختلاف ہے، صحیح بات یہی ہے کہ سماع ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1349 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦١١٠، ١٦١١١، ١٧٧٥٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1350 حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِتِسْعٍ، أَوْ كَمَا قَالَتْ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہوجاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے : کہ علقمہ بن وقاص نے کہا : اماں جان ! آپ ﷺ دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے ؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤١١) ، وقدأخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٨) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1351 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس گیا اور کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں بتائیے، وہ بولیں : رسول اللہ ﷺ لوگوں کو عشاء پڑھاتے، پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہوجاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، میرے خیال میں آپ ﷺ ہر رکعت میں قرآت، رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے، پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو (زمین پر) رکھتے، کبھی ایسا ہوتا کہ بلال (رض) آ کر نماز کی خبر دیتے پھر آپ ﷺ ہلکی نیند سوتے، بسا اوقات میں شبہ میں پڑجاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، یہی آپ کی نماز (تہجد) ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہوگئے، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/ ٩١، ٩٧، ١٦٨، ٢١٦، ٢٢٧، ٢٣٥) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1352 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ،عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ، فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغْفِي، وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَا، حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ حَتَّى أَسَنَّ لَحُمَ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے، تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض ١ ؎ اخیر سورة تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا، پھر آپ ﷺ فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ ﷺ نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر آپ ﷺ نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے : پھر آپ نے وتر پڑھی، پھر آپ کے پاس بلال (رض) آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں۔ اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔ آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔ آپ (اس وقت) فرما رہے تھے : اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وأمامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم وأعظم لي نورا اے اللہ ! تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کان میں، میری نگاہ میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے۔ اور اے اللہ ! میرے لیے نور کو بڑا بنا دے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٨، (تحفة الأشراف : ٦٢٨٧) ( صحیح ) وضاحت : وضاحت : سورة آل عمران : (١٩٠) ۔
حدیث نمبر: 1353 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِسِتِّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ. قَالَ عُثْمَانُ: بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: ثُمَّ أَوْتَرَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں وأعظم لي نورا کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں عن حبيبٍ کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے عن أبي رشدين عن ابن عباس کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٨، (تحفة الأشراف : ٦٢٨٧) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1354 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ،عَنْ حُصَيْنٍ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَأَعْظِمْ لِي نُورًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ: عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر : 1355 فضل بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو آپ اٹھے اور وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ ﷺ کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا، پھر آپ ﷺ سوئے رہے، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا، پھر سورة آل عمران کی یہ پانچ آیتیں إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار (آل عمران : ١٩٠) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے دس رکعتیں ادا کیں، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر (طاق) کرلیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی، مؤذن خاموش ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی شریک اور زہیر میں کچھ کلام ہے )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَرَأَ بِخَمْسِ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة آل عمران آية 190 فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى سَجْدَةً وَاحِدَةً فَأَوْتَرَ بِهَا وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ ابْنِ بَشَّارٍ بَعْضُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہوجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا : کیا بچے نے نماز پڑھ لی ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، پھر آپ ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧) ، الأذان ٥٧ (٦٩٧) ، سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٤١، ٣٥٤) ، دی/الطہارة ٣ (٦٨٤) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1356 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَمْسَى، فَقَالَ: أَصَلَّى الْغُلَامُ ؟قَالُوا: نَعَمْ، فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث (رض) کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم ﷺ نے عشاء پڑھی پھر (گھر) تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ ﷺ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٤٩٦) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1357 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِفَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے : آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٤٤) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1358 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَلَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے : دو دو کر کے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٣٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٧٥) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1359 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ، قَبْلَ الصُّبْحِ يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : م /المسافرین ١٧ (٧٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٧١) ، مسند احمد (٦/٢٢٢) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1360 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے : اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے جالسا (بیٹھ کر) کا اضافہ کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٢٢ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٣٥) ، وانظر حدیث رقم : (١٣٤٢) (صحیح)ورکعتين جالساً بين الأذانين خطا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں (ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٥ ؍ ١٠٣- ١٠٤ )
حدیث نمبر: 1361 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا. قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا : انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب ؟ تو وہ بولیں : انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧) ، مختصراً سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (١٦٢٨٢) ، مسند احمد (٦/١٤٩) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1362 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں، پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٣٤) ( ضعیف) (اس کے راوی منصور کے حافظہ میں کچھ کمزوری ہے، نیز ابو اسحاق مختلط ہیں اور منصور کی ان سے روایت کے بارے میں پتہ نہیں کہ اختلاط سے پہلے ہے یا بعد میں )
حدیث نمبر: 1363 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَتَرَكَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ آخِرُ صَلَاتِهِ مِنَ اللَّيْلِ الْوِتْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی ؟ تو انہوں نے کہا : ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ ﷺ ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ ﷺ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کرلیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ ﷺ نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورة فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال (رض) آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! نماز، تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطہارة ٣٧ (١٨٣) ، الأذان ٥٨ (٦٩٨) ، الوتر ١ (٩٩٢) ، التفسیر ١٨ (٤٥٧٠) ، ١٩ (٤٥٧١) ، ٢٠ (٤٥٧٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣) ، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٥) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦٢١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٦٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (١١) ، مسند احمد ١ (٢٢٢، ٣٥٨) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1364 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْمَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ قَالَ: بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ (رض) کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ ﷺ کا قیام ہر رکعت میں سورة مزمل کے بقدر ہوتا تھا ، نوح کی روایت میں یہ نہیں ہے : اس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧) ، والکبری/ الوتر ٥٩ (١٤٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٨٤) ( صحیح )
حدیث نمبر: 1365 حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَفَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ حَزَرْتُ قِيَامَهُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِقَدْرِ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ، لَمْ يَقُلْ نُوحٌ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) ضرور دیکھ کر رہوں گا، چناچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا، رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں، پھر وتر پڑھی، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٥) ، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٩) ، سنن النسائی/الکبری/قیام اللیل ٢٦ (١٣٣٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٢ (١٢) ، مسند احمد (٥/١٩٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1366 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی رکعتوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ (رض) کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں : میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹیں، پھر نبی اکرم ﷺ سو گئے، جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی، پھر سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ ﷺ ہی کی طرح سارا کام کیا، پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں، قعنبی کی روایت میں یوں ہے : دو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں، پھر وتر پڑھی، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ ﷺ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (١٣٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1367 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ موْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِوَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُمْتُ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي فَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: سِتَّ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں میانہ روی اختیار کرے کا حکم
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) تھک جاؤ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو ، چناچہ آپ ﷺ جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٣٢ (٤٣) ، الأذان ٨١ (٧٣٠) ، والتھجد ١٨ (١١٥٢) ، واللباس ٤٣ (٥٨٦١) ، والرقاق ١٨ (٦٤٦٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٢) ، سنن النسائی/القبلة ١٣ (٧٦٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٦ (٩٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٠، ٥١، ٦١، ٢٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1368 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ.
তাহকীক: