কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১২২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا، آپ ﷺ صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے : اے مکہ والو ! تم چار پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (الجمعة ٣٩) (٥٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٠، ٤٣١، ٤٣٢، ٤٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : اس قسم کی ضعیف حدیثوں سے قصر کی مدت کی تحدید درست نہیں کیونکہ ان میں اس طرح کا چنداں اشارہ بھی نہیں ملتا کہ اللہ کے رسول اگر مزید ٹھہرنے کا ارادہ کرتے تو نماز پوری پڑھتے اس بات کے لئے واضح ثبوت غزوہ تبوک کا وہ سفر ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بیس دن تک قیام کیا اور برابر قصر کرتے رہے، اور غزوہ حنین میں چالیس روز تک قصر فرماتے رہے، نیز غازی کی مثال ایسے مسافر کی ہے جس کو اپنے سفر یا قیام کے بارے میں کوئی واضح بات نہ معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 1229 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَهَذَا لَفْظُهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْبَلَدِ، صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سترہ دن مکہ میں مقیم رہے، اور نماز قصر کرتے رہے، تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے، اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے، اس میں ہے : آپ ﷺ انیس دن تک مقیم رہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨٠) ، المغازي ٥٢ (٤٢٩٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (الجمعة ٤٠) (٥٤٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٦١٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٣) (شاذ) ( اس کے راوی حفص بن غیاث گرچہ ثقات میں سے ہیں، مگر اخیر عمر میں ذرا مختلط ہوگئے تھے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ عاصم الأحول کے تمام تلامذہ کے برخلاف سترہ دن کی روایت کر بیٹھے ہیں )
حدیث نمبر: 1230 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ أَتَمَّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ..
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا، آپ ﷺ نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے ابن عباس (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٤٩) (ضعیف منکر) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے اور اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 1231 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦١٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣٠٢١، ٣١٥) (ضعیف منکر) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، اور اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں )
حدیث نمبر: 1232 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ (اس سفر میں) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم لوگوں نے پوچھا : کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے ؟ انہوں نے جواب دیا : مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨١) ، والمغازي ٥٢ (٤٢٩٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (الجمعة ٤٠) (٥٤٨) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٧) ، ٤ (١٤٥١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٧) ، مسند احمد (٣/١٨٧، ١٩٠، ٢٨٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث حجۃ الوداع کے سفر کے بارے میں ہے ، اور ابن عباس (رض) کی حدیث فتح مکہ کے بارے میں ہے۔
حدیث نمبر: 1233 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَفَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ أَقَمْتُمْ بِهَا شَيْئًا ؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟
عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ علی (رض) جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہوجاتا، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے : رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي کے بجائے عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي ہے۔ (ابوعلی لولؤی کہتے ہیں) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ (بن انس بن مالک) سے روایت کی ہے کہ انس (رض) جب شفق غائب ہوجاتی تو دونوں (مغرب اور عشاء) کو جمع کرتے اور کہتے : نبی کریم ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے انس (رض) سے انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/المواقیت ٤٤ (٥٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٠) (صحیح لغیرہ) ( اس کے راوی عبداللہ بن محمد بن عمر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ، جن میں سے ایک انس کی اگلی حدیث بھی ہے) وحدیث أنس أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٤ (١١١١، ١١١٢) (مقتصرا علی الظہر والعصر فقط) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٤٢ (٥٩٥) ، (مقتصرا علی الشق الأول مثل البخاری) ، (تحفة الأشراف : ١٥١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1234 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُكَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْعُوا بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْتَحِلُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. قَالَ عُثْمَانُ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَنَسًاكَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ، وَيَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب دشمن کے ملک میں ٹھہرا ہوا ہو تو قصر ہی کرتا رہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : معمر کے علاوہ سبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں، کوئی اسے مسند روایت نہیں کرتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٥٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1235 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: غَيْرُ مَعْمَرٍ لَا يُسْنِدُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوہ خوف (حالت جنگ میں پڑھی جانے والی نماز)
ابوعیاش زرقی (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے : ہم سے چوک ہوگئی، ہم غفلت کا شکار ہوگئے، کاش ! ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کردیا ہوتا، چناچہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی ١ ؎ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے، مشرکین آپ کے سامنے تھے، لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو آپ ﷺ نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا، لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی (پچھلی صف کے) لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہوگئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے، سجدے کئے، پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی، اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آگئی، پھر سب نے مل کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا، آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے، عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔ اسی طرح قتادہ نے حسن سے، حسن نے حطان سے، حطان نے ابوموسیٰ (رض) سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/صلاة الخوف (١٥٥٠، ١٥٥١ ) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٥٩، ٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نسائی کی روایت میں ہے فنزلت، يعني صلاة الخوف دونوں روایتوں میں اختلاف نہیں ہے کیونکہ آیت قصر ہی آیت خوف ہے۔
حدیث نمبر: 1236 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ، وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، هَذَا الْمَعْنَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَكَذَلِكَقَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى فِعْلَهُ، وَكَذَلِكَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک صف امام کے ساتھ قائم ہو اور دوسری صف دشمن کے مقابلہ میں ہو پس امام اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائے اور امام کھڑا رہے یہاں تک کہ یہ سب لوگ دوسری رکعت پڑھ لیں پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسری جماعت آکر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور امام بیٹھا رہے یہاں تک کہ جماعت ثانیہ پہلی رکعت پوری کرے اس کے بعد امام سب کے ساتھ سلام پھیرے
سہل بن ابی حثمہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہوگئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے، ایک رکعت ادا کی، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے، آپ کے پیچھے آگئے، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٢ (٤١٣١) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٧ (٨٤١ و ٨٤٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨١ (الجمعة ٤٦) (٥٦٦) ، سنن النسائی/صلاة الخوف (١٥٣٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥١ (١٢٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢) ، مسند احمد (٣/٤٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٥(١٥٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1237 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي خَوْفٍ فَجَعَلَهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری صورت بعضوں نے کہا کہ امام جب ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے تو امام کھڑا رہے اور باقی لوگ تنہا مزید ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر فارغ ہو کر دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام میں اختلاف ہے
صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف ادا کی وہ کہتے ہیں : ایک جماعت آپ کے ساتھ صف میں کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے، آپ ﷺ نے اپنے ساتھ والی جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی پھر کھڑے رہے اور ان لوگوں نے (اس دوران میں) اپنی نماز پوری کرلی (یعنی دوسری رکعت بھی پڑھ ل ی) پھر وہ واپس دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسری جماعت آئی تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ اپنی رکعت ادا کی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت پوری کی، پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ مالک کہتے ہیں : یزید بن رومان کی حدیث میری مسموعات میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1238 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْم ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّفَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ. قَالَ مَالِكٌ: وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری صورت بعضوں نے کہا کہ امام جب ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے تو امام کھڑا رہے اور باقی لوگ تنہا مزید ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر فارغ ہو کر دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام میں اختلاف ہے
صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری (رض) نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہوگی کہ امام (نماز کے لیے) کھڑا ہوگا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہوگی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوگی، امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہوگا، جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہوجائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی (دوسری) رکعت بھی ادا کرلیں گے، پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا، اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا، اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ (امام) کھڑا رہے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٢٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٥) (صحیح) (یہ حدیث موقوف ہے اور اس سے پہلے والی مرفوع ہے، پہلی میں جو صورت مذکور ہے وہی زیادہ صحیح ہے، یعنی دوسری جماعت کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا )
حدیث نمبر: 1239 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ: أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، فَيَرْكَعُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ، ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ، فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ يُسَلِّمُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَمَّا: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلَامِ، وَرِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: وَيَثْبُتُ قَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چو تھی صورت بعضوں نے کہا کہ سب لوگ ایک ساتھ تکبیر تحر یمہ کہہ لیں اگرچہ پشت قبلہ کی طرف ہو پھیر ایک گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور وہ دشمن کے سامنے چلا جائے پس دوسرا گروہ آکر پہلے تنہا ایک رکعت پڑھے اور امام کے ساتھ شریک ہوجائے پھیر اممام ان کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے اور اس کے بعد وہ ھروہ آئے جو پہلے ایک رکعت پڑھ چکا تھا اور باقی ماندہ ایک رکعت ادا کرے امام بیٹھا رہے پھیر سب کے ساتھ اکٹھا سلام پھیرے
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ ابوہریرہ نے جواب دیا : ہاں، مروان نے پوچھا : کب ؟ ابوہریرہ نے کہا : جس سال غزوہ نجد پیش آیا، رسول اللہ ﷺ عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی اور ان کی پیٹھیں قبلہ کی طرف تھیں، رسول اللہ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی تو آپ کے ساتھ والے لوگوں نے اور ان لوگوں نے بھی جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے (سبھوں نے) تکبیر تحریمہ کہی، پھر رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کھڑی جماعت نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی جماعت نے بھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ ﷺ اٹھے اور وہ جماعت بھی اٹھی جو آپ کے ساتھ تھی اور جا کر دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی، پھر وہ جماعت، جو دشمن کے سامنے کھڑی تھی (امام کے پیچھے) آگئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ اسی طرح کھڑے رہے جیسے تھے، پھر جب وہ جماعت (سجدہ سے) اٹھ کھڑی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا پھر جو جماعت دشمن کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی آگئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ اور وہ لوگ جو پہلے سے آپ کے ساتھ موجود تھے بیٹھے رہے، پھر سلام پھیرا گیا تو رسول اللہ ﷺ اور سبھی لوگوں نے مل کر سلام پھیرا اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک رکعت۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الخوف ١٨(١٥٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1240 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ، قَالَ مَرْوَانُ: مَتَى ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چو تھی صورت بعضوں نے کہا کہ سب لوگ ایک ساتھ تکبیر تحر یمہ کہہ لیں اگرچہ پشت قبلہ کی طرف ہو پھیر ایک گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور وہ دشمن کے سامنے چلا جائے پس دوسرا گروہ آکر پہلے تنہا ایک رکعت پڑھے اور امام کے ساتھ شریک ہوجائے پھیر اممام ان کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے اور اس کے بعد وہ ھروہ آئے جو پہلے ایک رکعت پڑھ چکا تھا اور باقی ماندہ ایک رکعت ادا کرے امام بیٹھا رہے پھیر سب کے ساتھ اکٹھا سلام پھیرے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں حين رکع بمن معه وسجد کے الفاظ ہیں، نیز اس میں ہے فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے ، اس میں انہوں نے استدبار قبلہ (قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤١٦٤) (صحیح ) عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آ کر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ ﷺ نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا (ان سب نے بھی رکوع کیا) ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کرلی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٣٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٧٥) (حسن )
حدیث نمبر: 1241 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ لَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَفَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَفْظُهُعَلَى غَيْرِ لَفْظِ حَيْوَةَ، وَقَالَ فِيهِ: حِينَ رَكَعَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامُوا مَشَوْا الْقَهْقَرَى إِلَى مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرِ اسْتِدْبَارَ الْقِبْلَةِ. حدیث نمبر: 1242 وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ فَحَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ: كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، ثُمَّ سَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَقَامُوا فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ الثَّانِيَةَ وَسَجَدُوا مَعَهُ سَرِيعًا كَأَسْرَعِ الْإِسْرَاعِ جَاهِدًا لَا يَأْلُونَ سِرَاعًا، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَارَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آ کر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا ( ان سب نے بھی رکوع کیا ) ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔
وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ فَحَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ: كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، ثُمَّ سَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَقَامُوا فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ الثَّانِيَةَ وَسَجَدُوا مَعَهُ سَرِيعًا كَأَسْرَعِ الْإِسْرَاعِ جَاهِدًا لَا يَأْلُونَ سِرَاعًا، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَارَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچویں صورت بعضوں نے کہا امام ہر گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھے پھر سلام پھیر دے اور وہ لوگ اپنی ایک رکعت پوری کرلیں،،
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت (نبی اکرم ﷺ کے پیچھے) آگئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی (جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے) کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر (رض) سے ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخوف ١ (٩٤٢) ، المغازي ٣١ (٤١٣٣) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٧ (٨٣٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨١ (الجمعة ٤٦) (٥٦٤) ، سنن النسائی/الخوف ١٨ (١٥٣٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥١ (١٢٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1243 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعٌ، وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ قَوْلُ مَسْرُوقٍ، وَيُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ فَعَلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھٹی صورت بعضوں نے کہا ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے پھر سلام پھیر دے اسکے بعد جو ان کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں اور ایک رکعت پڑھ لیں پھر پچھلے ان کی جگہ پر آجائیں اور ایک رکعت نماز پڑھ لیں،،
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہوگئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آگئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٦٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٥، ٣٧٦، ٤٠٩) (ضعیف) ( ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1244 حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلَاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھٹی صورت بعضوں نے کہا ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے پھر سلام پھیر دے اسکے بعد جو ان کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں اور ایک رکعت پڑھ لیں پھر پچھلے ان کی جگہ پر آجائیں اور ایک رکعت نماز پڑھ لیں،،
اس طریق سے بھی خصیف سے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسی طرح یہ نماز ادا کی، البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا، اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آ کر خود سے ایک رکعت پوری کی۔ پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔ ١٢٤٥/م۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، مسلم کہتے ہیں : ہم سے عبدالصمد بن حبیب نے بیان کی، عبدالصمد کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٦٠٧) (ضعیف) (عبد الصمد اور ان کے والد حبیب دونوں مجہول راوی ہیں )
حدیث نمبر: 1245 حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ بِهَذَا الْمَعْنَى، عنْ خُصَيْفٍ، وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَهَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساتویں صورت بعضوں نے کہا کہ ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے تو پھر دوسری رکعت پڑھنے کی ضرورت نہیں
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے، وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا : تم میں کس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے ؟ تو حذیفہ (رض) نے کہا : میں نے (پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت) اور ان لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضاء نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس (رض) سے ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ (رض) سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے، اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر (رض) سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوموسیٰ تابعی ہیں، ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔ اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر (رض) سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے : لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم ﷺ کی دو رکعتیں ہوئیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/صلاة الخوف (١٥٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٩) (ضعیف )
حدیث نمبر: 1246 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَامَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، فَصَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَزِيدُ الْفَقِيرُ، وَأَبُو مُوسَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَجُلٌ مِنَ التَّابِعِينَ لَيْسَ بِالْأَشْعَرِيِّ جَمِيعًا، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ: إِنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَتْ لِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساتویں صورت بعضوں نے کہا کہ ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے تو پھر دوسری رکعت پڑھنے کی ضرورت نہیں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٧) ، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٧) ، وتقصیر الصلاة ١ (٢٥٤، ٣٥٥) ، والخوف ١ (١٥٣٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٣ (١٠٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٧، ٢٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1247 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ تَعَالَى الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں صورت بعضوں نے کہا ہر گروہ کے ساتھ امام دو رکعتیں پڑھے
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے، آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے، وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ یہاں آگئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں، اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ، اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جابر (رض) سے اور جابر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے عن جابر عن النبي ﷺ کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الخوف ١٨ (١٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٩، ٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1248 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَوْفٍ الظُّهْرَ، فَصَفَّ بَعْضُهُمْ خَلْفَهُ، وَبَعْضُهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فَوَقَفُوا مَوْقِفَ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ جَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ. وَبِذَلِكَ كَانَ يُفْتِي الْحَسَنُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ يَكُونُ لِلْإِمَامِ سِتُّ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ قَالَ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ: عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: