কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১২৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کو تلاش کرنے والے کی نماز
عبداللہ بن انیس (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا : جاؤ اور اسے قتل کر دو ، عبداللہ کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہوگیا تھا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہوجائے گا، چناچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص (یعنی محمد ﷺ سے مقابلے) کے لیے تم (لوگوں کو) جمع کر رہے ہو ١ ؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا : ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چناچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کردیا اور وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥١٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٦) (حسن) (اس کے راوی ابن عبد اللہ بن انیس لین الحدیث ہیں، لیکن اس حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ (٩٨٢) اور ابن حبان (٥٩١) نے کی ہے، اور ابن حجر نے حسن کہا ہے (فتح الباری ٢/٤٣٧) ، البانی نے بھی اسے صحیح ابی داود میں رکھا ہے (١١٣٥/م) نیز ملاحظہ ہو : (الصحیحة ٣٢٩٣ ) وضاحت : ١ ؎ : یہ ذومعنی کلام ہے لیکن اللہ کا دشمن خالد بن سفیان ہذلی، عبداللہ بن انیس (رض) کے اس توریہ کو سمجھ نہیں سکا۔
حدیث نمبر: 1249 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ، وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي لأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا إِنْ أُؤَخِّرِ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَاءً نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ، قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ، قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات
ام المؤمنین ام حبیبہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٢٨) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٧ (١٨٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٦٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٩٣ (٤١٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٠ (١١٤١) ، مسند احمد (٦/٤٢٦، ٣٢٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٤ (١٤٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1250 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٥) ، ٤١٠ (٤٣٦) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٤٧، ١٦٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٠ (١٢٢٨) ، مسند احمد (٦/٣٠، ٢١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1251 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، الْمَعْنَي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آجاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٤٢ (١٤٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٣ (٦٩) ، مسند احمد (٢/٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1252 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٣٤ (١١٨٢) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٧ (١٧٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣، ٦٣، ١٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1253 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرَ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/صلاة اللیل ٢٧ (١١٦٩) ، صحیح مسلم/السافرین ١٤(٧٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣، ٥٤، ١٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1254 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی : کیا آپ نے ان میں سورة فاتحہ پڑھی ہے ؟ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٢٨ (١١٧١) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٤) ، سنن النسائی/الافتتاح ٤٠ (٩٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٠، ٤٩، ١٠٠، ١٦٥، ١٨٣، ١٨٦، ٢٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1255 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٦) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٩ (٩٤٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٢ (١١٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1256 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال (رض) نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ (رض) نے انہیں کسی بات میں مشغول کرلیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہوگئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہوگئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ ﷺ نے فرمایا : میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا ، بلال نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو کافی صبح کردی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہوجاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٠٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1257 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٠٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1258 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ ﷺ اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ آمنا بالله وما أنزل إلينا ١ ؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس (رض) کہتے ہیں : اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون ٢ ؎ پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٤(٧٢٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٨ (٩٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٣١) (صحیح ) وضاحت : وضاحت : سورة البقرة : (١٣٦) وضاحت : سورة آل عمران : (٥٢ )
حدیث نمبر: 1259 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ قل آمنا بالله وما أنزل علينا ١ ؎ اور دوسری رکعت میں ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاهدين ٢ ؎ یا إنا أرسلناک بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم ٣ ؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٩٢٦) (حسن ) وضاحت : وضاحت : سورة آل عمران : (٨٤) وضاحت : سورة آل عمران : (٥٣) وضاحت : سورة البقرة : (١١٩ )
حدیث نمبر: 1260 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا سورة آل عمران آية 84 فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ سورة آل عمران آية 53 أَوْ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ سورة البقرة آية 119. شَكَّ الدَّارَوَرْدِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا : کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے ؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے جواب دیا : نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر (رض) کو پہنچی تو انہوں نے کہا : ابوہریرہ نے (کثرت سے روایت کر کے) خود پر زیادتی کی ہے (اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہوگا) ، وہ کہتے ہیں : ابن عمر سے پوچھا گیا : جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے ؟ تو ابن عمر نے جواب دیا : نہیں، البتہ ابوہریرہ (رض) (روایت کثرت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا : اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٩٥ (٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ترمذی، ابن حبان (٢٤٥٩) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم ﷺ کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے رسول اکرم ﷺ کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا ، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابوہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ (رض) سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہوجائے گی، ابوہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو : اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، و صحیح ابی داود للألبانی ٤ ؍ ٤٢٩ )
حدیث نمبر: 1261 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٢٤ (١١٦١) ، ٢٥ (١١٦٢) ، ٢٦ (١١٦٨) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٥) ، وانظر ما یأتي برقم (١٣٣٥) (صحیح) (فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیسا کہ صحیحین کی روایتوں میں ہے )
حدیث نمبر: 1262 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
ابوسلمہ (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٣) ، وفیہ ” زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب “ بلا شک (تحفة الأشراف : ١٧٧٠٧، ١٧٧٣٢) (صحیح لغیرہ) ( حدیث نمبر ١٣٣٦ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے )
حدیث نمبر: 1263 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَه ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَو، غَيْرُهُ، عَن أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْعَائِشَةُكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر کے لیے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔ زیاد کی روایت میں حدثنا أبو الفضل کے بجائے حدثنا أبو الفضيل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابو الفضل انصاری مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1264 حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِفَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ. قَالَ زِيَادٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر فجر کی جماعت ہو رہی ہو تو اس وقت سنتیں نہ پڑھے
عبداللہ بن سرجس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم ﷺ فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا : اے فلاں ! تمہاری کون سی نماز تھی ؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ١ ؎؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٢) ، سنن النسائی/الإمامة ٦١ (٨٦٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٣ (١١٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٣١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ امام کو جس حالت میں بھی پائے اس کے ساتھ جماعت میں شریک ہوجائے اور اس وقت سنت نہ پڑھے خواہ وہ فجر ہی کی سنت کیوں نہ ہو، اور سنت کی دو رکعت فرض کی نماز کے بعد پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 1265 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا فُلَانُ، أَيَّتُهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر فجر کی جماعت ہو رہی ہو تو اس وقت سنتیں نہ پڑھے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز کھڑی ہوجائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٦ (٤٢١) ، سنن النسائی/الإمامة ٦٠ (٨٦٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٣ (١١٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣١، ٣٥٢، ٤٥٥، ٥١٧، ٥٣١) ، دي /الصلاة ١٤٩ (١٤٨٨، ١٤٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1266 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ. ح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ. ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَكُلُّهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو ان کو کب ادا کیا جائے
قیس بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہوجانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : فجر دو ہی رکعت ہے ، اس شخص نے جواب دیا : میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤٢٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٤(١١٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١٠٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1267 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو ان کو کب ادا کیا جائے
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١١٠٢) (صحیح) (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے )
حدیث نمبر: 1268 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.
তাহকীক: