কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১০২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک کی صورت میں غلبہ ظن پر عمل کرے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کرلے ١ ؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے (یعنی دل میں وسوسہ ڈالے) کہ تو نے حدث کرلیا ہے تو اس سے کہے : تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩ (١٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٩٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١) ، سنن النسائی/السہو ٢٤ (١٢٤٠) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢) ، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٣، ٥٤) ، دی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (ضعیف) (ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، مگر ابوہریرہ کی حدیث (١٠٣٠) نیز دیگر صحیح احادیث سے اسے تقویت ہو رہی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ابو سعید خدری (رض) کی یہ حدیث اور ابوہریرہ (رض) کی اگلی حدیث دونوں مجمل ہیں، انہیں کی دیگر روایات سے یہ ثابت ہے کہ تلاش و تحری کر کے یقینی پہلو پر بنا کرے، یا ہر حال میں کم پر ہی بنا کرے باقی رکعت پوری کر کے سجدہ سہو کرے ، خالی سجدہ سہو کافی نہیں ہے ، بعض سلف نے کہا ہے : یہ اس کے لئے ہے جس کو ہمیشہ شک ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی اسے یقین ہوجائے کہ حدث ہوگیا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
حدیث نمبر: 1029 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَاعِيَاضٌ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَتَاهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ مَعْمَرٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وعِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ: وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: عِيَاضُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک کی صورت میں غلبہ ظن پر عمل کرے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨) ، والعمل فی الصلاة ١٨ (١٢٢٢) ، والسھو ٦ (١٢٣١) ، ٧ (١٢٣٢) ، وبدء الخلق ١١ (٣٢٨٥) ، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٩) ، والمساجد ١٩ (٥٧٠) ، سنن النسائی/الأذان ٣٠ (٦٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٤٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٦) ، موطا امام مالک/السہو ١(١) ، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١) وتقدم برقم (٥١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1030 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَاللَّيْثُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک کی صورت میں غلبہ ظن پر عمل کرے
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے (دو سجدے کرے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ١٥٢٥٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1031 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَوَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک کی صورت میں غلبہ ظن پر عمل کرے
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٥٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1032 حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو سلام کے بعد ہے
عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٩، ١٤٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥، ٢٠٦) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مصعب “ اور عتبہ ضعیف ہیں، لیکن دوسری حدیث کی تقویت سے حسن ہے ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود ٤/١٩٠ )
حدیث نمبر: 1033 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھے بغیر اٹھ جانا
عبداللہ بن بحینہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہوگئے اور قعدہ (تشھد) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ ﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤٦ (٨٢٩) ، ١٤٧ (٨٣٠) ، والسھو ١ (١٢٢٤) ، ٥ (١٢٣٠) ، والأیمان ١٥ (٦٦٧٠) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٢ (٣٩١) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٦ (١١٧٨، ١١٧٩) ، والسھو ٢٨ (١٢٦٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣١ (١٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٩١٥٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٧(٦٥) ، مسند احمد (٥/٣٤٥، ٣٤٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1034 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھے بغیر اٹھ جانا
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابن زبیر (رض) نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩١٥٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1035 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَبَقِيَّةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ، زَادَوَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قعدہ اولیٰ بھول جائے وہ کیا کرے؟
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہوجائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہوجائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٥٧ (٣٦٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣١ (١٢٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٣، ٢٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦(١٥٤٢) (صحیح) (جابر جعفی کی کئی ایک متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ جابر ضعیف راوی ہیں، دیکھئے : ارواء الغلیل : ٣٨٨ و صحیح سنن أبی داود ٩٤٩ )
حدیث نمبر: 1036 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ فِي كِتَابِي عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قعدہ اولیٰ بھول جائے وہ کیا کرے؟
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے، ہم نے سبحان الله کہا، انہوں نے بھی سبحان الله کہا اور (واپس نہیں ہوئے) نماز پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص (رض) نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا، اور ابن عباس (رض) اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٥٢ (٣٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦(١٥٤٢) (صحیح) (مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں )
حدیث نمبر: 1037 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَاالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، قُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِفَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَرَفَعَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَاالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ، وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قعدہ اولیٰ بھول جائے وہ کیا کرے؟
ثوبان (رض) نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ، عمرو کے سوا کسی نے بھی (اس سند میں) عن أبيه کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٦ (١٢١٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٠) (حسن )
حدیث نمبر: 1038 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ بِمَعْنَى الإِسْنَادِ، أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍحَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ عَمْرٌو: وَحْدَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ. وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ أَبِيهِ غَيْرُ عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھ پھر سلام پھیرے
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٣٩٥) ، سنن النسائی/السہو ٢٣ (١٢٣٧) ، والکبری/ صفة الصلاة ٥٨ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٥) (شاذ) (اشعث حمرانی کے سوا کسی کی روایت میں تشھد کا تذکرہ نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1039 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْخَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ،عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز سے فراغت کے بعد پہلے عورتوں کو مسجد سے جانا چاہیے
ام المؤمنین ام سلمی (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥٢ (٨٣٧) ، ١٥٧ (٨٤٩) ، ١٦٣ (٨٦٦) ، ١٦٧ (٨٧٠) ، سنن النسائی/السھو ٧٧ (١٣٣٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٠، ٣١٦) (صحیح) ( وکانوا یرون أن ذلک ... مدرج اور زہری کا قول ہے )
حدیث نمبر: 1040 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًاوَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز سے فارغ ہو کر کس طرف اٹھنا چاہیے
ہلب طائی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ ﷺ (نماز سے فارغ ہو کر) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے (کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١١٣ (٣٠١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن صحیح) (اگلی حدیث نمبر : ( ١٠٤٢ ) سے تقویت پا کر یہ حسن صحیح ہے)
حدیث نمبر: 1041 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ رَجُلٍ مِن طَيِِّئٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز سے فارغ ہو کر کس طرف اٹھنا چاہیے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھروں کو (بحالت نماز) آپ کے بائیں جانب دیکھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥٩ (٨٥٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ٧ (٧٠٧) ، سنن النسائی/السھو ١٠٠ (١٣٦١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٧) ، و قد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٣، ٤٢٩، ٤٦٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٩ (١٣٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آپ ﷺ کے حجرے آپ کے مصلیٰ سے (بحالت نماز) بائیں جانب پڑتے تھے ، آپ ﷺ کبھی بائیں جانب مڑتے اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 1042 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ. قَالَ عُمَارَةُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ، فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٥٢ (٤٣٢) ، والتھجد ٣٧ (١١٨٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٧٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٤ (٤٥١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٦ (١٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٨١٤٢) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٥٩٩) ، مسند احمد (٢/٦، ١٦، ١٢٣) ویأتي برقم : (١٤٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1043 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر ہے
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٣١) ، والأدب ٧٥ (٦١١٣) ، والاعتصام ٣ (٧٢٩٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٨١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٦٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٩٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢١٩ (٤٥٠) ، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ١ (٤) ، مسند احمد (٥/ ١٨٢، ١٨٤، ١٨٦، ١٨٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٦ (١٤٠٦) ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٤٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1044 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص (شبہ یا غلط فہمی کی بنا پر) قبلہ کے علاوہ کسی اور سمت میں نماز پڑھ رہا ہو اور اسی دوران اس کو قبلہ کا علم ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ : فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما کنتم فولوا وجوهكم شطره یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں (سورۃ البقرہ : ١٥٠) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی : لوگو ! آگاہ ہوجاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے (یہ حکم سنتے ہی) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٣١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٨٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1045 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُكَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ سورة البقرة آية 144 فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ مَرَّتَيْنِ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے احکام
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پالے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا ۔ کعب الاحبار نے کہا : یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا : نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا : نبی اکرم ﷺ نے سچ فرمایا، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن سلام (رض) سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا : وہ کون سی ساعت ہے ؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا : اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا : وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا : وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہوسکتی ہے ؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ : کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا : جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے ، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے کہا : کیوں نہیں، رسول اللہ ﷺ نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا : تو اس سے مراد یہی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجمعة ٢ (٤٩١) ، سنن النسائی/الجمعة ٤٤ (١٤٣١) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٢٥، ١٥٠٠٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٧ (٩٣٥) ، والطلاق ٢٤ (٥٢٩٤) ، والدعوات ٦١ (٦٤٠٠) ، (في جمیع المواضع مقتصراً علی قولہ : فیہ الساعة … ) صحیح مسلم/الجمعة ٤ (٨٥٢) ، ٥ (٨٥٤ ببعضہ) ، سنن النسائی/الجمعة ٤ (١٣٧٤) ، ٤٥ (١٤٣١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٩ (١١٣٧) ، موطا امام مالک/صلاة الجمعة ٧ (١٦) ، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٥٥، ٢٥٧، ٢٧٢، ٢٨٠، ٢٨٤، ٤٠١، ٤٠٣، ٤٥٧، ٤٦٩، ٤٨١، ٤٨٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٤ (١٦١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نماز پڑھتے ہوئے سے یہ مراد نہیں کہ وہ فی الواقع نماز پڑھ رہا ہو بلکہ مقصود یہ ہے کہ جو نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ بھی اس شخص کے مثل ہے جو نماز کی حالت میں ہو۔ اس ساعت (گھڑی) کے سلسلہ میں علماء کے درمیان بہت اختلاف ہے، راجح عبداللہ بن سلام (رض) کا قول ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ گھڑی امام کے خطبہ کے کئے منبر پر بیٹھے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک ہے، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعا میں مشغول و منہمک رہے۔
حدیث نمبر: 1046 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ؟ فَقُلْتُ: بَلْ، فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّيوَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلِّي فِيهَا ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَاكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے احکام
اوس بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہوگی ١ ؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اوس بن اوس کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ (مر کر) بوسیدہ ہوچکے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کردیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ٥ (١٣٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٥ (١٦٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٦ (١٦١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جس کی ہولناکی سے سارے لوگ مرجائیں گے۔
حدیث نمبر: 1047 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّقَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ ؟ يَقُولُونَ: بَلِيتَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن قبو لیت کی گھڑی کس وقت ہوتی ہے؟
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلاش کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ١٤ (١٣٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٣١٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1048 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، أَنَّ الْجُلَاحَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ يُرِيدُ سَاعَةً لَا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ.
তাহকীক: