কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১০০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے صلى رسول الله ﷺ کہا ہے صلى بنا رسول الله ﷺ نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے فأومئوا کہا ہے (جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ) انہوں نے فقال الناس نعم کہا ہے، اور مالک نے ثم رفع کہا ہے، وكبر نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے، یعنی مالک نے رفع وکبر کہنے کے بجائے صرف رفع پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے ثم کبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ فكبر. نہیں کہا ہے اور نہ ہی رجع . کا ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٩ (٧١٤) ، السہو ٤(١٢٢٨) ، أخبار الآحاد ١(٧٢٥٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٦ (٣٩٩) ، سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤٤٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٥ (٦٠) ، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٤٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1009 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِهِ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَقُلْ: بِنَا، وَلَمْ يَقُلْ: فَأَوْمَئُوا، قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ وَلَمْ يَقُلْ: وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَمَّ حَدِيثُهُ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ: فَكَبَّرَ وَلَا ذَكَرَ رَجَعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول : نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم تک ذکر کی۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں : میں نے ان سے (یعنی محمد بن سیرین سے) پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے، لیکن اس روایت میں آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے، حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/السہو ٤ (١٢٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤٦٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1010 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: فَالتَّشَهُّدُ، قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ، وَلَا ذَكَرَ: فَأَوْمَئُوا، وَلَا ذَكَرَ: الْغَضَبَ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ، أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا اور سجدہ کیا، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ ﷺ نے الله أكبر کہا، پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا پھر الله أكبر کہا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٠٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤١٥، ١٤٤٦٩) (شاذ) (ہشام بن حسان نے متعدد لوگوں کے برخلاف روایت کی ہے )
حدیث نمبر: 1011 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ، أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ، وَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ،وَحُمَيْدٌ، وَيُونُسُ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَنَّهُ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ. وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامٍ، لَمْ يَذْكُرَا عَنْهُ هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍأَنَّهُ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے : اور آپ ﷺ نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا کامل یقین دلا دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣١٩٢، ١٥٢٠٥، ١٤١١٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن کثیر مصیصی کثیر الغلط ہیں )
حدیث نمبر: 1012 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حَتَّى يَقَّنَهُ اللَّهُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں : اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٨٠، ١٥١٩٢) (صحیح) (صحیح مرفوع احادیث سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے )
حدیث نمبر: 1013 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ حَتَّى لَقَاهُ النَّاسُ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْخَبَرِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَالْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَن أَبِيه جَمِيعًا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرْأَنَّهُ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ: وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کردی ہے ؟ تو آپ ﷺ نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر (سہو کے) دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٩ (٧١٥) ، السہو ٣ (١٢٢٧) ، سنن النسائی/ السہو (٢٢ (١٢٢٨) (تحفة الأشراف : ١٤٩٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٦، ٤٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1014 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقِيلَ لَهُ: نَقَصْتَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے ، تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے، ابوسفیان نے ابوہریرہ (رض) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس میں ہے : پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٠٠٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ثم انصرف ولم يسجد سجدتي السهو ( پھر آپ پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے) کا ٹکڑا ” شاذ “ ہے۔
حدیث نمبر: 1015 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَقَالَ لَه رَجُلٌ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَمْ أَفْعَلْ، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
ضمضم بن جوس ہفانی کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوہریرہ (رض) نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے : پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کئے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٤) ، وقد أخرجہ مسند احمد (٢/٤٢٣) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1016 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا، پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ذکر کیا، اس میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٤ (١٢١٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٨٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1017 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ ﷺ حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے ؟ (یہ سن کر) آپ ﷺ اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا : کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں، تو آپ ﷺ نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٤) ، سنن النسائی/السھو ٢٣ (١٢٣٧، ١٢٣٨) ، ٧٥ (١٣٣٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٤ (١٢١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٢٩، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠، ٤٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1018 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَاأَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ، قَالَ: عَنْ مَسْلَمَةَ الْحُجَرَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، كَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ لَهُ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ؟قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ ، تو لوگوں نے عرض کیا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، (یہ سن کر) آپ ﷺ نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١) ، ٣٢ (٤٠٤) ، والسھو ٢ (١٢٢٦) ، والأیمان ١٥ (٦٦٧١) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٧ (٣٩٢) ، سنن النسائی/السھو ٢٦ (١٢٥٥، ١٢٥٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩ (١٢٠٣) ، ١٣٠ (١٢٠٥) ، ١٣٣ (١٢١١) ، (تحفة الأشراف : ٩٤١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٧٩، ٤٢٩، ٤٤٣، ٤٣٨، ٤٥٥، ٤٦٥) سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥(١٥٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1019 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَ حَفْصٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ ؟قَالَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی (ابراہیم کی روایت میں ہے : تو میں نہیں جان سکا کہ آپ ﷺ نے اس میں زیادتی کی یا کمی) ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ کیا ؟ ، لوگوں نے کہا : آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ، اور فرمایا : جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہوجائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر (سہو کے) دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١) ، الإیمان ١٥ (٦٦٧١) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٣ (١٢١٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٩، ٤١٩، ٤٣٨، ٤٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1020 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ ؟قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِيوَقَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود (رض) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص (نماز میں) بھول جائے تو دو سجدے کرے ، پھر آپ ﷺ پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩(٥٧٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩٥ (١٢٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1021 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا، قَالَ: فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِثُمَّ تَحَوَّلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حُصَيْنٌ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز زیادہ ہوگئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، لوگوں نے کہا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ ﷺ مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا : میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن النسائی/السہو ٢٦ (١٢٥٧، ١٢٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٣٨، ٤٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1022 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَهَذَا حَدِيثُ يُوسُفَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ ؟قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: لَاقَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
معاویہ بن حدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ ﷺ لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا : کیا تم اس شخص کو جانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں (تو پہچان لوں گا) ، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا : یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا : یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان ٢٤ (٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1023 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْمُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ، وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌفَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةًفَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک چھوڑنے اور یقین پر عمل کرنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے، پھر جب اسے نماز پوری ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز (درحقیقت) پوری ہوچکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہوجائیں گے، اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہوجائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو سعید خدری (رض) سے، اور ابوسعید نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١) ، سنن النسائی/السھو ٢٤ (١٢٣٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٢ (١٢١٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٦٣، ١٩٠٩١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٦(٦٢ مرسلاً ) ، مسند احمد (٣/٣٧، ٥١، ٥٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1024 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُّ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلَاتِهِ وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ مُرْغِمَتَيِ الشَّيْطَانِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي خَالِدٍ أَشْبَعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک چھوڑنے اور یقین پر عمل کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدہ سہو کا نام مرغمتين (شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والی دو چیزیں) رکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦١٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1025 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ الْمُرْغِمَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک چھوڑنے اور یقین پر عمل کرنے کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں (سجدوں) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہوجائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ( ١٠٢٤ ) ، (تحفة الأشراف : ٤١٦٣ ، ١٩٠٩١ ) (صحیح) (یہ حدیث بھی حدیث نمبر : (١٠٢٤) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری (رض) کو جان بوجھ کر حذف کردیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
حدیث نمبر: 1026 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک چھوڑنے اور یقین پر عمل کرنے کا بیان
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہوجائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٠٢٤، ١٠٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٤١٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1027 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا فَلْيَقُمْ فَلْيُتِمَّ رَكْعَةً بِسُجُودِهَا، ثُمَّ يَجْلِسْ فَيَتَشَهَّدْ، فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ. ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، إِلا أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شک کی صورت میں غلبہ ظن پر عمل کرے
عبداللہ بن مسعود (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہوجائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : ن الکبری / السہو ١٢٦ (٦٠٥) ، وانظر رقم : (١٠١٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٢٨، ٤٢٩ موقوفاً ) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ ابوعبیدہ نے ابن مسعود (رض) سے نہیں سنا ہے۔
حدیث نمبر: 1028 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ وَأَكْبَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا، ثُمَّ تُسَلِّمُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ خُصَيْفٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ، وَشَرِيكٌ، وَإِسْرَائِيلُ وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلَامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.
তাহকীক: