কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৯০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا
ابوذر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السھو ١٠ (١١٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٧٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٤ (١٤٦٣) (حسن) (اس کے راوی ابو الأحوص لین الحدیث ہیں ، بعض لوگوں کے نزدیک مجہول ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٨٤٣/م، و صحیح الترغیب : ٥٥٢-٥٥٤ )
حدیث نمبر: 909 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے (یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٣ (٧٥١) ، وبدء الخلق ١١ (٣٢٩١) ، سنن النسائی/السھو ١٠ (١١٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٦١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٦١ (٥٩٠) ، مسند احمد (٦/٧، ١٠٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 910 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک پر سجدہ کرنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٤، (تحفة الأشراف : ٤٤١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 911 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الرَّابِعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کسی طرف دیکھنا
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آجائیں ورنہ (ہو سکتا ہے کہ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٦ (٤٣٠) ، سنن النسائی/ السہو ٥ (١١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٨ (١٠٤٥) ، مسند احمد (٥/١٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 912 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَهَذَا حَدِيثُهُ، وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْالْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ عُثْمَانُ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِيهِ نَاسًا يُصَلُّونَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ يَشْخَصُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ. قَالَ مُسَدَّدٌ فِي الصَّلَاةِ: أَوْلَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبْصَارُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کسی طرف دیکھنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ؟ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا : لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٢ (٧٥٠) ، سنن النسائی/السھو ٩ (١١٩٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٨ (١٠٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٧١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٢، ١١٥، ١١٦، ١٤٠، ٢٥٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٧ (١٣٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 913 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْفَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کسی طرف دیکھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ (ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٤ (٣٧٣) ، والأذان ٩٣ (٧٥٢) ، واللباس ١٩ (٥٨١٧) ، صحیح مسلم/المساجد ١٥ (٥٥٦) ، سنن النسائی/القبلة ٢٠ (٧٧٢) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١ (٣٥٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٨(٦٧) ، مسند احمد (٦/٣٧، ٤٦، ١٧٧، ١٩٩، ٢٠٨) ، ویأتي ہذا الحدیث فی اللباس (٤٠٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 914 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کسی طرف دیکھنا
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : آپ ﷺ نے ابوجہم کی کردی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا : اللہ کے رسول ! وہ (باریک نقش و نگار والی) چادر اس (کر دی چادر) سے اچھی تھی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٤٠٣، ١٧٠٢٣) ، ویاٹی ہذا الحدیث في اللباس (٤٠٥٢) ، (حسن )
حدیث نمبر: 915 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: وَأَخَذَ كُرْدِيًّا كَانَ لِأَبِي جَهْمٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْخَمِيصَةُ كَانَتْ خَيْرًا مِنَ الْكُرْدِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اِدھر ادھر دیکھنے کی اجازت
سہل بن حنظلیہ (رض) کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٦٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 916 حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ هُوَ أَبُو كَبْشَةَ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی کام کرنا
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠٦ (٥١٦) ، والأدب ١٨ (٥٩٩٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٩ (٥٤٣) ، سنن النسائی/المساجد ١٩ (٧١٢) ، والإمامة ٣٧ (٨٢٨) ، والسھو ١٣ (١٢٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٢٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٤(٨١) ، مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٠، ٣١١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٣ (١٣٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر لڑکا یا لڑکی تنگ کرے اور نماز نہ پڑھنے دے تو اس کو گود میں اٹھا کر یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھنی درست ہے۔
حدیث نمبر: 917 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی کام کرنا
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب (رض) تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ ﷺ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢١٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 918 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَا عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی کام کرنا
ابوقتادہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص (رض) آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢١٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 919 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي لِلنَّاسِ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَسْمَعْ مَخْرَمَةُ مِنْ أَبِيهِ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی کام کرنا
صحابی رسول ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے اور بلال (رض) آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ (آپ کی نواسی) امامہ بنت ابوالعاص (رض) جو آپ کی صاحبزادی زینب (رض) کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں : پھر آپ ﷺ نے الله أكبر کہا تو ہم لوگوں نے بھی الله أكبر کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر (اپنی گردن پر) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ ﷺ برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد أبو داود بھذا السیاق، وانظر أصلہ في رقم (٩١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٢٤) (ضعیف) (اس حدیث میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور انہوں نے روایت عنعنہ سے کی ہے، حدیث میں ظہر یا عصر کی تعیین ہے، نیز بلال (رض) کا ذکر ہے ان کے بغیر اصل حدیث صحیح ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا )
حدیث نمبر: 920 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْعَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَقَدْ دَعَاهُ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بِنْتُ ابْنَتِهِ عَلَى عُنُقِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُصَلَّاهُ وَقُمْنَا خَلْفَهُ وَهِيَ فِي مَكَانِهَا الَّذِي هِيَ فِيهِ، قَالَ: فَكَبَّرَ، فَكَبَّرْنَا، قَالَ: حَتَّى إِذَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهَا فَوَضَعَهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ قَامَ أَخَذَهَا فَرَدَّهَا فِي مَكَانِهَا، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی کام کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز میں دونوں کالوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو (اگر دیکھو تو) قتل کر ڈالو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٩٠) ، سنن النسائی/السھو ١٢ (١٢٠٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٦ (١٢٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٥٥، ٢٧٣، ٢٧٥، ٢٨٤، ٤٩٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٨ (١٥٤٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 921 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی کام کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی (نماز کی جگہ) پر واپس لوٹ گئے ١ ؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٤ (الجمعة ٦٨) ، (٦٠١) سنن النسائی/السھو ١٤ (١٢٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣١، ١٨٣، ٢٣٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، ان سب اعمال سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حدیث نمبر: 922 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَحْمَدُ: يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ، قَالَ أَحْمَدُ: فَمَشَى، فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ. وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام کا جواب دینا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ ﷺ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا : نماز (خود) ایک شغل ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٣ (١٢٠١) ، ١٥ (١٢١٦) ، مناقب الأنصار ٣٧ (٣٨٧٥) ، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٨) ، ن الکبری / السھو ٩٩ (٥٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٤١٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٩) ، مسند احمد (١/ ١٧٦، ١٧٧، ٤٠٩، ٤١٥، ٤٣٥، ٤٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 923 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِفَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام کا جواب دینا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ (پہلے) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کرلیتے تھے، تو (ایک بار) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہوگئی ١ ؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔ تخریج دارالدعوہ : ن / الکبری/ السہو ١١٣ (٥٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٧) ، ٤٣٥، ٤٦٣) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میں سوچنے لگا کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد تو نہیں ہوئی ہے جس سے رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے ہوں۔
حدیث نمبر: 924 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ، وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ. فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام کا جواب دینا
صہیب (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں : مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے إشارة بأصبعه کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ ﷺ نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٥٩ (٣٦٧) ، سنن النسائی/السھو ٦ (١١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٦٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٩) ، مسند احمد (٤/٣٣٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٤ (١٤٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 925 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنْابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِفَرَدَّ إِشَارَةً، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام کا جواب دینا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا، میں (وہاں سے) لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی، آپ ﷺ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا، میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ ﷺ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا، میں آپ ﷺ کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا : میں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا ؟ ، میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٧١٨) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/السھو ٦ (١١٩٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٨) ، مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٣٤، ٣٣٨، ٣٨٠، ٢٩٦) ، ویأتي برقم : (١٢٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 926 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِى الْمُصْطَلَقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَيُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام کا جواب دینا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں : تو میں نے بلال (رض) سے پوچھا : جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ ﷺ کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا ؟ بلال (رض) کہا : آپ ﷺ اس طرح کر رہے تھے، اور بلال (رض) نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الصلاة ١٥٥ (٣٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٣٨، ٨٥١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 927 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ الدَّامِغَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَتْهُ الْأَنْصَارُ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ قَالَ: يَقُولُ هَكَذَا: وَبَسَطَ كَفَّهُ، وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ، وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ، وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام کا جواب دینا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نماز میں نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے ١ ؎، احمد کہتے ہیں : جہاں تک میں سمجھتا ہوں مطلب یہ ہے کہ (نماز میں) نہ تو تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور نماز میں نقصان یہ ہے کہ آدمی نماز سے اس حال میں پلٹے کہ وہ اس میں شک کرنے والا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٤٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سلام میں نقص نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ تم سلام کا مکمل جواب دو اس میں کوئی کمی نہ کرو یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے جواب میں صرف وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ہی پر اکتفا نہ کرو بلکہ ” وبرکاتہ “ بھی کہو، ایسے ہی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں صرف وعلیکم السلام ہی نہ کہو بلکہ ورحمۃ اللہ بھی کہو، اور نماز میں نقص کا ایک مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدے پورے طور سے ادا نہ کئے جائیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ نماز میں اگر شک ہوجائے کہ تین رکعت ہوئی یا چار تو تین کو جو یقین ہے چھوڑ کر چار کو اختیار نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 928 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ. قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي فِيمَا أَرَى أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَلَا يُسَلَّمَ عَلَيْكَ، وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلَاتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ.
তাহকীক: