কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৮৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حماد بن زید کی روایت میں ہے : تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩) ، ١٣٤ (٨١٠) ، ١٣٧ (٨١٦) ، ١٣٨ (٨١٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٣) ، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤) ، ٤٣ (١٠٩٧) ، ٤٥ (١٠٩٩) ، ٥٦ (١١١٦) ، ٥٨ (١١١٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نماز میں بالوں کو پگڑی وغیرہ میں سمیٹنا یا جوڑا باندھنا مکروہ ہے اسی طرح مٹی وغیرہ سے بچانے کے لئے کپڑوں کا سمیٹنا بھی درست نہیں۔
حدیث نمبر: 889 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ. قَالَ حَمَّادٌ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور کبھی راوی نے کہا : تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 890 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُوَرُبَّمَا قَالَ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ آرَابٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء : چہرہ ١ ؎، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٢) ، سنن النسائی/التطبیق ٤١ (١٠٩٥) ، ٤٦ (١١٠٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چہرہ میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں سجدے میں پیشانی کا زمین پر لگنا ضروری ہے اس کے بغیر سجدے کا مفہوم پورے طور سے ادا نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 891 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے
عبداللہ بن عمر (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/التطبیق ٣٩ (١٠٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 892 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ، قَالَ: إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ، فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر (شب قدر میں) اس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤١ (٦٦٩) ، ١٣٥ (٨١٣) ، ١٥١ (٨٣٦) ، ولیلة القدر ٢ (٢٠١٦) ، ٣ (٢٠١٨) ، والاعتکاف ١ (٢٠٢٧) ، ٩ (٢٠٣٦) ، ١٣ (٢٠٤) ، صحیح مسلم/الصوم ٤٠ (١١٦٧) ، سنن النسائی/التطبیق ٤٢ (١٠٩٦) ، والسھو ٩٨ (١٣٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٤١٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (٩) ، مسند احمد (٣/٩٤) ، ویأتي برقم : (١٣٨٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 894 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان
اس سند سے بھی معمر سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٤١٩ )
حدیث نمبر: 895 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کا طریقہ
ابواسحاق کہتے ہیں کہ براء بن عازب (رض) نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہا : رسول اللہ ﷺ اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٨٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی شریک ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 896 حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍفَوَضَعَ يَدَيْهِ، وَاعْتَمَدَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ، وَقَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کا طریقہ
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سجدے میں اعتدال کرو ١ ؎ اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٨ (٥٣٢) ، والأذان ١٤١ (٨٢٢) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٧٦) ، سنن النسائی/الافتتاح ٨٩ (١٠٢٩) ، والتطبیق ٥٠ (١١٠٤) ، ٥٣ (١١١١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢١ (٨٩٢) ، مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ١٩١، ٢٠٢، ٢١٤، ٢٣١، ٢٧٤، ٢٧٩، ٢٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو۔
حدیث نمبر: 897 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کا طریقہ
ام المؤمنین میمونہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ (بغل سے) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٦ (٢٣٨) ، سنن النسائی/التطبیق ٥٢ (١١١٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٣١، ٣٣٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٩ (١٣٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 898 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کا طریقہ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا (اور آپ سجدے میں تھے) تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ ﷺ اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سے جدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٣٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ١/٢٩٢، ٣٠٢، ٣٠٥، ٣١٦، ٣١٧، ٣٣٩، ٣٤٣، ٣٥٤، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 899 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ التَّمِيمِيِّ الَّذِي يُحَدِّثُ بِالتَّفْسِيرِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کا طریقہ
احمر بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں (آپ کی تکلیف و مشقت پر) رحم آجاتا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٠، ٤/٣٤٢، ٥/٣١) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 900 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى نَأْوِيَ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کا طریقہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥٩٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٨٥ (٢٦٩) ، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٢) ، مسند احمد (٢/٣٨١) (حسن) (ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٨٣٧/٢ )
حدیث نمبر: 901 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ يَدَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ وَلْيَضُمَّ فَخْذَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں کہنیوں کو زمین پر لگانے کی اجازت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٠٠ (٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣٩، ٤١٧) (ضعیف) ( محمد بن عجلان کی اس حدیث کو سمی سے ان سے زیادہ ثقہ، اور معتبر رواة نے مرسلا ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود : ٩ ؍ ٨٣٢ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹیک دیا کرو۔
حدیث نمبر: 902 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اشْتَكَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا، فَقَالَ: اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا : یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ١ ؎، اس سے رسول اللہ ﷺ منع فرماتے تھے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ١٢ (٨٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٤) ، وقد أخرجہ : حم (٢/٣٠، ١٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں۔ ٢ ؎ : مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الاقعاء کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے متعلق کوئی روایت یہاں درج نہیں کی ہے، ابن عباس (رض) کی إقعاء والی روایت اس سے پہلے الإقعاء بين السجدتين باب (١٤٣) کے تحت گزری۔
حدیث نمبر: 903 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صَبِيحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَفَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں رونے کا بیان
عبداللہ بن شخیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے چکی کی آواز کے مانند آواز آتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٥) ، سنن النسائی/السھو ١٨ (١٢١٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥، ٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 904 حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى مِنَ الْبُكَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں وساوس اور خیالات آنے کی کراہت
زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں ١ ؎ تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٧٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے دنیاوی خیالات اور نماز سے غیر متعلق امور ذہن میں نہیں لاتا۔
حدیث نمبر: 905 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں وساوس اور خیالات آنے کی کراہت
عقبہ بن عامر جہنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٦ (٢٣٤) ، سنن النسائی/الطھارة ١١١ (١٥١) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣) ، سنن الدارمی/الطھارة ٤٣ (٧٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 906 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام لقمہ دینے کا بیان
مسور بن یزید مالکی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں قرآت کر رہے تھے، (یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے) تو آپ ﷺ نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا (نماز کے بعد) ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا ؟ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ : میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہوگئی ہیں ۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہوگیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب (رض) سے پوچھا : کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟ ، ابی نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں (لقمہ دینے سے) کس چیز نے روک دیا ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٧٦٦، ١١٢٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٧٤) (حسن )
حدیث نمبر: 907 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى الْكَاهِلِيِّ، عَنْ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَحْيَى، وَرُبَّمَا قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا. قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ. وقَالَسُلَيْمَانُ: قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام لقمہ دینے کا بیان
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کو بتانے کی ممانعت
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی ! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٠٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث اعور نہایت ضعیف راوی ہے ، نیز یہ حدیث ابواسحاق نے حارث سے نہیں سنی )
حدیث نمبر: 908 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْالْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، لَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ الْحَارِثِ إِلَّا أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ لَيْسَ هَذَا مِنْهَا.
তাহকীক: