কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৮৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امی اور عجمی کے لئے کتنی قرأت کافی ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ ﷺ نے فرمایا : پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے (یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٠١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٧، ٣٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 830 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ، فَقَالَ: اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امی اور عجمی کے لئے کتنی قرأت کافی ہے
سہل بن سعد ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : الحمداللہ ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، اس کا بدلہ (ثواب) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود : ٥(٣٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٠٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 831 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ، وَفِيكُمُ الْأَحْمَرُ وَفِيكُمُ الْأَبْيَضُ وَفِيكُمُ الْأَسْوَدُ، اقْرَءُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ يُتَعَجَّلُ أَجْرُهُ وَلَا يُتَأَجَّلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امی اور عجمی کے لئے کتنی قرأت کافی ہے
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : میں قرآن میں سے کچھ نہیں پڑھ سکتا، اس لیے آپ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو اس کے بدلے مجھے کفایت کرے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله کہا کرو ، اس نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو اللہ کی تعریف ہوئی، میرے لیے کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم کہا کرو اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني اے پروردگار ! مجھ پر رحم فرما، مجھے روزی دے، مجھے عافیت دے اور مجھ کو ہدایت دے ، جب وہ شخص کھڑا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ١ ؎ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس نے تو اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ افتتاح ٣٢ (٩٢٥) (تحفة الأشراف : ٥١٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٦، ٣٨٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی دونوں ہاتھوں کو سمیٹا جس سے اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس نے ان باتوں کو محفوظ کرلیا ہے جن کا رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا ہے جس طرح کوئی عمدہ چیز سمیٹ کر آدمی اسے محفوظ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 832 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ ؟ قَالَ: قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا لِي ؟ قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْخَيْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امی اور عجمی کے لئے کتنی قرأت کافی ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٢٢٠) (ضعیف) (حسن بصری نے جابر (رض) سے نہیں سنا ہے )
حدیث نمبر: 833 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي التَّطَوُّعَ نَدْعُو قِيَامًا وَقُعُودًا، وَنُسَبِّحُ رُكُوعًا وَسُجُودًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امی اور عجمی کے لئے کتنی قرأت کافی ہے
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور سورة ق اور سورة ذاریات پڑھنے کے بقدر (وقت میں) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٢٢٠، ١٨٥١٣) (ضعیف مقطوع ولکن فعلہ صحیح وثابت) (جابر (رض) کا اثر ضعیف ہے، اور حسن بصری کا فعل صحیح ہے، قرأت پر قادر آدمی کے لئے قرأت فرض ہے )
حدیث نمبر: 834 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، مِثْلَهُ لَمْ يَذْكُرِ التَّطَوُّعَ. قَالَ: كَانَ الْحَسَنُيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِمَامًا أَوْ خَلْفَ إِمَامٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَيُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ قَدْرَ ق، وَالذَّارِيَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں تکبیرات کی تکمیل کا بیان
مطرف کہتے ہیں میں نے اور عمران بن حصین (رض) نے علی بن ابی طالب (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو الله اکبر کہتے، جب رکوع کرتے تو الله اکبر کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لیے اٹھتے تو الله اکبر کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران (رض) نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا : ابھی انہوں نے ایسی نماز پڑھی ہے (راوی کو شک ہے) یا ابھی ہمیں ایسی نماز پڑھائی ہے، جیسے محمد ﷺ کی نماز ہوتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١١٦ (٧٨٦) ، ١٤٤ (٨٢٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٠ (٣٩٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ١٢٤ (١٠٨٣) ، والسھو ١ (١١٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/ ٤٢٩، ٤٣٢، ٤٠٠، ٤٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 835 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍخَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَانَإِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي، وَقَالَ: لَقَدْ صَلَّى هَذَا قَبْلُ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا قَبْلَ صَلَاةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں تکبیرات کی تکمیل کا بیان
زہری کہتے ہیں : مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ نے خبر دی ہے کہ ابوہریرہ (رض) فرض ہو یا نفل ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے خواہ فرض ہو یا نفل، نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت تکبیر الله اکبر (تکبیر تحریمہ) کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر الله اکبر کہتے، پھر سمع الله لمن حمده کہتے، اس کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولک الحمد کہتے، پھر جب سجدے میں جانے لگتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے میں جاتے تو الله اکبر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو الله اکبر کہتے، ایسے ہی ہر رکعت میں نماز سے فارغ ہونے تک (تکبیر) کہتے ١ ؎، پھر جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے، اسی طرح آپ کی نماز تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کے آخری ٹکڑے یعنی إن کانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا کو مالک اور زبیدی وغیرہ زہری کے واسطہ سے علی بن حسین سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اور عبدالاعلی نے بواسطہ معمر زہری کے دونوں شیوخ ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ذکر کرنے میں شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١١٥ (٧٨٥) ، ١٢٨ (٨٠٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٨٤ (١٠٢٤) ، والتطبیق ٩٤ (١١٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٦٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٤ (١٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧٠، ٣٠٠، ٣١٩، ٤٥٢، ٤٩٧، ٥٠٢، ٥٢٧، ٥٣٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٠ (١٢٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت کی نماز میں ٢٢ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نماز میں کل (٩٤) تکبیریں ہوئیں جس میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے اور باقی سبھی سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہوجائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہوجائے گی ۔ ٢ ؎ : جب کہ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف أخبرني أبو بکر بن عبدالرحمن کہا ہے ابوسلمہ کا ذکر نہیں کیا ہے اور مالک نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف عن أبي سلمة بن عبدالرحمن کہا ہے ابوبکر بن عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا ہے اس کے برخلاف ابن شہاب کے تلامذہ میں سے شعیب بن ابی حمزہ نے ابن شہاب کے دونوں شیوخ کا ذکر کیا ہے اسی طرح عبدالاعلیٰ نے بواسطہ معمر عن زہری دونوں کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 836 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ، وَبَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَلَمَةَ، أن أبا هريرة كانيُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ، فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ يَجْعَلُهُ مَالِكٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ، وَغَيْرِهِمَا. عَنْ الزُّهْرِيِّ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَوَافَقَ عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں تکبیرات کی تکمیل کا بیان
عبدالرحمٰن بن ابزی (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر مکمل نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے اور جب سجدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٦٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بن عمران لین الحدیث ہیں، نیز حدیث میں اضطراب ہے ) وضاحت : ١ ؎ : صحیح روایتوں سے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے باقی سبھی حرکات میں اللہ اکبر کہنا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 837 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ الشَّامِيِّ، وقَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَاهُ: إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ لَمْ يُكَبِّرْ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يُكَبِّرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گھٹنوں کو رکھے یا ہاتھوں کو
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ١ ؎ اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الصلاة ٨٤ (٢٦٨) ، سنن النسائی/الإفتتاح ١٢٨ (١٠٩٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩(٨٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨٠) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں ) وضاحت : ١ ؎ : امام دارقطنی کہتے ہیں : اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی کہتے ہیں : اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان لوگوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 838 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گھٹنوں کو رکھے یا ہاتھوں کو
اس سند سے وائل بن حجر (رض) سے نبی اکرم ﷺ کی نماز کی کیفیت مروی ہے، اس میں ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ ﷺ کے گھٹنے ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑتے۔ ہمام کہتے ہیں : مجھ سے شقیق نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں : مجھ سے عاصم بن کلیب نے اور عاصم نے اپنے والد سے کلیب نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں میں سے کسی کی حدیث میں اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن جحادہ کی حدیث میں یہ ہے : جب آپ ﷺ اٹھتے تو اپنی ران پر ٹیک لگا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بل اٹھتے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٦٢) (ضعیف) قد تقدم ہذا الحدیث برقم (٧٣٦) (عبدالجبار کا اپنے والد وائل سے سماع ثابت نہیں ہے )
حدیث نمبر: 839 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ. قَالَ هَمَّامٌ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گھٹنوں کو رکھے یا ہاتھوں کو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٦٩) ، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٤ (١٣٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ (رض) کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے اور کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے وليضع رکبتيه قبل يديه (یعنی وہ ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے) لیکن محدث عبدالرحمن مبارک پوری ، علامہ احمد شاکر، شیخ البانی وغیرہ نے ابن القیم کے اس خیال کی تردید کی ہے اور ابن خزیمہ کا کہنا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سعد بن ابی وقاص (رض) کی روایت كنا نضع اليدين قبل الرکبتين فأمرنا بالرکبتين قبل اليدين (پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا) انتہائی ضعیف ہے قطعاً قابل استدلال نہیں۔
حدیث نمبر: 840 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گھٹنوں کو رکھے یا ہاتھوں کو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا ١ ؎ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٦٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں لفظ یعمد سے پہلے ہمزۂ استفہام مقدر ہے اسی وجہ سے ترجمہ میں ” کیا “ کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اس طرح نہ بیٹھا کرو۔
حدیث نمبر: 841 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكُ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث (رض) ہماری مسجد میں آئے تو انہوں نے کہا : قسم اللہ کی میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میرے پیش نظر نماز پڑھانا نہیں بلکہ میں تم لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ابوقلابہ سے پوچھا : انہوں نے کس طرح نماز پڑھی ؟ تو ابوقلابہ نے کہا : ہمارے اس شیخ۔ یعنی عمرو بن سلمہ کی طرح، جو ان کے امام تھے اور ابوقلابہ نے ذکر کیا کہ ابوقلابہ نے مالک بن حویرث (رض) جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو (تھوڑی دیر) بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٧ (٨٠٢) ، ١٤٢ (٨٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٠١ (٢٨٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ١٨١ (١١٥٢) ، مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣) (صحیح ) وضاحت : وضاحت : اس بیٹھنے کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کا جواب یہ دیا ہے کہ موٹاپے اور کبر سنی کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا تھا، لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے، شیخ البانی (رح) کہتے ہیں : جلسہ استراحت کو اس امر پر محمول کرنا کہ یہ حاجت کی بنا پر تھا عبادت کی غرض سے نہیں ؛ لہٰذا یہ مشروع نہیں ہے۔ جیسا کہ احناف وغیرہ کا قول ہے۔ باطل ہے اور اس کے بطلان کے لئے یہی کافی ہے کہ دس صحابہ رضی اللہ عنھم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز میں داخل کرنے کو تسلیم کیا ہے، اگر انہیں یہ علم ہوتا کہ آپ ﷺ نے اسے ضرورت کی بنا پر کیا ہے تو وہ آپ ﷺ کے طریقہ نماز میں اسے داخل کرنے پر خاموشی اختیار نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 842 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَيْفَ صَلَّى ؟ قَالَ: مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا، يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ إِمَامَهُمْ، وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى قَعَدَ، ثُمَّ قَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابو سلیمان مالک بن حویرث (رض) ہماری مسجد میں آئے، انہوں نے کہا : قسم اللہ کی ! میں نماز پڑھوں گا مگر میرے پیش نظر نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ابوقلابہ کہتے ہیں : پھر وہ پہلی رکعت میں بیٹھے جس وقت انہوں نے اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 843 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي، وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٤٢، (تحفة الأشراف : ١١١٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 844 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے بیچ میں اقعاء کرنے کا بیان
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ١ ؎ (سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا) کیسا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں : ہم نے کہا : ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس (رض) نے کہا : یہ تیرے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩٨ (٢٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اقعاء کی مسنون صورت ہے جو دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک کے ساتھ مخصوص ہے، رہی اقعاء کی ممنوع صورت جس سے حدیث میں روکا گیا ہے، تو وہ کتے کی طرح چوتڑ اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر دونوں پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے بیٹھنا ہے یا تشہد کی حالت میں دونوں قدموں کو گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے۔
حدیث نمبر: 845 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: قُلْنَالِابْنِ عَبَّاسٍ فِيالْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهُ جُفَاءً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد کہتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری اور شعبہ بن حجاج نے اس حدیث کو عبید بن لحسن ابوالحسن سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں بعد الرکوع نہیں ہے، سفیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے بعد شیخ عبید ابوالحسن سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی اس حدیث میں بعد الرکوع کے الفاظ نہیں کہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے شعبہ نے ابوعصمہ سے، ابوعصمہ نے اعمش سے اور اعمش نے عبید سے روایت کیا ہے، اس میں بعد الرکوع کے الفاظ موجود ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٥١٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٦، ٣٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 846 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَة، وَوَكِيعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْعُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِيهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ سُفْيَانُ: لَقِينَا الشَّيْخَ عُبَيْدًا أَبَا الْحَسَنِ بَعْدُ فَلَمْ يَقُلْ فِيهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْأَبِي عِصْمَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سمع الله لمن حمده کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم ربنا لک الحمد ملء السماء اور مومل کے الفاظ ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وکلنا لک عبد لا مانع لما أعطيت ، محمود نے اپنی روایت میں : ولا معطي لما منعت کا اضافہ کیا ہے، پھر :ولا ينفع ذا الجد منک الجد میں سب متفق ہیں، بشر نے اپنی روایت میں : ربنا لک الحمد کہا اللهم نہیں کہا، اور محمود نے اللهم نہیں کہا، اور ربنا لک الحمد کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ١١٥ (١٠٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٨١) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٧) ، مسند احمد (٣/٨٧) ، سنن الدارمی/ الصلاة ٧١ (١٣٥٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 847 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، قَالَ مُؤَمَّلٌ: مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ. زَادَ مَحْمُودٌ: وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. وَقَالَ بِشْرٌ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. لَمْ يَقُلْ: اللَّهُمَّ، لَمْ يَقُلْ مَحْمُودٌ: اللَّهُمَّ، قَالَ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوجائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٤ (٧٩٥) ، ١٢٥ (٧٩٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٨ (٤٠٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٨٦ (٢٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٦٨) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الافتتاح ١١٣ (١٠٦٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٦) ، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧٠، ٣٠٠، ٣١٩، ٤٥٢، ٤٩٧، ٥٠٢، ٥٢٧، ٥٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 848 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے
عامر شعبی کہتے ہیں : لوگ امام کے پیچھے : سمع الله لمن حمده نہ کہیں، بلکہ ربنا لک الحمد کہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٥٦٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : نماز کی تعلیم سے متعلق مسئ صلا ۃ کی حدیث میں رسول اکرم ﷺ رکوع سے پیٹھ اوپر کرتے ہوئے :سمع الله لمن حمده پڑھتے تھے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے : کسی آدمی کی نماز پوری نہیں ہوتی حتی کہ وہ یہ اور یہ کرے، اس حدیث میں کہ پھر رکوع کرے پھر : سمع الله لمن حمده کہے حتی کہ اچھی طرح کھڑا ہوجائے (ابوداود) ۔ اس کے بعد آپ ﷺ حالت قیام میں ربنا ولک الحمد پڑھتے، آپ ﷺ نے اس کا حکم امام اور مقتدی سب کو یہ فرما کردیا کہ : صلوا کما رأيتموني أصلي۔ آپ ﷺ فرماتے تھے : امام کو اس کی اقتداء ہی کے لئے بنایا گیا ہے، فرمایا : اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو اللہم ربنا ولک الحمد کہو، اور اس کی تعلیل ایک دوسری حدیث میں یوں کی ہے کہ جس آدمی کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے ماضی کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اس تفصیل کے مطابق امام اور مقتدی سب کو دونوں دعا پڑھنی چاہیے، بعض ائمہ جیسے شعبی کا مذہب ہے کہ مقتدی سمع الله لمن حمده نہ کہیں صرف ربنا ولک الحمد پر اکتفا کریں۔
حدیث نمبر: 849 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: لَا يَقُولُ الْقَوْمُ خَلْفَ الْإِمَامِ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَكِنْ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
তাহকীক: