কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৮১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں قرأت کی مقدار
جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں سورة الطور پڑھتے ہوئے سنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٩ (٧٦٥) ، والجھاد ١٧٢ (٣٠٥٠) ، والمغازي ١٢ (٤٠٢٣) ، و تفسیر الطور ١ (٤٨٥٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٥ (٩٨٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩ (٨٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٣١٨٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٥(٢٣) ، مسند احمد (٤/٨٠، ٨٣، ٨٤، ٨٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 811 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں قرأت کی مقدار
مروان بن حکم کہتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے مجھ سے کہا : کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے ہو ؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں دو لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، مروان کہتے ہیں : میں نے (ان سے) پوچھا : وہ دو لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے کہا سورة الاعراف اور دوسری سورة الانعام ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا : تو انہوں نے مجھ سے خود اپنی طرف سے کہا : وہ سورة المائدہ اور اعراف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٤) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٧ (٩٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٨٥، ١٨٧، ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 812 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ، وَالْأُخْرَى الْأَنْعَامُ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَنَا ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَقَالَ لِي مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: الْمَائِدَةُ، وَالْأَعْرَافُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کا بیان
حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورة پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورة العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ١ ؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٠٣٤ أ) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی سورة مائدہ ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ” وہ بیان جواز کے لئے ہے “ تو زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 813 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَيَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں مفصل ١ ؎ کی چھوٹی بڑی کوئی سورت ایسی نہیں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧٨٨) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے ) وضاحت : ١ ؎ : صحیح قول کی رو سے سورة ” ق “ سے اخیر قرآن تک کی سورتیں ” مفصل “ کہلاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 814 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِهَا فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کا بیان
ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن مسعود (رض) کے پیچھے مغرب پڑھی تو انہوں نے قل هو الله أحد پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٨٠) (ضعیف) (اس کے راوی النزال لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 815 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّهُصَلَّى خَلْفَ ابْنِ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتوں میں ایک ہی سورت پڑھنے کا بیان
معاذ بن عبداللہ جہنی کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں إذا زلزلت الأرض پڑھتے ہوئے سنا، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ بھول گئے تھے یا آپ نے عمداً اسے پڑھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٧٣) (حسن )
حدیث نمبر: 816 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، أَنَّرَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ عَمْدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر میں قرأت کا بیان
عمرو بن حریث (رض) کہتے ہیں گویا میں نبی اکرم ﷺ کی آواز سن رہا ہوں، آپ فجر میں فلا أقسم بالخنس * الجوار الکنس پڑھ رہے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٥ (٨١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧١٥) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٦) ، مسند احمد (٤/٣٠٦، ٣٠٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 817 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ: فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ 15 الْجَوَارِ الْكُنَّسِ 16 سورة التكوير آية 15-16.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں نماز میں سورة فاتحہ اور جو سورة آسان ہو اسے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٣٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٥، ٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 818 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم جاؤ اور مدینہ میں اعلان کر دو کہ نماز بغیر قرآن کے نہیں ہوتی، اگرچہ سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور ہی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٦١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٢٨) (منکر) ( جعفر بن میمون ضعیف راوی ہیں، نیز ثقات کی مخالفت کی ہے )
حدیث نمبر: 819 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَصْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْرُجْ فَنَادِ فِي الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے بغیر نماز نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٣٦١٩) (صحیح) (صحیح مسلم میں مروی عبادہ بن صامت (رض) کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی جعفر بن میمون ہیں )
حدیث نمبر: 820 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں :
حدیث نمبر: 821 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زَهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُأَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
اس پر میں نے کہا : ابوہریرہ ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں ! ) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا : اے فارسی ! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے نماز ١ ؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پڑھو : بندہ الحمد لله رب العالمين کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ الرحمن الرحيم کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ مالک يوم الدين کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ إياک نعبد وإياک نستعين کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے : یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے : یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٥) ، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة ٢ (٢٩٥٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٢٣ (٩١٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١ (٨٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٣٥، ١٤٠٤٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٩ (٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٥٠، ٢٨٥، ٢٩٠، ٤٥٧، ٤٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نماز سے مراد سورة فاتحہ ہے ، تعظیماً کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔ ٢ ؎ : جو لوگ بسم اللہ کو سورة فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورة فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت نہیں پڑھی ١ ؎۔ سفیان کہتے ہیں : یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٤) ، سنن النسائی/الافتتاح ٢٤ (٩١١) (وقد ورد بدون قولہ :” فصاعداً “ عند : صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٦) ، سنن الترمذی/ الصلاة ٦٩ (٢٤٧) ، ١١٦ (٣١٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١ (٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٥١١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣١٤، ٣٢١، ٣٢٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣٦ (١٢٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ سورة فاتحہ سے کم پر نماز جائز نہیں ہوگی، سورة فاتحہ سے زائد قرات کے وجوب کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ ٢ ؎ : خطابی کا کہنا ہے کہ یہ عام ہے بغیر کسی دلیل کے اس کی تخصیص جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 822 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا. قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ نماز فجر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے، آپ نے قرآت شروع کی تو وہ آپ پر دشوار ہوگئی، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو ؟ ، ہم نے کہا : ہاں، اللہ کے رسول ! ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں تو ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : سورة فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی الصلاة ١١٥ (٣١١) ، (تحفة الأشراف : ٥١١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢) ، (حسن) (ابن خزیمة نے اسے صحیح کہا ہے (٣ ؍ ٣٦- ٣٧) ترمذی ، دارقطنی اور بیہقی نے بھی حسن کہا ہے (٢ ؍ ١٦٤) ابن حجر نے نتائج الافکار میں حسن کہا ہے ) ، ملاحظہ ہو : امام الکلام تالیف مولانا عبدالحی لکھنوی (٢٧٧- ٢٧٨ ) وضاحت : ١ ؎ : جب اسے هَذَّ يَهُذُّ کا مصدر هَذًّا مانا جائے تو اس کے معنی پڑھنے والے کا ساتھ پکڑنے کے لئے جلدی جلدی پڑھنے کے ہوں گے، اور اگر هذا کو اسم اشارہ مانا جائے تو ترجمہ یوں کریں گے ” ایسا ہی ہے “۔
حدیث نمبر: 823 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ، قُلْنَا: نَعَمْ، هَذًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت (رض) نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کردی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورة فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ (رض) سے کہا : میں نے آپ کو (نماز میں) سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا : ہاں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہوگیا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو ؟ ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورة فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ٢٩ (٩٢١) ، (تحفة الأشراف : ٥١١٦) (صحیح) (اہل علم نے اس حدیث کے بارے میں لمبی چوڑی بحثیں کی ہیں، ملاحظہ ہو : تحقيق الکلام في وجوب القرائة خلف الإمام للعلامة عبدالرحمن المبارکفوري، وإمام الکلام للشيخ عبدالحي اللکهنوي، و ضعيف أبي داود (9/ 318 )
حدیث نمبر: 824 حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ، قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا، وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ، فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان
اس طریق سے بھی عبادہ (رض) سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کی طرح روایت مروی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ مکحول مغرب، عشاء اور فجر میں ہر رکعت میں سورة فاتحہ آہستہ سے پڑھتے تھے، مکحول کا بیان ہے : جب امام جہری نماز میں سورة فاتحہ پڑھ کر سکتہ کرے، اس وقت آہستہ سے سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو اور اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا اس کے بعد پڑھ لیا کرو، کسی حال میں بھی ترک نہ کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥١١٤) (ضعیف) (مکحول نے عبادہ (رض) کو نہیں پایا ہے )
حدیث نمبر: 825 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْمَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالُوا: فَكَانَ مَكْحُولٌ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا. قَالَ مَكْحُولٌ: اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا، فَإِنْ لَمْ يَسْكُتِ اقْرَأْ بِهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ لَا تَتْرُكْهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہیں کرنی چاہیے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک نماز سے جس میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی تھی پلٹے تو فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرآت کی ہے ؟ ، تو ایک آدمی نے عرض کیا : ہاں، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : تبھی تو میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ کشمکش کی جا رہی ہے ۔ زہری کہتے ہیں : جس وقت لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا تو جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے تھے، اس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣١٢) ، سنن النسائی/الافتتاح ٢٨ (٩٢٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٨، ٨٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٦٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٠(٤٤) ، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٨٤، ٢٨٥، ٣٠٢، ٤٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 826 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ. عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہیں کرنی چاہیے
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، ہمارا گمان ہے کہ وہ نماز فجر تھی، پھر اسی مفہوم کی حدیث ما لي أنازع القرآن تک بیان کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ معمر نے کہا : تو لوگ اس نماز میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ ﷺ جہری قرآت کرتے تھے، اور ابن سرح کی روایت میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے کہا : فانتهى الناس یعنی لوگ (قرآت سے) رک گئے، عبداللہ بن محمد زہری کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی بات کہی، جسے میں سن نہ سکا تو معمر نے کہا وہ یہی فانتهى الناس کا کلمہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت آپ ﷺ کے قول ما لي أنازع القرآن پر ختم ہے اور اسے اوزاعی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ زہری نے کہا : اس سے مسلمانوں نے نصیحت حاصل کی، چناچہ جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے، آپ کے ساتھ قرآت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس کو کہتے ہوے سنا ہے کہ فانتهى الناس زہری کا کلام ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ فانتهى الناس کے جملہ کو معمر کبھی ابوہریرہ (رض) کا کلام قرار دیتے ہیں، اور کبھی زہری کا، لیکن زہری کے دوسرے تلامذہ سفیان ، عبدالرحمن بن اسحاق، اوزاعی اور محمد بن یحییٰ بن فارس نے اسے زہری کا کلام قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 827 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَابْنِ السَّرْحِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ بِمَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ. قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ مَعْمَرٌ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ مَعْمَرٌ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَانْتَهَى النَّاسُ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ مِنْ بَيْنِهِمْ: قَالَ سُفْيَانُ: وَتَكَلَّمَ الزُّهْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْهَا، فَقَالَ مَعْمَرٌ: إِنَّهُ قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَانْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى قَوْلِهِ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ فِيهِ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ قَوْلُهُ: فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت کا بیان
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے سبح اسم ربک الأعلى کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا : تم میں کس نے قرآت کی ہے ؟ ، لوگوں نے کہا : ایک شخص نے، آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا : کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو ؟ انہوں نے کہا : یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے کہا : گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا : اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٢ (٤٩٨) ، سنن النسائی/الافتتاح ٢٧ (٩١٦، ٩١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٣١، ٤٣٣، ٥٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی نبی اکرم ﷺ نے صرف (زور سے پڑھنے) کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلجان قلب کو ناپسند کیا، سورة کی قرأت پر صاد کیا، تو سورة فاتحہ کی قرأت پر بدرجہ اولیٰ پسندیدگی پائی گئی۔
حدیث نمبر: 828 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْزُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: أَيُّكُمْ قَرَأَ ؟ قَالُوا: رَجُلٌ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَبُو الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ ؟ قَالَ: ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ. قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، قَالَ: لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت کا بیان
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا : تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورة سبح اسم ربک الأعلى پڑھی ہے ؟ ، تو ایک آدمی نے کہا : میں نے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 829 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ: أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا.
তাহকীক: