কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৭৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ہلکا کرنے کا بیان
حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل (رض) کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے معاذ ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٣٩٩) (منکر) (اس حدیث میں مسافر کا تذکرہ منکر ہے )
حدیث نمبر: 791 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَزْمِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ أَتَى مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمٍ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُلَا تَكُنْ فَتَّانًا، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ہلکا کرنے کا بیان
ایک صحابی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا : تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو ؟ ، اس نے کہا : میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں : اللهم إني أسألک الجنة وأعوذ بک من النار اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ١ ؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے فرمایا : ہم بھی اسی ٢ ؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، مسند احمد ٣/٤٧٤، (تحفة الأشراف : ١٥٥٦٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٦ (٩١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں دندنہ کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔ وضاحت : حولها میں ها کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
حدیث نمبر: 792 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ہلکا کرنے کا بیان
جابر (رض) معاذ (رض) کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس نوجوان سے پوچھا : میرے بھتیجے ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو ؟ ، اس نے کہا : میں (نماز میں) سورة فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں ، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٣٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 793 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ، قَالَ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَتَى: كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ ؟ قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ہلکا کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ جماعت میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو اسے جتنی چاہے لمبی کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٢ (٧٠٣) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨١٥) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٦٣ (٢٣٦) ، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٤ (١٣) ، مسند احمد (٢ /٢٥٦، ٢٧١، ٣١٧، ٣٩٣، ٤٨٦، ٥٠٢، ٥٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 794 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ہلکا کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ (بھی) ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٣٠٤، ١٥٢٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 795 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ثواب کم ہونے کا بیان
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : آدمی (نماز پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الکبری : کتاب السہو ١٣٠ (٦١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٢١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : جب نماز کے شرائط ، ارکان یا خشوع و خضوع میں کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پوری نماز کا ثواب نہیں لکھا جاتا بلکہ ثواب کم ہوجاتا ہے، بلکہ کبھی وہ نماز الٹ کر پڑھنے والے کے منھ پر مار دی جاتی ہے۔ جابر (رض) کہتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے ۔ ایک روایت میں ہے : پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم ﷺ نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے : عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے : اے فلاں ! تم نے منافقت کی ہے ؟ اس نے کہا : میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے ؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٦٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 796 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبْعُهَا سُدْسُهَا خُمْسُهَا رُبْعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے کہا : ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً ) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٧٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٠٤ (٧٧٢) ، سنن النسائی/الافتتاح ٥٤ (٩٧٠) ، مسند احمد (٢/ ٢٥٨، ٢٧٣، ٢٨٥، ٣٠١، ٣٤٣، ٣٤٨، ٤١١، ٤١٦، ٤٣٥، ٤٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس میں جہر نہیں کیا اسے آہستہ سے پڑھا۔
حدیث نمبر: 797 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں (ایک آدھ) آیت سنا دیتے تھے، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد نے فاتحة الکتاب اور سورة کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٦ (٧٥٩) ، ٩٧ (٧٦٢) ، ١٠٧ (٧٧٦) ، ١٠٩ (٨٨٧) ، ١١٠ (٧٧٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥١) ، سنن النسائی/الافتتاح ٥٦(٩٧٥) ، ٥٧(٩٧٦) ، ٥٨ (٩٧٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨ (٨٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٨٣، ٥/٢٩٥، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠١، ٣٠٥، ٣٠٧، ٣٠٨، ٣١٠، ٣١١، ٣٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 798 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْالْحَجَّاجِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبِي سَلَمَةَ: ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان
اس سند سے ابوقتادہ (رض) سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں (صرف) سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ يزيد بن هارون عن همام اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں (بھی کرتے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 799 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِبَعْضِ هَذَا، وَزَادَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ: بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَزَادَ. عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ ﷺ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پاجائیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٩٨، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 800 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ النَّاسُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے خباب (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر میں قرآت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں (قرآت کرتے تھے) ، ہم نے کہا : آپ لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی تھی ؟ انہوں نے کہا : آپ کی داڑھی کے ہلنے سے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩١ (٧٤٦) ، ٩٦ (٧٦٠) ، ٩٧، ١٠٨ (٧٧٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧ (٨٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٥١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١٢، ٦/٣٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام بیہقی نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ سری قرات میں یہ ضروری ہے کہ آدمی خود کو سنا سکے کیونکہ اضطراب لحية زبان اور دونوں ہونٹ ہلے بغیر ممکن نہیں اگر آدمی اپنے دونوں ہونٹ بند رکھے اور صرف زبان ہلائے تو داڑھی نہیں ہل سکتی اور قرات خود کو نہیں سنا سکتا (فتح الباری، حدیث : ٧٦٠ )
حدیث نمبر: 801 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْنَالِخَبَّابٍهَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف : ٥١٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٥٦) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل مبہم راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جماعت میں آنے والے سب آ چکے ہوتے کوئی باقی نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 802 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے سعد (رض) سے کہا : لوگوں (یعنی اہل کوفہ) نے آپ کی ہر چیز میں شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز کے بارے میں بھی، سعد (رض) نے کہا : میں پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور پچھلی دونوں رکعتیں مختصر پڑھتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ (کے طریقہ نماز کی) پیروی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اس پر عمر (رض) نے کہا : مجھے آپ سے یہی توقع تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٥) ، ١٠٣ (٧٧٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٧٤ (١٠٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٦، ١٧٩، ١٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 803 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں تیس آیات کے بقدر یعنی سورة الم تنزیل السجدہ کے بقدر قیام فرماتے ہیں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں اس کے آدھے کا اندازہ لگایا، اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم نے اندازہ کیا تو ان میں آپ کی قرآت ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر ہوتی اور آخری دونوں رکعتوں میں ہم نے اس کے آدھے کا اندازہ لگایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٢) ، سنن النسائی/الصلاة ١٦ (٤١٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧ (٨٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٢ (١٣٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 804 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں والسماء والطارق ، والسماء ذات البروج اور ان دونوں جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣٠٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٠ (٩٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٢١٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٠١، ١٠٣، ١٠٦، ١٠٨) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 805 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ السُّوَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور اس میں والليل إذا يغشى جیسی سورت پڑھتے تھے، اسی طرح عصر میں اور اسی طرح بقیہ نمازوں میں پڑھتے سوائے فجر کے کہ اسے لمبی کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٨) ، سنن النسائی/الإفتتاح ٦٠ (٩٨١) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣(٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٢١٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ١٠١، ١٠٦، ١٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 806 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ، وَقَرَأَ بِنَحْوٍ مِنْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالْعَصْرِ كَذَلِكَ، وَالصَّلَوَاتِ كَذَلِكَ إِلَّا الصُّبْحَ فَإِنَّهُ كَانَ يُطِيلُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں : معتمر کے علاوہ کسی نے بھی (سند میں) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٨٥٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی أمیہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کا ہونا نہ ہونا مختلف فیہ ہے )
حدیث نمبر: 807 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ. قَالَ ابْنُ عِيسَى: لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان
عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ عبداللہ بن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے اپنے میں سے ایک نوجوان سے کہا : تم ابن عباس سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے ؟ ابن عباس نے کہا : نہیں، نہیں، تو ان سے کہا گیا : شاید آپ ﷺ اپنے جی میں قرآت کرتے رہے ہوں، اس پر ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ تمہارے چہرے یا چمڑے میں خراش کرے ! یہ پہلی سے بھی بری ہے ١ ؎، آپ ایک مامور (حکم کے پابند) بندے تھے، آپ کو جو حکم ملتا وہی لوگوں کو پہنچاتے، آپ ﷺ نے ہم (بنی ہاشم) کو کوئی مخصوص حکم نہیں دیا سوائے تین باتوں کے : ایک یہ کہ ہم کامل وضو کریں دوسرے یہ کہ صدقہ نہ کھائیں، تیسرے یہ کہ گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجہاد ٢٣ (١٧٠١) ، سنن النسائی/الطھارة ١٠٦ (١٤١) ، والخیل ٩ (٣٦١١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٤٩ (٤٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٢، ٢٣٥، ٢٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ ابن عباس (رض) کا وہم ہے، نبی اکرم ﷺ سے ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دوسری سورت کا پڑھنا ثابت ہے، اوپر ابوقتادہ (رض) اور خباب (رض) کی روایتیں گزر چکی ہیں جو صریح طور سے اس پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 808 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا: سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ فَقَالَ: لَا، لَا. فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٠٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٤٩، ٢٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 809 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں قرأت کی مقدار
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث (رض) نے انہیں والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں : میرے بیٹے ! تم نے اس سورة کو پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا، یہی آخری سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں پڑھتے ہوئے سنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٣) ، والمغازي ٨٣ (٤٤٢٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ١١٨ (٣٠٨) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٤ (٩٨٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩ (٨٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٥٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٤) ، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 810 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّأُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةِ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.
তাহকীক: