কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৬৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب سترہ کے لئے لکڑی نہ ہو تو زمین پر لکیر کھینچ لیں
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 691 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جَنَازَةٍ الْعَصْرَ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف کر کے اس کی آڑ میں نماز پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٩ (٣٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٩٠٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ٥٠ (٤٣٠) ، مسند احمد (٢/١٠٦، ١٢٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٦ (١٤٥٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 692 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَوَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نماز پڑھے تو سترہ کو کس چیز کے مقابل کرے
مقداد بن اسود (رض) کہتے ہیں میں نے جب بھی رسول اللہ ﷺ کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٥٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤) (ضعیف) (اس کے رواة میں ولید لین الحدیث اور مہلب اور ضباعہ مجہول ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : تاکہ بت پرستوں سے مشابہت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 693 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گفتگو کرنے والے یا سونے والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا
عبداللہ بن عباس (رض) کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ ( ٩٥٩ ) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٤٨ ) (حسن) (اس حدیث میں عبدالملک و عبداللہ بن یعقوب دونوں مجہول، اور عبداللہ کے شیخ مبہم ہیں ، لیکن شواہد کے بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو : ارواء الغلیل حدیث نمبر : ٣٧٥ ، و صحیح ابی داود : ٣؍٦٩١)
حدیث نمبر: 694 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ سے نزدیک ہو کر کھڑے ہونے کا بیان
سہل بن ابی حثمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا (بغیر اپنے والد کے واسطہ کے) نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد (رض) سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القبلة ٥ (٧٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 695 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَاخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ سے نزدیک ہو کر کھڑے ہونے کا بیان
سہل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ (کی دیوار) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٩١ (٤٩٦) ، والاعتصام ١٥ (٧٣٣٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 696 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَالنُّفَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: وَكَانَ بَيْنَ مَقَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مَمَرُّ عَنْزٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْخَبَرُ لِلنُّفَيْلِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی نماز کے سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہئیے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کرے (یعنی سختی سے روکے) کیونکہ وہ شیطان ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥) ، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٩ (٩٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٤١١٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ١٠(٣٣) ، مسند احمد (٣/٣٤، ٤٣، ٤٤، ٤٩، ٥٧، ٩٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٥ (١٤٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی شیطانوں کا سا کام کر رہا ہے روکنے سے بھی نہیں مانتا۔
حدیث نمبر: 697 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی نماز کے سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہئیے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤١١٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 698 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی نماز کے سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہئیے
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کردیا، پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) کہا : ابو سعید خدری (رض) نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے (یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤١٥٩) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 699 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، أَخْبَرَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ اللَّخْمِيُّ لَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ زَيْدٍ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی نماز کے سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہئیے
ابوصالح کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری (رض) کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں : ابو سعید خدری (رض) مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو (جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے (یعنی سختی سے دفع کرے) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠٠ (٥٠٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٠٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 700 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو صَالِحٍ: أُحَدِّثُكَ عَمَّا رَأَيْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ، دَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: يَمُرُّ الرَّجُلُ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ يَدَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَأَمْنَعُهُ وَيَمُرُّ الضَّعِيفُ فَلَا أَمْنَعُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے گزرنے کی ممانعت
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی (رض) نے انہیں ابوجہیم (رض) کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ تو ابوجہیم (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس (دن یا مہینے یا سال تک) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٩ (٣٣٦) ، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٧ (٩٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١٠ (٣٤) ، مسند احمد (٤/١٦٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٠ (١٤٥٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 701 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر (رض) نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ١ ؎۔ میں نے عرض کیا : سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کالا کتا شیطان ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٥٠ (٥١٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٤١ (٣٣٨) ، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٩، ١٥١، ١٥٥، ١٦٠، ١٦١) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٨ (١٤٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جمہور علماء نے اس روایت کی تاویل یہ کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد نماز میں نقص پیدا ہونا ہے، کیونکہ ان چیزوں کے گزرنے سے مصلی کا دھیان بٹ جاتا ہے اور خشوع و خضوع میں فرق آجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 702 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، وَابْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ حَفْصٌ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ، وَقَالَا: عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَيْدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے) : نماز حائضہ عورت اور کتا (مصلی کے سامنے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس (رض) سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القبلہ ٧ (٧٥٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٤٩) ، مسند احمد (١/٤٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٧٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 703 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ شُعْبَةُ قَالَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَفَهُ سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں : جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہوجاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا (سوائے معاذ کے) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ (یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٥) (ضعیف) (ابن أبی سمینہ ثقہ راوی ہیں، ممکن ہے یحییٰ بن أبی کثیر سے وہم واقع ہوا ہو، نیز یحییٰ مدلس ہیں، ممکن ہے تدلیس سے کام لے کر موقوف کو أحسبہ کے ذریعہ مرفوع بنادیا ہو، ابن عباس (رض) پر موقوفاً یہ روایت صحیح ہے )
حدیث نمبر: 704 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ، وَيُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي نَفْسِي مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ شَيْءٌ كُنْتُ أُذَاكِرُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرَهُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا جَاءَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَلَا يَعْرِفُهُ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ هِشَامٍ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ مِنْ ابْنِ أَبِي سَمِينَةَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَالْمُنْكَرُ فِيهِ ذِكْرُ الْمَجُوسِيِّ، وَفِيهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ وَذِكْرُ الْخِنْزِيرِ وَفِيهِ نَكَارَةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، وَأَحْسَبُهُ وَهِمَ لِأَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنَا مِنْ حِفْظِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا : میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٦٤، ٥/٣٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 705 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ، فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے : اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٨٤) (ضعیف )
حدیث نمبر: 706 حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ، قَالَ: قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ فِيهِ: قَطَعَ صَلَاتَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ ﷺ تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا : یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چناچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہوسکا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی سعید بن غزوان مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 707 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُقْعَدٍ فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ لَهُ: سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ: هَذِهِ قِبْلَتُنَا، ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا، فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَقَالَ: قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ، فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اذاخر ١ ؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہوگیا، آپ ﷺ نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ ﷺ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جاسکے، آخر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨١١، ألف) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/ ١٩٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
حدیث نمبر: 708 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَعْنِي فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ، فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ، فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا حَتَّى لَصَقَ بَطْنَهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ، أَوْ كَمَا قَالَ مُسَدَّدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دور کرنے لگے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٥٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٩ (٩٥٣) ، مسند احمد (١/٢٩١، ٣٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 709 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَذَهَبَ جَدْيٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے عورت گزرنا مفسد صلوة نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا : اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے وأنا حائض اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٣٤٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٨٢) ، ٢١ (٣٨٣) ، ١٠٣ (٥١٢) ، ١٠٤ (٥١٣) ، والوتر ٣ (٩٩٧) ، والعمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢) ، والمسافرین ١٧ (١٣٥) ، سنن النسائی/القبلة ١٠ (٧٦٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ (٩٥٦) ، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١(٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣) ، مسند احمد (٦/٩٤، ٩٨، ١٧٦) (صحیح) دون قولہ : وأنا حائض
حدیث نمبر: 710 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهَا قَالَتْ: وَأَنَا حَائِضٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَطَاءٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، وَهِشَامُ، كلهم عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ وَإِبْرَاهِيمُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبُو الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، لَمْ يَذْكُرُوا: وَأَنَا حَائِضٌ.
তাহকীক: