কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৭১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے عورت گزرنا مفسد صلوة نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی رات کی نماز پڑھتے اور وہ آپ کے اور قبلے کے بیچ میں اس بچھونے پر لیٹی رہتیں جس پر آپ سوتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو انہیں جگاتے تو وہ بھی وتر پڑھتیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٩٠٢، ١٦٣٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 711 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ رَاقِدَةٌ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے عورت گزرنا مفسد صلوة نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ تم لوگوں نے بہت برا کیا کہ ہم عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر ٹھہرا دیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے عرض میں لیٹی رہتی تھی، جب آپ ﷺ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں اسے سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 712 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْحِمَارِ وَالْكَلْبِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے عورت گزرنا مفسد صلوة نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں سوئی رہتی تھی، میرے دونوں پاؤں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوتے اور آپ رات میں نماز پڑھ رہے ہوتے، جب آپ ﷺ سجدہ کرنا چاہتے تو میرے دونوں پاؤں کو مارتے تو میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٨٢) ، العمل فی الصلاة ١٠ (١٢٠٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢) ، سنن النسائی/القبلة ١٠ (٧٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤٨، ٢٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 713 حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَكُونُ نَائِمَةً وَرِجْلَايَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ضَرَبَ رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا فَسَجَدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے عورت گزرنا مفسد صلوة نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی سمت میں لیٹی رہتی، آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے آگے ہوتی، جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے (عثمان کی روایت میں یہ اضافہ ہے : تو آپ مجھے اشارہ کرتے ، پھر عثمان اور قعنبی دونوں روایت میں متفق ہیں) تو آپ ﷺ فرماتے : سرک جاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٧٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٨٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 714 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ. ح قَالَ أَبُو دَاوُد، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، زَادَ عُثْمَانُ: غَمَزَنِي ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: تَنَحَّيْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے گدھا گزر جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بالغ ہونے کے قریب ہوچکا تھا، اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے بعض حصے کے آگے سے گزرا، پھر اترا تو گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور صف میں شریک ہوگیا، تو کسی نے مجھ پر نکیر نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ قعنبی کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ کامل ہیں۔ مالک کہتے ہیں : جب نماز کھڑی ہوجائے تو میں اس میں گنجائش سمجھتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ١٨ (٧٦) ، والصلاة ٩٠ (٤٩٣) ، والأذان ١٦١ (٨٦١) ، وجزاء الصید ٢٥ (١٨٥٧) ، والمغازي ٧٧ (٤٤١٢) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٠ (٣٣٧) ، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٣٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ١١(٣٨) ، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٦٤، ٣٣٧، ٣٦٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٩(١٤٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 715 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جِئْتُ عَلَى حِمَارٍ. ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ،فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَ مَالِكٌ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے گدھا گزر جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی
ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس (رض) کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا : میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ ﷺ نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہوگئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 716 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ أَمَامَ الصَّفِّ فَمَا بَالَاهُ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَخَلَتَا بَيْنَ الصَّفِّ فَمَا بَالَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے گدھا گزر جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی
منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ ابن عباس (رض) نے کہا : بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو پکڑ لیا، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے پکڑ کر دونوں کو جدا کردیا۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک کو دوسرے سے جدا کردیا، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٦٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 717 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُور بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اقْتَتَلَتَا فَأَخَذَهُمَا، قَالَ عُثْمَانُ: فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ دَاوُدُ: فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا عَنِ الْأُخْرَى فَمَا بَالَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازی کے سامنے سے کتا گذر جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی
فضل بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک صحرا میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ عباس (رض) بھی تھے، آپ ﷺ نے صحرا (کھلی جگہ) میں نماز پڑھی، اس حال میں کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا، اور ہماری گدھی اور کتیا دونوں آپ ﷺ کے سامنے کھیل رہی تھیں، لیکن آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢١١، ٢١٢) (ضعیف) (اس کے راوی عباس لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 718 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَا بَالَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ران نماز کسی بھی چیز کے سامنے سے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی مجالد ضعیف ہیں ، اور پہلا جزء صحیح احادیث کے مخالف ہے، ہاں دوسرے حصے کے صحیح شواہد ہیں )
حدیث نمبر: 719 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ران نماز کسی بھی چیز کے سامنے سے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری (رض) نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا : نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٨٩) (ضعیف) (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں ) وضاحت : ١ ؎ : یہاں دو حدیثیں ایک دوسرے کے معارض تو ہیں مگر دوسری حدیث ” نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی “ ضعیف ہے، اس لیے دونوں میں تطبیق کے لیے اب کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے، ہاں نماز ٹوٹ جانے سے مطلب باطل ہونا نہیں بلکہ خشوع و خضوع میں کمی واقع ہونا ہے، جمہور علماء نے یہی مطلب بیان کیا ہے، اور اسی معنی میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و اقوال کو لیا جائے گا جن سے یہ مروی ہے کہ ” نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی “۔
حدیث نمبر: 720 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ، قَالَ: مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ، ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے (تو بھی اسی طرح کرتے) ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی۔ سفیان نے ( اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی کے بجائے) ایک مرتبہ یوں نقل کیا : اور جب آپ اپنا سر اٹھاتے ، اور زیادہ تر سفیان نے : رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد کے الفاظ ہی کی روایت کی ہے، اور آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٣ (٧٣٥) ، ٨٤ (٧٣٦) ، ٨٥ (٧٣٨) ، ٨٦ (٧٣٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٧٦ (٢٥٥، ٢٥٦) ، سنن النسائی/الافتتاح ١ (٨٧٥) ، ٨٦ (١٠٢٦) ، والتطبیق ١٩ (١٠٥٨) ، ٢١ (١٠٦٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥ (٨٥٨) ، موطا امام مالک/الصلاة ٤(١٦) ، مسند احمد (٢ /٨، ١٨، ٤٤، ٤٥، ٤٧، ٦٢، ١٠٠، ١٤٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٥) ، ٧١ (١٣٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٨١٦، ٦٨٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 721 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ: وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہوجاتے، پھر آپ ﷺ الله أكبر کہتے، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے (رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہوجاتے، پھر آپ ﷺ سمع الله لمن حمده کہتے، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہوجاتی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٦٨١٦، ٦٩٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 722 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ، وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کرلیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ (چادر سے) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ١ ؎ کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے۔ محمد کہتے ہیں : میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا : یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں : اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٥ (٤٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٧٤، ١١٧٨٨) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الافتتاح ١١ (٨٩٠) ، الافتتاح ١٣٩ (١١٠٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣ (٨١٠) ، مسند احمد (٤/٣١٧، ٣١٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣٥ (١٢١٧) ، ٩٢ (١٣٩٧) (ولیس عند أحد ذکر رفع الیدین مع الرفع من السجود) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف کے سوا کسی کے یہاں بھی سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، اکثر علماء کے نزدیک مؤلف کی یہ روایت منسوخ ہے۔
حدیث نمبر: 723 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِيعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي، قَالَ: فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْر، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، فَقَالَ: هِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ، عَنْ ابْنِ جُحَادَةَ، لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
عبدالجبار بن وائل کہتے ہیں : مجھ سے میرے گھر والوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو تکبیر کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 725 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي، عَنْأَبِي، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے رفع یدین کیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوئے، اور آپ ﷺ کے دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے بالمقابل ہوئے پھر آپ ﷺ نے الله أكبر کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٦١) (ضعیف) (عبدالجبار کی اپنے والد سے روایت ثابت نہیں ہے، نیز کبر کا لفظ منکر ہے، کیونکہ تکبیر رفع الیدین کے پہلے ہوگی یا ساتھ میں، رفع الیدین کے بعد نہیں جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے )
حدیث نمبر: 724 حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وَحَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا : میں ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے ہیں ؟ (میں نے دیکھا) کہ رسول اللہ ﷺ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے بالمقابل ہوگئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑا، پھر جب آپ ﷺ نے رکوع کا ارادہ کیا تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی انہیں اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ اس جگہ پہ رکھا، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھایا، اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کو داہنی ران سے جدا رکھا اور دونوں انگلیوں (خنصر، بنصر) کو بند کرلیا اور دائرہ بنا لیا (یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) ۔ بشر بن مفضل بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے شیخ عاصم بن کلیب کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے، اور بشر نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا دائرہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الافتتاح ١١ (٨٩٠) ، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٣ (٨١٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٦، ٣١٧، ٣١٨، ٣١٩) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (٩٥٧ )
حدیث نمبر: 726 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
عاصم بن کلیب نے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پہنچے اور کلائی پر رکھا، اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں سخت سردی کے زمانہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، ان کے ہاتھ کپڑوں کے اندر ہلتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 727 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ: وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَاب
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رفع یدین کا بیان
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھایا، پھر میں (ایک زمانہ کے بعد) لوگوں کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ اپنے سینوں تک اٹھاتے اور حال یہ ہوتا کہ ان پر جبے اور چادریں ہوتیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ السہو ٣١ (١٢٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 728 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَى صُدُورِهِمْ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِمْ بَرَانِسُ وَأَكْسِيَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کا بیان
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں میں سردی کے موسم میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں (سردی کی وجہ سے) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 729 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّتَاءِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کا بیان
عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبر دی ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی (رض) کو رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابوقتادہ (رض) بھی تھے کہتے سنا : میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا : وہ کیسے ؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں آئے تھے۔ ابوحمید (رض) نے کہا : ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا : (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کیجئیے۔ ابوحمید (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہوجاتی، پھر آپ ﷺ قرآت کرتے، پھر الله أكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور سمع الله لمن حمده کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر الله أكبر کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر الله أكبر کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو الله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت الله أكبر کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے (پھر سلام پھیرتے) ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا : آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٧٨ (٣٠٤) ، سنن النسائی/التطبیق ٦ (١٠٤٠) ، والسہو ٢ (١١٨٢) ، ٢٩ (١٢٣٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥ (١٠٦١) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٢٤) سنن الدارمی/الصلاة ٧٠ (١٣٤٦) (كلهم مختصرًا من سياق المؤلف، وليس عند البخاري ذکر رفع اليدين ما سوى عند التحريمة) (صحیح )
حدیث نمبر: 730 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ فَوَاللَّهِ ؟ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: