কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ڈھیلے سے استنجاء کرنے کا بیان
خزیمہ بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٦ (٣١٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢١٣، ٢١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 41 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ: بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا، عمر (رض) پانی کا ایک کوزہ (کلھڑ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے پوچھا : عمر ! یہ کیا چیز ہے ؟ ، عمر (رض) نے جواب دیا : آپ کے وضو کا پانی، آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت (واجبہ) بن جائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٠ (٣٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩٥) (ضعیف) (عبداللہ التوأم ضعیف ہیں، نیز سختیانی نے ان کی مخالفت کی ہے، سختیانی نے اس کو ابن عباس (رض) کی حدیث سے دوسرے سیاق میں روایت کی ہے (مؤلف : اطعمہ، باب : ١١) ، (ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود : ١/٢٦ )
حدیث نمبر: 42 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى التَّوْأَمُ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ التَّوْأَمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عُمَرُ ؟. فَقَالَ: هَذَا مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ، قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ ﷺ کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ ﷺ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ١٥ (١٥٠) ، ١٦ (١٥١) ، ١٧ (١٥٢) ، ٥٦ (٢١٧) ، الصلاة ٩٣ (٥٠٠) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢١ (٢٧٠، ٢٧١) ، سنن النسائی/الطھارة ٤١ (٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 43 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَمَعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَهُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ السِّدْرَةِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فيه رجال يحبون أن يتطهروا ١ ؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/التفسیر ١٠ (٣١٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٨ (٣٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں “ (التوبہ : ١٠٨ )
حدیث نمبر: 44 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءٍ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا سورة التوبة آية 108، قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجے کے بعد زمین پر رگڑ کر ہاتھ صاف کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ ﷺ پاکی حاصل کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کی روایت میں ہے : پھر آپ ﷺ اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ ﷺ اس سے وضو کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٩ (٣٥٨) ، ٦١ (٤٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٨٦) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة (١٥/٧٠٣) ، مسند احمد (٢/٣١١، ٤٥٤) (حسن )
حدیث نمبر: 45 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهَذَا لَفْظُهُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْمُخَرَّمِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ، فَاسْتَنْجَى، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ، فَتَوَضَّأَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٢) ، سنن النسائی/الطھارة ٧ (٧) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٧ (٢٨٧) ، موطا امام مالک/الطھارة ٣٢ (١١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٧٣) ، وقد أخرجہ : خ/الجمعة ٨ (٨٨٧) ، التمني ٩ (٧٢٤٠) ، سنن الترمذی/الطہارة ١٨(٢٢) ، حم (٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٦٠، ٥١٧، ٥٣١ ) ، سنن الدارمی/الطھارة ١٨ (٧١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 46 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان
زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو ہر نماز کے وقت انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ابوسلمہ (ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں : میں نے زید بن خالد (رض) کو دیکھا کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کے کان پر ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم لگا رہتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے (پھر کان کے اوپر رکھ لیتے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٨ (٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٦٦) ، مسند احمد (٤/١١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 47 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَرَأَيْتُ زَيْدًا يَجْلِسُ فِي الْمَسْجِدِ وَإِنَّ السِّوَاكَ مِنْ أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ، فَكُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا : آپ بتائیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب (خواہ وہ باوضو ہوں یا بےوضو) کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر (رض) نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا، خواہ آپ ﷺ وضو سے ہوں یا بےوضو، پھر جب آپ ﷺ پر یہ حکم دشوار ہوا، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا۔ عبداللہ بن عمر (رض) کا خیال تھا کہ ان کے پاس (ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی) قوت ہے، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٢٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ٣ (٦٨٤) (حسن )
حدیث نمبر: 48 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ تَوضُّؤَ ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا وَغَيْرَ طَاهِرٍ، عَمَّ ذَاكَ ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِيهِ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا وَغَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً، فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ رَوَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کرنے کا طریقہ
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) (رض) کہتے ہیں : (مسدد کی روایت میں ہے کہ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور سلیمان کی روایت میں ہے : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے اخ اخ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد نے کہا : حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کردیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٤) ، صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٤) ، سنن النسائی/الطھارة ٣ (٣) ، (تحفة الأشراف : ٩١٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤١٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 49 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ، وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: آهْ آهْ يَعْنِي يَتَهَوَّعُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلًا، وَلَكِنِّي اخْتَصَرْتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے شخص کی مسواک استعمال کرسکتا ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے، آپ ﷺ کے پاس دو آدمی تھے، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧١٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 50 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ هُوَ ابْنُ حَزْمٍ: قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک دھونے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کردیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٥٧٠) (حسن )
حدیث نمبر: 51 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ الْحَاسِبُ، حَدَّثَنِيكَثِيرٌ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ، فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ، ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا تعلق دین فطرت سے ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دس چیزیں دین فطرت ہیں ١ ؎: ١۔ مونچھیں کاٹنا، ٢۔ داڑھی بڑھانا، ٣۔ مسواک کرنا، ٤۔ ناک میں پانی ڈالنا، ٥۔ ناخن کاٹنا، ٦۔ انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ٧۔ بغل کے بال اکھیڑنا، ٨۔ ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ٢ ؎، ٩ ۔ پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا کہتے ہیں : مصعب نے کہا : میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٦١) ، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٧) ، سنن النسائی/الزینة ١ (٥٠٤٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے ، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء اور پیروی کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول : فبهداهم اقتده میں دیا ہے۔ ٢ ؎ : مسلم کی ایک روایت کے مطابق چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔ عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح کی روایت ابن عباس (رض) سے بھی مروی ہے، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے، اس میں ابن عباس (رض) نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ (رض) سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث محمد بن عبداللہ ابن مریم تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠٠٣، ١٠٣٥٠) ، وحدیث موسیٰ بن إسماعیل قد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٤) ، مسند احمد (٤/٢٦٤) (حسن) (ام المومنین عائشہ (رض) کی گذشتہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ خود اس کے اندر دو علتیں ہیں : اس کا راوی علی بن جدعان ضعیف ہے اور سلمہ نے عمار بن یاسر (رض) سے حدیث نہیں سنی ہے، اور موسیٰ کی روایت کے مطابق تو اس کے اندر ارسال کی علت بھی ہے )
حدیث نمبر:52 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ، قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ مُوسَى،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَاوُدُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَزَادَ وَالْخِتَانَ، قَالَ: وَالِانْتِضَاحَ، وَلَمْ يَذْكُرِ انْتِقَاصَ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: خَمْسٌ كُلُّهَا فِي الرَّأْسِ، وَذَكَرَ فِيهَا الْفَرْقَ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَوْلُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، نَحْوُهُ، وَذَكَرَ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَالْخِتَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٥) ، الجمعة ٨ (٨٨٩) ، التھجد ٩ (١١٣٦) ، صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٥) ، سنن النسائی/الطھارة ٢ (٢) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧ (٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٣٦) ، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٠، ٣٩٧) ، سنن الدارمی/الطھارة ٢٠ (٧١٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 53 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی، جب آپ ﷺ رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرتے پھر مسواک کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦١١١) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦) ، سنن النسائی/الافتتاح ٢٦٢ (١٣١٦) ، قیام اللیل ٢(١٦٠٢) ، ١٧(١٦٤٢) ، ١٨(١٦٥٢) ، ٤٢(١٧١٩) ، ٤٣ (١٧٢١، ١٧٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٣ (١١٩٠) ، مسند احمد (٦/٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر:54 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوضَعُ لَهُ وَضُوءُهُ وَسِوَاكُهُ، فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى ثُمَّ اسْتَاكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨١٩) ، مسند احمد (٦/١٢١، ١٦٠) (حسن) دون قوله : ” ولا نهار “
حدیث نمبر:55 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ، إِلَّا تَسَوَّكَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ ﷺ نے آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب ١ ؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورة ختم کے قریب ہوگئی، یا ختم ہوگئی، اس کے بعد آپ ﷺ نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا (یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ ﷺ مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ ﷺ آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورة ختم کردی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧) ، الأذان ٥٧ (٦٩٧) ، ٥٩ (٦٩٩) ، ٧٩ (٧٢٨) ، اللباس ٧١ (٥٩١٩) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣) ، سنن النسائی/الإمامة ٢١ (٨٠٣) ، ٢٢ (٨٠٥) ، الغسل ٢٩ (٤٤١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٤ (٩٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٨٧) ، وراجع حدیث رقم : (١٣٥٣، ١٣٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦٥) ، سنن الدارمی/الطہارة ٣ (٦٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں “ (سورۃ آل عمران : ١٩٠ )
حدیث نمبر: 56 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالی ہے
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے ؟ فرمایا : مسواک سے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٣) ، سنن النسائی/الطھارة ٨ (٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧ (٢٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٢، ١١٠، ١٨٢، ١٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 57 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فرضیت و اہمیت
ابوالملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر (رض) سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٠٤ (١٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢ (٢٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٤) ، مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ٢١ (٧١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 59 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فرضیت و اہمیت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی شخص بےوضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢(١٣٥) ، الحیل ٢ (٦٩٥٤) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢ (٢٢٥) ، سنن الترمذی/الطھارة ٥٦ (٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣١٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 60 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ.
তাহকীক: