কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کی ممانعت
حمید حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں اسی طرح چار سال تک رہنے کا موقع ملا تھا جیسے ابوہریرہ (رض) آپ ﷺ کی صحبت میں رہے تھے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے : چاہیئے کہ دونوں ایک ساتھ لپ سے پانی لیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٤٧ (٢٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٥٤، ١٥٥٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 81 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کی ممانعت
حکم بن عمرو یعنی اقرع سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٤٧ (٦٤) ، سنن النسائی/المیاہ ١١ (٣٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٤ (٣٧٣) ، (٣٧٤) ولفظه : ” عبدالله بن سرجس “ ، (تحفة الأشراف : ٣٤٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢١٣، ٥/٦٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مرد اور عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت اور جواز سے متعلق روایات میں تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو اس پانی پر محمول کیا جائے جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، اور جواز کی روایتوں کو اس پانی پر جو برتن میں بچا ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے۔
حدیث نمبر: 82 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کے پانی سے وضو کرنے کا بیان
قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک فرد مغیرہ بن ابی بردہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ (عبداللہ مدلجی نامی) ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٥٢ (٦٩) ، سنن النسائی/الطھارة ٤٧ (٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٨ (٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦١٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطھارة ٣(١٢) ، مسند احمد (٢/٢٣٧، ٣٦١، ٣٧٨) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥٣ (٧٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 83 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے وضو کرنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا : تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟ ، میں نے کہا : نبیذ، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٦٥ (٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٧ (٣٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٠٢) (ضعیف) (اس کے ایک راوی ابو زید مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 84 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: مَا فِي إِدَاوَتِكَ ؟ قَالَ: نَبِيذٌ. قَالَ: تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَوْ زَيْدٍ كَذَا، قَالَ شَرِيكٌ: وَلَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ لَيْلَةَ الْجِنِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے وضو کرنے کا بیان
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا : ليلة الجن (جنوں والی رات) میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠) ، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٤٦ (٣٢٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : رسول اللہ ﷺ کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے ، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ ابن مسعود (رض) نہیں تھے جیسا کہ مسلم اور ترمذی کے اندر سورة احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے ، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود (رض) آپ ﷺ کے ساتھ تھے ، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا اس موقع پر آپ ﷺ کے ہمراہ زبیر بن العوام (رض) تھے ، چھٹا واقعہ آپ ﷺ کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ ﷺ کے ہمراہ بلال بن الحارث (رض) تھے (ملاحظہ ہو : الکوکب الدری شرح الترمذی) ۔
حدیث نمبر: 85 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ مَعَهُ مِنَّا أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے وضو کرنے کا بیان
عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے : اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٠٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 86 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ، وَقَالَ: إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے وضو کرنے کا بیان
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کرسکتا ہے ؟ آپ نے کہا : نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٦٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 87 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ وَعِنْدَهُ نَبِيذٌ، أَيَغْتَسِلُ بِهِ ؟ قَالَ: لَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے
عبداللہ بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ وہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے، وہی ان کی امامت کرتے تھے، ایک دن انہوں نے فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر لوگوں سے کہا : تم میں سے کوئی امامت کے لیے آگے بڑھے، وہ قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو اور اس وقت نماز کھڑی ہوچکی ہو تو وہ پہلے قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہیب بن خالد، شعیب بن اسحاق اور ابوضمرۃ نے بھی اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، اور عروہ نے ایک مبہم شخص سے، اور اس نے اسے عبداللہ بن ارقم سے بیان کیا ہے، لیکن ہشام سے روایت کرنے والوں کی اکثریت نے اسے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے زہیر نے کیا ہے (یعنی عن رجل کا اضافہ نہیں کیا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٠٨ (١٤٢) ، سنن النسائی/الإمامة ٥١ (٨٥١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٤ (٦١٦) ، (تحفة الأشراف : ٥١٤١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ صلاة السفر ١٧ (٤٩) ، مسند احمد (٤/٣٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 88 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَمَعَهُ النَّاسُ وَهُوَ يَؤُمُّهُمْ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَقَامَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَالَ: لِيَتَقَدَّمْ أَحَدُكُمْ وَذَهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ الْخَلَاءَ وَقَامَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو ضَمْرَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ، وَالْأَكْثَرُ الَّذِينَ رَوَوْهُ عَنْ هِشَامٍ، قَالُوا كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس تھے، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم (قاسم بن محمد) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، یہ دیکھ کر وہ بولیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں (پاخانہ و پیشاب) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٦ (٥٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٦٩، ١٦٢٨٨) ، مسند احمد (٦/٤٣، ٥٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 89 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا أَخُو الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَجِيءَ بِطَعَامِهَا، فَقَامَ الْقَاسِمُ يُصَلِّي، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین چیزیں کسی آدمی کے لیے جائز نہیں : ایک یہ کہ جو آدمی کسی قوم کا امام ہو وہ انہیں چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، دوسرا یہ کہ کوئی کسی کے گھر کے اندر اس سے اجازت لینے سے پہلے دیکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اس کے گھر میں گھس گیا، تیسرا یہ کہ کوئی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے، جب تک کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہوجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٤٨ (٣٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣١ (٩٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٠) (ضعیف) (اس حدیث کا ایک راوی یزید ضعیف ہے ، نیز وہ سند میں مضطرب بھی ہوا ہے، ہاں اس کے دوسرے ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
حدیث نمبر: 90 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمُّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصُّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَنْظُرُ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ (وہ فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہوجائے ۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے : کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٨٧٩) (صحیح) (اس کے راوی یزید ضعیف ہے، ہاں شواہد کے سبب یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، البتہ دعاء والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی شاہد نہیں ہے )
حدیث نمبر: 91 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ وَلَا يَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المیاہ ١٣ (٣٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١ (٢٦٨) ، تحفة الأشراف (١٧٨٥٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٨ (٢٠١) ، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٦) ، سنن الترمذی/الطہارة ٤٢ (٥٦) ، مسند احمد (٦/١٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد تقریباً چھ سو پچیس (٦٢٥) گرام کا، اس اعتبار سے صاع تقریباً دو کلو پانچ سو گرام ہوا۔
حدیث نمبر: 92 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٢٤٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ٣ (٢٥٢) ، سنن النسائی/الطھارة ١٤٤ (٢٣١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١ (٢٦٩) ، مسند احمد (٣/٢٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 93 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے
عباد بن تمیم کی دادی ام عمارہ (ام عمارہ بنت کعب) (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ٥٩ (٧٤) (تحفة الأشراف : ١٨٣٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 94 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ جَدَّتِهِ وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرُ ثُلُثَيِ الْمُدِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں (عبداللہ بن جبر کے بجائے) ابن جبر بن عتیک ہے، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں حدثني جبر بن عبد الله. ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے يتوضأ بإناء يسع رطلين کے بجائے : يتوضأ بمكوك کہا ہے اور رطلين کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم ﷺ کا بھی صاع تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہذا اللفظ أبوداود و سنن الترمذی/الصلاة ٦٠٩ ولفظہ : یجزیٔ في الوضوء رطلان من ماء (تحفة الأشراف : ٩٦٢) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی سیٔ الحفظ راوی ہیں انہوں نے کبھی اس کو رسول اکرم ﷺ کے قول کی حیثیت سے روایت کیا ہے ، اور کبھی فعل کی حیثیت سے جب کہ اصل حدیث یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسة مکالي یا یتوضأ بالمد و یغتسل بالصاع کے لفظ سے صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح البخاری/الوضوء ٤٧ (٢٠١) ، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٥) ، سنن النسائی/الطھارة ٥٩ (٧٣) ، ١٤٤ (٢٣٠) ، والمیاہ ١٣ (٣٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٢) وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ١١٢، ١١٦، ١٧٩، ٢٥٩، ٢٨٢، ٢٩٠ )
حدیث نمبر: 95 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَسَعُ رَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ: وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَطْلَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: الصَّاعُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَهُوَ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف جائز نہیں
ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل (رض) نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا : اے اللہ ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا : میرے بیٹے ! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٢ (٣٨٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : طہارت میں حد سے تجاوز کا مطلب یہ ہے کہ وضو، غسل یا آب دست میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ” تحدید “ سے زیادہ بلا ضرورت پانی بہایا جائے، اور دعا میں حد سے تجاوز کا مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعائیں چھوڑ کر دوسروں کی تکلفات سے بھری، مقفی اور مسجّع دعائیں پڑھی جائیں، یا حد ادب سے تجاوز ہو، یا صلہ رحمی کے خلاف ہو، یا غیر شرعی خواہش ہو۔
حدیث نمبر: 96 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھی طرح وضو کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں (پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے) خشک تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٩ (٢٤١) ، سنن النسائی/الطھارة ٨٩ (١١١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٥ (٤٥٠) ، مسند احمد (٢/١٩٣، ٢٠١، ٢٠٥، ٢١١، ٢٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٣٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العلم ٣ (٦٠) ، ٣٠ (٩٦) ، بدون : أسبغوا ... ، (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایڑیاں اگر وضو میں خشک رہ جائیں گی تو جہنم میں جلائی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 97 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَوْمًا وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ: وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں پیتل کے ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٣٤٤) (ضعیف) ( حماد کے استاذ مجہول ہیں، نیز ہشام اور ام المؤمنین عائشہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، البتہ متن ثابت ہے )
حدیث نمبر: 98 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنِي صَاحِبٌ لِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَوْرٍ مِنْ شَبَهٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٧٣٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم، البتہ متن ثابت ہے )
حدیث نمبر: 99 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ایک پیتل کے پیالے میں آپ کے لیے پانی نکالا اور آپ ﷺ نے وضو کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٥ (١٩٧) ، صحیح مسلم/الطہارة ٧ (٢٣٥) ، سنن الترمذی/الطہارة ٢٤ (٣٢) ، سنن النسائی/الطہارة ٨٠ (٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦١ (٤٧١) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٨، ٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 100 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَسَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ.
তাহকীক: