কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فرضیت و اہمیت
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٣ (٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣ (٢٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٣) ، سنن الدارمی/الطھارة ٢٢ (٧١٤) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تحریم سے مراد ان سارے افعال کو حرام کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام کیا ہے، اسی طرح تحلیل سے مراد ان سارے افعال کو حلال کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نماز سے باہر حلال کیا ہے، یہ حدیث جس طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا دروازہ بند ہے جسے انسان وضو کے بغیر کھول نہیں سکتا اسی طرح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ اکبر کے علاوہ کسی اور دوسرے جملہ سے تکبیر تحریمہ نہیں ہوسکتی اور سلام کے علاوہ آدمی کسی اور چیز کے ذریعہ نماز سے نکل نہیں سکتا۔
حدیث نمبر: 61 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو پر وضو کرنا
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا (اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے ؟ ) انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٤٤ (٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٣ (٥١٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٩٠) (ضعیف) (اس سند میں عبدالرحمن ضعیف ہیں اور ابوغطیف مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 62 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ يَحْيَى أَتْقَنُ، عَنْ غُطَيْفٍ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا نُودِيَ بِالظُّهْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّى، فَلَمَّا نُودِيَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَهُوَ أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے احکام
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں (اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں) تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا (یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی) ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ٤٣ (٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٧٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطھارة ٥٠ (٣٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٥ (٥١٧، ٥١٨) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥٥ (٧٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوگا ، ( الایہ کہ اس کا رنگ ، بو ، اور مزہ بدل جائے) دو قلہ کی مقدار (٥٠٠) عراقی رطل ہے اور عراقی رطل (٩٠) مثقال کے برابر ہوتا ہے، انگریزی پیمانے سے دو قلہ کی مقدار تقریباً دو کو ئنٹل کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 63 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ الْعَلَاءِ، وقَالَ عُثْمَانُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ الصَّوَابُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے احکام
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جنگل و بیابان میں موجود پانی کے بارے میں سوال کیا گیا، پھر سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الطہارة ٥٠ (٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٥ (٥١٧، ٥١٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٠٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 64 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے احکام
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی جب دو قلہ کے برابر ہوجائے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے (اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٧٣٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 65 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیئر بضاعہ کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا : کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٤٩ (٦٦) ، سنن النسائی/المیاہ ١ (٣٢٧، ٣٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٥، ١٦، ٣١، ٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 66 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیئر بضاعہ کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ١ ؎ سے آپ ﷺ کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا : پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا : اور جب کم ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے جواباً کہا : تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض (٦) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا : کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بئر بضاعہ : مدینہ نبویہ میں مسجد نبوی سے جنوب مغرب میں واقع کنواں تھا، اس وقت یہ جگہ مسجد نبوی کی توسیع جدید میں مسجد کے اندر داخل ہوچکی ہے۔
حدیث نمبر: 67 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَالُ لَهُ: إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا. قَالَ: أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ، قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ ؟ قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ، وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ، فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ، هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: لَا. وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے استعمال سے پانی ناپاک نہیں ہوتا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے (چلو سے پانی لے لے کر) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ناپاک تھی (اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٤٨ (٦٥) ، سنن النسائی/المیاہ (٣٢٦) بلفظ : ” لا ینجسہ شيء “ ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٣ (٣٧٠، ٣٧١) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٤٨، ٣٠٨، ٣٣٧) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥٧ (٧٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی غسل جنابت کے بعد بچا ہوا پانی پاک ہوتا ہے اور اس میں چھینٹیں پڑنے سے اس کی پاکی متأثر نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 68 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٥٢٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٨ (٢٣٩) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢٨ (٢٨١، ٢٨٢) ، سنن الترمذی/الطہارة ٥١ (٦٨) ، سنن النسائی/الطھارة ٤٦ (٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٥ (٣٤٣) ، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٤٦، ٣٦٢، ٤٦٤) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥٤ (٧٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 69 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں جنابت کا غسل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٥ (٣٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٣٣) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 70 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلَا يَغْتَسِلُ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کے جھوٹے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی اسی طرح محمد سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٥٢٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٢) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢٧ (٢٧٩) ، سنن الترمذی/الطھارة ٦٨ (٩١) ، سنن النسائی/الطھارة ٥١ (٦٣) ، المیاہ ٦ (٣٣٤) ، ٧ (٣٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣١ (٣٦٣، ٣٦٤) ، موطا امام مالک/الطھارة ٦، (٣٥) ، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٦٥، ٢٧١، ٣١٤، ٣٦٠، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٤٠، ٤٨٠، ٤٨٢، ٥٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 71 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مِرَارٍ، أُولَاهُنَّ بِتُرَابٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَيُّوبُ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کے جھوٹے کا بیان
محمد (ابن سیرین) ابوہریرہ (رض) سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، لیکن ان دونوں (حماد بن زید اور معتمر) نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ : جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو ایک بار دھویا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث محمد بن عبید تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (١٤٤٢٦) ، وحدیث مسدد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ٦٨ (٩١) ، تحفة الأشراف (١٤٤٢٦، ١٤٤٥١) ، وقد أخرجہ : حم (٢/٤٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 72 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ، وَزَادَ: وَإِذَا وَلَغَ الْهِرُّ غُسِلَ مَرَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کے جھوٹے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ، ساتویں بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوصالح، ابورزین، اعرج، ثابت احنف، ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمٰن نے بھی اسے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المیاہ ٧ (٣٣٨) (تحفة الأشراف : ١٤٤٩٥) (صحیح) لکن قوله : السابعة بالتراب شاذ ( ساتویں بار مٹی کے الفاظ شاذ ہیں )
حدیث نمبر: 73 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، السَّابِعَةُ بِالتُّرَابِقَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَمَّا أَبُو صَالِحٍ، وَأَبُو رَزِينٍ، وَالْأَعْرَجُ، وَثَابِتٌ الْأَحْنَفُ،وَهَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ، وَأَبُو السُّدِّيِّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، رَوَوْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا التُّرَابَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کے جھوٹے کا بیان
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا : لوگوں کو ان سے کیا سروکار ؟ ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی، اور فرمایا : جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٢٧ (٢٨٠) ، سنن النسائی/الطھارة ٥٣ (٦٧) المیاہ ٧ (٣٣٧، ٣٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣١ (٣٦٥) ، الصیدا (٣٢٠٠، ٣٢٠١) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٦٥) ، وقد أخرجہ : حم (٤/٨٦، ٥/٥٦) ، سنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں سابق حکم کی منسوخی اور کتوں کے قتل سے باز رہنے کی دلیل ہے۔
حدیث نمبر: 74 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ ابْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ مَا لَهُمْ وَلَهَا، فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالثَّامِنَةُ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلی کے جھوٹے کا بیان
کبشۃ بنت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے ۔ وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں۔ وہ کہتی ہیں : ابوقتادہ (رض) اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کردیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں : پھر ابوقتادہ (رض) نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا : میری بھتیجی ! کیا تم تعجب کرتی ہو ؟ میں نے کہا : ہاں، ابوقتادہ (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٦٩ (٩٢) ، سنن النسائی/الطھارة ٥٤ (٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٢ (٣٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٤١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطہارة ٣(١٣) ، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥٨ (٧٦٣) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی رات دن گھر میں رہتی ہے اس لئے پاک کردی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 75 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ، فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلی کے جھوٹے کا بیان
داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ (ایک قسم کا کھانا) دے کر ام المؤمنین عائشہ (رض) کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، عائشہ (رض) نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا (میں نے کھانا رکھ دیا) ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی، جب ام المؤمنین عائشہ (رض) نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ ناپاک نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے ، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (١٧٩٧٩) وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٢ (٣٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 76 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَتْهَا تُصَلِّي، فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيهَا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٦ (٢٩٩) ، سنن النسائی/الغسل ٩ (٤١١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٨٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٥ (٣٧٦) ، مسند احمد (٦/١٧١، ٢٦٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ٦٨ (٧٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 77 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان
ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٦ (٣٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٦٦، ٣٦٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 78 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ خَرَّبُوذَ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتْ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ وضو کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث مسدد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٥٨١) ، وحدیث عبداللہ بن مسلمة، آخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٣ (١٩٣) ، وليس فيه : ” من الإناء الواحد “ ، سنن النسائی/الطھارة ٥٧ (٧١) المیاہ ١٠ (٣٤١، ٣٤٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٦ (٣٨١) ، موطا امام مالک/الطھارة ٣(١٥) ، مسند احمد (٢/٤، ١٠٣) ، تحفة الأشراف (٨٣٥٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 79 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں (باری باری) ڈالتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٢١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 80 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَتَوَضَّأُ نَحْنُ وَالنِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نُدْلِي فِيهِ أَيْدِيَنَا.
তাহকীক: