কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں جریر نے كان لا يستتر من بوله کہا ہے، اور ابومعاویہ نے يستتر کی جگہ يستنزه وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا کا لفظ ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الطہارة ٥٥ (٢١٦) ، الادب ٤٩ (٦٠٥٥) ، سنن النسائی/ الجنائز ١١٦ (٢٠٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 21 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ. وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: يَسْتَنْزِهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا بیان
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں : میں اور عمرو بن العاص (رض) دونوں نبی اکرم ﷺ کی طرف چلے تو (دیکھا کہ) آپ ﷺ (باہر) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ ﷺ نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا : آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا ؟ ان میں سے جب کسی شخص کو (اس کے جسم کے کسی حصہ میں) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور نے ابو وائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ (رض) سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابو وائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ٢٦ (٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٦ (٣٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 22 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِهَا ثُمَّ بَالَ، فَقُلْنَا: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ، فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَنْصُورٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: جِلْدِ أَحَدِهِمْ. وقَالَ عَاصِمٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَسَدِ أَحَدِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑے خانہ (گھور) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ١ ؎ پھر پانی منگوایا (اور وضو کیا) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ (رض) نے کہا : میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ ﷺ نے مجھے (قریب) بلایا (میں آیا) یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کی ایڑیوں کے پاس (کھڑا) تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٠ (٢٢٤) ، ٦١ (٢٢٥) ، ٦٢ (٢٢٦) ، المظالم ٢٧ (٢٤٧١) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢٢ (٢٧٣) ، سنن الترمذی/الطھارة ٩ (١٣) ، سنن النسائی/الطھارة ١٧ (١٨) ، ٢٤ ( ٢٦، ٢٧، ٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣ (٣٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٩٤) ، سنن الدارمی/الطھارة (٩/٦٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ نے یا تو یہ کام جواز کے بیان کے لئے کیا ، یا وہ جگہ ایسی تھی جہاں بیٹھنا مناسب نہیں تھا ، کیونکہ بیٹھنے میں وہاں موجود نجاست سے آپ ﷺ کے ملوث ہونے کا احتمال تھا ، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ آپ ﷺ کے گھٹنے میں کوئی بیماری تھی جس کے سبب آپ نے ایسا کیا ، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 23 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَفْصٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَذَهَبْتُ أَتَبَاعَدُ، فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت کسی برتن میں پیشاب کر کے رکھ چھوڑنا
امیمہ بنت رقیقہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ (رہتا) تھا، جس میں آپ ﷺ رات کو پیشاب کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ٢٨ (٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 24 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب کے ممنوعہ مقامات
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لعنت کے دو کاموں سے بچو ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٢٠ (٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٧٨) ، وقد أخرجہ : حم (٢/٣٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد وہ سایہ ہے جہاں لوگ آرام کرتے ہوں یا لوگوں کے عام راستہ میں ہو ، نہ کہ ہر سایہ مراد ہے۔
حدیث نمبر: 25 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ، قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب کے ممنوعہ مقامات
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لعنت کی تین چیزوں سے بچو : مسافروں کے اترنے کی جگہ میں، عام راستے میں، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢١ (٣٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٠) (حسن )
حدیث نمبر: 26 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، وَحَديِثُهُ أَتَمُّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَانَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالظِّلِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل خانہ میں پیشاب کرنا
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے ۔ احمد کی روایت میں ہے : پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٧ (٢١) ، سنن النسائی/الطھارة ٣٢ (٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢ (٣٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٤٨) ، وقد أخرجہ : حم (٥/٥٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 27 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِيأَشْعَثُ، وَقَالَ الْحَسَنُ،عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ، قَالَ أَحْمَدُ: ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل خانہ میں پیشاب کرنا
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ (رض) آپ ﷺ کی صحبت میں رہے، اس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٤٧ (٢٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٠، ١١١، ٥/٣٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 28 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: لَقِيتُرَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کے بل میں پیشاب کرنے کی ممانعت
عبدللہ بن سرجس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا : کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے ؟ انہوں نے کہا : کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت (گھر) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ٣٠ (٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٢٢) ، مسند احمد (٥/٨٢) (ضعیف) (قتادة مدلس ہیں، اور انہوں نے ابن سرجس سے سنا نہیں ہے) (ضعيف أبي داود : 8، والإرواء : 55، وتراجع الألباني : 131 )
حدیث نمبر: 29 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْجُحْرِ، قَالَ: قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ ؟ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء سے نکلنے کی دعائ
ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے تو فرماتے تھے : غفرانک اے اللہ ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٥ (٧) ، سنن النسائی/الکبری (٩٩٠٧) ، الیوم واللیلة (٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠ (٣٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٩٤) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة (١٧/٧٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 30 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣) ، ١٩ (١٥٤) ، الأشربة ٢٥ (٥٦٣٠) ، صحیح مسلم/الطھارة ١٨ (٢٦٧) ، سنن الترمذی/الطھارة ١١ (١٥) ، سنن النسائی/الطھارة ٢٣ (٢٤ ، ٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٥ (٣١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٠، ٣١٠) ، سنن الدارمی/الطھارة (١٣/٧٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 31 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلَا يَشْرَبْ نَفَسًا وَاحِدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے
حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ (رض) نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٧٩٤) ، مسند احمد (٦/٢٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 32 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ يَعْنِي الْإِفْرِيقِيَّ، عَنْعَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، وَمَعْبَدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ، وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء 31 (١٦٨) ، الصلاة ٤٧ (٤٢٦) ، الجنائز ١٠ (١٢٥٥) ، الأطمعة ٥ (٥٣٨٠) ، اللباس ٣٨ (٥٨٥٤) ، اللباس 77 (٥٩٢٦) ، صحیح مسلم/الطہارة ١٩ (٢٦٨) ، سنن الترمذی/الجمعة ٧٥ (٦٠٨) ، سنن النسائی/الطہارة ٩٠ (١١٢) ، وفي الزینة برقم : (٥٠٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٢ (٤٠١) ، مسند احمد (٦/١٧٠، ٢٦٥) (صحیح) (وأبو معشر هو زياد بن کليب )
حدیث نمبر: 33 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَطَعَامِهِ، وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ، وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٩٤٣) ، مسند احمد (٦/٢٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 34 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بُزَيْعٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص (استنجاء کے لیے) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ١ ؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں (حصین حبرانی کی جگہ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں (ابوسعید کی جگہ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوسعید الخیر نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٣ (٣٣٨) ، الطب ٦ (٣٤٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٣٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضو ٢٦ (١٦٢) ، صحیح مسلم/الطہارة ٨ (٢٣٧) سنن النسائی/الطھارة ٧٢ (٨٨) ، موطا امام مالک/الطھارة ١(٢) ، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٣٧، ٣٠٨، ٤٠١، ٣٧١) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥ (٦٨٩) (ضعیف) (حصین اور ابوسعید الخیر الحبرانی مجہول راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : شیطان کے کھیلنے سے یہ مقصود ہے کہ اگر آڑ نہ ہوگی تو پیچھے سے آ کر کوئی جانور اسے ایذا پہنچا دے گا ، یا بےپردگی کی حالت میں دیکھ کر کوئی آدمی آ کر اس کا ٹھٹھا و مذاق اڑائے گا۔
حدیث نمبر: 35 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنِ الْحُصَيْنِ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ مَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں
شیبان قتبانی کہتے ہیں کہ مسلمہ بن مخلد نے (جو امیر المؤمنین معاویہ (رض) کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے) رویفع بن ثابت (رض) کو (مصر کے) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا، شیبان کہتے ہیں : تو ہم ان کے ساتھ کو م شریک ١ ؎ سے علقماء ١ ؎ کے لیے یا علقماء سے کو م شریک کے لیے روانہ ہوئے، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے، رویفع بن ثابت نے (راستے میں مجھ سے) کہا : رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہوگا اس کا نصف (آدھا) تجھے دوں گا اور نصف (آدھا) میں لوں گا، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : رویفع ! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کردینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ٢ ؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا محمد ﷺ اس سے بری ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة ١٢ (٥٠٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥١، ٣٦١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٨، ١٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” کو م شریک “ اور ” علقماء “ مصر میں دو جگہوں کے نام ہیں۔ ٢ ؎ : داڑھی کو گرہ دینا ، یا بالوں کو موڑ کر گھونگریالے بنانا ، یا نظر بد سے بچنے کے لئے جانوروں کے گلوں میں تانت کا گنڈا ڈالنا ، زمانہ جاہلیت میں رائج تھا ، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے ان چیزوں سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 36 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ الْمِصْرِيَّ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ شَيْبَانَ الْقِتْبَانِيِّ، قَالَ: إِنَّ مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ اسْتَعْمَلَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ عَلَى أَسْفَلِ الْأَرْضِ، قَالَ شَيْبَانُ: فَسِرْنَا مَعَهُ مِنْ كَوْمِ شَرِيكٍ إِلَى عَلْقَمَاءَ، أَوْ مِنْ عَلْقَمَاءَ إِلَى كُومِ شَرِيكٍ يُرِيدُ عَلْقَامَ. فَقَالَ رُوَيْفِعٌ: إِنْ كَانَ أَحَدُنَا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيَأْخُذُ نِضْوَ أَخِيهِ عَلَى أَنَّ لَهُ النِّصْفَ مِمَّا يَغْنَمُ وَلَنَا النِّصْفُ. وَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَطِيرُ، لَهُ النَّصْلُ وَالرِّيشُ وَلِلْآخَرِ الْقِدْحُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ بَرِيءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں
ابوسالم جیشانی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو (رض) سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ (مصر میں) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : الیون کا قلعہ فسطاط (مصر) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٨٦٥١ ، ٣٦١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 37 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَذْكُرُ ذَلِكَ وَهُوَ مَعَهُ مُرَابِطٌ بِحِصْنِ بَابِ أَلْيُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حِصْنُ أَلْيُونَ بِالْفِسْطَاطِ عَلَى جَبَلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ شَيْبَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يُكْنَى أَبَا حُذَيْفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں
ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١٧ (٢٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٤٣، ٣٨٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 38 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه يَقُولُ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : آپ اپنی امت کو ہڈی، لید (گوبر، مینگنی) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ہڈی جنوں کی اور لید ان کے جانوروں کی خوراک ہے ، اور کوئلے سے وہ روشنی کرتے ، یا اس پر کھانا پکاتے ہیں ، اسی واسطے اس کو بھی روزی میں داخل کیا۔
حدیث نمبر: 39 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا، قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ڈھیلے سے استنجاء کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ٤٠ (٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٧٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠٨، ١٣٣) ، سنن الدارمی/الطھارة ١١ (٦٩٧) (حسن )
حدیث نمبر: 40 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ.
তাহকীক: