আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৪ টি

হাদীস নং: ৩৭০৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب (رض) کہا جاتا تھا، اس نے کہا : اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ ﷺ سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا : یعنی نبی اکرم ﷺ کا قول نقل کیا : یہ اس دن ہدایت پر ہوگا ، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان (رض) ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا : وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا : ہاں وہ یہی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٢٤٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (111) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3704
حدیث نمبر: 3704 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عثمان ! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ١ ؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا ، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١١) (تحفة الأشراف : ١٧٦٧٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس کرتے سے مراد خلعت خلافت ( خلافت کی چادر ) ہے ، مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیونکہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے ، اللہ کے رسول کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان (رض) نے شہادت کا جام پی لیا۔ لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (112) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3705
حدیث نمبر: 3705 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا،‏‏‏‏ فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا : یہ کون شیخ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر (رض) ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا : میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان (رض) احد کے دن بھاگے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، پھر اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، پھر اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، تمہارے انہوں نے کہا : ہاں، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ١ ؎، اس پر ابن عمر (رض) نے اس سے کہا : آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں : رہا ان (عثمان) کا احد کے دن بھاگنا ٢ ؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کردیا اور بخش دیا ہے ٣ ؎ اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا : تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہوگا ، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان (رض) کی جگہ رسول اللہ ﷺ اسی کو بھیجتے، رسول اللہ ﷺ نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ عثمان کا ہاتھ ہے ، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے ، تو ابن عمر (رض) نے اس سے کہا : اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ١٤ (٣١٣٠) (بعضہ) وفضائل الصحابة ٧ (٣٦٩٨) ، والمغازي ١٩ (٤٠٦٦) (تحفة الأشراف : ٧٣١٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ شیعی آدمی تھا جو عثمان (رض) سے بغض رکھتا تھا ، اسی لیے ان تینوں باتوں پر اللہ اکبر کہا ، یعنی : جب ان میں یہ تینوں عیب ہیں تو لوگ ان کی فضیلت کے کیوں قائل ہیں۔ ٢ ؎ : یہ اشارہ ہے غزوہ احد سے ان بھاگنے والوں کی طرف جو جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کے بعد میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے ، ان میں عثمان (رض) بھی تھے۔ ٣ ؎ : اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی اس آیت میں نازل کی تھی «ولقد عفا اللہ عنهم إن اللہ غفور حليم» (سورة آل عمران : 155 ) پوری آیت اس طرح ہے «إن الذين تولوا منکم يوم التقی الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنهم إن اللہ غفور حليم» یعنی : تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تھی ، یہ لوگ اپنے بعض گناہوں کے باعث شیطان کے بہکاوے میں آ گئے ، لیکن یقین جانو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ، اللہ تعالیٰ ہے ہی بخشنے والا اور تحمل والا ( آل عمران : 155 ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3706
حدیث نمبر: 3706 حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ قُرَيْشٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ ابْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ،‏‏‏‏ أَوْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ ،‏‏‏‏ وَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلُفَ عَلَيْهَا وَكَانَتْ عَلِيلَةً، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:‏‏‏‏ هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ،‏‏‏‏ وَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ لِعُثْمَانَ،‏‏‏‏ قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں کہتے تھے : ابوبکر، عمر، اور عثمان ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٤ (٣٦٥٥) ، و ٧ (٣٦٩٧) ، سنن ابی داود/ السنة ٨ (٤٦٢٧) (تحفة الأشراف : ٧٨٢٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان کا ذکر آتا تو ہم اسی ترتیب سے ان کا نام لیتے تھے پہلے نمبر پر ابوبکر کا نام رکھتے تھے ، پھر عمر کا پھر عثمان کا ( (رض) ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6076) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3707
حدیث نمبر: 3707 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا : اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا (یہ بات آپ نے عثمان (رض) کے متعلق کہی) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عمر (رض) کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٣٨٣) (حسن الإسناد) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3708
حدیث نمبر: 3708 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ الْبُرْجُمِيِّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا مَظْلُومًا لِعُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو ؟ آپ نے فرمایا : یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کردیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ١ ؎، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ (رض) کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٩٤٣) (موضوع) (سند میں محمد بن زیاد الیشکری الطحان کذاب ہے) وضاحت : ١ ؎ : اور اس سند میں یہی محمد بن زیاد ہیں ، ان کی نسبت ہی میمونی ہے۔ قال الشيخ الألباني : موضوع، الضعيفة (1967) // ضعيف الجامع الصغير (2073) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3709
حدیث نمبر: 3709 حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَاكَ تَرَكْتَ الصَّلَاةَ عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ كَانَ يَبْغَضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ جِدًّا، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ،‏‏‏‏ وَيُكْنَى:‏‏‏‏ أَبَا الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ ثِقَةٌ،‏‏‏‏ يُكْنَى:‏‏‏‏ أَبَا سُفْيَانَ شَامِيٌّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے“، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَلَا يَدْخُلَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان (رض) نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٣) (تحفة الأشراف : ٩٨٤٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس عہد سے مراد یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ تم کو ایک کرتا پہنائے گا ، لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں گے ، تو مت اتارنا ، ( اس سے خلافت کا کرتا مراد ہے ) اسی لیے عثمان شہید (رض) ہوگئے مگر خلافت سے دستبردار نہیں ہوئے کیونکہ آپ بفرمان رسالت مآب حق پر تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (113) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3711
حدیث نمبر: 3711 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِيأَبُو سَهْلَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (لشکر) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی (رض) کو مقرر کیا، چناچہ وہ اس سریہ (لشکر) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کرلیا ١ ؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چناچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیرلیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیرلیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو ؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو ؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ١ ؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٠٨٦١) ، و مسند احمد (٤/٤٣٧-٤٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ لونڈی مال غنیمت میں سے تھی ، تو لوگوں نے اس لیے اعتراض کیا کہ ابھی مال غنیمت کی تقسیم تو عمل میں آئی نہیں ، اس لیے یہ مال غنیمت میں خردبرد کے ضمن میں آتا ہے ، یا اس لیے اعتراض کیا کہ مال غنیمت کی لونڈیوں میں ضروری ہے کہ پہلے ایک ماہواری سے ان کے رحم کی صفائی ہوجائے ، اور علی (رض) نے ایسا نہیں کیا ہے ، یہ بات تو علی (رض) سے بالکل بعید ہے کہ استبراء رحم ( رحم کی صفائی ) سے پہلے لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھیں ، ہوا یہ ہوگا کہ ایک دو دن کے بعد ہی وہ ماہواری سے فارغ ہوئی ہوگی ، تو اب مزید ماہواری کی تو ضرورت تھی نہیں۔ ٢ ؎ : اس جملہ سے اہل تشیع کا یہ استدلال کرنا کہ علی (رض) سارے صحابہ سے افضل ہیں درست نہیں ہے کیونکہ کچھ اور صحابہ بھی ہیں جن کے متعلق آپ نے یہی جملہ کہا ہے ، مثلاً جلیبیب کے متعلق آپ نے فرمایا : «ہذا منی و أنا منہ» اسی طرح اشعریین کے بارے میں آپ نے فرمایا : «فہم منی و أنا منہم» یہ دونوں روایتیں صحیح مسلم کی ہیں ، مسند احمد میں ہے : آپ ﷺ نے بنی ناجیہ کے متعلق فرمایا : «أنا منہم وہم منی»۔ نیز اس سے یہ استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ علی مجھ سے ہیں کا مطلب ہے : علی آپ کی ذات ہی میں سے ہیں ، اس سے مراد ہے : نسب۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2223) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3712
حدیث نمبر: 3712 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا،‏‏‏‏ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ،‏‏‏‏ فَأَصَابَ جَارِيَةً،‏‏‏‏ فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ،‏‏‏‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ،‏‏‏‏ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے
ابوسریحہ یا زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٣٢٩٩) ، و ٣٦٦٧) ، و مسند احمد (٤/٣٦٨، ٣٧٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : آپ ﷺ کے اس فرمان : «من کنت مولاہ فعلی مولاہ» کا ایک خاص سبب ہے ، کہا جاتا ہے کہ اسامہ (رض) نے جب علی (رض) سے یہ کہا : « لست مولای إنما مولای رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں تو اسی موقع پر آپ ﷺ نے «من کنت مولاہ فعليّ مولاہ» کہا ، امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد «ولاء الإسلام» یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چارگی ہے ، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی (رض) نبی اکرم ﷺ کے بعد اصل خلافت کے حقدار تھے ، صحیح نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1750) ، الروض النضير (171) ، المشکاة (6082) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3713
حدیث نمبر: 3713 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کردی اور مجھے دارلہجرۃ (مدینہ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے (خرید کر) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ (اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ٣- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١٠٧) (ضعیف) (سند میں مختار بن نافع ضعیف اور ساقط راوی ہیں، الضعیفة ٢٠٩٤) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، الضعيفة (2094) ، المشکاة (6125) // ضعيف الجامع الصغير (3095) بأتم من هنا // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3714
حدیث نمبر: 3714 حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ،‏‏‏‏ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ،‏‏‏‏ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ،‏‏‏‏ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَمَا لَهُ صَدِيقٌ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب (رض) نے «رحبیہ» (مخصوص بیٹھک) میں بیان کیا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے گروہ قریش ! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا : وہ کون شخص ہے ؟ اللہ کے رسول ! اور آپ سے ابوبکر (رض) نے بھی پوچھا : وہ کون ہے اللہ کے رسول ؟ اور عمر (رض) نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی (رض) کو اپنا جوتا دے رکھا تھا، وہ اسے ٹانک رہے تھے، (راوی کہتے ہیں) پھر علی (رض) ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، ٢- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ٣- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں : میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا : منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجھاد ١٣٦ (٢٧٠٠) ، وانظر أیضا حدیث رقم ٢٦٦٠ (تحفة الأشراف : ١٠٠٨٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا آخری لفظ ” من کذب … “ دیگر سندوں سے صحیح متواتر ہے، ملاحظہ ہو : حدیث نمبر (٢٦٦٠، اور ٢٦٥٩، اور ٢٦٦١) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد، لکن الجملة الأخيرة منه صحيحة متواترة انظر الحديث (2796) // صحيح سنن الترمذي - باختصار السند - (2141 / 2809) ، وصحيح سنن النسائي - باختصار السند - 2141 - 2809) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3715
حدیث نمبر: 3715 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، بِالرَّحَبَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَاءِ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْكَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا،‏‏‏‏ وَإِخْوَانِنَا،‏‏‏‏ وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا،‏‏‏‏ فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ بِالسَّيْفِ عَلَى الدِّينِ، ‏‏‏‏‏‏قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَى الْإِيمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَمِعْت الْجَارُودَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الْإِسْلَامِ كَذْبَةً، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے علی سے فرمایا : تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي، ولیس في بعض النسخ) (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3716
حدیث نمبر: 3716 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ إِسْرَائِيلَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ:‏‏‏‏ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی (رض) سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ٢- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢٦٤) (ضعیف جداً ) (سند میں ابو ہارون العبدی متروک راوی ہے) قال الشيخ الألباني : (حديث أبو سعيد) ضعيف الإسناد جدا، (حديث المساور الحميري عن أمه) ضعيف (حديث المساور الحميري عن أمه) ، المشکاة (6091) // ضعيف الجامع الصغير (6330) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3717
حدیث نمبر: 3717 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا كُنَّا لَنَعْرِفُ الْمُنَافِقِينَ نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي أَبِي هَارُونَ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا : علی انہیں میں سے ہیں ، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے اور باقی تین : ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٩) (تحفة الأشراف : ٢٠٠٨) ، و مسند احمد (٥/٣٥٦) (ضعیف) (سند میں ابو ربیعہ ایادی لین الحدیث، اور شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (149) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (28) ، ضعيف الجامع الصغير (1566) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3718
حدیث نمبر: 3718 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ،‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَلِيٌّ مِنْهُمْ يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِقْدَادُ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حبشی بن جنادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٩) (تحفة الأشراف : ٣٢٩٠) ، و مسند احمد (٤/١٦٤، ٩٥) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ اور ابواسحاق سبیعی مدلس وصاحب اختلاط راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ١٩٨٠، وتراجع الالبانی ٣٧٨) وضاحت : ١ ؎ : اہل عرب کا یہ طریقہ تھا کہ نقض عہد یا صلح کی تنفیذ کا اعلان جب تک قوم کے سردار یا اس کے کسی خاص قریبی فرد کی طرف سے نہ ہوتا وہ اسے قبول نہ کرتے تھے ، اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر (رض) کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا اور پھر بعد میں اللہ کے اس فرمان «إنما المشرکون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا» (سورة التوبة : 28 ) کے ذریعہ اعلان برأت کی خاطر علی (رض) کو بھیجا تو آپ نے علی کی تکریم میں اسی موقع پر یہ بات فرمائی : «علی منی و أنا من علی و لا یؤدی عنی الا أنا أو علی»۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (119) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3719
حدیث نمبر: 3719 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلِيٌّ مِنِّي،‏‏‏‏ وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی (رض) روتے ہوئے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٦٧٧) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف رافضی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6084) // ضعيف الجامع الصغير (1325) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3720
حدیث نمبر: 3720 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ اے للہ ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ٤- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٢٨) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6085) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3721
حدیث نمبر: 3721 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَزَائِدَةُ،‏‏‏‏ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) کہتے ہیں کہ جب بھی میں رسول اللہ ﷺ سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے (دینے میں یا بولنے میں) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٠٠) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمرو بن ہند جملی کا علی (رض) سے سماع نہیں ہے، یعنی : سند میں انقطاع ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6086) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3722
حدیث نمبر: 3722 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب، اور منکر ہے، ٢- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو، اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٠٩) (موضوع) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں اور شریک کے سوا کسی نے سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا ہے، جس سے پتہ چلا کہ سند میں انقطاع بھی ہوا ہے، اس حدیث پر ابن الجوزی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے موضوع کا حکم لگایا ہے، ابن تیمیہ کہتے ہیں : یہ حدیث ضعیف بلکہ عارفین حدیث کے یہاں موضوع ہے، لیکن ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے بایں ہمہ یہ جھوٹ ہے، اس حدیث کی مفصل تخریج ہم نے اپنی کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ میں کی ہے حدیث نمبر ٣٧٦) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6087) // ضعيف الجامع الصغير (6087) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3723
حدیث نمبر: 3723 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ مُنْكَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক: