আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৬৮৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر (رض) سے کہا : اے رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر انسان ! اس پر ابوبکر (رض) نے کہا : سنو ! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- اس باب میں ابو الدرداء (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٥٨٩) (موضوع) (سند میں عبد الرحمن ابن اخی محمد بن منکدر اور عبد اللہ بن داود ابو محمد التمار دونوں ضعیف راوی ہیں، اور دونوں کی متابعت نہیں کی جائے گی، حدیث کو ابن الجوزی اور ذہبی اور البانی نے موضوع کہا ہے، اور اس کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ قطعی طور پر صحیح اور ثابت حدیث کے مخالف ہے کہ سب سے بہتر جن پر سورج طلوع ہوا وہ نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم اور دیگر انبیاء ورسل ہیں، اس کے بعد ابوبکر ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا : انبیاء ورسل کے بعد کسی پر سورج کا وغروب نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو، الضعیفة : ١٣٥٧) قال الشيخ الألباني : موضوع، الضعيفة (1357) // ضعيف الجامع الصغير (5097) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3684
حدیث نمبر: 3684 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر (رض) کی تنقیص کرے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٣٠٢) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : ان دونوں کی محبت واقعی جزو ایمان ہے ، ان کا دشمن دشمن اسلام اور خارج از اسلام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3685
حدیث نمبر: 3685 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٩٦٦) ، و مسند احمد (٤/١٥٤) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر (رض) نہایت فہم و فراست اور الٰہی الہام سے بہرہ ور ہیں وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، ورنہ کسی اور سے پہلے عمر ہی ہوتے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (327) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3686
حدیث نمبر: 3686 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا ، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ؟ آپ نے فرمایا : اس کی تعبیر علم ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٢٨٤ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : میرے بعد دین کا علم عمر کو ہے ( (رض) ) اس میں ابوبکر (رض) کی من جملہ فضیلت کی نفی نہیں ہے صرف علم کے سلسلے میں ان کا علم بڑھا ہوا ثابت ہوتا ہے ، بقیہ فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل امتی ( بعد از نبی اکرم ﷺ ) ابوبکر ہی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی (2400) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3687
حدیث نمبر: 3687 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الْعِلْمَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے کہا : قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چناچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : وہ عمر بن خطاب ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٩٠) ، و مسند احمد (٣/١٠٧، ١٧٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر (رض) کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جاسکتی ، ( برا ہو آپ سے بغض و نفرت رکھنے والوں کا ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1405 - 1423) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3688
حدیث نمبر: 3688 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
بریدہ (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) صبح کی تو بلال (رض) کو بلایا اور پوچھا : بلال ! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے ؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو (آج بھی) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے، تو میں نے کہا : میں (بھی) عرب ہوں، بتاؤ یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ قریش کے ایک شخص کا ہے، میں نے کہا : میں (بھی) قریشی ہوں، بتاؤ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ محمد ﷺ کی امت کے ایک فرد کا ہے، میں نے کہا : میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر بن خطاب کا ہے ، بلال (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کرلیا ہو اور یہ نہ سمجھا ہو کہ اللہ کے لیے میرے اوپر دو رکعتیں (واجب) ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انہیں دونوں رکعتوں (یا خصلتوں) کی سے (یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے ١ ؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں جابر، معاذ، انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا : یہ کس کا ہے ؟ کہا گیا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ، ٣- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے، ٤- ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : انبیاء کے خواب وحی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٦٦) ، و مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٦٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : وضو کے بعد دو رکعت نفل کی پابندی سے ادائیگی کی برکت سے بلال کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ، یا ایک خصلت وضو ٹوٹتے وضو کرلینا یعنی ہمیشہ باوضو رہنا ، دوسری خصلت : ہر وضو کے بعد دو رکعت بطور تحیۃ الوضو کے پڑھنا ، ان دونوں خصلتوں کی برکت سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ، اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ ہمیشہ باوضو رہنا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے ، وہیں اس سے بلال (رض) کی فضیلت اور دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری کا پتا چلا اور عمر (رض) کے لیے سونے کے محل سے ان کی فضیلت ثابت ہوئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (1 / 99) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3689
حدیث نمبر: 3689 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةَ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مُرَبَّعٍ مُشْرِفٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ فَقَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ، فَقُلْتُ: أَنَا عَرَبِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: أَنَا قُرَشِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهِمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَمُعَاذٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ يَعْنِي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں نکلے، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی (حبشی) لونڈی نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لے ورنہ نہیں ١ ؎، چناچہ وہ بجانے لگی، اسی دوران ابوبکر (رض) اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر علی (رض) داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عثمان (رض) داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عمر (رض) داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی سرین کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمر ! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ٢ ؎، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر ! تو اس نے دف پھینک ڈالی ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں عمر، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٦٧) ، و مسند احمد (٥/٣٥٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اگر منکر ( حرام ) کی نذر نہ مانی ہو تو نذر پوری کرنی واجب ہے ، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کو اپنی نذر پوری کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ اس کام میں کوئی ممنوع بات نہیں تھی۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے عمر فاروق (رض) کی بڑی فضیلت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے عصمت ( شیطان اور گناہوں سے بچاؤ ) بھی ثابت ہو رہی ہے ، حالانکہ عصمت انبیاء کی خصوصیت ہے ، اس سلسلے میں بقول حافظ ابن حجر : عصمت انبیاء کے لیے واجب ہے ، جبکہ کسی امتی کے لیے بطور امکان کے ہے جو عمر (رض) کو حاصل ہوئی۔ ٣ ؎ : مطلب یہ ہے کہ ایک گانے والی لونڈی تو کیا ، شیطان بھی عمر (رض) سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے ، حتیٰ کہ اس راستے سے شیطان بھاگ کھڑا ہوتا ، جس راستے سے عمر (رض) گزرے رہے ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح نقد الکتانی (47 - 48) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3690
حدیث نمبر: 3690 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُبُرَيْدَةَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا ، فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا، ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چناچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! آؤ، تم بھی دیکھ لو ، تو میں آئی اور رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا : کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی ؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی ؟ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے ؟ اتنے میں عمر (رض) آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٧٣٥٥) ، و مسند احمد (٦/٥٧، ٢٣٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6039) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3691
حدیث نمبر: 3691 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لِي: أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَتْ: فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ ، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہوگی، پھر ابوبکر، پھر عمر (رض)، (سے زمین شق ہوگی) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ میرا حشر حرمین کے درمیان ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٢٠٠) (ضعیف) (سند میں عاصم العمری ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (2949) // ضعيف الجامع الصغير (1310) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3692
حدیث نمبر: 3692 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ بِالْحَافِظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ١ ؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا : «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٩٨) (تحفة الأشراف : ١٧٧١٧) ، و مسند احمد (٦/٥٥) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : «محدث» اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے ، جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا ، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جاتی ہے ، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر (رض) کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی ( نیز دیکھئیے حدیث رقم : ٣٦٩١) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3693
حدیث نمبر: 3693 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: مُحَدَّثُونَ يَعْنِي مُفَهَّمُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے تو ابوبکر (رض) آئے، پھر آپ نے فرمایا : تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے ، تو عمر (رض) آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود (رض) کی یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور جابر (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٤٠٦) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6058) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3694
حدیث نمبر: 3694 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَاطَّلَعَ عُمَرُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کرلے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا : درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہوگا تو کیسے کرے گا ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی ، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٦٧٧ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح وهو تمام الحديث (3944) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3695 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح وهو تمام الحديث (3944) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3695
حدیث نمبر: 3695 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَرْعَى غَنَمًا لَهُ إِذْ جَاءَ ذِئْبٌ فَأَخَذَ شَاةً، فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَآمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ٹھہرا رہ اے احد ! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٥) ، و ٦ (٣٦٨٦) ، و ٧ (٣٦٩٩) ، سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٥١) (تحفة الأشراف : ١١٧٢) ، و مسند احمد (٣/١١٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دو شہید سے مراد : عمر و عثمان (رض) ہیں جن دونوں کی شہادت کی گواہی بزبان رسالت مآب ہو ان کی مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا منکر اپنے ایمان کی خیر منائے۔ وہ مومن کہاں مسلمان بھی نہ رہا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (875) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3697
حدیث نمبر: 3697 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کے مناقب انکی دو کنیتیں ہیں ابوعمرو اور ابوعبد اللہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر (رض) حرا پہاڑ ١ ؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٧) (تحفة الأشراف : ١٢٧٠٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ ( باب مناقب ابی بکر ) اور ( باب مناقب عثمان ) میں احد پہاڑ کا تذکرہ ہے ، حافظ ابن حجر کے بقول : یہ دو الگ الگ واقعات ہیں ، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2 / 562) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3696
حدیث نمبر: 3696 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ َرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کے مناقب انکی دو کنیتیں ہیں ابوعمرو اور ابوعبد اللہ
طلحہ بن عبیداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٩٩٦) (ضعیف) (اس کی سند میں زہری شیخ مبہم ہے، اور سند میں انقطاع ہے، اس لیے کہ حارث بن عبدالرحمن الدوسی المدنی کی وفات (١٤٦ ھ) میں ہوئی اور طلحہ بن عبیداللہ کی شہادت (٣٦ ھ) میں ہوئی، اور وہ طلحہ بن عبیداللہ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، نیز یحییٰ بن الیمان صدوق راوی ہیں، لیکن بہت غلطیاں کرتے ہیں، اور حافظہ میں تغیر بھی آگیا تھا) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (109) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (21) عن أبي هريرة، بسند آخر، ضعيف الجامع الصغير (4738) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3698
حدیث نمبر: 3698 حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ، وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان (رض) کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا : میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ حرا ٹھہرے رہو ! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں ؟ ، ان لوگوں نے کہا : ہاں، پھر عثمان (رض) نے کہا : میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سلسلے میں فرمایا تھا : کون (اس غزوہ کا) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا (اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے) تو میں نے (خرچ دے کر) اس لشکر کو تیار کیا ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں، پھر عثمان (رض) نے کہا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کردیا ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٣٣ (تعلیقاً ) ، سنن النسائی/الاحب اس ٤ (٣٦٣٩) (تحفة الأشراف : ٩٨١٤) ، و مسند احمد (١/٥٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں مذکور تینوں باتیں اسلام کی عظیم ترین خدمت ہیں جن کو عثمان (رض) نے انجام دیئے ، یہ آپ کی اسلام میں عظیم مقام و مرتبے کی بات ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (109) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3699
حدیث نمبر: 3699 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَوْقَ دَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ: مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً وَالنَّاسُ مُجْهَدُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ذَلِكَ الْجَيْشَ ، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا، فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ، وَالْفَقِيرِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، وَأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبدالرحمن بن خباب (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان (رض) کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٦٩٤) (ضعیف) (سند میں فرقد ابو طلحہ مجہول راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6063) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3700
حدیث نمبر: 3700 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَاالْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ ثَلَاثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ عثمان (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں : دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم ﷺ کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا ، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٦٩٩) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (6064) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3701
حدیث نمبر: 3701 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ: وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بیعت رضوان ١ ؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان (رض) رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٥٥) (ضعیف) (سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے سال ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی ، یہ بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ خبر اڑ گئی کہ کفار مکہ نے عثمان کو قتل کردیا ہے ، اس پر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے بیعت لی کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا ہے ، اس پر سب لوگوں سے بیعت لی گئی کہ کفار مکہ سے اس پر جنگ کی جائے گی ، سب لوگ اس عہد پر جمے رہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6065) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3702
حدیث نمبر: 3702 حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: فَبَايَعَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ ، فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان (رض) نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا : تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چناچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان (رض) نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا : میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا ؟ ، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا (کھارا) پانی پی رہا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا : میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہوگئی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا ؟ ، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا : ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر (رض) تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا : ٹھہر اے ثبیر ! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں ، لوگوں نے کہا : ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا : اللہ اکبر ! قسم ہے رب کعبہ کی ! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاحب اس ٤ (٣٦٣٨) (تحفة الأشراف : ٩٧٨٥) (حسن) (الإرواء ١٥٩٤، وتراجع الألبانی ٥٩٤) قال الشيخ الألباني : حسن، الإرواء (1594) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3703
حدیث نمبر: 3703 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وغير واحد المعنى واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمَنْقَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ، قَالَ: فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ، قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلَ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ؟ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ، قَالَ: فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ.
তাহকীক: