আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৯৪২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
جابر (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کردیا، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا :«اللهم اهد ثقيفا» اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٧٧٩) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر محمد بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5986) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3942
حدیث نمبر: 3942 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٨١٣) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، جب کہ عمران بن حصین (رض) “ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ ثقیف کو حجاج بن یوسف اور بنی حنیفہ کو مسیلمہ کذاب اور بنی امیہ کو عبیداللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے ( واللہ اعلم ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3943
حدیث نمبر: 3943 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفًا، وَبَنِي حَنِيفَةَ، وَبَنِي أُمَيَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٢٢٠ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی (2221) // هذا الرقم فی طبعة الدع اس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3944 ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد ابومسلم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے شریک نے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور عبدالرحمٰن بن عاصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، اور شریک کی روایت میں عبداللہ بن عصم ہے، اور اسرائیل بھی انہیں شیخ سے روایت کرتے ہیں، لیکن انہوں نے عبداللہ بن عصم کے بجائے عبداللہ بن عصمۃ کہا ہے، ٣- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی (2221) // هذا الرقم فی طبعة الدع اس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3944
حدیث نمبر: 3944 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ .حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يروي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَيَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ١ ؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں ، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ (رض) سے آئی ہے، ٢- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي ( تحفة الأشراف : ١٢٩٥٤) ، وانظر مسند احمد ( ٢/٢٩٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (3022 / التحقيق الثانی) ، الصحيحة (1684) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3945
حدیث نمبر: 3945 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَظَلَّ سَاخِطًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی ! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ البیوع ٨٢ (٣٥٣٧) ، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ١٤٣٢٠) (صحیح) (سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں، لیکن صاحب اوہام ہیں، اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اور سابقہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحہ رقم ١٦٨٤) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3945) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3946
حدیث نمبر: 3946 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ، فَتَسَخَّطَهُ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي، ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ، فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَيَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ أَيُّوبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
ابوعامر اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، عامر (رض) کہتے ہیں : پھر میں نے اسے معاویہ (رض) سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : اس طرح رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں ، تو میں نے عرض کیا : میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، معاویہ (رض) نے کہا : تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٠٦٦) وانظر مسند احمد (٤/١٢٩) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن ملاذ مجہول راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4692) // ضعيف الجامع الصغير (5963) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3947
حدیث نمبر: 3947 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍيُحَدِّثُ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِوُنَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ ، فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ، قَالَ: فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَيُقَالُ: الْأَسْدُ هُمْ الْأَزْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ کو بخشے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوذر، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ (رض) سے ہی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٩٤١ (تحفة الأشراف : ٧١٩٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3948
حدیث نمبر: 3948 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور غفار کو اللہ بخش دے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ٧١٦٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3948) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3949
حدیث نمبر: 3949 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! غفار، اسلم، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ یا آپ نے فرمایا : جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥٢٠/١٩١) (تحفة الأشراف : ١٣٨٨١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3950
حدیث نمبر: 3950 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَغِفَارٌ، وَأَسْلَمُ، وَمُزَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، أَوْ قَالَ: جُهَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ، وَطَيِّئٍ، وَغَطَفَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : اے بنی تمیم ! خوش ہو جاؤ، وہ لوگ کہنے لگے : آپ نے ہمیں بشارت دی ہے، تو (کچھ) دیجئیے، وہ کہتے ہیں : یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا : تمہیں لوگ بشارت قبول کرلو ، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا : ہم نے قبول کرلیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١ (٣١٩٠) ، والمغازي ٦٧ (٤٣٦٥) ، و ٧٤ (٤٣٨٦) ، والتوحید ٢٢ (٧٤١٨) (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3951
حدیث نمبر: 3951 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ تَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبائل اسلم، غفار اور مزینہ، قبائل تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے، تو لوگ کہنے لگے : نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا : وہ ان (قبائل یعنی تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ) سے بہتر ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٦ (٣٥١٥، و ٣٥١٦) ، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٣٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥٢٢) (تحفة الأشراف : ١١٦٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3952
حدیث نمبر: 3952 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَمُزَيْنَةُ، خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شام اور یمن کی فضیلت کے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا : یہاں زلزلے اور فتنے ہیں، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی ، (یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث بطریق : «سالم بن عبد اللہ بن عمر عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستسقاء ٢٧ (١٠٣٧) ، والفتن ١٦ (٧٠٩٤) (تحفة الأشراف : ٧٧٤٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : محقق شارحین حدیث نے قطعی دلائل اور تاریخی حقائق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس حدیث میں مذکور نجد سے مراد عراق ہے ، تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ دینی فتنے زیادہ تر عراق سے اٹھے ، لغت میں نجد اونچی زمین ( سطح مرتفع ) کو کہا جاتا ہے ، سعودیہ میں واقع نجد کو بھی اسی وجہ سے نجد کہا جاتا ہے ، اس اعتبار سے عراق پر بھی نجد کا لفظ صادق آتا ہے ، اور حسی و معنوی دینی فتنوں کے عراق سے ظہور نے یہ ثابت کردیا کہ آپ ﷺ کی مراد یہی عراق اور مضافات کا علاقہ تھا ، بدعتی فرقوں نے اس حدیث کا مصداق شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تحریک کو قرار دیا ہے ، «شتان مابین الیزیدین» سلف صالحین کے عقیدہ اور فہم شریعت کے مطابق چلائی گئی تحریک چاہے مذمومہ نجد ہی سے کیوں نہ ہو اس حدیث کا مصداق کیسے ہوسکتی ہے ؟ اگر نجدی تحریک مراد ہوگی تو اصل اسلام ہی مراد ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج فضائل الشام (8) ، الصحيحة (2246) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3953
حدیث نمبر: 3953 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ ابْنَةِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْهَا، يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شام اور یمن کی فضیلت کے متعلق
زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا : مبارکبادی ہو شام کے لیے ، ہم نے عرض کیا : کس چیز کی اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٧٢٨) ، وانظر : مسند احمد (٥/١٨٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ٥٠٣) قال الشيخ الألباني : صحيح الفضائل أيضا رقم (1) ، المشکاة (6624) ، الصحيحة (502) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3954
حدیث نمبر: 3954 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طُوبَى لِلشَّأْمِ ، فَقُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شام اور یمن کی فضیلت کے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : باز آ جائیں وہ قومیں جو اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کر رہی ہیں جو مرگئے ہیں، وہ جہنم کا کوئلہ ہیں ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے، جو اپنے آگے اپنی ناک سے نجاست دھکیلتا رہتا ہے، اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت کو ختم کردیا ہے، اب تو لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٠٧٤) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد وہ آباء و اجداد ہیں جن کی وفات کفر کی حالت میں ہوچکی تھی ، وہ کیسے بھی عال نسب ہوں ، ان پر مسلمانوں کو فخر کرنا درست نہیں کیونکہ ان کی وفات کفر پر ہوئی ہے۔ ٢ ؎ : قبائل کے فضائل کے اخیر میں شاید اس حدیث کے لانے سے مولف کا مقصد یہ ہو کہ مذکورہ قبائل کے جو بھی فضائل ہوں اصل کامیابی اور فضیلت کی بات اپنا ایمان وعمل ہے ، قبیلہ خاندان کی برتری اور ان پر فخر کچھ کام نہیں آئے گا ، یہ فخر بالآخر ذلت کا سبب بن جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : حسن، التعليق الرغيب (4 / 21 و 33 - 34) ، غاية المرام (312) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3955
حدیث نمبر: 3955 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক: