আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৯০২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک (رض) کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ١ ؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا : میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس (رض) سے اور انہوں نے زید بن ارقم (رض) سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٣ (٢٥٠٦) (تحفة الأشراف : ٣٦٨٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : حرّہ کا دن اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ ٦٣ ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت و تاراج کیا تھا ، اس میں بہت سے صحابہ و تابعین کی جانیں چلی گئی تھیں ، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی ، ( عفا اللہ عنہ ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ حرّہ میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام یوم الحرّۃ پڑگیا۔ ٢ ؎ : یعنی : اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبی ﷺ کی دعا کی برکت شامل ہے ، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے ، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3902
حدیث نمبر: 3902 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ أُصِيبَ مِنْ أَهْلِهِ وَبَنِي عَمِّهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
ابوطلحہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنی قوم ١ ؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٧٧٤) (ضعیف) (سند میں محمد بن ثابت بنانی ضعیف راوی ہے، مگر اس کا دوسرا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة ٣٠٩٦) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : قوم انصار کو سلام کہو ، اس میں انصار کی فضیلت ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، لكن، الصحيحة منه الشطر الثاني، المشکاة (6242) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3903
حدیث نمبر: 3903 حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤١٩٨) (منکر) (اہل بیت کے ذکر کے ساتھ منکر ہے، سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، مگر حدیث رقم ٣٩٠٦ سے تقویت پا کر اس کا دوسرا ٹکڑا صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : «عيبه» جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں ، آپ نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ کے خدمت گار اور معاون تھے ، اور «کرش» جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے ، آپ نے انصار کو «کرش» اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیونکہ وہ بےانتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔ قال الشيخ الألباني : منکر - بذکر أهل البيت -، المشکاة (6240) // ضعيف الجامع الصغير (2175) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3904
حدیث نمبر: 3904 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ كَرِشِيَ الْأَنْصَارُ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں : مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٩٢٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے ، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1178) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3905
حدیث نمبر: 3905 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٤٨٣) (صحیح) (الصحیحہ ١٢٣٤) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ آڑے وقت میں انصار ہی ایمان کی تائید و نصرت میں آگے آئے ، اس لیے کہ قریش کی ناراضگی مول لی ، ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1234) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3906
حدیث نمبر: 3906 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْمُؤَمَّلُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَبْغَضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ١١ (٣٨٠١) ، صحیح مسلم/فضائل الأنصار ٤٣ (٢٥١٠) (تحفة الأشراف : ١٢٤٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3907
حدیث نمبر: 3907 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! قریش کے پہلوں کو تو نے (قتل، قید اور ذلت کا) عذاب چکھایا ہے ١ ؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٥٢٢) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جیسے غزوہ بدر اور فتح مکہ میں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح الضعيفة تحت الحديث (398) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3908
حدیث نمبر: 3908 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا،، فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش و انصار کی فضیلت
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» اے اللہ ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٣ (٢٥٠٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3909
حدیث نمبر: 3909 حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار کے گھروں کی فضیلت کے بارے میں
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : سب سے بہتر بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی ساعدہ ہیں ١ ؎، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو اور فرمایا : انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٢٥ (٥٣٠٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٤ (٢٥١١) (تحفة الأشراف : ١٦٥٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اسلام کے لیے سبقت کے حساب سے ان قبائل کے فضائل کی ترتیب رکھی گئی ہے ، جو جس قبیلہ نے جس ترتیب سے اول اسلام کی طرف سبقت کی آپ نے اس کو اسی درجہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔ ٢ ؎ : یعنی : ایمان میں دیگر عربی قبائل کی بنسبت سبقت کے سبب انصار کے سارے خاندانوں کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3910
حدیث نمبر: 3910 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ أَوْ بِخَيْرِ الْأَنْصَارِ ؟ ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدَيْهِ، قَالَ: وَفِي دُورِ الْأَنْصَارِ كُلِّهَا خَيْرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار کے گھروں کی فضیلت کے بارے میں
ابواسید ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ١ ؎ ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ، تو سعد نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ٢ ؎ تو ان سے کہا گیا : آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ٣- اسی جیسی روایت ابوہریرہ (رض) سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٤- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٧ (٣٧٨٩، و ٣٧٩٠) ، و ١٥ (٣٨٠٧) ، والأدب ٦٠٥٣٤٧) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٤ (٢٥١١) (تحفة الأشراف : ١١١٨٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : قبائل و خاندان۔ ٢ ؎ : آپ بنی ساعدہ میں سے تھے جن کا تذکرہ نبی ﷺ نے چوتھے درجہ پر کیا۔ ٣ ؎ : یعنی : بنی ساعدہ کے بعد بھی تو انصار کے کئی خاندان ہیں جن کے اوپر بنی ساعدہ کو فضیلت دی ہے ، نیز یہ بھی خیال رہے کہ یہ ترتیب آپ نے بحکم خداوندی بتائی تھی ، اس لیے آپ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے ، یہ نصیحت خود سعد بن معاذ کے بھائی سہل نے کی تھی «کما فی مسلم»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3911
حدیث نمبر: 3911 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ، فَقَالَ سَعْدٌ: مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ: مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار کے گھروں کی فضیلت کے بارے میں
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٣٥٣) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : بنی نجار ہی میں نبی اکرم ﷺ کے والد عبداللہ کا ننہیال تھا ، یہ آپ کے ماموؤں کا خاندان تھا ، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی ، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (3911) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3912
حدیث نمبر: 3912 حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دِيَارِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار کے گھروں کی فضیلت کے بارے میں
جابر عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سابقہ حدیث میں «بنی اشہل» کا ذکر «بنی نجار» کے بعد آیا ہے ، تو یہاں «من» کا لفظ محذوف ماننا ہوگا ، یعنی : «بنی اشہل» انصار کے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (3912) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3913
حدیث نمبر: 3913 حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ١ ؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص (رض) کا محلہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «اللهم إن إبراهيم کان عبدک وخليلک ودعا لأهل مكة بالبرکة وأنا عبدک ورسولک أدعوک لأهل المدينة أن تبارک لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما بارکت لأهل مكة مع البرکة بركتين» مجھے وضو کا پانی دو ، چناچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے اللہ ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں (یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ٢ ؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (١/١١٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : «حرّۃ السقیا» مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے دو دن کے راستے پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎ : مکہ میں گرچہ اللہ کا گھر ہے ، مگر مکہ والوں نے اللہ کے سب سے محبوب بندے کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تو مدینہ نے محبوب الٰہی کو پناہ دی جو آپ کی آخری پناہ ہوگئی ، نیز یہیں کے باشندوں نے اسلام کو پناہ دی ، اس کے لیے قربانیاں پیش کیں ، جان و مال کا نذرانہ پیش کردیا ، سارے عالم میں یہیں سے اسلام کا پھیلاؤ ہوا ، اس لیے مدینہ کے لیے دوگنی برکت کی دعا فرمائی ، اس دعا کا اثر ہر زائر مکہ کے لیے واضح طور پر دیکھی سنی حقیقت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (2 / 144) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3914
حدیث نمبر: 3914 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ السُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ، وَدَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ، وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ، وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
علی اور ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (مسجد نبوی) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٣٢٧، ١٤٩٣٩) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : روضۃ الجنۃ ، مسجد نبوی میں ہے ، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے ، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح ظلال الجنة (731) ، الروض النضير (1115) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3915
حدیث نمبر: 3915 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُبَاتَةَ يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ١٤٨١٠) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے ، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے ، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے ، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3916 اور اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری اور مسجدوں کے ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد الحرام کے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (١٤٨١١) (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3916
حدیث نمبر: 3916 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ .وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مدینہ میں مرسکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحج ١٠ (٣١١٢) (تحفة الأشراف : ٧٥٥٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے ، اگر کامیابی ہوگئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے ، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے ، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو ، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے ، آپ نے فرمایا ہے : آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا ( اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3112) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3917
حدیث نمبر: 3917 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا : تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، (آپ نے کہا) «اصبري لکاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨١٢٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ بھی مدینہ کی ایک فضیلت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج فقه السيرة (184) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3918
حدیث نمبر: 3918 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ مَوْلَاةً لَهُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: اشْتَدَّ عَلَيَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ، قَالَ: فَهَلَّا إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ، اصْبِرِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ (رض) پر تعجب کا اظہار کیا ہے (یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤١٦٦) (ضعیف) (سند میں جنادہ کو بہت سے أئمہ نے ضعیف قرار دیا ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1300) // ضعيف الجامع الصغير (4) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3919
حدیث نمبر: 3919 حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبِي جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جُنَادَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: تَعَجَّبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آگیا تو وہ اعرابی نبی اکرم ﷺ پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کردیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کردیتا ہے پاک کو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٣) ، والأحکام ٤٥ (٧٢٠٩) ، و ٤٧ (٧٢١١) ، و ٥٠ (٧٢١٦) ، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٢) ، صحیح مسلم/الحج ٨٨ (١٣٨٣) (تحفة الأشراف : ٣٠٧١) ، موطا امام مالک/الجامع ٢ (٤) ، و مسند احمد (٣/٢٩٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی لوہار کی بھٹی جس طرح لوہے کے میل اور اس کے زنگ کو دور کردیتی ہے اسی طرح مدینہ اپنے یہاں سے برے لوگوں کو نکال پھینکتا ہے۔ اور مدینہ کی یہ خصوصیت کیا صرف عہد نبوی تک کے لیے تھی ( جیسا کہ قاضی عیاض کہتے ہیں ) یا عہد نبوی کے بعد بھی باقی ہے ؟ ( جیسا کہ نووی وغیرہ کہتے ہیں ) نووی نے حدیث دجال سے استدلال کیا ہے کہ اس وقت بھی مدینہ ایسا کرے گا ، کہ برے لوگوں کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرے گا ، اب اپنی یہ بات کہ بہت سے صحابہ و خیار تابعین بھی مدینہ سے باہر چلے گئے ، تو کیا وہ لوگ بھی برے تھے ؟ ہرگز نہیں ، اس حدیث کا مطلب ہے : جو مدینہ کو برا جان کر وہاں سے نکل جائے وہ اس حدیث کا مصداق ہے ، اور رہے صحابہ کرام تو وہ مدینہ کی سکونت کو افضل جانتے تھے ، مگر دین اور علم دین کی اشاعت کے مقصد عظیم کی خاطر باہر گئے تھے ، (رض) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3920
حدیث نمبر: 3920 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَهُ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ١ ؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل المدینة ٤ (١٨٧٣) ، صحیح مسلم/الحج ٨٥ (١٣٧٢) (تحفة الأشراف : ١٣٢٣٥) ، وط/الجامع ٣ (١١) ، و مسند احمد (٢/٢٣٦، ٤٨٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ دونوں پتھریلی زمینیں ( حرہ ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3921
حدیث نمبر: 3921 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: