আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৪ টি

হাদীস নং: ৩৮৬২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٦٦٢) ، و مسند احمد (٤/٨٧) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد مجہول راوی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم : ٢٩٠١) قال الشيخ الألباني : ضعيف تخريج الطحاوية (471) // (673) //، الضعيفة (2901) // ضعيف الجامع الصغير (1160) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3862
حدیث نمبر: 3862 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي،‏‏‏‏ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، ‏‏‏‏‏‏لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٧٠٢) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کرلو تو اس نے کہا : میرا اونٹ مجھے مل جائے ، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے ( مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3863
حدیث نمبر: 3863 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کا ایک غلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٦ (٢٤٩٥/١٦٢) (تحفة الأشراف : ٢٩١٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور اللہ نے بدریوں کی عام مغفرت کا اعلان کردیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3864
حدیث نمبر: 3864 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ (رض) کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٨٣) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم ابو طیبہ روایت میں وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4468) // ضعيف الجامع الصغير (5138) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3865
حدیث نمبر: 3865 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو : اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر (عمری) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٧١٣) (ضعیف جدا) (سند میں نضر اور سیف دونوں مجہول ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، المشکاة (6008 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (513) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3866
حدیث نمبر: 3866 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا:‏‏‏‏ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّضْرُ مَجْهُولٌ،‏‏‏‏ وَسَيْفٌ مَجْهُولٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے : ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کردیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کرلیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ٥ (٣١١٠) ، وفضائل الصحابة ٢٩ (٣٧٦٧) ، والنکاح ١٠٩ (٥٢٣٠) ، والطلاق ١٣ (٥٢٧٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٤ (٢٣٨٤) ، سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٩-٢٠٧١) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٦ (١٩٩٨) (تحفة الأشراف : ١١٢٦٧) ، و مسند احمد (٤/٣٢٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1998) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3867
حدیث نمبر: 3867 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:‏‏‏‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا آذَنُ،‏‏‏‏ ثُمَّ لَا آذَنُ،‏‏‏‏ ثُمَّ لَا آذَنُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ،‏‏‏‏ فَإِنَّهَا بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نَحْوَ هَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ (رض) تھیں اور مردوں میں علی (رض) تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں : یعنی اپنے اہل بیت میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٨١) (منکر) (سند میں عبد اللہ بن عطاء روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اور جعفر بن زیاد الاحمر شیعی ہے، اور روایت میں تشیع ہے) قال الشيخ الألباني : منکر نقد الکتاني (29) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3868
حدیث نمبر: 3868 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ علی (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی، آپ نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔ (جیسا کہ حدیث رقم : ٣٨٨٠) ٣- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو (اور ایسا بہت ہوا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٧١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (8 / 294) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3869
حدیث نمبر: 3869 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا،‏‏‏‏ وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ،‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ:‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) سے فرمایا : میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٥) (تحفة الأشراف : ٣٦٦٢) (ضعیف) (سند میں صبیح لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (145) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (27) ، المشکاة (6145) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3870
حدیث نمبر: 3870 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْصُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَليٍّ،‏‏‏‏ وَفَاطِمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَسَنِ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنِ:‏‏‏‏ أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَصُبَيْحٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ (رض) کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا :«‏‏‏‏اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا » اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ، تو ام سلمہ (رض) بولیں : اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : تو (بھی) خیر پر ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے، ٢- اس باب میں عمر بن ابی سلمہ، انس بن مالک، ابوالحمراء، معقل بن یسار، اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم برقم ٣٢٠٥، و ٣٧٨٧ (تحفة الأشراف : ١٨١٦٥) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٨٧) قال الشيخ الألباني : صحيح بما تقدم رقم (3435) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3871
حدیث نمبر: 3871 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَّلَ عَلَى الْحَسَنِ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنِ،‏‏‏‏ وَعَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَفَاطِمَةَ كِسَاءً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ،‏‏‏‏ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ١ ؎ (رض) سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں : جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چناچہ جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر (عام) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم ﷺ پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا : اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ١٥٥ (٥٢١٧) (تحفة الأشراف : ١٧٨٨٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے فاطمہ (رض) کی منقبت کئی طرح سے ثابت ہوتی ہے ، ١- فاطمہ (رض) آپ سے اخلاق و عادات میں بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں ، ٢- فاطمہ (رض) آپ کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں ، ٣- آخرت میں آپ سے شرف رفاقت سب سے پہلے فاطمہ (رض) کو حاصل ہوئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح نقد الکتانی (44 - 45) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3872
حدیث نمبر: 3872 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا،‏‏‏‏ وَدَلًّا،‏‏‏‏ وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ فِي قِيَامِهَا،‏‏‏‏ وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا،‏‏‏‏ وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَأَكَبَّتْ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَبَّلَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا،‏‏‏‏ فَبَكَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَكَبَّتْ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَضَحِكَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ مِنْ أَعْقَلِ نِسَائِنَا فَإِذَا هِيَ مِنَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَرَأَيْتِ حِينَ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ،‏‏‏‏ فَبَكَيْتِ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ،‏‏‏‏ فَضَحِكْتِ، ‏‏‏‏‏‏مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا،‏‏‏‏ فَبَكَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَسْرَعُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ،‏‏‏‏ فَذَاكَ حِينَ ضَحِكْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پاجائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (وھو عند الجماعة من حدیث فاطمة نفسھا) ( تحفة الأشراف : ١٨١٨٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : پچھلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے ، وہ دوسرا واقعہ اور یہ دوسرا واقعہ ہے ، نیز فاطمہ (رض) ہنسنے کے دونوں اسباب میں بھی تضاد نہ سمجھا جائے ، دونوں باتیں خوش ہونے کی ہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3873
حدیث نمبر: 3873 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا،‏‏‏‏ فَبَكَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَدَّثَهَا،‏‏‏‏ فَضَحِكَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ،‏‏‏‏ فَبَكَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ (رض) کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا : لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : فاطمہ، پھر پوچھا گیا : مردوں میں کون تھا ؟ انہوں نے کہا : ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے : «حدثنا أبو الجحاف وکان مرضيا»۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٠٥٤) (منکر) (سند میں ابو الجحاف داود بن عوف دونوں شیعہ ہیں، اور روایت میں شیعیت موجود ہے ) قال الشيخ الألباني : منکر نقد الکتاني ص (20) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3874
حدیث نمبر: 3874 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ،‏‏‏‏ فَسُئِلَتْ:‏‏‏‏ أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَاطِمَةُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خدیجہ کی فضیلت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا ؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٠١٧ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1997) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3875
حدیث نمبر: 3875 حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خدیجہ کی فضیلت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ (رض) پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کرچکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٧١٤٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3875) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3876
حدیث نمبر: 3876 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا حَسَدْتُ أَحَدًا مَا حَسَدْتُ خَدِيجَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَعْدَ مَا مَاتَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ قَصَبٍ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خدیجہ کی فضیلت
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) مریم بنت عمران تھیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٥ (٣٤٣٢) ، وفضائل الأنصار ٢٠ (٣٨١٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣٠) (تحفة الأشراف : ١٠١٦١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3877
حدیث نمبر: 3877 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خدیجہ کی فضیلت
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٣٤٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یہ چاروں عورتیں ساری دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں اور پیروی و اقتداء کے لائق ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6181) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3878
حدیث نمبر: 3878 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ:‏‏‏‏ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ (رض) کے دن (باری کے دن) کی تلاش میں رہتے تھے، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ (رض) کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں : ام سلمہ ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ (رض) کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ ﷺ سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں (یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں، چناچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے اعراض کیا، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں : میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، ٣- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ (رض) سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے، ٤- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ٧ (٢٥٧٤) ، و ٨ (٢٥٨٠، ٢٥٨١) ، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤١) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٣٩٦) (تحفة الأشراف : ١٦٨٦١) ، و مسند احمد (٦/٢٩٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری میں کعب بن مالک (رض) کی توبہ کی قبولیت کی وحی کے بارے میں آیا ہے کہ یہ وحی ام سلمہ (رض) کے گھر میں نازل ہوئی ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اور ام سلمہ (رض) ایک ہی لحاف میں تھے ، لحاف میں وحی نازل ہونے کی خصوصیت صرف عائشہ (رض) کی ہے ، اور یہ بہت بڑی فضیلت کی بات ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3879
حدیث نمبر: 3879 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبَاتِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُ عَائِشَةُ فَقُولِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ إِلَيْهِ أَيْنَمَا كَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا،‏‏‏‏ فَأَعَادَتِ الْكَلَامَ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَوَاحِبَاتِي قَدْ ذَكَرْنَ أَنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ فَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ أَيْنَمَا كُنْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَتْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رُمَيْثَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ شَيْئًا مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا : یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ (رض) سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٢٥٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو ، کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کردیا ہے ، یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرائیل (علیہ السلام) کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے ، عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے ، واللہ اعلم۔ ٢ ؎ : یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم ٥ اور باب رقم : ٣٥ میں آئی ہے ، اس میں جبرائیل کی بجائے صرف فرشتہ کا لفظ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3880
حدیث نمبر: 3880 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا : اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے (جیسے جبرائیل کو) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢١٧) ، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٨) ، والأدب ١١١ (٦٢٠١) ، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٩) ، و ١٩ (٦٢٥٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٧) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٤٠٥، ٣٤٦) (تحفة الأشراف : ١٧٧٦٦) ، و مسند احمد (٦/١٤٦، ١٥٠، ٢٠٨، ٢٢٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3881
حدیث نمبر: 3881 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক: