আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৯২২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا : یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس (مدینہ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٧١ (٢٨٨٩) ، وأحادیث الأنبیاء ١١ (٣٣٦٧) ، والمغازي ٢٨ (٤٠٨٣، ٤٠٨٤) ، والاعتصام ١٦ (٧٣٣٣) ، صحیح مسلم/الحج ٨٥ (١٣٦٥) (تحفة الأشراف : ١١١٦) ، و مسند احمد (٣/١٤٠، ١٤٩، ٢٤٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3922
حدیث نمبر: 3922 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ، فَقَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٢٤١) (موضوع) (سند میں غیلان بن عبد اللہ سخت ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : موضوع الرد علی الکتاني رقم الحديث (1) // ضعيف الجامع الصغير (1573) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3923
حدیث نمبر: 3923 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ: الْمَدِينَةَ، أَوْ الْبَحْرَيْنِ، أَوْ قِنَّسْرِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَمَّارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨٦ (١٣٧٨) (تحفة الأشراف : ١٢٨٠٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : شرط وہی ہے کہ وہ پکا موحد ہو ، کسی طرح کے بھی شرک کا مرتکب اس شفاعت کا مستحق نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج فقه السيرة (184) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3924
حدیث نمبر: 3924 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيد، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٌ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ مکرمہ کی فضیلت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو «حزوراء» (چھوٹا ٹیلہ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا : قسم اللہ کی ! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق : «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق : «أبي سلمة عن عبد اللہ بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠٣ (٣١٠٨) (تحفة الأشراف : ٦٦٤١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث نیز مسجد الحرام مکہ میں نماز کے اجر و ثواب والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے ، کہ مکہ : مدینہ سے افضل ہے ، یہی محققین کا قول ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3108) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3925
حدیث نمبر: 3925 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ، عِنْدِي أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ مکرمہ کی فضیلت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٥٣٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2724) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3926
حدیث نمبر: 3926 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرب کی فضیلت کے بارے میں
سلمان (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلمان ! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا : تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٤٨٨) (ضعیف) (سند میں قابوس لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (2020) ، المشکاة (5989) // ضعيف الجامع الصغير (6394) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3927
حدیث نمبر: 3927 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ، لَا تَبْغَضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَبْغَضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ ؟ قَالَ: تَبْغَضُ الْعَرَبَ فَتَبْغَضُنِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرب کی فضیلت کے بارے میں
عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٨١٢) (موضوع) (سند میں حصین بن عمر الاحمسی “ متروک راوی ہے) قال الشيخ الألباني : موضوع، الضعيفة (545) ، المشکاة (5990) // ضعيف الجامع الصغير (5715) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3928
حدیث نمبر: 3928 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقٍ، وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرب کی فضیلت کے بارے میں
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہوجاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے ۔ محمد بن رزین کہتے ہیں : ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٠٢٢) (ضعیف) (سند میں ام الحریر اور ام محمد بن ابی رزین دونوں مجہول ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4515) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3929
حدیث نمبر: 3929 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ الْحُرَيْرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ: وَمَوْلَاهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرب کی فضیلت کے بارے میں
ام شریک (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے ، ام شریک (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : وہ (تعداد میں) تھوڑے ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ٢٥ (٢٩٤٥) (تحفة الأشراف : ١٨٣٣٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3930
حدیث نمبر: 3930 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ ، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: هُمْ قَلِيلٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرب کی فضیلت کے بارے میں
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور «یافث» ، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٢٣١ (ضعیف) وضاحت : ١ ؎ : یہ تینوں نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کے نام ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3683) // تقدم برقم (635 / 3461) ، ضعيف الجامع الصغير (3214) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3931
حدیث نمبر: 3931 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ، وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيُقَالُ: يَافِثُ، وَيَافِتُ، وَيفِثُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عجم کی فضیلت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٥٠٢) (ضعیف) (سند میں صالح بن ابی صالح ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6245) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3932
حدیث نمبر: 3932 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ: صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عجم کی فضیلت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت سورة الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں : اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرلیں گے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ (رض) سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة الجمعة ١ (٤٨٩٧) ، ٤٨٩٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٩ (٢٥٢٦) (تحفة الأشراف : ١٢٩١٧) ، و مسند احمد (٢/٢٩٧، ٤٢٠، ٤٦٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سلمان فارسی (رض) عجمی ( ملک ایران کے ) تھے اور اس آیت میں انہیں لوگوں کی طرف اشارہ ہے ، عجم میں بیشمار محدثین اور عظیم امامان اسلام پیدا ہوئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح وهو مکرر الحديث (3541) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3933
حدیث نمبر: 3933 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ، فَتَلَاهَا، فَلَمَّا بَلَغَ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا ؟ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، قَالَ: وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ: سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے اللہ ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٦٩٧) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مدینہ میں زیادہ تر علم یمن سے آیا کرتا تھا ، اس لیے آپ نے اہل یمن کی دلوں کو مدینہ کی طرف پھیر دینے کی دعا فرمائی ، اسی مناسبت سے آپ نے مدینہ کی صاع اور مد ( یعنی صاع اور مد میں ناپے جانے غلے ) میں برکت کی دعا فرمائی۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (6263 / التحقيق الثانی) ، الإرواء (4 / 176) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3934
حدیث نمبر: 3934 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٧٤ (٤٣٨٨، ٤٣٩٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢١ (٥٢/٨٤) (تحفة الأشراف : ١٥٠٤٧) ، و مسند احمد (٢/٢٥٢، ٢٥٨، ٢٥٨، ٤٨٠، ٥٤١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : بقول بعض آپ ﷺ نے ایمان و حکمت کو جو یمنی فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان و حکمت دونوں مکہ سے نکلے ہیں اور مکہ تہامہ سے ہے اور تہامہ سر زمین یمن میں داخل ہے ، اور بقول بعض یہاں ظاہری معنی ہی مراد لینے میں کوئی حرج نہیں ، یعنی یہاں خاص یمن جو معروف ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو اس وقت یمن سے آئے تھے ، نہ کہ ہر زمانہ کے اہل یمن مراد ہیں ، نیز یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ یمن والوں سے بہت آسانی سے ایمان قبول کرلیا ، جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں پر بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی ، اس لیے اہل یمن ( اس وقت کے اہل یمن ) کی تعریف کی ، «واللہ اعلم» قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (1034) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3935
حدیث نمبر: 3935 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلطنت (حکومت) قریش میں رہے گی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٤٦١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1083) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3936
حدیث نمبر: 3936 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ يَعْنِي: الْيَمَنَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «ازد» ( اہل یمن) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش ! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں ! ازدیہ ہوتی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩١٩) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد الکریم مجہول ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (2467) // ضعيف الجامع الصغير (2275) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3937
حدیث نمبر: 3937 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَمِّي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، حَدَّثَنِي عَمِّيعَبْدُ السَّلَامِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ، وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا، يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفٌ وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : (صحیح) تحفة الأحوذی (٤١٩٦/١٠/٣٠٤) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے ، انس (رض) قبیلہ انصار کے تھے ، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں ، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3938
حدیث نمبر: 3938 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا (میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا) اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیرلیا اور فرمایا : اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٦٣٣) ، و مسند احمد (٢/٢٧٨) (موضوع) (سند میں مینا بن ابی مینا متروک شیعی راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو : الضعیفة ٣٤٩) قال الشيخ الألباني : موضوع، الضعيفة (349) // ضعيف الجامع الصغير (3109) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3939
حدیث نمبر: 3939 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ بَغْدَادِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ، وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ، وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَيُرْوَى عَنْ مِينَاءَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ کی فضیلت کے بارے میں
ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥١٩) (تحفة الأشراف : ٣٤٩٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3940
حدیث نمبر: 3940 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَغِفَارٌ، وَأَشْجَعُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ کی فضیلت کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسلم کو اللہ صحیح سالم رکھے، غفار کو اللہ بخشے اور عصیہ (قبیلہ) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٦ (٣٥١٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٦ (٢٥١٨) ، ویأتي برقم ٣٩٤٨ (تحفة الأشراف : ٧١٣٠) ، و مسند احمد (٢/٢٠، ٥٠، ٦٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں ، قبیلہ اسلم ، اور غفار کی منقبت ہے ، جبکہ قبیلہ عصیہ کی برائی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3941
حدیث نمبر: 3941 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: