আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৬৬৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر (رض) کے سلسلہ میں فرمایا : یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، (آپ نے فرمایا :) علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣١٣) (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3664
حدیث نمبر: 3664 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر (رض) نمودار ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی ! تم انہیں نہ بتانا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ٣- علی (رض) سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٤- اس باب میں انس اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٤٦) (صحیح) (سند میں ” علی بن الحسین زین العابدین “ کی اپنے دادا ” علی “ (رض) سے ملاقات و سماع نہیں ہے، مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (95) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3665
حدیث نمبر: 3665 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی ! تم انہیں نہ بتانا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٥) (تحفة الأشراف : ١٠٠٣٥) (صحیح) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3665) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3666
حدیث نمبر: 3666 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ذَكَرَ دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے کہا : کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا ؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں ؟۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں : ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٥٩٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3667 ہم سے اسے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اور شعبہ نے جریری کے واسطہ سے ابونضرہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں : ابوبکر (رض) نے کہا : پھر انہوں نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی جیسی روایت ذکر کی لیکن اس میں ابو سعید خدری کا واسطہ ذکر نہیں کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3667
حدیث نمبر: 3667 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بَهَا، أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ، أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا أَصَحُّ.حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَأَبُو بَكْرٍ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر (رض) بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر (رض) کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٨٦) (ضعیف) (سند میں ” حکم بن عطیہ “ پر کلام ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6053) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3668
حدیث نمبر: 3668 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَلَا يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر (رض) میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر (رض) سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٩) (تحفة الأشراف : ٧٤٩٩) (ضعیف) (سند میں سعید بن مسلمہ ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (99) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (18) وهنا أتم، المشکاة (6054) ، ضعيف الجامع الصغير (6089) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3669
حدیث نمبر: 3669 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا، وَقَالَ: هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٦٧٦) (ضعیف) (سند میں کثیر بن اسماعیل ابو اسماعیل ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6019) // ضعيف الجامع الصغير (1327) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3670
حدیث نمبر: 3670 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ، وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر (رض) کو دیکھا تو فرمایا : یہ دونوں (اسلام کے) کان اور آنکھ ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٤٦) (صحیح) (الصحیحة ٨١٤) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (814) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3671
حدیث نمبر: 3671 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ . وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْطَبٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، اس پر عائشہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ١ ؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں : تو میں نے حفصہ سے کہا : تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے (ایسا ہی) کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے (بطور شکایت) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٤) ، و ٤٦ (٦٧٩) ، و ٦٧ (٧١٢) ، و ٧٠ (٧١٦) ، والاعتصام (٧٣٠٣) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨) ، سنن النسائی/الإمامة ٤٠ (٨٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٢ (١٢٣٢) (تحفة الأشراف : ١٧١٥٣) ، و مسند احمد (٦/٣٤، ٩٦، ٩٧، ٢١٠، ٢٢٤) ، وسنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ ابوبکر پر رقت طاری ہوجائے گی اور وہ رونے لگیں گے پھر رونے کی وجہ سے اپنی قرأت لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے ، اور بعض روایات کے مطابق اس کا سبب عائشہ نے یہ بیان کیا ، اور بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں آپ کی جگہ پر کھڑے ہونے پر ابوبکر اپنے غم ضبط نہیں کر پائیں گے اس طرح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا پائیں گے ، «واللہ اعلم»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1232) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3672
حدیث نمبر: 3672 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ هُوَ ابْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر (رض) کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٥٤٨) (ضعیف جداً ) (بعض نسخوں میں ” حسن غریب “ ہے، اور بعض نسخوں اور تحفة الأشراف میں صرف ” غریب “ ہے، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف راوی ہے، عبدالرحمن بن مہدی نے ان سے کہا : بسند قاسم تم عائشہ سے یہ کس طرح کی احادیث روایت کرتے ہو، تو کہا کہ دو بارہ نہیں بیان کروں گا اور امام بخاری نے فرمایا کہ وہ منکر الحدیث ہے، الضعیفة : ٤٨٢٠) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، الضعيفة (4820) // ضعيف الجامع الصغير (6371) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3673
حدیث نمبر: 3673 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہ وہ خیر ہے (جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہوگا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہوگا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر (رض) نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے (اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہوجانا کافی ہے) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٧) ، والجھاد ٣٧ (٢٨٤١) ، وبدء الخلق ٦ (٣٢١٦) ، وفضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٦) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٧ (١٠٢٧) ، سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٤٠) ، والزکاة ١ (٢٤٤١) ، والجھاد ٢٠ (٣١٣٧) (تحفة الأشراف : ١٢٢٧٩) ، وط/الجھاد ١٩ (٤٩) ، و مسند احمد (٢/٢٦٨، ٣٣٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3674
حدیث نمبر: 3674 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے (دل میں) کہا : اگر میں ابوبکر (رض) سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں) اور ابوبکر (رض) وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا : ابوبکر ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ تو انہوں نے عرض کیا : ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے (اپنے جی میں) کہا : اللہ کی قسم ! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٤٠ (١٦٧٨) (تحفة الأشراف : ١٠٣٩٠) ، وسنن الدارمی/الزکاة ٢٦ (١٧٠١) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (6021) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3675
حدیث نمبر: 3675 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ ، قُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ ، قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی : مجھے بتائیے اللہ کے رسول ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں ؟ (تو کس کے پاس جاؤں) آپ نے فرمایا : اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٥٩) ، والأحکام ٥١ (٧٢٢٠) ، والاعتصام ٢٥ (٧٣٦٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٦) (تحفة الأشراف : ٣١٩٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں آپ ﷺ کے بعد آپ کے جانشین ابوبکر (رض) کے ہونے کی پیشین گوئی ، اور ان کو اپنا جانشین بنانے کا لوگوں کو اشارہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3676
حدیث نمبر: 3676 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِي أَبَا بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں (یہ کہہ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے ، واللہ اعلم ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحرث والمزارعة ٤ (٢٣٢٤) ، وأحادیث الأنبیاء ٥٢ (٣٤٧١) ، وفضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٣) ، و ٦ (٣٦٩٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٨) (تحفة الأشراف : ١٤٩٥١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اللہ کے رسول ﷺ کو ان دونوں کے سلسلہ میں اتنا مضبوط یقین تھا کہ جو میں کہوں گا وہ دونوں اس پر آمنا و صدقنا کہیں گے ، اسی لیے ان کے غیر موجودگی میں بھی آپ نے ان کی طرف سے تصدیق کردی ، یہ ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (247) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3677 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (247) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3677
حدیث نمبر: 3677 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً إِذْ قَالَتْ: لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے کہ نبی اکرم ﷺ نے (مسجد کی طرف کھلنے والے) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر (رض) کے دروازہ کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ٢- اس باب میں ابو سعید خدری (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٤١٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر الحديث (3922)
حدیث نمبر: 3678 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ . هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسیٰ بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٩٢١) (صحیح) (الصحیحة ١٥٧٤) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6022 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3679
حدیث نمبر: 3679 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا. هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر (رض) ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا (اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے) ٣- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤١٩٦) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : اس کے باوجود ابوبکر و عمر (رض) کی منقبت میں حدیث روایت کی ، اس سے اس روایت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ، «الفضل ما شہدت بہ أعداء»۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6056) // ضعيف الجامع الصغير (5223) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3680
حدیث نمبر: 3680 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ: فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يكنى: أبا إدريس وهو شيعي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مناقب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما ، آپ ﷺ نے فرمایا : تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عمر (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٦٥٥) ، و مسند احمد (٢/٦٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6036 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3681
حدیث نمبر: 3681 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ، أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے ۔ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب (رض) نے (راوی خارجہ کو شک ہوگیا ہے) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر (رض) کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ٣- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٦٥٦) ، و مسند احمد (٢/٥٣، ٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اسی لیے آپ کو «ملہم» یا «محدث» کہا جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (108) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3682
حدیث نمبر: 3682 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ: فِيهِ عُمَرُ، أَوْ قَالَ: ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما ، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (لیکن حدیث رقم : (٣٦٩٠) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٢٢٣) (ضعیف جداً ) (سند میں نضر بن عبدالرحمن ابو عمر الخزاز متروک راوی ہے، امام ترمذی نے بھی اسی سبب ضعف کا ذکر کردیا ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، المشکاة (6036) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3683
حدیث نمبر: 3683 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ ابْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرَ ، قَالَ: فَأَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ وَهُوَ يَرْوِي مَنَاكِيرَ.
তাহকীক: