আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৬৪৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہر نبوت کے متعلق
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢١٤٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (15) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3644
حدیث نمبر: 3644 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ غُدَّةً حَمْرَاءَ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ١ ؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢١٤٤) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة کثیر الخطا والتدلیس راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : یعنی آپ کی پنڈلیاں اتنی بھی باریک نہیں تھیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بےجوڑ ہوگئی ہوں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل (193) ، ضعيف الجامع الصغير (4474) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3645
حدیث نمبر: 3645 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٢٧ (٢٣٣٩) (تحفة الأشراف : ٢١٨٣) (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3646
حدیث نمبر: 3646 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (7) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3647
حدیث نمبر: 3647 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ ؟ قَالَ: وَاسِعُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ ؟ قَالَ: قَلِيلُ اللَّحْمِ ؟. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٤٧١) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3648
حدیث نمبر: 3648 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود (رض) ہیں اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ١ ؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٧) (تحفة الأشراف : ٢٩٢٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی خود نبی اکرم ﷺ ، اس میں آپ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ شکل و صورت سے ابراہیم (علیہ السلام) سے مشابہ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1100) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3649
حدیث نمبر: 3649 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ کے وقت عمر کے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٣) (تحفة الأشراف : ٦٢٩٤) (شاذ) (سند صحیح ہے، لیکن ابن عباس (رض) کو اس بابت وہم ہوگیا تھا، وفات کے وقت صحیح عمر ٦٣ سال ہے، دیکھیے ابن عباس ہی کا بیان حدیث رقم ٣٦٥٢ میں) وضاحت : ١ ؎ : دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم : ٣٦٣١۔ قال الشيخ الألباني : شاذ ومضی (3701) // (746 / 3883) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3650
حدیث نمبر: 3650 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ کے وقت عمر کے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (شاذ) قال الشيخ الألباني : شاذ انظر ما قبله (3650) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3651
حدیث نمبر: 3651 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَاابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں تیرہ ( ١٣) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ٦٣) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور دغفل کا نبی اکرم ﷺ سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٠٣) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٣٣٥١) (تحفة الأشراف : ٦٣٠٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی (3882) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3652
حدیث نمبر: 3652 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَلَا يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رُؤْيَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ (رض) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر (رض) بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی (اس وقت) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٣) (تحفة الأشراف : ١١٤٠٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (318) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3653
حدیث نمبر: 3653 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسے زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ١٩ (٣٥٣٦) ، والمغازي ٨٥ (٤٤٦٦) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٠) (تحفة الأشراف : ١٦٥٣٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (319) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3654
حدیث نمبر: 3654 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ہر خلیل کی «خلت» (دوستی) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل (دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر (رض) کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٣) (تحفة الأشراف : ٩٥١٣) ، و مسند احمد (١/٣٧٧، ٣٨٩، ٣٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : «خُلّت» دوستی کی ایک خاص حالت ہے جس کے معنی ہیں دوست کی دوستی کا دل میں رچ بس جانا ، یہ محبت سے اعلی و ارفع حالت ہے ، اسی لیے آپ ﷺ یا ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کو دیا ہے ، رہی محبت کی بات تو آپ کو سارے صحابہ ، صدیقین و صالحین سے محبت ہے ، اور صحابہ میں ابوبکر صدیق (رض) کا مقام سب سے افضل ہے ، حتیٰ کہ ممکن ہوتا تو آپ ابوبکر کو خلیل بنا لیتے ، یہ بات ابوبکر (رض) کی ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3655
حدیث نمبر: 3655 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف بهذا الاختصار وهو في سياق طويل في حديث ثقيفة بني ساعدة وبيعة أبي بکر في البخاري (فضائل الصحابة ٥ برقم : 3667، 3668) ( تحفة الأشراف : ١٠٦٧٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (6018) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3656
حدیث نمبر: 3656 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : صحابہ میں سے رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ انہوں نے کہا : عمر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ تو وہ خاموش رہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠٢) (تحفة الأشراف : ١٦٢١٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٥٨، نیز ٣٦٦٧) وضاحت : ١ ؎ : صحابہ کے فضائل و مناقب کے مختلف اسباب ہیں ، منجملہ سبب تو سب کا صحابی رسول ہونا ہے ، اور الگ سبب یہ ہے کہ کسی کی فضیلت اسلام میں تقدم کی وجہ سے ہے ، کسی کی اللہ و رسول سے ازحد فدائیت کی وجہ سے ہے ، اور کسی سے کسی بات میں بڑھے ہونے کی وجہ سے ہے ، اور کسی کی فضیلت دوسرے کی فضیلت کے منافی نہیں ہے ، اور اس حدیث میں جو عثمان و علی (رض) کا تذکرہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمر (رض) کے بعد ان دونوں کا مقام نہیں بلکہ ابوعبیدہ (رض) کا ہے ، مگر احادیث میں یہ ترتیب ثابت ہے ، کہ ابوبکر کے بعد عمر ان کے بعد عثمان اور ان کے بعد علی ، پھر ان کے بعد عشرہ مبشرہ ، پھر عام صحابہ کا مقام ہے (رض) اجمعین۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3657
حدیث نمبر: 3657 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُلِعَائِشَةَ: أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ: ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: فَسَكَتَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلند درجات والوں کو (جنت میں) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر (رض) دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٦) (تحفة الأشراف : ٤٢٠٢، و ٤٢٠٦، و ٤٢١٢، و ٤٢٣٣، ٤٢٣٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (96) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3658
حدیث نمبر: 3658 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، وَالْأَعْمَشِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَهْبَانَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى،وَكَثِيرٍ النَّوَّاءِ كُلِّهِمْ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابومعلی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا : ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھالے یا اپنے رب سے ملنے کو (ترجیح دے) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں : یہ سن کر ابوبکر (رض) رو پڑے، تو صحابہ نے کہا : کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ ﷺ نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر (رض) ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر) ابوبکر (رض) نے کہا : بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کردیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن (ہمارے اور ان کے درمیان) ایمان کی دوستی موجود ہے ۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا : تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل (دوست) ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابو سعید خدری (رض) سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى» ، «علی» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢١٧٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی المعلی انصاری کے بارے میں حافظ ابن حجر کہتے ہیں : لا يعرف یعنی غیر معروف اور مجہول راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، امام ترمذی نے اس کی تحسین ابو سعید خدری کی حدیث کی وجہ سے کی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3659
حدیث نمبر: 3659 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا، فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ، وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ، إِذْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ قَالَ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَمْوَالِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ إِلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: أَمَنَّ إِلَيْنَا يَعْنِي أَمَنَّ عَلَيْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا : ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں ، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ١ ؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا : اس بوڑھے کو دیکھو ! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر (رض) اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر (رض) کی بات سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں (یعنی مسجد کی طرف) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٠ (٤٦٦) ، وفضائل الصحابة ٣ (٣٦٥٤) ، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٠٤) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٢) (تحفة الأشراف : ٤١٤٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : ہمارے ماں باپ کی عمریں آپ کو مل جائیں تاکہ آپ کا سایہ ہم پر تادیر اور مزید قائم رہے۔ ٢ ؎ : یہ ابوبکر (رض) کی تمام صحابہ پر فضیلت کی دلیل ہے۔ مسجد نبوی میں یہ دروازہ آج بھی موجود ہے ، محراب کی دائیں جانب پہلا دروازہ باب السلام ہے اور اور دوسرا خوخۃ ابی بکر (رض) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3660
حدیث نمبر: 3660 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَدَيْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، قَالَ: فَعَجِبْنَا، فَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٨٤٩) (ضعیف) (سند میں ” داود الأودی “ اور ” محبوب “ ضعیف ہیں، اس لیے پہلا فقرہ يوم القيامة تک ضعیف ہے، مگر حدیث کا دوسرا اور تیسرا فقرہ شواہد و متابعات کی بنا پر صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (94) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3661
حدیث نمبر: 3661 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ الْقَوَارِيرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ٣- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٧) (تحفة الأشراف : ٣٣١٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے یکے بعد دیگرے ابوبکر اور عمر (رض) دونوں کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں کے لیے فضیلت کی بات ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (97) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3662 ہم سے احمد بن منیع اور کئی دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے، وہ سب کہتے ہیں : ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ہے اور سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے، کبھی تو انہوں نے اسے «عن زائدة عن عبد الملک بن عمير» ذکر کیا اور کبھی انہوں نے اس میں «عن زائدة» ذکر نہیں کیا، ٢- ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث سفیان ثوری سے، سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے ربعی کے آزاد کردہ غلام ہلال سے، ہلال نے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ربعی سے آئی ہے، جسے انہوں نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٤- سالم انعمی کوفی نے یہ حدیث ربعی بن حراش کے واسطہ سے حذیفہ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (97) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3662
حدیث نمبر: 3662 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ وَهُوَ ابْنُ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ . وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ سَالِمٌ الْأَنْعُمِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر (رض) کی جانب اشارہ کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3662) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3663
حدیث نمبر: 3663 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي ، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ.
তাহকীক: