আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৪ টি
হাদীস নং: ৩৭২৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب (علی) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا : جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو علی (رض) سے فرماتے ہوئے سنا ہے (آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی (رض) نے کہا تھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ١ ؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا : علی کو بلاؤ، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چناچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناء کم ونساءنا ونساء کم» اتری۔ تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) کو بلایا اور فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٩ (٣٧٠٦) ، والمغازي ٧٨ (٤٤١٦) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٤/٣٢) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢١) ، ( تحفة الأشراف : ٣٨٧٢) ، و مسند احمد (١/١٧٠، ١٧٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ علی (رض) کے آپ ﷺ سے نہایت قریب ہونے کی دلیل ہے ، نیز یہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل ہے۔ ٢ ؎ : اس آیت مباہلہ میں جن لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کا اہل مراد لیا گیا ان میں علی (رض) بھی شامل کئے گئے ، «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة : ٤) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3724
حدیث نمبر: 3724 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ ؟ قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ وَخَلَفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَخْلُفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا ، فَأَتَاهُ وَبِهِ رَمَدٌ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61 الْآيَةَ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
براء (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب (رض) کو اور دوسرے کا خالد بن ولید (رض) کو بنایا اور فرمایا : جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چناچہ علی (رض) نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے (مال غنیمت میں سے) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد (رض) نے نبی اکرم ﷺ کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ ﷺ سے علی (رض) کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں : چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہوگیا پھر آپ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہوگئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ١٧٠٤ (ضعیف الإسناد) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد ومضی برقم (1756) // (286 / 1772) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3725
حدیث نمبر: 3725 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَقَالَ: إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ ، قَالَ: فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً، فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِي بِهِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ طائف کے دن علی (رض) کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے : آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ٢- آپ کے قول بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٦٥٤) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6088) ، الضعيفة (3084) // ضعيف الجامع الصغير (5022) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3726
حدیث نمبر: 3726 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَجْلَحِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا، عَنِ الْأَجْلَحِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَكِنَّ اللَّهَ انتجاه يَقُولُ: اللَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا : علی ! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- علی بن منذر کہتے ہیں : میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا : اس حدیث کا مفہوم کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ٣- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑگئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢٠٣) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور سالم بن ابی حفصہ غالی شیعہ ہے، اور روایت میں تشیع ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6089) ، الضعيفة (4973) // ضعيف الجامع الصغير (6402) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3727
حدیث نمبر: 3727 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرِكَ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل هَذَا الْحَدِيثَ فَاسْتَغْرَبَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٢- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٨٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں علی بن عابس اور مسلم بن کیسان اعور دونوں ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3728
حدیث نمبر: 3728 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ حَبَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
علی رضی الله عنہ کہتے تھے: جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے ( دینے میں یا بولنے میں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (اور ہارون (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٣٧٠) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں، مگر سعد بن ابی وقاص (رض) کی حدیث (٣٧٢٤) سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (3729) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3730
حدیث نمبر: 3730 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ٣- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٨٣٠ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (121) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3731
حدیث نمبر: 3731 حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رض) کے دروازے کے علاوہ (مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٣١٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مناقب ابی بکر (رض) میں یہ حدیث گزری کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر (رض) کے دروازے کے سوا مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازوں کو بند کردینے کا حکم دیا ان دونوں حدیثوں کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اس طرح دور کیا گیا ہے ، کہ شروع میں مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے سوائے علی (رض) کے بند کردینے کا حکم ہوا ، تو لوگوں نے دروازے بند کر کے روشندان کھول لیے اور نبی اکرم ﷺ کے مرض کے ایام میں آپ نے ابوبکر (رض) کے روشندان کے سوا سارے لوگوں کے روشندان بند کردیئے ، ( یہ روشندان اوپر بھی ہوتے تھے اور نیچے بھی ، نیچے والے سے لوگ آمدورفت بھی کرتے تھے ، مسجد کی طرف دروازوں کے بند ہوجانے کے بعد مسجد میں آنے جانے کے لیے لوگوں نے استعمال کرنا شروع کردیا تھا ، «کما فی کتب مشکل الحدیث»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الضعيفة تحت الحديث (4932 و 4951) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3732
حدیث نمبر: 3732 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین (رض) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٠٧٣) ، و مسند احمد (١/٧٧) (ضعیف) (سند میں علی بن جعفر مجہول ہیں، اور حدیث کا متن منکر ہے، ملاحظہ ہو الضعیفة رقم : ٣١٢٢) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3122) ، تخريج المختارة (392 - 397) // ضعيف الجامع الصغير (5344) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3733
حدیث نمبر: 3733 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ، وَأَبَاهُمَا، وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی (رض) ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ٢- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی (رض) ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے : بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر (رض) ہیں اور علی (رض) جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ (رض) ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (٦٣١٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہی قول سب سے بہتر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الضعيفة تحت الحديث م (4932) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3734
حدیث نمبر: 3734 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی (رض) ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں : میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا : سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٣٦٦٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد عن زيد، متصل عن النخعی صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3735
حدیث نمبر: 3735 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی امی ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے ١ ؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں : میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٨) ، سنن النسائی/الإیمان ١٩ (٥٠٢١) ، و ٢٠ (٥٠٢٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٤) (تحفة الأشراف : ١٠٠٩٢) و مسند احمد (١/٨٤، ٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے ، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر (رض) سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہوگی ، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے ، تو صرف علی (رض) سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے ، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان (رض) سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ ٢ ؎ : یعنی : ارشاد نبوی اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے ، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی (رض) سے محبت رکھتا ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (114) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3736
حدیث نمبر: 3736 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام عطیہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی (رض) بھی تھے، میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے : «اللهم لا تمتني حتی تريني عليا» اے اللہ ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨١٤٢) (ضعیف) (سند میں ام شراحیل مجہول راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6090) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3737
حدیث نمبر: 3737 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب
زبیر بن عوام (رض) کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہوگئے، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٦٩٢ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ (رض) جنت کے حقدار قرار دئیے گئے ، یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔ قال الشيخ الألباني : حسن مضی برقم (1759) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3738
حدیث نمبر: 3738 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ، فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو (دنیا ہی میں) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٥) (تحفة الأشراف : ٣١٠٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ معجزات رسول میں سے ایک معجزہ تھا ، چناچہ طلحہ (رض) اس معجزہ نبوی کے مطابق واقعہ جمل میں شہید ہوئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (125) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3739
حدیث نمبر: 3739 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطُّلَحِيُّ مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ (رض) کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کرچکے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ (رض) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٢٠٢ (حسن) وضاحت : ١ ؎ : یہ اللہ تعالیٰ کے قول «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر» (الأحزاب : 23 ) کی طرف اشارہ ہے ، یعنی : مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان ( صبر و ثبات ) کو سچ کر دکھایا ، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کردی ، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں ۔ قال الشيخ الألباني : حسن وهو مکرر الحديث (3432) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3740
حدیث نمبر: 3740 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب
عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٤٣) (ضعیف) (سند میں ابو عبد الرحمن نضر بن منصور اور عقبہ بن علقمة یشکری دونوں ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6114) ، الضعيفة (2311) // ضعيف الجامع الصغير (3627) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3741
حدیث نمبر: 3741 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب
طلحہ (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ سے «من قضی نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ ﷺ کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چناچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیرلیا، اس نے پھر پوچھا : آپ نے پھر منہ پھیرلیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : «من قضی نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اعرابی بولا : میں موجود ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ٢- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ٣- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب کتاب الفوائد میں رکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٠٢ (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وهو مکرر الحديث (3433) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3742
حدیث نمبر: 3742 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى ابني طلحة، عَنْ أَبِيهِمَا طَلْحَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ: سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ ؟ وَكَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ هُمْ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ، فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ؟ ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثَ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْفَوَائِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض) نے مناقب
زبیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ١٣ (٣٧٢٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٣) (تحفة الأشراف : ٣٦٢٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہ زبیر سے اللہ کے رسول ﷺ کی نہایت قربت کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3743
حدیث نمبر: 3743 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: