আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
دعاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩৫ টি
হাদীস নং: ৩৫১০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم (کچھ) چر، چگ لیا کرو ١ ؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (٤٦٥) (حسن) (سند میں ” محمد بن ثابت البنانی “ ضعیف ہیں، لیکن شاہد اور متابع کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحہ : ٢٥٦٢، تراجع الالبانی ٩٢) وضاحت : ١ ؎ : مساجد میں کچھ عبادت و بندگی اور ذکر و فکر کر کے اپنی یہ اخروی زندگی کی آسودگی کا کچھ سامان کرلیا کرو۔ قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (2562) ، التعليق الرغيب (2 / 335) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3510
حدیث نمبر: 3510 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنِيأَبِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا ، قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ: حِلَقُ الذِّكْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ابوسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندک احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر (صبر کرنے کا) اچھا اجر دے، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے ان سے اچھا دے ، پڑھنا چاہیئے، پھر جب ابوسلمہ (رض) کی موت کا وقت آگیا تو انہوں نے دعا کی : «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» اے اللہ ! میرے گھر والوں میں مجھ سے بہتر ذات کو میرا خلیفہ و جانشیں بنا دے ، اور جب ان کی موت واقع ہوگئی تو ام سلمہ (رض) نے کہا : «إنا لله وإنا إليه راجعون عند اللہ احتسبت مصيبتي فأجرني فيها»۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ (رض) کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے ٣- اور ابوسلمہ (رض) کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٨) (تحفة الأشراف : ٦٥٧٧) (ضعیف) (تراجع الالبانی ٣٤١) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد - أم سلمة نحوه صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3511
حدیث نمبر: 3511 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سورة البقرة آية 156 اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مِنْهَا خَيْرًا ، فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اخْلُفْ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنِّي، فَلَمَّا قُبِضَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سورة البقرة آية 156 عِنْدَ اللَّهِ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا افضل (سب سے اچھی) ہے ؟ آپ نے فرمایا : اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو ، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا : کون سی دعا افضل ہے ؟ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا : جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کرلی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ٥ (٣٨٤٨) (تحفة الأشراف : ٨٦٩) (ضعیف) (سند میں ” سلمہ بن وردان “ ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3848) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (839) ، ضعيف الجامع الصغير (3269) ، المشکاة (2490) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3512
حدیث نمبر: 3512 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ، وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ: فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَأُعْطِيتَهَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : پڑھو «اللهم إنک عفو کريم تحب العفو فاعف عني» اے اللہ ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ٥ (٣٨٥٠) (تحفة الأشراف : ١٦١٨٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3850) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3513
حدیث نمبر: 3513 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا : اللہ سے عافیت مانگو ، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا : اے عباس ! اے رسول اللہ ﷺ کے چچا ! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب (رض) سے سنا ہے (یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥١٢٩) ، و مسند احمد (١/٢٠٩) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم : ١٥٢٣) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2490 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (1523) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3514
حدیث نمبر: 3514 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، فَقَالَ لِي: يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَدْ سَمِعَ مِنَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت (دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات) مانگی جائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملی کی کی روایت سے جانتے ہیں، (اور یہ ضعیف ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٥٠٤) (ضعیف) (سند میں ” عبد الرحمن بن ابی بکر ملی کی “ ضعیف ہیں) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3515
حدیث نمبر: 3515 حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الْمُلَيْكِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے : «اللهم خر لي واختر لي» اے اللہ ! میرے لیے بہتر کا انتخاب فرما اور میرے لیے بہتر پسند فرما ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے ٢- اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے (کسی اور نے نہیں) اور کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٦٣٨) (ضعیف) (سند میں ” زنفل “ ضعیف ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1515) // ضعيف الجامع الصغير (4330) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3516
حدیث نمبر: 3516 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَالَ: اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَنْفَلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَيُقَالُ لَهُ زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرَفِيُّ وَكَانَ يَسْكُنُ عَرَفَاتٍ، وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
بو مالک اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» (اللہ کی حمد) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو (اجر و ثواب سے) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے (ایمان کی) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چناچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے) اس کو (جہنم سے) آزاد کرا لیتا ہے، یا (شیطان کے ہاں فروخت کر کے) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١ (٢٢٣) (تحفة الأشراف : ١٢١٦٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎: علماء نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں، سب بہتر قول بقول صاحب تحفہ الاحوذی ہے کہ یہاں ایمان سے مراد «صلاة» ہے جیسا کہ ارشاد باری «وما کان اللہ ليضيع إيمانکم» (البقرۃ : ١٤٣) میں «إيمان» سے مراد «صلاة» ہے، اور «صلاة» کے لیے وضو شرط ہے، (وضو میں طہارت کبریٰ بھی شامل ہے، اور بعض روایات میں «الطہور» کا لفظ بھی آیا ہے) ۔ ٢ ؎: صدقہ ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ کے لیے صدقہ وہی کرتا ہے جس کو اللہ پر ایمان ہوتا ہے۔ ٣ ؎: یعنی اگر قرآن پر عمل کیا ہوگا تو قرآن فائدہ دے گا، ورنہ خلاف میں گواہی دے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (280) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3517
حدیث نمبر: 3517 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. ا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «تسبيح» (سبحان اللہ کہنے سے) نصف میزان (آدھا پلڑا) بھر جائے گا، اور «الحمد لله» میزان (پلڑے کے باقی خالی حصے) کو پورا بھر دے گا، اور «لا إله إلا الله» کے تو اللہ تک پہنچنے میں کوئی حجاب و رکاوٹ ہے ہی نہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٨٦٣) (ضعیف) (سند میں ” اسماعیل بن عیاش “ غیر شامیوں سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ” عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی “ ضعیف ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (2313 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2510) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3518
حدیث نمبر: 3518 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَيْسَ لَهَا دُونَ اللَّهِ حِجَابٌ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الإِفْرِيقِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» نصف میزان رہے گا اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٥٤١) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اور ممکن ہے کہ وہ صحابی نہ ہوں اور خود ” جری النھدی “ لین الحدیث ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (296) ، التعليق الرغيب (2 / 246) // ضعيف الجامع الصغير (2509) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3519
حدیث نمبر: 3519 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ، التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وقوف عرفہ کے دوران عرفہ کی شام اکثر جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی : «اللهم لک الحمد کالذي نقول وخيرا مما نقول اللهم لک صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولک رب تراثي اللهم إني أعوذ بک من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر اللهم إني أعوذ بک من شر ما تجيء به الريح» اے اللہ ! تیرے لیے ہی ہیں سب تعریفیں جیسی کہ تو نے ہمیں بتائی ہیں اور اس سے بہتر جیسی کہ ہم تیری تعریف کرسکتے ہیں، اے اللہ ! تیرے لیے ہی ہے میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، اے میرے رب ! تیرے لیے ہی ہے میری میراث، اے اللہ میں عذاب قبر سے، سینے کے وسوسہ سے اور متفرق و پراگندہ کام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جسے ہوا لے کر آتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٠٨٤) (ضعیف) (سند میں ” قیس بن ربیع “ ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (2918) // ضعيف الجامع الصغير (1214) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3520
حدیث نمبر: 3520 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَكَانَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي الْمَوْقِفِ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي نَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ، اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَآبِي وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو :«اللهم إنا نسألک من خير ما سألک منه نبيك محمد صلی اللہ عليه وسلم ونعوذ بک من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلی اللہ عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» اے اللہ ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر (برائی) سے جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے (خیر و شر کا) پہچانا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٨٩٣) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3356) // ضعيف الجامع الصغير (2165) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3521
حدیث نمبر: 3521 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ كَثِيرِ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ (رض) سے پوچھا : ام المؤمنین ! جب رسول اللہ ﷺ کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی ؟ انہوں نے کہا : آپ زیادہ تر : «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے ، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ اکثر یہ دعا : «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» کیوں پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کردیتا ہے پھر (راوی حدیث) معاذ نے آیت : «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی) نہ پیدا کر (آل عمران : ٨) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨١٦٤) ، و مسند احمد (٦/٣١٥) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح ظلال الجنة (223) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3522
حدیث نمبر: 3522 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ، قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لأَكْثَرِ دُعَاءَكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ؟ قَالَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ: إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ ، فَتَلَا مُعَاذٌ: رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا سورة آل عمران آية 8، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ خالد بن ولید مخزومی (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے شکایت کرتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! میں رات بھر نیند نہ آنے کی وجہ سے سو نہیں پاتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم اپنے بسترے پر سونے کے لیے جاؤ تو پڑھو : «اللهم رب السموات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت کن لي جارا من شر خلقک کلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارک وجل ثناؤك ولا إله غيرک لا إله إلا أنت» اے اللہ ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب ! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب ! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا پڑوسی بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کرسکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، تیرا پڑوسی باعزت ہو، اور تیری ثنا (و تعریف) بڑھ چڑھ کر ہو، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں معبود تو بس تو ہی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ٢- حکم بن ظہیر جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، بعض محدثین ان کی بیان کردہ حدیث نہیں لیتے، ٣- یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے ایک دوسری سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٤٠) (ضعیف) (سند میں ” حکم بن ظہیر “ متروک الحدیث ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الکلم الطيب (47 / 33) ، المشکاة (2411) // ضعيف الجامع الصغير (408) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3523
حدیث نمبر: 3523 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَامُ اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے : «يا حي يا قيوم برحمتک أستغيث» اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے ! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٧٧) (حسن) (سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے الکلم الطیب رقم ١١٨) قال الشيخ الألباني : حسن الکلم الطيب (118 / 76) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3524
حدیث نمبر: 3524 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «يا ذا الجلال والإکرام» کو لازم پکڑو (یعنی : اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ٢- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چناچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٢٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1536) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3525
حدیث نمبر: 3525 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمَّلٌ غَلِطَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ حَمَادٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَلَا يُتَابَعُ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ابوامامہ باہلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے ٢- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق : «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٨٨٩) (ضعیف) (سند میں ” شہر بن حوشب “ ضعیف ہیں، تراجع الالبانی ١٤٣) قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 207) ، المشکاة (1250) ، الکلم الطيب (43 / 29) ، التحقيق الثاني // ضعيف الجامع الصغير (5496) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3526
حدیث نمبر: 3526 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ، لَمْ يَنْقَلِبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا : «اللهم إني أسألک تمام النعمة» اے اللہ ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں ، آپ نے اس شخص سے پوچھا : نعمت تامہ کیا چیز ہے ؟ اس شخص نے کہا : میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہوگی، آپ نے فرمایا : بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں ۔ آپ نے ایک اور آدمی کو (بھی) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا : «يا ذا الجلال والإکرام» ، آپ نے فرمایا : تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے (جو تجھے مانگنا ہو) ، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا، «اللهم إني أسألک الصبر» اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں ، آپ نے فرمایا : تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٣٥٨) ، و مسند احمد (٥/٢٣٥) (ضعیف) (سند میں ” ابوالورد “ لین الحدیث راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4520) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3527 اس سند سے بھی اسماعیل بن ابراہیم نے جریری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4520) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3527
حدیث نمبر: 3527 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟ قَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ ، وَسَمِعَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ: قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو (یہ دعا) پڑھے :«أعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں ۔ (یہ دعا پڑھنے سے) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (تاکہ وہ اسے یاد کرلیں، نہ کہ تعویذ کے طور پر) عبداللہ بن عمر (رض) اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٨٩٣) (تحفة الأشراف : ٨٧٨١) (حسن) (عبداللہ بن عمرو کا اثر ثابت نہیں ہے، الکلم الطیب) وضاحت : ١ ؎ : اس کے لیے دیکھئیے ترمذی : کتاب الطب حدیث رقم : ٢٠٧٢ کا حاشیہ۔ قال الشيخ الألباني : حسن دون قوله فکان عبد اللہ 0000 الکلم الطيب (48 / 35) ، صحيح أبي داود (3294 / 3893) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3528
حدیث نمبر: 3528 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْروٍ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کے پاس آیا اور ان سے کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا ورق ہمارے آگے بڑھا دیا، اور کہا : یہ وہ کاغذ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کردیا ہے ١ ؎، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ابوبکر صدیق (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں صبح اور شام میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا : ابوبکر ! (یہ دعا) پڑھا کرو : «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب کل شيء ومليكه أعوذ بک من شر نفسي ومن شر الشيطان وشرکه وأن أقترف علی نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم» اے اللہ ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب (پالنے والا) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٩٥٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس صحیح الإسناد و المتن حدیث سے بھی نہایت واضح معلوم ہو رہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ و طاہرہ میں آپ کی احادیث مبارکہ کو صحابہ کرام (رض) اجمعین لکھ لیا کرتے تھے اور اس عظیم المرتبت عمل کے لیے راوی حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بہت معروف تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الکلم الطيب (22 / 9) ، الصحيحة (2763) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3529
حدیث نمبر: 3529 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا مِمَّا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَقَالَ: هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرَكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক: