আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৪ টি

হাদীস নং: ২২৩৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہوجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا : اے مسلمان ! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٩٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دیگر احادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2236
حدیث نمبر: 2236 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ:‏‏‏‏ يَا مُسْلِمُ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس متعلق کہ دجال کہاں سے نکلے گا
ابوبکر صدیق (رض) کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : دجال مشرق (پورب) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٢) (تحفة الأشراف : ٦٦١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملک ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4072) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2237
حدیث نمبر: 2237 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ خُرَاسَانُ، ‏‏‏‏‏‏يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي التَّيَّاحِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے نکلنے کی نشانیوں کے بارے میں
معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ملحمہ عظمی (بڑی لڑائی) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال (یہ تینوں واقعات) سات مہینے کے اندر ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں صعب بن جثامہ، عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الملاحم ٤ (٤٢٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٤٩٠٢) (تحفة الأشراف : ١١٣٢٨) (ضعیف) (سند میں دو راوی ” ابوبکر بن ابی مریم “ اور ” ولید بن سفیان غسانی “ ضعیف، اور ” یزید بن قطیب “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (4092) // ضعيف ابن ماجة برقم (890) ، ضعيف أبي داود (925 / 4295) ، المشکاة (5425) ، ضعيف الجامع الصغير (5945) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2238
حدیث نمبر: 2238 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ صَاحِبِ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے نکلنے کی نشانیوں کے بارے میں
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ قسطنطنیہ قیامت کے قریب فتح ہوگا۔ محمود بن غیلان کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٦٦٣) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2239
حدیث نمبر: 2239 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏هِيَ مَدِينَةُ الرُّومِ، ‏‏‏‏‏‏تُفْتَحُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ فُتِحَتْ فِي زَمَانِ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے فتنے کے متعلق
نواس بن سمعان کلابی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے (اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو) آواز کو بلند اور پست کیا ١ ؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ (مدینہ کی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے واپس آ گئے، (جب بعد میں) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا : کیا معاملہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے (اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے) اپنی آواز کو بلند اور پست کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ کھجوروں کے درمیان ہے۔ آپ نے فرمایا : دجال کے علاوہ دوسری چیزوں سے میں تم پر زیادہ ڈرتا ہوں، اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود ہوں تو میں تمہاری جگہ خود اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود نہ رہوں تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (جانشیں) ہے ٢ ؎، دجال گھونگھریالے بالوں والا جوان ہوگا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہوگی تو ان میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پالے اسے چاہیئے کہ وہ سورة الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! روئے زمین پر ٹھہرنے کی اس کی مدت کیا ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : چالیس دن، ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینہ کے برابر ہوگا، ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بتائیے وہ ایک دن جو ایک سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ اس کا اندازہ کر کے پڑھنا ۔ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! زمین میں وہ کتنی تیزی سے اپنا کام کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : اس بارش کی طرح کہ جس کے پیچھے ہوا لگی ہوتی ہے (اور وہ بارش کو نہایت تیزی سے پورے علاقے میں پھیلا دیتی ہے) ، وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس کو جھٹلائیں گے اور اس کی بات رد کردیں گے، لہٰذا وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا مگر اس کے پیچھے پیچھے ان (انکار کرنے والوں) کے مال بھی چلے جائیں گے، ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے، پھر وہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا، انہیں دعوت دے گا، اور اس کی دعوت قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا۔ آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، زمین غلہ اگائے گی، ان کے چرنے والے جانور شام کو جب (چراگاہ سے) واپس آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے، ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی اور ان کے تھن کامل طور پر (دودھ سے) بھرے ہوں گے، پھر وہ کسی ویران جگہ میں آئے گا اور اس سے کہے گا : اپنا خزانہ نکال، پھر وہاں سے واپس ہوگا تو اس زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے، پھر وہ ایک بھرپور اور مکمل جوان کو بلائے گا اور تلوار سے مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر اسے بلائے گا اور وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آ جائے گا، پس دجال اسی حالت میں ہوگا کہ اسی دوران عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی طرح چاندی کی بوندیں گریں گی، ان کی سانس کی بھاپ جس کافر کو بھی پہنچے گی وہ مرجائے گا اور ان کی سانس کی بھاپ ان کی حد نگاہ تک محسوس کی جائے گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ اسے باب لد ٣ ؎ کے پاس پالیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا عیسیٰ (علیہ السلام) ٹھہریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے کچھ ایسے بندے اتارے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ویسے ہی ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے : «من کل حدب ينسلون» ہر بلندی سے پھیل پڑیں گے (الأنبياء : ٩٦ ) ان کا پہلا گروہ (شام کی) بحیرہ طبریہ (نامی جھیل) سے گزرے گا اور اس کا تمام پانی پی جائے گا، پھر اس سے ان کا دوسرا گروہ گزرے گا تو کہے گا : اس میں کبھی پانی تھا ہی نہیں، پھر وہ لوگ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو کہیں گے : ہم نے زمین والوں کو قتل کردیا اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں، چناچہ وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیر چلائیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو خون سے سرخ کر کے ان کے پاس واپس کر دے گا، (اس عرصے میں) عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) اور ان کے ساتھی گھرے رہیں گے، یہاں تک کہ (شدید قحط سالی کی وجہ سے) اس وقت بیل کی ایک سری ان کے لیے تمہارے سو دینار سے بہتر معلوم ہوگی (چیزیں اس قدر مہنگی ہوں گی) ، پھر عیسیٰ بن مریم اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مرجائیں گے، عیسیٰ اور ان کے ساتھی (پہاڑ سے) اتریں گے تو ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہ ہوگی جو ان کی لاشوں کی گندگی، سخت بدبو اور خون سے بھری ہوئی نہ ہو، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گی، وہ لاشوں کو اٹھا کر گڈھوں میں پھینک دیں گے، مسلمان ان کے کمان، تیر اور ترکش سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ٤ ؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایسی بارش برسائے گا جسے کوئی کچا اور پکا گھر نہیں روک پائے گا، یہ بارش زمین کو دھو دے گی اور اسے آئینہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا : اپنا پھل نکال اور اپنی برکت واپس لا، چناچہ اس وقت ایک انار ایک جماعت کے لیے کافی ہوگا، اس کے چھلکے سے یہ جماعت سایہ حاصل کرے گی، اور دودھ میں ایسی برکت ہوگی کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے ایک دودھ دینے والی اونٹنی کافی ہوگی، اور دودھ دینے والی ایک گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہوگی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہوگی، لوگ اسی حال میں (کئی سالوں تک) رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو سارے مومنوں کی روح قبض کرلے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام زنا کریں گے، پھر انہیں لوگوں پر قیامت ہوگی ٥ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالرحمٰن یزید بن جابر کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٧) ، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣٢١) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٥) (تحفة الأشراف : ١١٧١١) ، و مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «فخض فيه ورفع» کے معنی و مطلب کے بارے میں دو قول ہیں : ایک «خفض» ، «حقر» کے معنی میں یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ ذلیل وحقیر ہے ، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں کانا پیدا کیا ، نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ دجال اللہ رب العزت کے یہاں اس سے زیادہ ذلیل ہے یعنی وہ اس ایک آدمی کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر قدرت نہیں رکھے گا ، بلکہ ایسا کرنے سے عاجز ہوگا ، اس کا معاملہ کمزور پڑجائے گا ، اور اس کے بعد اس کا اور اس کے اتباع و مویدین کا قتل ہوجائے گا ، اور «رفع» کے معنی اس کے شر اور فتنے کی وسعت ہے اور یہ کہ اس کے پاس جو خرق عادت چیزیں ہوں گی وہ لوگوں کے لیے ایک بڑا فتنہ ہوں گی ، یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اس کے فتنے سے ڈرایا ، دوسرا معنی اس جملے کا یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا تذکرہ اتنا زیادہ کیا کہ لمبی گفتگو کے بعد آپ کی آواز کم ہوگئی تاکہ دوران گفتگو آپ آرام فرما لیں پھر سب کو اس فتنے سے آگاہ کرنے کے لیے آپ کی آواز بلند ہوگئی۔ ٢ ؎ : یعنی میری زندگی کے بعد فتنہ دجال کے وقت میری امت کا نگراں اللہ رب العالمین ہے۔ ٣ ؎ : لُد : بیت المقدس کے قریب ایک شہر ہے ، النہایہ فی غریب الحدیث میں ہے کہ لُد ملک شام میں ایک جگہ ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین میں ایک جگہ ہے ، (یہ آج کل اسرائیل کا ایک فوجی اڈہ ہے) ٤ ؎ : ان کے اسلحہ کی مقدار اس قدر زیادہ ہوگی ، یا مسلمانوں کی تعداد اس وقت اس قدر کم ہوگی۔ ٥ ؎ : اس حدیث میں علامات قیامت ، خروج دجال ، نزول عیسیٰ بن مریم ، یاجوج و ماجوج کا ظہور اور ان کے مابین ہونے والے اہم واقعات کا تذکرہ ہے ، دجال کی فتنہ انگیزیوں ، یاجوج و ماجوج کے ذریعہ پیدا ہونے والے مصائب اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں اور ان کی دعاؤں سے ان کے خاتمے کا بیان ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (481) ، تخريج فضائل الشام (25) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2240
حدیث نمبر: 2240 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، دخل حديث أحدهما في حديث الآخر، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَيْهِ فَعَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ، ‏‏‏‏‏‏شَبِيهٌ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ رَآهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ سُورَةِ أَصْحَابِ الْكَهْفِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَخْرُجُ مَا بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَا عِبَادَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اثْبُتُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏يَوْمٌ كَسَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ الْيَوْمَ الَّذِي كَالسَّنَةِ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اقْدُرُوا لَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيُكَذِّبُونَهُ وَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ وَيُصْبِحُونَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ كَأَطْوَلِ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدِّهِ خَوَاصِرَ وَأَدَرِّهِ ضُرُوعًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَأْتِي الْخَرِبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْصَرِفُ مِنْهَا فَتَتْبَعُهُ كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا شَابًّا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ هَبَطَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بِشَرْقِيِّ دِمَشْقَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَّانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ يَعْنِي أَحَدًا إِلَّا مَاتَ وَرِيحُ نَفْسِهِ مُنْتَهَى بَصَرِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَلْبَثُ كَذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ حَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَمُرُّ أَوَّلُهُمْ بِبُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُ مَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَمُرُّ بِهَا آخِرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ بَيْتِ الْمَقْدِسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ، ‏‏‏‏‏‏فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مُحْمَرًّا دَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُحَاصَرُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا لِأَحَدِهِمْ مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْغَبُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى مَوْتَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَجِدُ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا وَقَدْ مَلَأَتْهُ زَهَمَتُهُمْ وَنَتَنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْغَبُ عِيسَى إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَحْمِلُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمَهْبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ فَيَتْرُكُهَا كَالزَّلَفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ:‏‏‏‏ أَخْرِجِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْتَظِلُّونَ بِقَحْفِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِنَّ الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْبَقَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْفَخِذَ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْغَنَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَقَبَضَتْ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کی صفات کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : سنو ! تمہارا رب کانا نہیں ہے جب کہ دجال کانا ہے، اس کی داہنی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث عبداللہ بن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، حذیفہ، ابوہریرہ، اسماء، جابر بن عبداللہ، ابوبکرہ، عائشہ، انس، ابن عباس اور فلتان بن عاصم (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٨ (٣٤٣٩) ، والفتن ٢٦ (٧١٣٣) ، والتوحید ١٧ (٧٤٠٧) ، صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (١٦٩/١٠٠) وانظر أیضا ماتقدم برقم ٢٢٣٥ (تحفة الأشراف : ٨١٢١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2241
حدیث نمبر: 2241 حَدَّثَنَا مُحَمّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الدَّجَّالِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال مدینہ (کے قریب) آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے ہوئے پائے گا، اللہ نے چاہا تو اس میں دجال اور طاعون نہیں داخل ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، فاطمہ بنت قیس، اسامہ بن زید، سمرہ بن جندب اور محجن (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٢٧ (٧١٣٤) ، والتوحید ٣١ (٧٤٧٣) (تحفة الأشراف : ١٢٦٩) ، و مسند احمد (٣/١٢٣، ٢٠٢، ٢٠٦، ٢٢٩، ٢٧٧، ٣٩٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2457) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2242
حدیث نمبر: 2242 حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَأْتِي الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمِحْجَنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان یمن کی طرف سے نکلا ہے اور کفر مشرق (پورب) کی طرف سے، سکون و اطمینان والی زندگی بکری والوں کی ہے، اور فخر و ریاکاری فدادین یعنی گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہے، جب مسیح دجال احد کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام ہی میں وہ ہلاک ہوجائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠١) ، والمناقب ١ (٣٤٩٩) ، والمغازي ٧٤ (٤٣٨٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢١ (٥٢/٨٥، ٨٦) (تحفة الأشراف : ١٤٠٧٨) ، و مسند احمد (٢/٢٥٨، ٥٤١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1770) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2243
حدیث نمبر: 2243 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ يَمَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّكِينَةُ لِأَهْلِ الْغَنَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَأَهْلِ الْوَبَرِ، ‏‏‏‏‏‏يَأْتِي الْمَسِيحُ إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ صَرَفَتِ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُنَالِكَ يَهْلَكُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ حضرت عیسیٰ دجال کو قتل کریں گے
مجمع بن جاریہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : ابن مریم (علیہما السلام) دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمران بن حصین، نافع بن عتبہ، ابوبرزہ، حذیفہ بن اسید، ابوہریرہ، کیسان، عثمان، جابر، ابوامامہ، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٢١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2457) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2244
حدیث نمبر: 2244 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَنَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَرْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کی صفات کے بارے میں
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے (دجال) سے نہ ڈرایا ہو، سنو ! وہ کانا ہے، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ «ک» ، «ف» ، «ر» لکھا ہوا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٢٦ (٧١٣١) ، والتوحید ١٧ (٧٤٠٧) ، صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٣) ، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣١٦) (تحفة الأشراف : ١٢٤١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج الطحاوية (762) ، الصحيحة (2457) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2245
حدیث نمبر: 2245 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، ‏‏‏‏‏‏مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے بارے میں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد (ابن صیاد) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چناچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا : اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو ، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا : ابوسعید ! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے میں کچھ کہتے تھے (یعنی دجال ہے) چناچہ میں نے اس سے کہا : آج کا دن سخت گرمی کا ہے اس لیے میں آج دودھ پینا بہتر نہیں سمجھتا، اس نے کہا : ابوسعید ! میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو اس درخت سے باندھ لوں اور گلا گھونٹ کر مرجاؤں یہ اس وجہ سے کہ لوگ جو میرے بارے میں کہتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں، آپ بتائیے لوگوں سے میری باتیں بھلے ہی چھپی ہوں مگر آپ سے تو نہیں چھپی ہیں ؟ انصار کی جماعت ! کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے سب سے بڑے جانکار نہیں ہیں ؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے (دجال کے بارے میں) یہ نہیں فرمایا ہے کہ وہ کافر ہے ؟ جب کہ میں مسلمان ہوں، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ بانجھ ہے ؟ اس کی اولاد نہیں ہوگی، جب کہ میں نے مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑی ہے، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہوگا ؟ کیا میں مدینہ کا نہیں ہوں ؟ اور اب آپ کے ساتھ چل کر مکہ جا رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ ایسی ہی دلیلیں پیش کرتا رہا یہاں تک کہ میں کہنے لگا : شاید لوگ اس کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، پھر اس نے کہا : ابوسعید ! اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں آپ کو سچی بات بتاؤں ؟ اللہ کی قسم ! میں دجال کو جانتا ہوں، اس کے باپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت زمین کے کس خطہٰ میں ہے تب میں نے کہا : تمہارے لیے تمام دن تباہی ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٢٧/٩١) (تحفة الأشراف : ٤٣٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بدگمانی ہوگئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا ، یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2246
حدیث نمبر: 2246 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ صَحِبَنِي ابْنُ صَائِدٍ إِمَّا حُجَّاجًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا مُعْتَمِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ النَّاسُ وَتُرِكْتُ أَنَا وَهُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا خَلَصْتُ بِهِ اقْشَعْرَرْتُ مِنْهُ وَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا نَزَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ ضَعْ مَتَاعَكَ حَيْثُ تِلْكَ الشَّجَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَبْصَرَ غَنَمًا فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَانْطَلَقَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَحْلَبَ ثُمَّ أَتَانِي بِلَبَنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏اشْرَبْ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهْتُ أَنْ أَشْرَبَ مِنْ يَدِهِ شَيْئًا لِمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ هَذَا الْيَوْمُ يَوْمٌ صَائِفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أَكْرَهُ فِيهِ اللَّبَنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُوثِقَهُ إِلَى شَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ لِمَا يَقُولُ النَّاسُ لِي، ‏‏‏‏‏‏وَفِيَّ أَرَأَيْتَ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثِي فَلَنْ يَخْفَى عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَافِرٌ وَأَنَا مُسْلِمٌ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ خَلَّفْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ أَوْ لَا تَحِلُّ لَهُ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ ذَا أَنْطَلِقُ مَعَكَ إِلَى مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيءُ بِهَذَا حَتَّى قُلْتُ فَلَعَلَّهُ مَكْذُوبٌ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّكَ خَبَرًا حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ وَالِدَهُ وَأَعْرِفُ أَيْنَ هُوَ السَّاعَةَ مِنَ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے بارے میں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابن صائد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملے، آپ نے اسے پکڑ لیا، وہ ایک یہودی لڑکا تھا، اس کے سر پر ایک چوٹی تھی، اس وقت آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر (رض) بھی تھے، آپ نے فرمایا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ، اس نے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : تم کیا دیکھتے ہو ؟ ١ ؎ اس نے کہا : پانی کے اوپر ایک عرش دیکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سمندر کے اوپر ابلیس کا عرش دیکھتے ہو ، آپ نے فرمایا : اور بھی کچھ دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا : ایک سچا اور دو جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے ، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں عمر، حسین بن علی، ابن عمر، ابوذر، ابن مسعود، جابر اور حفصہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٢٥/٨٧) (تحفة الأشراف : ٤٣٢٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے ، اور جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے ، اس میں سے کیا دیکھتے ہو ؟۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2247
حدیث نمبر: 2247 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَاحْتَبَسَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ وَلَهُ ذُؤَابَةٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَرَى ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرَى عَرْشًا فَوْقَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ فَوْقَ الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا تَرَى ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرَى صَادِقًا وَكَاذِبِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ صَادِقِينَ وَكَاذِبًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لُبِسَ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے بارے میں
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال کے باپ اور ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا، پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہوگا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوگا، اس کی آنکھیں سوئیں گی مگر دل نہیں سوئے گا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : اس کا باپ دراز قد اور دبلا ہوگا اور اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی، اس کی ماں بھاری بھر کم اور لمبے ہاتھ والی ہوگی ، ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں : ہم نے مدینہ کے اندر یہود میں ایک ایسے ہی لڑکے کے بارے میں سنا، چناچہ میں اور زبیر بن عوام چلے یہاں تک کہ اس کے والدین کے پاس گئے تو وہ ویسے ہی تھے، جیسا رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا، ہم نے پوچھا : کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمارے ہاں تیس سال تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا، پھر ہم سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل نہیں سوتا، ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ لڑکا دھوپ میں ایک موٹی چادر پر لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا، پھر اس نے اپنے سر سے کپڑے ہٹایا اور پوچھا : تم دونوں نے کیا کہا ہے ؟ ہم نے کہا : ہم نے جو کہا ہے کیا تم نے اسے سن لیا ؟ اس نے کہا : ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں، مگر دل نہیں سوتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٦٨٨) (ضعیف) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5503 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6445) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2248
حدیث نمبر: 2248 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ وَأُمُّهُ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً، ‏‏‏‏‏‏تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبُوهُ طِوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمُّهُ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ:‏‏‏‏ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ ؟ فَقَالَا:‏‏‏‏ مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً، ‏‏‏‏‏‏تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَّفَ عَنْ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا قُلْتُمَا ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہوسکا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے پاس (غیب کی) کون سی چیز آتی ہے ؟ ابن صیاد نے کہا : میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے لیے (دل میں) ایک بات چھپاتا ہوں اور آپ نے آیت : «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ١ ؎ چھپالی، ابن صیاد نے کہا : وہ (چھپی ہوئی چیز) «دخ» ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا ، عمر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آسکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٧٩ (١٣٥٤) ، والجھاد ١٧٨ (٣٠٥٥) ، والأدب ٩٧ (٦٦١٨) ، صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٣٠) ، سنن ابی داود/ الملاحم ١٦ (٤٣٢٩) (تحفة الأشراف : ٦٩٣٢) ، و مسند احمد (٢/١٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ ٢ ؎ : بعض صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ یہی وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق قرب قیامت میں ظہور کی خبر دی گئی ہے ، لیکن فاطمہ بنت قیس کی روایت سے جس میں تمیم داری نے اپنے سمندری سفر کا حال بیان کیا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ قطعیت اس بات میں ہے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں بلکہ کوئی اور ہے ، ابن صیاد تو ان دجاجلہ ، کذابین میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی ، اور ان میں سے اکثر کا ظہور ہوچکا ہے ، رہے وہ صحابہ جنہوں نے وثوق کے ساتھ قسم کھا کر ابن صیاد کو دجال کہا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے سامنے بھی اسے دجال کہا گیا اور آپ خاموش رہے تو یہ سب تمیم داری والے واقعہ سے پہلے کی باتیں ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2249
حدیث نمبر: 2249 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا يَأْتِيكَ ؟ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ:‏‏‏‏ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا وَخَبَأَ لَهُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ:‏‏‏‏ هُوَ الدُّخُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ يَكُ حَقًّا فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَا يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:‏‏‏‏ يَعْنِي الدَّجَّالَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٣ (٢٥٣٨) (تحفة الأشراف : ٢٣٣١) ، و مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٤، ٣٢٢، ٣٤٥، ٣٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اور دوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2250
حدیث نمبر: 2250 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، جب آپ سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا : کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا اس وقت جتنے بھی آدمی اس روئے زمین پر ہیں سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : یہ سن کر لوگ مغالطے میں پڑگئے کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سو سال کے بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ جو آج باقی ہیں ان میں سے کوئی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا، یعنی اس نسل اور قرن کے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٦) ، والمواقیت الصلاة ٢٠ (٦٠١) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٣ (٢٥٣٧) ، سنن ابی داود/ الملاحم ١٨ (٤٣٤٨) (تحفة الأشراف : ٦٩٣٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2251
حدیث نمبر: 2251 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وأبي بَكْرِ بنِ سُلَيمْانَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَهُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہوا کو برا کہنے کی ممانعت
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہوا کو گالی مت دو ، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو «اللهم إنا نسألک من خير هذه الريح وخير ما فيها وخير ما أمرت به ونعوذ بک من شر هذه الريح وشر ما فيها وشر ما أمرت به» یعنی اے اللہ ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کی شر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کی یہ مامور ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، عثمان، انس، ابن عباس اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٧١ (٩٣٣، ٩٣٦) (تحفة الأشراف : ٥٦) ، و مسند احمد (٥/١٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (1518) ، الصحيحة (2756) ، الروض النضير (1107) ، الکلم الطيب (رقم // 154 // عن عائشة) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2252
حدیث نمبر: 2252 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا : تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی (طوفان میں پڑنے کی وجہ سے) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا : تم کیا ہو ؟ اس نے کہا : میں جساسہ (جاسوسی کرنے والی) ہوں، ان لوگوں نے کہا : ہمیں (اپنے بارے میں) بتاؤ، اس نے کہا : نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چناچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا : مجھے زغر (ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا : بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا : مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا ؟ ہم نے کہا : ہاں، اس نے کہا : مجھے نبی (آخرالزماں ﷺ ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے ؟ ہم نے کہا : ہاں، اس نے کہا : بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں ؟ ہم نے کہا : تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہوگیا، ہم نے پوچھا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہوگا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ٢٤ (٢٩٤٢) ، سنن ابی داود/ الملاحم ١٥ (٤٣٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٤) (تحفة الأشراف : ١٨٠٢٤) ، و مسند احمد (٦/٣٧٤، ٤١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث جساسہ کی تفصیل کے لیے صحیح مسلم میں کتاب الفتن کا مطالعہ کریں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح قصة نزول عيسى عليه السلام صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2253
حدیث نمبر: 2253 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَضَحِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيّ حَدَّثَنِي بِحَدِيثٍ فَفَرِحْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ فَجَالَتْ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى قَذَفَتْهُمْ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لَبَّاسَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنَا الْجَسَّاسَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَأَخْبِرِينَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا أُخْبِرُكُمْ وَلَا أَسْتَخْبِرُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ائْتُوا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِنَّ ثَمَّ مَنْ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ بِسِلْسِلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَلْأَى تَدْفُقُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنِ الْبُحَيْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَلْأَى تَدْفُقُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ الَّذِي بَيْنَ الْأُرْدُنِّ وَفِلَسْطِينَ هَلْ أَطْعَمَ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ هَلْ بُعِثَ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي كَيْفَ النَّاسُ إِلَيْهِ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ سِرَاعٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَّى نَزْوَةً حَتَّى كَادَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ فَمَا أَنْتَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ الدَّجَّالُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ يَدْخُلُ الْأَمْصَارَ كُلَّهَا إِلَّا طَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَطَيْبَةُ:‏‏‏‏ الْمَدِينَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے ، صحابہ نے عرض کیا : اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٦) (تحفة الأشراف : ٣٣٠٥) ، و مسند احمد (٥/٤٠٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4016) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2254
حدیث نمبر: 2254 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، صحابہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا : اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٤ (٢٤٤٣، ٢٤٤٤) ، والإکراہ ٧ (٦٩٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٥١) ، و مسند احمد (٣/٩٩، ٢٠١، ٢٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2449) ، الروض النضير (32) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2255
حدیث نمبر: 2255 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَصَرْتُهُ مَظْلُومًا، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ فَذَاكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক: