আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৪ টি
হাদীস নং: ২১৯৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت سے پہلے سخت تاریک رات کی طرح فتنے (ظاہر) ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام میں کافر ہوجائے گا، شام میں مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے کچھ لوگ اپنا دین بیچ دیں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، جندب، نعمان بن بشیر اور ابوموسیٰ اشعری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ الموٌلف (تحفة الأشراف : ٨٥٠) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الصحيحة (758 و 810 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2197
حدیث نمبر: 2197 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجُنْدَبٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا
حسن بصری کہتے ہیں کہ اس حدیث صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صبح کو اپنے بھائی کی جان، عزت اور مال کو حرام سمجھے گا اور شام کو حلال سمجھے گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ الموٌلف (لم یذکرہ المزي) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد عن الحسن، وهو البصری صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2198
حدیث نمبر: 2198 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، قَالَ: يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُحَرِّمًا لِدَمِ أَخِيهِ وَعِرْضِهِ وَمَالِهِ وَيُمْسِي مُسْتَحِلًّا لَهُ، وَيُمْسِي مُحَرِّمًا لِدَمِ أَخِيهِ وَعِرْضِهِ وَمَالِهِ وَيُصْبِحُ مُسْتَحِلًّا لَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، اس وقت آپ سے ایک آدمی سوال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا : آپ بتائیے اگر ہمارے اوپر ایسے حکام الحکمرانی کریں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنے حق کا مطالبہ کریں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کا حکم سنو اور ان کی اطاعت کرو، اس لیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ١٢ (١٨٤٦) (تحفة الأشراف : ١١٧٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ اگر حکام مال غنیمت وغیرہ میں سے تمہارا حق نہ دیں ، پھر بھی تم ان کی اطاعت کرو ، ان کے خلاف سر مت اٹھاؤ تمہارا حق تمہیں آخرت میں ایسے ہی ملے گا جس طرح ان ظالم حکمرانوں کو ان کے ظلم کی سزا ملے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2199
حدیث نمبر: 2199 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ سَأَلَهُ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَمْنَعُونَا حَقَّنَا وَيَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کے بارے میں
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہوجائے گا ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہرج کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : قتل و خوں ریزی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٥ (٧٠٦٢-٧٠٦٤) ، صحیح مسلم/العلم ٥ (٢٦٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٦ (٤٠٥١) (تحفة الأشراف : ٩٠٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح الجامع (2233) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2200
حدیث نمبر: 2200 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ: الْقَتْلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کے بارے میں
معقل بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ معلی سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفتن ٢٦ (٢٩٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٣٩٨٥) (تحفة الأشراف : ١١٤٧٦) ، و مسند احمد (٥/٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قتل و خوں ریزی یعنی فتنہ کے زمانہ میں فتنہ سے دور رہ کر عبادت میں مشغول رہنا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے مثل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3985) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2201
حدیث نمبر: 2201 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کے بارے میں
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الفتن ١ (٤٢٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩ (٣٩٥٢) والفتن (٢١٠٨) ، و مسند احمد (٥/٢٧٨، ٢٨٤) (کلہم : ١٧٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جب وہ آپس میں لڑنے لگیں گے تو قیامت تک یہ لڑائی چلتی رہے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5406) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2202
حدیث نمبر: 2202 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لکڑی کی تلوار بنانے کے بارے میں
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی (رض) آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا : میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی (رسول اللہ ﷺ ) نے مجھے وصیت کی کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوجائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں ، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں : چناچہ علی (رض) نے میرے والد کو چھوڑ دیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں محمد بن مسلمہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٦٠) (تحفة الأشراف : ١٧٣٤) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لکڑی کی تلوار بنانے کا مطلب فتنہ کے وقت قتل و خوں ریزی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (3960) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2203
حدیث نمبر: 2203 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَتْ: جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى أَبِي، فَدَعَاهُ إِلَى الْخُرُوجِ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ ، فَقَدِ اتَّخَذْتُهُ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ، قَالَتْ: فَتَرَكَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لکڑی کی تلوار بنانے کے بارے میں
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتنہ کے بارے میں فرمایا : اس وقت تم اپنی کمانیں توڑ ڈالو، کمانوں کی تانت کاٹ ڈالو، اپنے گھروں کے اندر چپکے بیٹھے رہو اور آدم کے بیٹے (ہابیل) کے مانند ہوجاؤ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الفتن ٢ (٤٢٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٦١) (تحفة الأشراف : ٩٠٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ہابیل نے اپنے بھائی قابیل سے کہا تھا : «لئن بسطت إلي يدک لتقتلني ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلک إني أخاف اللہ رب العالمين إني أريد أن تبوئ بإثمي وإثمك» گو تو میرے قتل کے لیے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا ، میں تو اللہ رب العالمین سے خوف کھاتا ہوں ، میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنے گناہ اپنے سر پر رکھ لے (المائدة : ٢٨، ٢٩) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3361) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2204
حدیث نمبر: 2204 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْفِتْنَةِ كَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ، وَكُونُوا كَابْنِ آدَمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ هُوَ أَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علامت قیامت کے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ١ ؎، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے : علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہوجانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢١ (٨٠، ٨١) ، والنکاح ١١٠ (٥٢٣١) ، والأشربة ١ (٥٥٧٧) ، صحیح مسلم/العلم ٥ (٢٦٧١) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف : ١٢٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : انس (رض) وہ آخری صحابی ہیں جن کا انتقال بصرہ میں ہوا ہے ، ممکن ہے یہ بات انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دور میں کہی ہو ، ظاہر ہے اس وقت گنے چنے ایسے صحابہ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث نہیں سنی ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2205
حدیث نمبر: 2205 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علامت قیامت کے متعلق
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک (رض) کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا : آنے والا ہر سال (گزرے ہوئے سال سے) برا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٦ (٧٠٦٨) (تحفة الأشراف : ٨٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1 / 10 و 1218) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2206
حدیث نمبر: 2206 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، سَمِعْتُ هَذَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علامت قیامت کے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٧٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا ، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے ، کیونکہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرلے گی ، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2207
حدیث نمبر: 2207 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علامت قیامت کے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قیامت کے قریب) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ١٨ (١٠١٣) (تحفة الأشراف : ١٣٤٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2208
حدیث نمبر: 2208 حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، قَالَ: فَيَجِيءُ السَّارِقُ، فَيَقُولُ: فِي مِثْلِ هَذَا قُطِعَتْ يَدِي، وَيَجِيءُ الْقَاتِلُ، فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ، فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علامت قیامت کے متعلق
حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوجائیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفردہ بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٣٦٧) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبد اللہ بن عبد الرحمن اشہلی “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2365 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2209
حدیث نمبر: 2209 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ. ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَشْهَلِيُّ، عَنْحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ ابْنُ لُكَعٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب میری امت پندرہ چیزیں کرنے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہوگی ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ کون کون سی چیزیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پر ظلم کرے، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے، شراب پی جائے، ریشم پہنا جائے، (گھروں میں) گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں اور اس امت کے آخر میں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تو اس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کا انتظار کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی ہو اور فرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اور ان کے حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ان سے وکیع اور کئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٢٧٣) (ضعیف) (سند میں ” فرج بن فضالة “ ضعیف ہیں، اور ” محمد بن عمرو بن علی “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5451) // ضعيف الجامع الصغير (608) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2210
حدیث نمبر: 2210 حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ أَبُو فَضَالَةَ الشَّامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا الْبَلَاءُ ، فَقِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الْمَغْنَمُ دُوَلًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ، وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، وَلُبِسَ الْحَرِيرُ، وَاتُّخِذَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، وَالْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْهُ وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہوجائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٨٩٥) (ضعیف) (سند میں ” رمیح جذامی “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5450) // ضعيف الجامع الصغير (287) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2211
حدیث نمبر: 2211 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رُمَيْحٍ الْجُذَامِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا، وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس امت میں «خسف» ، «مسخ» اور «قذف» واقع ہوگا ١ ؎، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایسا کب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہوجائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ٢ - یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٨٦٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : «خسف» : زمین کا دھنسنا ، «مسخ» : صورتوں کا تبدیل ہونا ، «قذف» : پتھروں کی بارش ہونا۔ اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1604) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2212
حدیث نمبر: 2212 حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ: إِذَا ظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی بعثت قیامت کی قرب کی نشانی ہے
مستورد بن شداد فہری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٢٦٢) (ضعیف) (سند میں ” مجالد بن سعید “ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے اشارہ قیامت کے قریب ہونے کی طرف ہے ، گویا آپ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے ، جس طرح شہادت اور بیچ کی انگلی کے درمیان کوئی دوسری انگلی نہیں ہے ، اس کا یہ بھی مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5513) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2213
حدیث نمبر: 2213 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ، فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی بعثت قیامت کی قرب کی نشانی ہے
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں (یہ بتانے کے لیے) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا، چناچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٣٩ (٦٥٠٥) ، صحیح مسلم/الفتن ٢٧ (٢٩٥١) (تحفة الأشراف : ١٢٥٣) ، و مسند احمد (٣/١٢٤، ١٣٠، ١٣١، ١٩٣، ٢٣٧، ٢٧٥، ٢٨٣، ٣١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2214
حدیث نمبر: 2214 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ، وَأَشَارَ أَبُو دَاوُدَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترکوں سے جنگ کے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے جوتے بال کے ہوں گے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے چہرے تہہ بہ تہہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، بریدہ، ابوسعید، عمرو بن تغلب اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٩٥ (٢٩٢٨) ، و ٩٦ (٢٩٢٩) ، والمناقب ٢٥ (٣٥٨٧، ٣٥٩٠) ، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١٢) ، سنن ابی داود/ الملاحم ٩ (٤٣٠٣، ٤٣٠٤) ، سنن النسائی/الجھاد ٤٢ (٣١٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٦ (٤٠٩٦) (تحفة الأشراف : ١٣١٢٥) ، و مسند احمد (٢/٢٣٩، ٣٠٠، ٣١٩، ٣٣٨، ٤٧٥، ٤٩٣، ٥٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2215
حدیث نمبر: 2215 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، وَمُعَاوِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی ہلاکت کے بعد کوئی کسری نہیں ہوگا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ان کے خزانے کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے (اور یہ واقع ہوچکا ہے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦١٨) ، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٣٠) ، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١٨) (تحفة الأشراف : ١٣١٤٣) ، و مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٤٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2216
حدیث نمبر: 2216 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: