আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ৩০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب میں قرات
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے : ان کی ماں ام الفضل (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورة مرسلات پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر، ابوایوب اور زید بن ثابت (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورة الاعراف پڑھی، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورة الطور پڑھی، ٥- عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ (رض) کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو، ٦- اور ابوبکر صدیق (رض) سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے، ٧- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ٨- امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں : لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا، بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٣) ، والمغازی ٨٣ (٤٤٢٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٢ (٨١٠) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٤ (٩٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩ (٨٣١) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٠٥٢) ، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری میں ام المؤمنین عائشہ (رض) سے مروی ہے «إن آخر صلاة صلاّها النبي صلی اللہ عليه وسلم في مرض موته الظهر» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے ، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہر کی تھی ، اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی ، لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے «خرج إلينا رسول اللہ وهو عاصب رأسه» رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی ، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (831) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 308
حدیث نمبر: 308 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِ: الْمُرْسَلَاتِ ، قَالَتْ: فَمَا صَلَّاهَا بَعْدُ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ ب: الْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ ب: الطُّورِ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، أَنِ اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ: وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ: ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ الشافعي: وَذَكَرَ عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُقْرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِالسُّوَرِ الطِّوَالِ نَحْوَ الطُّورِ وَ الْمُرْسَلَاتِ، قَالَ الشافعي: لَا أَكْرَهُ ذَلِكَ بَلْ أَسْتَحِبُّ أَنْ يُقْرَأَ بِهَذِهِ السُّوَرِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء میں قرات
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- بریدہ (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں براء بن عازب اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورة «والتين والزيتون» پڑھی۔ ٤- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورة المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے، ٥- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورة «والشمس وضحاها» اور سورة «والتين والزيتون» پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ٧١ (١٠٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٩٦٢) ، مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٥٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة // 97 // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 309
حدیث نمبر: 309 حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ: التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ، وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا، وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ، فَكَأَنَّ الْأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا، وَأَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ بِ: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ التِّينِ وَالزَّيْتُون .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء میں قرات
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عشاء میں سورة «والتين والزيتون» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٠٠ (٧٦٦) ، و ١٠٢ (٧٦٩) ، وتفسیر التین ١ (٤٩٥٢) ، والتوحید ٥٢ (٧٥٤٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٤) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ ٢٧ (١٢٢١) ، سنن النسائی/الافتتاح ٧٢ (١٠٠١) ، و ٧٣ (١٠٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠ (٨٣٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٩١) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٥ (٢٧) ، مسند احمد (٤/٢٨٦، ٣٠٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (834) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 310
حدیث نمبر: 310 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے پیچھے قرآن پڑھنا
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہوگئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا : مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورة فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبادہ (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٦ (٨٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ٥١١١) ، مسند احمد (٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢) (حسن) (البانی نے اس حدیث کو ” ضعیف “ کہا ہے، لیکن ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے (٣/٣٦-٣٧) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حسن کہا ہے، ابن حجر نے بھی اس کو نتائج الافکار میں حسن کہا ہے، ملاحظہ ہو : امام الکلام مولفہ مولانا عبدالحیٔ لکھنوی ص ٧٧-٢٧٨، تراجع الالبانی ٣٤٨) وضاحت : ١ ؎ : امام ترمذی کے اس قول میں اجمال ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ان میں سے کچھ لوگ سری اور جہری سبھی نمازوں میں قراءت کے قائل ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگ قرأت کے وجوب کے قائل ہیں اور کچھ لوگ اس کو مستحب کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : (حديث : .... فلا تفعلوا إلا بأم القرآن .... ) ضعيف، (حديث : لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الکتاب ) صحيح (حديث : لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الکتاب ) ، ابن ماجة (837) ، (حديث : .... فلا تفعلوا إلا بأم القرآن .... ) ، ضعيف أبي داود (146) // عندنا في ضعيف أبي داود برقم (176 / 823) ، ضعيف الجامع الصغير (2082 و 4681) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 311
حدیث نمبر: 311 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ: وَهَذَا أَصَحُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام با آواز بلند پڑھے تو مقتدی قرأت نہ کرے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا : کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے ؟ ایک شخص نے عرض کیا : جی ہاں اللہ کے رسول ! (میں نے کی ہے) آپ نے فرمایا : تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا : آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے ، وہ (زہری) کہتے ہیں : تو جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلک من رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ٣- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ (رض) ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں ؟ ) تو انہوں نے کہا : تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ٥- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے ، ٦- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کو فیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ٧- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورة فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورة فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت (رض) نے بھی نبی اکرم ﷺ کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم ﷺ کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ٨- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ١ ؎۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے فرمان سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورة فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٧ (٨٢٦) ، سنن النسائی/الافتتاح ٢٨ (٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣ (٨٤٨، ٨٤٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٢٦٤) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٠ (٤٤) ، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٨٤، ٢٨٥، ٤٨٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ جابر (رض) کا اپنا خیال ہے ، اعتبار مرفوع روایت کا ہے نہ کہ کسی صحابی کی ایسی رائے کا جس کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کی آراء موجود ہیں وہ آراء حدیث کے ظاہر معنی کے مطابق بھی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة // 79 //، صحيح أبي داود (781) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 312
حدیث نمبر: 312 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ، قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَابْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ: عُمَارَةُ، وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُكَيْمَةَ، وَرَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَى مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، وَرَوَى أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَاخْتَارَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ، وَقَالُوا: يَتَتَبَّعُ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَبِهِ يَقُولُ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَءُونَ، إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْكُوفِيِّينَ، وَأَرَى أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ، صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالُوا: لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهُ كَانَ أَوْ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَذَهَبُوا إِلَى مَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبِهِ يَقُولُ: الشافعي، وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا، وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ ، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَيْثُ قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَأَنْ لَا يَتْرُكَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جس نے کوئی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ جب مسجد میں داخل ہو تو کیا کہے
فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( ﷺ ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے : «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتک» اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے اور جب نکلتے تو محمد ( ﷺ ) پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے : «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلک» اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المساجد ١٣ (٧٧١) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٠٤١) (صحیح) (فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبری کو نہیں پایا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ، شیخ البانی کہتے ہیں : مغفرت کے جملے کو چھوڑ کر بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی ٥١٠) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (771) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 314 اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ ﷺ داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتک» اے میرے رب ! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- فاطمہ (رض) کی حدیث (شواہد کی بنا پر) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ٢- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم ﷺ کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں، ٣- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر الذي قبله (314) ولفظه أصح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 315
حدیث نمبر: 314 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، قَالَ: كَانَ إِذَا دَخَلَ، قَالَ: رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ، قَالَ: رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، وَأَبِي أُسَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» ”اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں، ۳- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، قَالَ: كَانَ إِذَا دَخَلَ، قَالَ: رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ، قَالَ: رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، وَأَبِي أُسَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہوت ودو رکعت نماز پڑھے
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ٣- سہیل بن ابی صالح ٢ ؎ نے یہ حدیث بطریق : «عامر بن عبد اللہ بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے، ٤ - یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے : انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ٥- علی بن مدینی کہتے ہیں : سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٦٠ (٤٤٤) ، والتہجد ٢٥ (١١٦٣) ، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٤) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٩ (٤٦٧) ، سنن النسائی/المساجد ٣٧ (٧٣١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٧ (١٠١٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٢١٢٣) ، موطا امام مالک/السفر ١٨ (٥٧) ، مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اسے تحیۃ المسجد کہتے ہیں ، جمہور کے نزدیک یہ مستحب ہے اور شوافع کے نزدیک واجب۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس کی بہت تاکید ہے لیکن فرض نہیں ہے۔ ٢ ؎ : سہیل بن ابی صالح کی روایت میں «عن أبی قتادۃ» کے بجائے «عن جابر بن عبداللہ» ہے اور یہ غلط ہے کیونکہ عامر بن عبداللہ کے دیگر تلامذہ نے سہیل کی مخالفت کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1013) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 316
حدیث نمبر: 316 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَرَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لَا يَجْلِسَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقبرے اور حمام کے علاوہ پوری زمین مسجد ہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوائے قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے ساری زمین مسجد ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے، ٢- ابوسعید (رض) کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق : «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق :«عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق :«عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم ﷺ سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤ (٤٩٢) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ٤ (٧٤٥) ، ( تحفة الأشراف : ٤٤٠٦) ، مسند احمد (٣/٨، ٩٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جہاں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں ، حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست ناپاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے۔ بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے ، ان کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (745) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 317
حدیث نمبر: 317 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالُوا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ رِوَايَتَيْنِ، مِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْكُرْهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ. رَوَى سفيان الثوري، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ عَامَّةُ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَثْبَتُ وَأَصَحُّ مُرْسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد بنانے کی فضلیت
عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عثمان (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر، عمر، علی، عبداللہ بن عمرو، انس، ابن عباس، عائشہ، ام حبیبہ، ابوذر، عمرو بن عبسہ، واثلہ بن اسقع، ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤ (٥٣٣) ، والزہد ٣ (٤٤/٥٣٣) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ١ (٧٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ٩٨٣٧) ، مسند احمد (١/٦٠، ٧٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ مثلیت کمیت کے اعتبار سے ہوگی ، کیفیت کے اعتبار سے یہ گھر اس سے بہت بڑھا ہوا ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (736) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 318
حدیث نمبر: 318 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، .وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا صَغِيرًا كَانَ أَوْ كَبِيرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائی، چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا صَغِيرًا كَانَ أَوْ كَبِيرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى قَيْسٍ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبر کے پاس مسجد بنانا مکروہ ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجنائز ٨٢ (٣٢٣٦) ، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٩ (١٥٧٥) ، ( تحفة الأشراف : ٥٣٧) ، مسند احمد (١/٢٢٩، ٢٨٧، ٣٢٤، ٣٣٧) (ضعیف) (سند میں ” ابو صالح باذام مولیٰ ام ہانی ضعیف ہیں، مسجد میں صرف چراغ جلانے والی بات ضعیف ہے، بقیہ دو باتوں کے صحیح شواہد موجود ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، و، الصحيحة بلفظ : زوارات دون السرج ، ابن ماجة (1575) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 320
حدیث نمبر: 320 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو صَالِحٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ وَاسْمُهُ: بَاذَانُ، وَيُقَالُ بَاذَامُ أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں سونا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد میں سوتے تھے اور ہم نوجوان تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم میں کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے، ابن عباس کہتے ہیں : کوئی اسے سونے اور قیلولے کی جگہ نہ بنائے ١ ؎ اور بعض اہل علم ابن عباس کے قول کی طرف گئے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابن ماجہ/المساجد ٦ (٧٥١) ، ( تحفة الأشراف : ٦٩٦) ، و مسند احمد (١/١٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحابہ کرام اور سلف صالحین مسجد میں سویا کرتے تھے ، اس لیے جواز میں کوئی شبہ نہیں ابن عباس (رض) کا یہ کہنا ٹھیک ہی ہے کہ جس کا گھر اسی محلے میں ہو وہ مسجد میں رات نہ گزارے اسی کے قائل امام مالک بھی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (751) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 321
حدیث نمبر: 321 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَنَامُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ شَبَابٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا يَتَّخِذُهُ مَبِيتًا وَلَا مَقِيلًا، وَقَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَهَبُوا إِلَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں خرید و فروخت گم شدہ چیزوں پوچھ گچھ اور شعر پڑھنا مکروہ ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے، اور جمعہ کے دن نماز (جمعہ) سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- عمرو کے باپ شعیب : محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں ١ ؎، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ میں نے احمد اور اسحاق بن راہویہ کو (اور ان دونوں کے علاوہ انہوں نے کچھ اور لوگوں کا ذکر کیا ہے) دیکھا کہ یہ لوگ عمرو بن شعیب کی حدیث سے استدلال کرتے تھے، محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ شعیب بن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے سنا ہے، ٣ - جن لوگوں نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کرنے والوں نے انہیں صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو (رض) ) کے صحیفے (صحیفہ الصادقہ) سے روایت کرتے ہیں، گویا ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ احادیث انہوں نے اپنے دادا سے نہیں سنی ہیں ٢ ؎ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید (قطان) سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا : عمرو بن شعیب کی حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے، ٤- اس باب میں بریدہ، جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مسجد میں خرید و فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ٣ ؎، ٦- اور تابعین میں سے بعض اہل علم سے مسجد میں خرید و فروخت کرنے کی رخصت مروی ہے، ٧- نیز نبی اکرم ﷺ سے حدیثوں میں مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت مروی ہے ٤ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩) ، سنن النسائی/المساجد ٢٣ (٧١٤) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩) ، ( تحفة الأشراف : ٨٧٩٦) ، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن) (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس طرح شعیب کے والد محمد بن عبداللہ ہوئے جو عمرو کے دادا ہیں ، اور شعیب کے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ہوئے۔ ٢ ؎ : صحیح قول یہ ہے کہ شعیب بن محمد کا سماع اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ثابت ہے ، اور «عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ» کے طریق سے جو احادیث آئی ہیں وہ صحیح اور مطلقاً حجت ہیں ، بشرطیکہ ان تک جو سند پہنچتی ہو وہ صحیح ہو۔ ٣ ؎ : یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے اور جن لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے ان کا قول کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ صحیح احادیث اس کی تردید کرتی ہیں۔ ٤ ؎ : مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت سے متعلق بہت سی احادیث وارد ہیں ، ان دونوں قسم کی روایتوں میں دو طرح سے تطبیق دی جاتی ہے : ایک تو یہ کہ ممانعت والی روایت کو نہی تنزیہی پر یعنی مسجد میں نہ پڑھنا بہتر ہے ، اور رخصت والی روایتوں کو بیان جواز پر محمول کیا جائے ، دوسرے یہ کہ مسجد میں فحش اور مخرب اخلاق اشعار پڑھنا ممنوع ہے ، رہے ایسے اشعار جو توحید ، اتباع سنت اور اصلاح معاشرہ وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ حسان بن ثابت (رض) سے خود رسول اللہ ﷺ پڑھوایا کرتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (749) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 322
حدیث نمبر: 322 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: نَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِيهِ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ فِيهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ بُرَيْدَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ هُوَ: ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: رَأَيْتُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَذَكَرَ غَيْرَهُمَا يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعَ شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَنْ تَكَلَّمَ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِنَّمَا ضَعَّفَهُ، لِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ جَدِّهِ كَأَنَّهُمْ رَأَوْا أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ مِنْ جَدِّهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عِنْدَنَا وَاهٍ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ، وَبِهِ يَقُولُ: أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ رُخْصَةٌ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ رُخْصَةٌ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ فِي الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہو
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہوگئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ١ ؎ تو خدری نے کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے، دوسرے نے کہا : وہ مسجد قباء ہے، چناچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں (یعنی مسجد قباء میں) بھی بہت خیر و برکت ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے (سند میں موجود راوی) محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے، اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٤٤٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی سورة التوبہ میں ارشاد الٰہی «لمسجد أسس علی التقوی من أول يوم» سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ ٢ ؎ : یہ حدیث صرف اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ «لمسجد أسس علی التقوی» سے مراد مسجد نبوی ہی ہے ، بلکہ آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اس مسجد نبوی کی بھی تقویٰ پر ہی بنیاد ہے ، یہ مطلب لوگوں نے اس لیے لیا ہے کہ قرآن میں سیاق و سباق سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ارشاد ربانی مسجد قباء کے بارے میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 323
حدیث نمبر: 323 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: امْتَرَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، فَقَالَ الْخُدْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا يَعْنِي مَسْجِدَهُ وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ، وَأَخُوهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَثْبَتُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد قباء میں نماز پڑھنا
اسید بن ظہیر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اسید کی حدیث حسن، غریب ہے، ٢- اس باب میں سہل بن حنیف (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- ہم اسید بن ظہیر کی کوئی ایسی چیز نہیں جانتے جو صحیح ہو سوائے اس حدیث کے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٧ (١٤١١) (تحفة الأشراف : ١٥٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مسجد قباء میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1411) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 324
حدیث نمبر: 324 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْرَدِ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ كَعُمْرَةٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُسَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِأُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ شَيْئًا يَصِحُّ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبُو الْأَبْرَدِ اسْمُهُ: زِيَادٌ مَدِينِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کونسی مسجد افضل ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی سندوں سے مروی ہے، ٣- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة فی مسجد مکة والمدینة ١ (١١٩٠) ، صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤) ، سنن النسائی/المساجد ٧ (٦٩٥) ، والحج ١٢٤ (٢٩٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٥ (تحفة الأشراف : ١٣٤٦٤) ، وکذا (١٣٥٥١ و ٤٩٦٠) ، موطا امام مالک/القبلة ٥ (٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٤١، ٢٥٦، ٢٧٧، ٢٧٨، ٣٨٦، ٤٦٦، ٤٦٨، ٤٧٣، ٤٨٤، ٤٨٥، ٤٩٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٣١ (١٤٥٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1404 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 325
حدیث نمبر: 325 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عبد الله الأغر، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، إِنَّمَا ذَكَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُوَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ اسْمُهُ: سَلْمَانُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي ذَرٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کونسی مسجد افضل ہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ١- مسجد الحرام کے لیے، ٢- میری اس مسجد (مسجد نبوی) کے لیے، ٣- مسجد الاقصیٰ کے لیے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ١ (١١٨٨) ، و ٦ (١١٩٧) ، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤) ، والصوم ٨٧ (١٩٩٥) ، صحیح مسلم/المناسک ٧٤ (٤١٥/٨٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٦ (١٤١٠) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٧٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ثواب کی نیت سے سفر نہ کیا جائے ، مگر صرف انہی تین مساجد کی طرف ، اس سے کوئی بھی چوتھی مسجد اور تمام مساجد و مقابر خارج ہوگئے ، حتیٰ کہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے بھی سفر جائز نہیں ، ہاں مسجد نبوی کی نیت سے مدینہ جانے پر قبر نبوی کی مشروع زیارت جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1409) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 326
حدیث نمبر: 326 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد کی طرف جانا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز کی تکبیر (اقامت) کہہ دی جائے تو (نماز میں سے) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے : ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ (رض) کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ١٨ (٩٠٨) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٨ (٦٠٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٥٧ (٥٧٢) ، سنن النسائی/الإمامة ٥٧ (٨٦٢) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٤ (٧٧٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٢٨٩) ، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٤) ، مسند احمد (٢/٢٣٧، ٢٣٨، ٢٣٩، ٢٧٠، ٢٧٢، ٢٨٢، ٣١٨، ٣٨٢، ٣٨٧، ٤٢٧، ٤٥٢، ٤٦٠، ٤٧٣، ٤٨٩، ٥٢٩، ٥٣٢، ٥٣٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥٩ (١٣١٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (775) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 327
حدیث نمبر: 327 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى الْإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، حَتَّى ذُكِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ كَانَ يُهَرْوِلُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَ الْإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَى تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَالَا: الْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ إِسْحَاق: إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فَلَا بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْيِ.
তাহকীক: