আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ২৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ (رض) ہی کی حدیث پر عمل ہے۔ خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے، لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر (بغیر بیٹھے) کھڑا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٥٠٤) (ضعیف) (سند میں دو راوی خالد اور صالح مولیٰ التوامہ ضعیف ہیں) وضاحت : ١ ؎ : جو لوگ جلسہ استراحت کے قائل نہیں ہیں اور دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر بغیر بیٹھے کھڑے ہوجانے کو پسند کرتے ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے ، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (362) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 288
حدیث نمبر: 288 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَنْهَضَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَيُقَالُ خَالِدُ بْنُ إِيَاسٍ أَيْضًا، وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ هُوَ صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَأَبُو صَالِحٍ اسْمُهُ: نَبْهَانُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بارے میں
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود (رض) کی حدیث ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، اور یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے جو تشہد میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہیں، ٢- اس باب میں ابن عمر، جابر، ابوموسیٰ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- ہم سے احمد بن محمد بن موسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، اور وہ معمر سے اور وہ خصیف سے روایت کرتے ہیں، خصیف کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں تشہد کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : تم پر ابن مسعود کا تشہد لازم ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤٨ (٨٣١) ، و ١٥٠ (٨٣٥) ، والعمل فی الصلاة ٤ (١٢٠٢) ، والاستئذان ٣ (٦٢٣٠) ، و ٢٨ (٦٣٦٥) ، والدعوات ١٧ (٦٣٢٨) ، والتوحید ٥ (٧٣٨١) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٢ (٩٦٨) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٠ (١١٦٣ - ١١٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٨٩٩) ، ( تحفة الأشراف : ٩١٨١) ، مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٨٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٤، ٤٢٢، ٤٢٣، ٤٢٨، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٥٠، ٤٥٩، ٤٦٤) ، وراجع ما عند النسائی فی السہو ٤١، ٤٣٠، ٥٦ (الأرقام : ١٢٧٨، ١٢٨٠، ١٢٩٩) ، وابن ماجہ في النکاح ١٩ (١٨٩٢) ، والمؤلف في النکاح ١٧ (١١٠٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : لیکن خصیف حافظہ کے کمزور اور مرجئی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (336) ، وانظر ابن ماجه (899 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 289
حدیث نمبر: 289 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَنْ نَقُولَ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ، وَهُوَ أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي التَّشَهُّدِ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِتَشَهُّدِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی کے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن سکھاتے تھے اور فرماتے : «التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته سلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا رسول الله»۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اور عبدالرحمٰن بن حمید رواسی نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے لیث بن سعد کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٣- اور ایمن بن نابل مکی نے یہ حدیث ابو الزبیر سے جابر (رض) کی حدیث سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ٤- امام شافعی تشہد کے سلسلے میں ابن عباس (رض) کی حدیث کی طرف گئے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٣) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٢ (٩٧٤) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٣ (١١٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ٥٧٥٠) ، مسند احمد (١/٢٩٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دونوں طرح کا تشہد ثابت ہے ، دونوں میں سے چاہے جو بھی پڑھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (900) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 290
حدیث نمبر: 290 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، فَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَرَوَى أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ الْمَكِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَذَهَبَ الشَّافِعِيُّ إِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي التَّشَهُّدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد آہستہ پڑھنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : سنت سے یہ ہے ١ ؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٥ (٩٨٦) ، ( تحفة الأشراف : ٩١٧٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جب صحابی «من السنة كذا أو السنة كذا» کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (906) ، صفة الصلاة // 142 // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 291
حدیث نمبر: 291 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفِيَ التَّشَهُّدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد میں کیسے بیٹھا جائے
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں : میں مدینے آیا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز ضرور دیکھوں گا۔ (چنانچہ میں نے دیکھا) جب آپ ﷺ تشہد کے لیے بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنا دایاں پیر کھڑا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ١١ (٨٩٠) ، والتطبیق ٩٧ (١١٦٠) ، والسہو ٢٩ (١٢٦٣، ١٢٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥ (٨٦٨) ، ( تحفة الأشراف : ١١٧٨٤) ، مسند احمد (٤/٣١٦، ٣١٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (716) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 292
حدیث نمبر: 292 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ ابْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَهُّدِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى يَعْنِي عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى قَالَ 12 أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ (رض) اکٹھے ہوئے، تو ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر کیا۔ اس پر ابوحمید کہنے لگے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو آپ اپنا بایاں پیر بچھاتے ١ ؎ اور اپنے دائیں پیر کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرتے، اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھتے، اور اپنی انگلی (انگشت شہادت) سے اشارہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی بعض اہل علم کہتے ہیں اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اخیر تشہد میں اپنے سرین پر بیٹھے، ان لوگوں نے ابوحمید کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے تشہد میں بائیں پیر پر بیٹھے اور دایاں پیر کھڑا رکھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٠ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : افتراش والی یہ روایت مطلق ہے اس میں یہ وضاحت نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لیے ہے یا پہلے تشہد کے لیے ، ابو حمید ساعدی کی دوسری روایت میں اس اطلاق کی تبیین موجود ہے ، اس میں اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورک آخری تشہد میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (723) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 293
حدیث نمبر: 293 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَهُّدِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ يَقُولُ: بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ الشافعي، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَقْعُدُ فِي التَّشَهُّدِ الْآخِرِ عَلَى وَرِكِهِ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالُوا: يَقْعُدُ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد میں اشارہ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے (دائیں) گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے (بائیں) گھٹنے پر پھیلائے رکھتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عبداللہ بن زبیر، نمیر خزاعی، ابوہریرہ، ابوحمید اور وائل بن حجر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا، یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تخريج : صحیح مسلم/المساجد ٢١ (٥٨٠) ، سنن النسائی/السہو ٣٥ (١٢٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٧ (٩١٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٢٨) ، مسند احمد ( ٢/١٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : احادیث میں تشہد کی حالت میں داہنے ہاتھ کے ران پر رکھنے کی مختلف ہیئتوں کا ذکر ہے ، انہیں ہیئتوں میں سے ایک ہیئت یہ بھی ہے اس میں انگلیوں کے بند رکھنے کا ذکر نہیں ہے ، دوسری یہ ہے کہ خنصر بنصر اور وسطیٰ ( یعنی سب سے چھوٹی انگلی چھنگلیا ، اور اس کے بعد والی اور درمیانی تینوں ) کو بند رکھے اور شہادت کی انگلی ( انگوٹھے سے ملی ہوئی ) کو کھلی چھوڑ دے اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کی جڑ سے ملا لے ، یہی ترپن کی گرہ ہے ، تیسری ہیئت یہ ہے کہ خنصر ، بنصر ( سب سے چھوٹی یعنی چھنگلیا اور اس کے بعد والی انگلی ) کو بند کرلے اور شہادت کی انگلی کو چھوڑ دے اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ بنا لے ، چوتھی صورت یہ ہے کہ ساری انگلیاں بند رکھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے ، ان ساری صورتوں سے متعلق احادیث وارد ہیں ، جس طرح چاہے کرے ، سب جائز ہے ، لیکن یہ واضح رہے کہ یہ ساری صورتیں شروع تشہد ہی سے ہیں نہ کہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہنے پر ، یا یہ کلمہ کہنے سے لے کر بعد تک ، کسی بھی حدیث میں یہ تحدید ثابت نہیں ہے ، یہ بعد کے لوگوں کا گھڑا ہوا عمل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (913) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 294
حدیث نمبر: 294 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ الْيُمْنَى يَدْعُو بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَنُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ يَخْتَارُونَ الْإِشَارَةَ فِي التَّشَهُّدِ، وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، جابر بن سمرہ، براء، ابوسعید، عمار، وائل بن حجر، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٩ (٩٩٦) ، سنن النسائی/السہو ٧١ (١٣٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٨ (٩١٤) ، ( تحفة الأشراف : ٩٥٠٤) ، مسند احمد (١/٣٩٠، ٤٠٦، ٤٠٩، ٤١٤، ٤٤٤، ٤٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٧ (١٣٨٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے دونوں طرف دائیں اور بائیں سلام پھیرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے ، ابوداؤد کی روایت میں «حتی يرى بياض خده» کا اضافہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (914) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 295
حدیث نمبر: 295 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَمَّارٍ، ووَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہیں، ٣- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے، وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے، کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کا نام ان لوگوں نے بدل دیا ہے، ٤- اس باب میں سہل بن سعد (رض) سے بھی روایت ہے، ٥- نماز میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہا ہے، لیکن نبی اکرم ﷺ سے مروی سب سے صحیح روایت دو سلاموں والی ہے ١ ؎، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ البتہ صحابہ کرام اور ان کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض نماز میں صرف ایک سلام ہے، شافعی کہتے ہیں : چاہے تو صرف ایک سلام پھیرے اور چاہے تو دو سلام پھیرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٩ (٩١٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٨٩٥) مسند احمد (٦/٢٣٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور اسی پر امت کی اکثریت کا تعامل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (919) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 296
حدیث نمبر: 296 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ يَمِيلُ إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ شَيْئًا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: أَهْلُ الشَّأْمِ يَرْوُونَ عَنْهُ مَنَاكِيرَ وَرِوَايَةُ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْهُ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كَأَنَّ زُهَيْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الَّذِي كَانَ وَقَعَ عِنْدَهُمْ لَيْسَ هُوَ هَذَا الَّذِي يُرْوَى عَنْهُ بِالْعِرَاقِ كَأَنَّهُ رَجُلٌ آخَرُ قَلَبُوا اسْمَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ قَالَ بِهِ: بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي التَّسْلِيمِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَانِ، وَعَلَيْهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَرَأَى قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً فِي الْمَكْتُوبَةِ، قَالَ الشافعي: إِنْ شَاءَ سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً وَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس سلام کو حذف کرنا سنت ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : «حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں، ٣- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے (یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٢ (١٠٠٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٢٣٣) ، مسند احمد (٢/٥٣٢) (ضعیف) (سند میں قرة کی ثقاہت میں کلام ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (179) // عندنا برقم (213 / 1004) بزيادة : يرفعه للرسول صلی اللہ عليه وسلم // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 297
حدیث نمبر: 297 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا. قال أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ، وَهِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد کیا کہے ؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو «اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت ذا الجلال والإکرام» اے اللہ تو سلام ہے، تجھ سے سلامتی ہے، بزرگی اور عزت والے ! تو بڑی برکت والا ہے کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٠ (١٥١٢) ، سنن النسائی/السہو ٨٢ (١٣٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (٩٢٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٦١٨٧) ، مسند احمد (٦/٦٢، ١٨٤، ٢٣٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٨ (١٣٨٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (924) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 298
حدیث نمبر: 298 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَا يَقْعُدُ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد کیا کہے ؟
اس سند سے بھی عاصم الاحول سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں «تبارکت يا ذا الجلال والإکرام» («یا» کے ساتھ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ام المؤمنین عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، خالد الحذاء نے یہ حدیث بروایت عائشہ عبداللہ بن حارث سے عاصم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی اور موت دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے آگے کسی نصیب والے کا کوئی نصیب کام نہیں آتا کہتے تھے، یہ بھی مروی ہے کہ آپ «سبحان ربک رب العزة عما يصفون وسلام علی المرسلين والحمد لله رب العالمين» پاک ہے تیرا رب جو عزت والا ہے ہر اس برائی سے جو یہ بیان کرتے ہیں اور سلامتی ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے بھی کہتے تھے ١ ؎، ٣- اس باب میں ثوبان، ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید، ابوہریرہ اور مغیرہ بن شعبہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ سے سلام کے بعد مختلف حالات میں مختلف اذکار مروی ہیں اور سب صحیح ہیں ، ان میں کوئی تعارض نہیں ، آپ کبھی کوئی ذکر کرتے اور کبھی کوئی ذکر ، اس طرح آپ سے سلام کے بعد قولاً بھی کئی اذکار کا ثبوت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (298) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 299
حدیث نمبر: 299 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مروانُ بن معاويةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ثَوْبَانَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: بَعْدَ التَّسْلِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد کیا کہے ؟
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے (مقتدیوں کی طرف) پلٹنے کا ارادہ کرتے تو تین بار «استغفر الله» میں اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإکرام» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩١) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٠ (١٥١٣) ، سنن النسائی/السہو ٨١ (١٣٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (٩٢٨) ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٩٩) ، مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (928) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 300
حدیث نمبر: 300 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِيأَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَمَّارٍ اسْمُهُ: شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد دونوں جانب گھومنا
ہلب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری امامت فرماتے (تو سلام پھیرنے کے بعد) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے (کبھی) دائیں اور (کبھی) بائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ہلب (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عمرو، اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف، نبی اکرم ﷺ سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں ١ ؎ اور علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٤ (١٠٤١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٣ (٩٢٩) ، ( تحفة الأشراف : ١١٧٣٣) ، مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن صحیح) (سند میں قبیصة بن ہلب لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں اس باب میں مروی ابن مسعود (رض) کی حدیث ( سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٤ حدیث رقم : ١٠٤٢) سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت میں ہے «لقد رأيت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کثيراً ينصرف عن يساره» اور انس (رض) کی روایت میں ہے «أكثر ما رأيت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم ينصرف عن يمينه» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے ، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ دونوں نے اپنے اپنے علم اور مشاہدات کے مطابق یہ بات کہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (929) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 301
حدیث نمبر: 301 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَنْصَرِفُ عَلَى جَانِبَيْهِ جَمِيعًا عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ يَنْصَرِفُ عَلَى أَيِّ جَانِبَيْهِ شَاءَ إِنْ شَاءَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ شَاءَ عَنْ يَسَارِهِ، وَقَدْ صَحَّ الْأَمْرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُرْوَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنْ كَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَمِينِهِ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَسَارِهِ أَخَذَ عَنْ يَسَارِهِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پوری نماز کی ترکیب
رفاعہ بن رافع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا جو بدوی لگ رہا تھا، اس نے آ کر نماز پڑھی اور بہت جلدی جلدی پڑھی، پھر پلٹ کر آیا اور نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو اس شخص نے واپس جا کر پھر سے نماز پڑھی، پھر واپس آیا اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے پھر فرمایا : اور تمہیں بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، اس طرح اس نے دو بار یا تین بار کیا ہر بار وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو سلام کرتا اور آپ فرماتے : تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو لوگ ڈرے اور ان پر یہ بات گراں گزری کہ جس نے ہلکی نماز پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، آخر اس آدمی نے عرض کیا، آپ ہمیں (پڑھ کر) دکھا دیجئیے اور مجھے سکھا دیجئیے، میں انسان ہی تو ہوں، میں صحیح بھی کرتا ہوں اور مجھ سے غلطی بھی ہوجاتی ہے، تو آپ نے فرمایا : جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو جیسے اللہ نے تمہیں وضو کرنے کا حکم دیا ہے، پھر اذان دو اور تکبیر کہو اور اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ورنہ «الحمد لله» ، «الله أكبر» اور «لا إله إلا الله» کہو، پھر رکوع میں جاؤ اور خوب اطمینان سے رکوع کرو، اس کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو، اور خوب اعتدال سے سجدہ کرو، پھر بیٹھو اور خوب اطمینان سے بیٹھو، پھر اٹھو، جب تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز پوری ہوگئی اور اگر تم نے اس میں کچھ کمی کی تو تم نے اتنی ہی اپنی نماز میں سے کمی کی ، راوی (رفاعہ) کہتے ہیں : تو یہ بات انہیں پہلے سے آسان لگی کہ جس نے اس میں سے کچھ کمی کی تو اس نے اتنی ہی اپنی نماز سے کمی کی، پوری نماز نہیں گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے، رفاعہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور عمار بن یاسر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٨ (٨٥٧ - ٨٦١) ، سنن النسائی/الأذان ٢٨ (٦٦٨) ، والتطبیق ٧٧ (١١٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٧ (٤٦٠) ، ( تحفة الأشراف : ٣٦٠٤) ، مسند احمد (٤/٣٤٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٨ (١٣٦٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (804) ، صفة الصلاة / الأصل، صحيح أبي داود (803 - 807) ، الإرواء (1 / 321 - 322) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 302
حدیث نمبر: 302 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا، قَالَ رِفَاعَةُ: وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ كَالْبَدَوِيِّ فَصَلَّى فَأَخَفَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَخَافَ النَّاسُ وَكَبُرَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَكُونَ مَنْ أَخَفَّ صَلَاتَهُ لَمْ يُصَلِّ ، فَقَالَ الرَّجُلُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ، فَقَالَ: أَجَلْ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ ثُمَّ تَشَهَّدْ وَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ اعْتَدِلْ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ فَاعْتَدِلْ سَاجِدًا ثُمَّ اجْلِسْ فَاطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ قُمْ فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ قَالَ: وَكَانَ هَذَا أَهْوَنَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْأَوَّلِ، أَنَّهُ مَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا انْتَقَصَ مِنْ صَلَاتِهِ وَلَمْ تَذْهَبْ كُلُّهَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ رِفَاعَةَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پوری نماز کی ترکیب
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چناچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہوجائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ٣- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٧) ، و ١٢٢ (٧٩٣) ، والأیمان والنذور ١٥ (٦٢٥١) ، صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٨ (٨٥٦) ، سنن النسائی/الافتتاح ٧ (٨٨٥) ، والتطبیق ١٥ (١٠٥٢) ، والسہو ٦٧ (١٣١٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٢ (١٠٦٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٣٠٤) ، مسند احمد (٢/٤٣٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1060) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 303
حدیث نمبر: 303 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي، فَقَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَصَحُّ، وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُوَ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ اسْمُهُ: كَيْسَانُ، وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ يُكْنَى أَبَا سَعْدٍ، وَكَيْسَانُ عَبْدٌ كَانَ مُكَاتَبًا لِبَعْضِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پوری نماز کی ترکیب
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو حمید ساعدی (رض) کو کہتے ہیں سنا (جب) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابوحمید (رض) کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے جاتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا (اگر تم زیادہ جانتے ہو) تو پیش کرو، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہوجاتے، نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور سیدھے کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے، اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہوجاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب (تیسری رکعت کے لیے) اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين» دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٠ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1061) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 304
حدیث نمبر: 304 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ إِتْيَانًا، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ أَهْوَى سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ نَهَضَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا صَلَاتُهُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ يَعْنِي قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پوری نماز کی ترکیب
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی (رض) کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بن ربعی بھی تھے، کہتے سنا، پھر انہوں نے یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے عبدالحمید بن جعفر کے واسطے سے اس لفظ کا اضافہ کیا ہے کہ (نبی اکرم ﷺ کی نماز والی اس صفت و کیفیت کو سننے والے) صحابہ کرام (رض) اجمعین نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا، نبی اکرم ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٠ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (304) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 305
حدیث نمبر: 305 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الحلواني، وسلمة بن شبيب، وغير واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: زَادَ أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں قرات
قطبہ بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن حریث، جابر بن سمرہ، عبداللہ بن سائب، ابوبرزہ اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورة الواقعہ پڑھی، ٤- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے، ٥- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس کورت» پڑھی، ٦- اور عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ١ ؎، ٧- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ٤٣ (١٥١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة (٨١٦) ، ( تحفة الأشراف : ١١٠٨٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد سورة ق ہے۔ ٢ ؎ : مفصل : قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورة ق ؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورة البروج پر ختم ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (816) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 306
حدیث نمبر: 306 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، وَأَبِي بَرْزَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الصُّبْحِ ب: الْوَاقِعَةِ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَى مِائَةٍ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَرُوِي عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، أَنِ اقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ قَالَ: سفيان الثوري، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر اور عصر میں قرات
جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج» ، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر بن سمرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں خباب، ابوسعید، ابوقتادہ، زید بن ثابت اور براء بن عازب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ظہر میں «الم تنزیل» یعنی سورة السجدہ کے بقدر قرأت کی، ٤- یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری رکعت میں پندرہ آیتوں کے بقدر قرأت کرتے تھے، عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ (رض) کو لکھا کہ تم ظہر میں «وساط مفصل» پڑھا کرو ١ ؎، ٦- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ عصر کی قرأت مغرب کی قرأت کی طرح ہوگی، ان میں (امام) «قصار مفصل» پڑھے گا ٢ ؎، ٧- اور ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ظہر کی قرأت عصر کی قرأت سے چار گنا ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٣١ (٨٠٥) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٠ (٩٨٠، ٩٨١) ، ( تحفة الأشراف : ٢١٤٧) ، مسند احمد (٥/١٠١، ١٠٣، ١٠٦، ١٠٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سورة البروج سے سورة لم یکن تک وساط مفصل ہے۔ ٢ ؎ : اور لم یکن سے اخیر تک قصار مفصل ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، صفة الصلاة // 94 //، صحيح أبي داود (767) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 307
حدیث نمبر: 307 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِ: السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَشِبْهِهِمَا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ خَبَّابٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ تَنْزِيلِ السَّجْدَةِ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَرُوِي عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، أَنِ اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ كَنَحْوِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، يَقْرَأُ بِقِصَارِ: الْمُفَصَّلِ وَرُوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: تَعْدِلُ صَلَاةُ الْعَصْرِ بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فِي الْقِرَاءَةِ، وقَالَ إِبْرَاهِيمُ: تُضَاعَفُ صَلَاةُ الظُّهْرِ عَلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ فِي الْقِرَاءَةِ أَرْبَعَ مِرَارٍ.
তাহকীক: